Altaf Nadwi

Altaf Nadwi

Share

This page is created to share knowledge and educate people in a simple and friendly way. The goal is to guide people, and spread awareness

06/05/2026

Really AI is a Revolution in Human life, A best prompt can help you at advanced level.

25/04/2026

مجھے مصر میں ''اخوان المسلمین'' کے قتل عام کے بعد سعودی حکومت کی پالیسیز سے بحیثیت قلمکار شدید اختلاف ہوا اور میں نے کشمیر کے کئی معروف اخبارات میں دلائل کی بنیاد پر سعودی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جس کے جواب میں بہت سارے ''سلفی الفکر''قلمکاروں نے اس کا جواب بھی دیاجو ان کا حق تھا۔ پھر عالم عربی میں حالات اس قدر بگڑ گئے کہ روزانہ کوئی نہ کوئی مصیبت یا فتنہ جنم لینے لگا اور فتنے کے ساتھ درجنوں نئے فتنے جنم لینے لگے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور تازہ ترین معاملہ امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ ہے جس میں '' نہ چاہتے ہوئے بھی خلیجی ممالک بری طرح پس گئے اور آج تک پسے جا رہے ہیں ۔
میرے ایران اور خاص طور پر ''اہل تشیع برداری ''کے ساتھ بھی کئی مسائل میں شدید اختلاف ہیں اور میں ان کا برملا اظہار کرتا ہوں خاص کر صحابہ کے معاملے میں میرا موقف بالکل واضح ہے کہ صحابہ کے معاملے میں میں اہل سنت والجماعت کے اس موقف کا مکمل حامی ہوں کہ''مشاجرات صحابہ'' میں ہم کف لسان اختیار کریں گے ۔البتہ مجھے حیرت آج تب ہوئی جب میں نے ممبر پارلیمنٹ روح اللہ مہدی کی ایک کلپ دیکھی جس میں وہ سعودی حکومت کو کتوں کی حکومت قرار دیتے ہیں یہ سراسر زیادتی ہے اس طرح کی زبان استعمال کرنے سے فائدہ تو دور کی بات بلکہ پہلے سے موجود انتشار میں اور بھی اضافہ ہوگا ۔
روح اللہ مہدی جوش خطابت میں یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کوئی مذہبی لیڈر نہیں ہیں بلکہ نیشنل کانفرنس کی تائید سے ایک منتخب پارلیمنٹ ممبر ہے ایران کو اس وقت اسرائیل امریکہ کے مقابلے میں حمایت کی ضرورت ہے اس کے برعکس آپ ''متشدد مولویوں ''کی طرح جوش خطابت میں انتہائی پست الفاظ استعمال کرتے ہیں جو نامناسب اور شرمناک بات ہے اور ہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عربیہ میں ''طلوعِ اسلام ''سے لیکر آج تک کبھی بھی ''کتوں''نے حکومت نہیں کی ہے ہمیشہ انسانوں اور مسلمانوں نے حکومت کی ہے اگرچہ ان کے عقائد و اعمال سے اختلاف کرنے کی مکمل گنجائش موجود ہے مگر انسان کو کتا قرار دینا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت امر ہے ۔

04/04/2026

بہت کچھ بڑی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے اور ہمارے خطباء کو 1300 سال پرانے اختلافات سے ہی فرصت نہیں مل رہی ہے ہم نے مسلمانوں کو قیامت قائم ہونے تک ان اختلافات سے الگ نہ ہونے کی قسم کھا رکھی ہے ۔اس طرح کی صورت حال سے عیسائی عوام کو بھی مدت دراز تک سامنا رہا ہے اور پھر عیسائی عوام نے ''عیسائی مذہبی پیشواؤں ''سے تنگ آکر مذہب سے اپنی جان چھڑائی اور اعلاناََ ''مذہب سے بغاوت'' کا اعلان کر دیا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان لوگوں کو قتل کردیا یہی وجہ ہے کہ پورا یورپ اور مغرب عیسائی ہوکر بھی ''غیر مذہبی '' ہونے پر فخر کرتا ہے ۔ ہمارے نوجوان طبقے میں اب بڑی تیزی کے ساتھ اپنے مذہبی طبقے سے نفرت ہونے لگی ہے اور افسوس یہ کہ ان حضرات کو اس جانب کوئی احساس نہیں ہے ۔
کم علمی ، ناقص مطالعہ اور بے شعوری سے مسلح یہ مذہبی گروہ اس بغاوت کو سمجھنے سے عاری ہیں وہ ان نوجوانوں کو ''مذہب بیزار '' سمجھتے ہیں جبکہ یہ مذہب بیزار نہیں بلکہ ملا بیزار لوگ ہیں ۔

