Moulana md faiyaz Ahmad tantry Amjadi sahib

Moulana md faiyaz Ahmad tantry Amjadi sahib

Share

offical page of Molana Muhammad Faiyaz Raza Amjadi Tantray, a renowned Sunni Barelvi Islamic scholar and preacher from Kokernag, Anantnag, Kashmir.

Founder of Baba Dawood Foundation (2016). Dedicated to spreading Islamic teachings,

19/06/2026

قاضی نثار احمد — حق گوئی، دعوت اور استقامت کی ایک روشن مثال
کشمیر کی دینی، سماجی اور فکری تاریخ میں قاضی نثار احمد کا نام ایک ایسے عالمِ دین کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور عوامی رہنمائی کے لیے وقف رکھی۔ ان کی برسی صرف ایک شخصیت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ ان اقدار کو تازہ کرنے کا موقع ہے جن کی بنیاد علم، اخلاص، کردار اور حق گوئی پر تھی۔
قاضی نثار احمد اپنے مؤثر اندازِ بیان، سادہ طرزِ زندگی اور عوام سے گہرے تعلق کی وجہ سے ہر طبقے میں مقبول تھے۔ ان کے خطبات میں قرآن و سنت کی تعلیمات، اخلاقی اصلاح، اتحادِ امت اور معاشرتی ذمہ داریوں پر خصوصی زور دیا جاتا تھا۔ وہ اختلاف کے باوجود مکالمے اور خیر خواہی کو اہمیت دیتے تھے اور نوجوانوں کو علم، کردار اور دینی شعور کی طرف متوجہ کرتے تھے۔
ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک عالم کی اصل طاقت اس کے علم، کردار اور اخلاص میں ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے منصب کو صرف خطابت تک محدود نہیں رکھا بلکہ عوامی خدمت، دینی تعلیم اور سماجی بیداری کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔
ان کی شہادت نے کشمیر کے دینی حلقوں میں گہرا اثر چھوڑا اور آج بھی ان کے چاہنے والے انہیں عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے باوجود ان کی خدمات، ان کے خطبات اور ان کی دعوتی فکر بہت سے لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
آج ان کی برسی کے موقع پر بہترین خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم علم حاصل کریں، حق و انصاف کو مضبوطی سے تھامیں، معاشرے میں اخلاق، امن اور خیر خواہی کو فروغ دیں اور اختلافات کو شائستگی اور حکمت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔
دعا:
اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاجْعَلْ ذِكْرَهُ الْحَسَنَ بَاقِيًا فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ.
اللہ تعالیٰ قاضی نثار احمد کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی علم، اخلاص اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
طالب دعا مولنا محمد فیاض رضا امجدی تانترے

18/06/2026

فیضان نے کہا تھا میدان سجاؤ میں فیضان سے کہو چلو تیار ہو جاؤ بس اتنا بتاو کہاں سجانا ہے ڈوڈہ میں یا کشتواڑ میں میں تیار ہوں
امجدی

17/06/2026

استغفر اللہ فیضان نامی اس خبیث کی یہ جرات ضلع ڈوڈہ کشتواڈ کے سنی بریلوی علماء کو اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے
امجدی

13/06/2026

حضرت فاروق اعظم رض کی شان میں ایک جملہ اللہ پاک بروز محشر ہم سب کو فاروق اعظم کی شفاعت سے نوازے

11/06/2026

وفا کی راہ میں ہم آخری سانس تک رہیں گے،
جو عہد آپ سے باندھا ہے، اس پر قائم رہیں گے۔

10/06/2026

تواریخ پر گہرا مطالعہ رکھنے والے حضرات حاضری لگائیں وہ کون سی شخصیت ہے جس کی حکومت کو خلافت راشدہ کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔امجدی

