19/06/2026
قاضی نثار احمد — حق گوئی، دعوت اور استقامت کی ایک روشن مثال
کشمیر کی دینی، سماجی اور فکری تاریخ میں قاضی نثار احمد کا نام ایک ایسے عالمِ دین کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی رہنمائی کے لیے وقف رکھی۔ ان کی برسی صرف ایک شخصیت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ ان اقدار کو تازہ کرنے کا موقع ہے جن کی بنیاد علم، اخلاص، کردار اور حق گوئی پر تھی۔
قاضی نثار احمد اپنے مؤثر اندازِ بیان، سادہ طرزِ زندگی اور عوام سے گہرے تعلق کی وجہ سے ہر طبقے میں مقبول تھے۔ ان کے خطبات میں قرآن و سنت کی تعلیمات، اخلاقی اصلاح، اتحادِ امت اور معاشرتی ذمہ داریوں پر خصوصی زور دیا جاتا تھا۔ وہ اختلاف کے باوجود مکالمے اور خیر خواہی کو اہمیت دیتے تھے اور نوجوانوں کو علم، کردار اور دینی شعور کی طرف متوجہ کرتے تھے۔
ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک عالم کی اصل طاقت اس کے علم، کردار اور اخلاص میں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے منصب کو صرف خطابت تک محدود نہیں رکھا بلکہ عوامی خدمت، دینی تعلیم اور سماجی بیداری کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔
ان کی شہادت نے کشمیر کے دینی حلقوں میں گہرا اثر چھوڑا اور آج بھی ان کے چاہنے والے انہیں عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے باوجود ان کی خدمات، ان کے خطبات اور ان کی دعوتی فکر بہت سے لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
آج ان کی برسی کے موقع پر بہترین خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم علم حاصل کریں، حق و انصاف کو مضبوطی سے تھامیں، معاشرے میں اخلاق، امن اور خیر خواہی کو فروغ دیں اور اختلافات کو شائستگی اور حکمت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔
دعا:
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاجْعَلْ ذِكْرَهُ الْحَسَنَ بَاقِيًا فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ.
اللہ تعالیٰ قاضی نثار احمد کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی علم، اخلاص اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
طالب دعا مولنا محمد فیاض رضا امجدی تانترے