08/03/2026

حسب معمول ایران اور اسرائیل کی جنگ پر ''شیعہ سنی''جنگ چھڑ چکی ہے لہذا ضروری ہے کہ اہل اسلام کو مبارک باد دیدی جائے
ذہین اُمت کو بر وقت اس نیک کام پر مبارک ماشاء اللہ لگے رہو شاباش ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ''شیعہ سنی اختلاف'' اس اہم ترین موقع پر پیش کرنا رہ جائے ایک ایک غلطی ایک دوسرے کی سوشل میڈیا پر پھیلاتے رہو ۔ رمضان المبارک کے مبارک موقع پر اس دینی کام پر ثواب بھی بہت زیادہ ملتا ہے لہذا شیر دل نوجوانو لگے رہو تم یہ اہم کام نہیں کرو گے تو کیا امت کے بزرگ لوگ یہ کام کریں گے نہیں نہیں یہ کام صرف اور صرف آپ کا ہے بلکہ آپ اختیارکردہ مقدر ہے

27/02/2026

بہت بہت مبار ک ہو رمضان المبارک میں ایک عظیم جنگ شروع کرنے پر پاکستان کو فخر ہے کہ ہم بمباری میں 133 طالبان کا ہلاک 200 کو زخمی کردیا ماشاء اللہ آج نہیں تو پھر کب ؟
بہت بہت مبارک

21/02/2026

سنی المسلک ہونے کے باوجود آج تک کی زندگی میں نہ کبھی مسلکی اختلافات کی حمایت کی اور نہ ہی اس طرح کے اختلافات کو مستقبل میں موضوع بنانے کا شوق ہے مگر ہر مسئلے میں ہر فرد کی ایک ''ریڈ لائین ''ہوتی ہے اختلاف آپ ایک حد تک ضرور کر سکتے ہیں مگر اختلاف کرتے کرتے جب آپ دوسرے کی مٹی پلید کرنے پر اتر آئیں گے تو دوسرا دفاع کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
آج ایک لکھے پڑھے نوجوان سے انتہائی شریفانہ انداز میں ''تفضیل صحابہ اور اہل سنت والجماعت'' کے موقف پر گفتگو ہو رہی تھی کہ مجھے باتوں باتوں میں یہ احساس ہوا کہ یہ نوجوان انتشار فکر کا شکار ہے اس لئے کہ دوران گفتگو اس نے ایسی بات کہی جس سے مجھے بڑی حیرت ہوئی میں نے اس نوجوان سے کہا کہ اہل سنت کا مسلک ہے کہ اصحاب رسول ﷺ میں افضل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے پھر عمر،عثمان و علی رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ہیں اس نوجوان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس موقف سے ایمان خطرے میں پڑ سکتاہے اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ اہل بیت عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی عظمت و مرتبے کے خلاف ہے ۔
مجھے بہت حیرت ہوئی کہ وہ اس کو نقص ایمان سمجھتا ہے میری اہل سنت احباب سے گذارش ہے کہ اہل تشیع ہمارے بھائی ہیں اور میں نے 20 سالہ قلمکاری میں اس کی کھلی حمایت کی ہے اور انھوں نے ہم سے کبھی بھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ہم ان کے عقائد کو اختیار کریں نہ ہی ہم نے ان پر کبھی جبر کیا ہے نہ ہی یہ جبر کا معاملہ ہے ۔ یہ مسئلہ قیامت تک کبھی بھی کسی بھی فرد شخص یا حکومت کے ذریعے حل نہیں ہوگا یہ اختلاف ہے اور رہے گا مگر ہمارے ہاں یہ نئی سوچ پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے ؟
میں نے اس کا نوٹس کیوں لیا اس لئے کہ یہ مسئلہ آہستہ آہستہ پھیلنے کے نتیجے میں اہل سنت کے لئے خطرناک مسئلہ بن سکتا ہے اور اس کے ذریعے امن و امان کا بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے جس سے کسی حکومت کا سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا اور ہمارے صفوں میں انتشار پھیلے گا ۔قبل اس کے کہ یہ ایک نئی مصیبت اور مسئلہ پیدا ہو جائے گا یہ فرمائے کہ اس کا کیا علاج ہے ؟

14/02/2026

سنا ہے کہ ''اسلامی مملکت خداداد''کے خلیفۃ المسلمین جرنل عاصم منیر کی احکامات کی پاسداری کرتے ہو ئے شہباز حکومت کے ملازمین نے جیل میں ''یہودی ایجنٹ '' اور''قادیانیت کے اعلیٰ ترین اثاثہ'' عمران خان سے زبردست ''مروت و مودت'' کے نتیجے میں آنکھوں کی بینائی اس حد متاثر ہو چکی ہے کہ انہیں ایک آنکھ سے کم ہی دکھائی دیتا ہے خیر امریکی اور یہودی ایجنٹ کے ساتھ ایسا ہونا ہی چاہیے بس کہنا یہ ہے ہمارے ''مجاھد اعظم چونکہ غزہ پلان میں مصروف ہوکر ''پاکباز و پاک دامن ٹرمپ ''کے ساتھ قبلہ اول کی آزادی کے لئے انتہائی مشغول ہیں انہیں اس سزا میں بلا تاخیر دوسرے امریکی اور قادیانی ایجنٹوں کو اسی طرح کے انجام تک پہنچانے میں مصروف رہنا چاہیے تاکہ مجاہد اکبر نواز شریف اور آصف زرداری کے راستے میں تمام تر روکاوٹیں ختم ہو جائیں اوران کی قیادت میں پاکستان میں اسلام مکمل نافذ و غالب ہو اس لئے کہ پہلی مرتبہ ایسے صالحین کے ہاتھ میں حکومت آئی ہے پھر نہ معلوم مستقبل میں کیا ہوگا ؟