07/06/2026

کتاب کے تیار کردہ ابواب آپ حضرات کی
عرض مصنف
خدمت میں
باب اول تا 18 فہرست
کشمیر کا جغرافیہ اور تعارف
قدیم کشمیر اور ابتدائی تہذیبیں
ہندو حکمرانوں کا دور
بدھ مت کا فروغ اور اس کے اثرات
اسلام کی آمد اور ابتدائی مبلغین
سلطان رِنچن، بلبل شاہ اور اسلام کا آغاز
سلطنتِ کشمیر کا قیام اور ابتدائی سلاطین
حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کی آمد اور خدمات
میر محمد ہمدانی اور دیگر صوفیاء کی خدمات
سلطان سکندر، سلطان علی شاہ اور سلطان زین العابدین کا دور
ب
چک خاندان کی حکومت
مغل دورِ حکومت
افغان دورِ حکومت
سکھ دورِ حکومت
ڈوگرہ دورِ حکومت
تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور سیاسی بیداری
باب 17 ۔۔۔1947
ء کے بعد کشمیر کی تقسیم اور تنازع
جدید کشمیر: سماجی،سیاسی دینی، تعلیمی اور باب ثقافتی 2025 تک حالات
کشمیر کی علمی، دینی اور ادبی شخصیات
نتائج، تجزیہ اور مستقبل کے امکانات
اہم باب 1947
1947ء تا 2025ء: کشمیر کی سیاسی تاریخ، حریت تحریک اور حکومتی پالیسیاں
اس باب میں 1947ء سے 2025ء تک کشمیر کی سیاسی، سماجی اور تاریخی صورتِ حال کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں ریاستِ جموں و کشمیر کی تقسیم، مختلف سیاسی ادوار، اہم سیاسی جماعتوں، نمایاں سیاست دانوں، حریت پسند رہنماؤں، عوامی تحریکوں، آئینی تبدیلیوں، انتخابات، امن و امان کی صورتِ حال، اور ہندوستانی حکومت کی کشمیر سے متعلق پالیسیوں اور اقدامات کا تاریخی و تحقیقی جائزہ پیش کیا جائے گا۔
مزید برآں، اس باب میں 1947ء کی جنگ، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، دفعہ 370 اور 35A، 1987ء کے انتخابات، 1989ء کے بعد کی شورش، 2019ء کی آئینی تبدیلیاں، اور 2025ء تک کے اہم سیاسی، سماجی اور انتظامی واقعات کو مستند حوالہ جات کے ساتھ ترتیب وار بیان کیا گیا ہے ، آنی والی نسلوں اور قارئین کو کشمیر کی معاصر تاریخ کا ایک جامع اور متوازن مطالعہ میسر آ سکے۔
العارض محمد فیاض رضا امجدی تانترے

05/06/2026

ہمیں فخر ہم بریلوی ہیں الحمد اللہ
By moulana Md faiyaz Raza amjadi hh

04/06/2026

اہلسنت 18 ذالحجہ کو یوم شہادت عثمان مناتی ہے ۔نہ کہ غدیر
عید غدیر روافض کی ایجاد ہے نہ کہ اہلسنت کی ام

03/06/2026

حضرت عثمانِ غنی کی شان میں ایک جملہ لکھیں

تعارف
Uthman ibn Affan، جنہیں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اسلام کے تیسرے خلیفۂ راشد، عشرۂ مبشرہ میں شامل، اور رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنو اُمیہ سے تھا۔ آپ اپنی بے مثال سخاوت، حیاء، نرم خوئی اور دینِ اسلام کی خدمت کی وجہ سے امتِ مسلمہ میں بلند مقام رکھتے ہیں۔
اسلام قبول کرنا
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابتدائی مسلمانوں میں شامل تھے۔ آپ نے Abu Bakr al-Siddiq کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ اسلام لانے کے بعد آپ نے کفارِ مکہ کی سخت مخالفت اور اذیتوں کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔
ذو النورین کا لقب
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو "ذو النورین" (دو نوروں والے) کہا جاتا ہے، کیونکہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے یکے بعد دیگرے نکاح کا شرف حاصل ہوا۔ پہلے Ruqayyah bint Muhammad سے اور ان کے وصال کے بعد Umm Kulthum bint Muhammad سے نکاح ہوا۔ تاریخ میں یہ منفرد اعزاز کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔
سخاوت اور فیاضی
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بے مثال سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر آپ نے مسلمانوں کی مالی مدد کے لیے بڑی مقدار میں مال، اونٹ اور سامان پیش کیا۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں مشہور کنواں "بئرِ رومہ" خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔
دورِ خلافت
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ 24 ہجری میں خلیفہ منتخب ہوئے اور تقریباً بارہ سال تک خلافت کے منصب پر فائز رہے۔ آپ کے دور میں اسلامی سلطنت کی حدود وسیع ہوئیں اور بہت سے نئے علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے۔
آپ کے دور کا سب سے عظیم کارنامہ قرآنِ کریم کی قراءت کو ایک رسم الخط پر جمع کرکے مصاحف تیار کروانا تھا، جنہیں مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ یہ خدمت امتِ مسلمہ پر آپ کا عظیم احسان شمار کی جاتی ہے۔
حیاء کا اعلیٰ مقام
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیاء کے متعلق فرمایا:
"کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں؟"
یہ فضیلت آپ کے بلند اخلاق اور پاکیزہ کردار کی روشن دلیل ہے۔
شہادت
35 ہجری میں بعض فتنہ پرداز عناصر نے مدینہ منورہ میں آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کے خون کو بچانے کے لیے مزاحمت سے گریز کیا۔ آخرکار آپ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیے گئے۔ آپ کی شہادت امتِ مسلمہ کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک واقعہ ہے۔
اہلِ سنت کا عقیدہ
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ برحق خلیفہ، جلیل القدر صحابی، دامادِ رسول ﷺ اور امت کے عظیم محسن ہیں۔ ان سے محبت ایمان کا حصہ اور ان کے بارے میں ادب و احترام اختیار کرنا اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔
نتیجہ
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی سخاوت، حیاء، عبادت، خدمتِ اسلام اور قربانی کا روشن نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم کی حفاظت، اسلامی ریاست کی توسیع اور امت کی خدمت کے میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ۔
طالب دعاء مولانا محمد فیاض رضا امجدی تانترے

Want your school to be the top-listed School/college in Anantnag?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Cort Road Vailoo Kukarnag
Anantnag
192202