13/02/2026

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا خونین سفر اب شاید اختتام کو پہنچ چکا ہے برصغیر کے غیر فطری اور غیر منصفانہ تقسیم کی زد میں یوں تو یہ سارا خطہ آیا ہے اور بنگلہ دیش بھی اسی ناسور کا ایک حصہ ہے اور 1971ء کی جنگ میں جماعت کے موقف کی کوئی وقعت نہیں تھی اور پھر حد یہ کہ یہ موقف غداری اور جرم عظیم قرار پایا اور شیخ حسینہ نے جماعت کے موقف کو جنگی جرم اور غداری قرار دیکر اس کی قیادت کو پھانسیوں پر چڑھانے کا فیصلہ لیا اور اس طرح جماعت ایک خطرناک آزمائش سے دوچار ہوئی جس سے گذشتہ طلباء احتجاج نے انہیں باہر نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور جماعت کی بہترین حکمت عملی سے صورتحال اب بہت بہتر طریقے پر تبدیل ہو چکی ہے ۔
مذہبی جماعتوں کو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں مقامی حالات کو دیکھ کر ایسی کوئی پوزیشن اختیار نہیں کرنی چاہیے جس سے ان کی پوری دعوت داؤ پر لگ جائے جذباتی اور عجلت کے فیصلے ہمیشہ نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ کسی دوسرے ملک قوم یا جماعت کے اُکساوے میں آکر کوئی ایسا راستہ اختیار کرنا جس کا نتیجہ ریاست سے ٹکراؤ کی صورت میں نکل آئے ایک تباہ کن صورتحال کو جنم دیتا ہے جو جماعت اسلامی جیسی دینی ، نظریاتی اور سیاسی جماعت کو زیب نہیں دیتا ہے ۔اس طرح کی غلطیاں دینی جماعتوں سے باربار ہونا انتہائی افسوس ناک ہے اور یہی کچھ اخوان المسلمون جیسی تحریکیں کر کے اپنے لئے تباہ کن صورتحال کو جنم دے رہی ہیں اس لئے کہ انسانی تاریخ میں سو دوسو سال کوئی طویل سفر نہیں ہوتا ہے لہذا تحمل اور بلند حوصلہ کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں اور افراد کو عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے دور اندیشی کا مظاہرا کرنا چاہیے اس لئے کہ ان کے موجودہ دنیا دشمین بہت زیادہ ہیں اور دشمن بہت کم ۔

07/02/2026

بحیثیت مسلمان ہم میں ایک بیماری بڑے پیمانے پر اندر تک سرایت کر چکی ہے اور وہ ہے ایک دوسرے پر ''اعتماد''کی شدید کمی ۔اس کے بہت سارے اسباب ہیں جن میں ایک بنیادی سبب ہے مختلف مکاتب فکر کے علماء کا ایک دوسرے خلاف پروپیگنڈا، اور یہ عمل دہراتے ہوئے ہم کبھی یہ نہیں سوچتے ہیں کہ ایک دن ہم خود اس کی زد میں آسکتے ہیں ۔
معروف مکاتب فکر ایک دوسرے کی تنقید کرتے وقت ایسی بے تکی باتیں کرتے ہیں بلکہ بیہودگی پھیلاتے ہیں جس کا اعلیٰ اقدار والے معاشرے میں تصور بھی ممکن نہیں ہے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس میں ان سے ایک چھوٹی سی اقلیت ضرور وابستہ ہوگئی مگر جمہور خاص کر سنجیدہ علمی مزاج والے افراد ان سے متنفر ہو گئے اس لئے کہ جو کل انھوں نے دوسروں کے متعلق سنا تھا اب ''مکافات عمل کی زد میں آکر ''سوشل میڈیا کی توسط سے اپنوں کے متعلق تیسرے گروہ ، فرقے یا تنظیم کے ذریعے سن رہے ہیں اور آہستہ آہستہ جان جاتے ہیں کہ جو کل تک دوسروں کے متعلق اپنے سنا رہے تھے اور انہیں ''کفر ''تک پہنچا کر دم لیتے تھے وہی آج ہماروں کے متعلق بھی ان ہی جیسے دلائل کے ذریعے بتایا جا رہا ہے ۔
اس سارے عمل کا ایک منفی نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس کو ''علما"کی باتوں پر اعتماد کم ہونے لگا ہم دوسروں کا اعتماد ان کے علماء پر کم کرنے نکلے تھے مگر ہم سب بری طرح اس جھال میں پھنس گئے ہیں آج نہیں تو کل یہ بلا ہم سب کو کھا جائے گی اور کھا رہی ہے مگر اپنے چاپلوس اور مالی مفادات کچھ الگ سے سوچنے کا موقع ہی فراہم نہیں کرتے ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Anantnag?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Sallar
Anantnag
192402