Berar Muslim Educational Conference & Osmania Masjid Trust, Amravati

  • Home
  • India
  • Amravati
  • Berar Muslim Educational Conference & Osmania Masjid Trust, Amravati

Berar Muslim Educational Conference & Osmania Masjid Trust, Amravati Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Berar Muslim Educational Conference & Osmania Masjid Trust, Amravati, Education, Osmania Masjid Complex, Bus Stand Road, Amravati.

12/01/2021

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ دوستو

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔
میں نے آج تک اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔
اسلۓ آپ سے گزارش کہ آپ اسے پورا سکون و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔ان شاء اللہ, آپکا ایمان تازہ ہوجاۓگا۔“

02/01/2021

*کیا واقعی انسان 309 سال تک سو سکتا ہے؟*

اصحاب کہف(قرآن) کے واقعہ کی سائینسی چھان بین:
ہائیبرنیشن (Hibernation) ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً دو ہزار مختلف جاندار موسم کی سختیوں ، خوراک کئ کمی اور موت کے خوف سے بچنے کے لئیے لمبی تان کر سوجاتے ہیں۔ ان کے خلیوں میں موجود جین اس طرح کے خوف و خطرات سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور ان پر ایک بہت لمبی نیند تان دیتے ہیں جسے Hibernation کہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران دل کی دھڑکن %95 تک آہستہ ہوجاتی ہے، سانس سیکنڈوں کی بجائے منٹوں میں چلی جاتی ہے۔ جسم کا درجہ حرارت کم ہوکر ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور جاندار اپنے جسم کی غذائی توانائی پورا کرنے کا بڑا حصہ جسم میں موجود چربی اور مسلز سے حاصل کرتا ہے۔ خوراک یا چربی سے توانائی حاصل کرنے کے اس عمل کو میٹابولزم کہتے ہیں۔ اس طرح کل ملا کر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہائبرنیشن کے دوران کسی زندہ چیز کا میٹابولزم انتہائی سست ہوجاتا ہے۔ ہائیبرنیشن کرنے والے جانوروں میں کئی چوہے، چمگادڑ، گلہری، لنگوروں کی کئی نسلیں، کچھ پرندے ، سانپ، کیڑے اور کئی ریچھ شامل ہیں۔
ہائئبرنیشن والے جانور جی بھر کے کھاتے ہیں تاکہ موٹے ہوکر اندر چربی بنا لیں جو ہائیبرنیشن میں توانائی دے گی۔ ہائیبرنیشن سے کچھ مہینوں بعد باہر آنے پر جانداروں کو زور کی بھوک لگتی ہے اور وہ پہلا کام شکار تلاش کرنا کرتے ہیں۔
عام طور پر ہائبرنیشن سردیوں سے بچنے کے لئیے ہوتی ہے اور اس موسم میں شکار بھی کم ہوجاتا ہے اسلئیے۔ آج تک سب سے لمبی ہائیبرنیشن ایک چمگادڑ کی ہے جو 344 دن یعنی تقریباً ایک سال تک بنا کھائے پئیے سوئی رہی۔
سائینس یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ Telomeres جو کہ ڈی این اے کے ٹکڑے ہیں اور سیل کے کروموسوم کے کناروں پر ہوتے ہیں وہ سیل کی ہر تقسیم کے وقت کم ہوتے جاتے ہیں اور ان کی تعداد کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کرکے کسی جاندار کی باقی ماندہ زندگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے لیکن ہائیبرنیشن کے دوران ان کو انتہائی سست رفتار سے کم ہوتے دیکھا گیا ہے۔ اس ساری بات کو آسان لفظوں میں کہیں تو ہائیبرنیشن کے دوران جانور کی عمر بڑھنا تقریباً رک جاتی ہے ۔
ہالی وو ڈ کی ایک فلم جس کا نام The Pessenger ہے۔ فلم کی سٹوری کا مختصر Theme یہ ہے کہ 5000 لوگوں اور 258 سپیس شپ کے مزدوروں پر مشتمل ایک گروہ ایک نئے سیارے Homestead 2 پر جارہا ہے۔ سیارہ چونکہ زمین سے 120 نوری سال پر واقع ہے۔ اس لئیے انسان کا اپنی نارمل زندگی میں جس میں وہ بمشکل ستر سے اسی سال طبعی عمر پاتا ہے، جانا مشکل ہے۔ اس کے لئیے سائینسدان ایسے طابوت تیار کرتے ہیں جس میں ہر شخص کو ہائیبرنیٹ کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کی عمر انتہا درجے کی آہستہ ہوجائے اور یہ 120 سال کا عرصہ گزر جائے اور وہ نئے سیارے پر ایک نئی زندگی کے ساتھ اتریں۔ لیکن ان میں سے ایک شخص کسی خرابی کی وجہ سے جاگ جاتا ہے اور اسے پتہ چلتا ہے ابھی نئے سیارے پر پہنچنے کے لئیے 80 سال مزید پڑے ہوئے ہیں
تو یہاں سے فلم اس کے دوبارہ ہائیبرنیٹ ہونے کی جدوجہد پر شروع ہوتی ہے۔
اب ذرا قرآن کی سورت کہف کے ان چند جملوں پر غور کریں:
تو ہم نے غار میں “ کئی سالوں تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے رکھا” 11
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ وہ “ انکی غار کے داہنی طرف سمٹ جائےاور جب غروب ہو تو بائیں طرف کترا جائےاور وہ اس کے میدان میں تھے. یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ”17
“اور تم ان کا خیال کرو کہ جاگ رہےہیں حالانکہ وہ سورہے ہیں اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کے بھاگ جاتے اور دہشت میں آجاتے"18
"اور اس طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں . ایک کہنے والے نے کہا تم یہاں کتنی مدت رہے انہوں نے کہا ایک دن یا اس سے بھی کم. انہوں نے کہا جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو وہ دیکھے نفیس( توانائی سے بھرپور) کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے۔اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔" 19
۰سائینس یہ کہتی ہے کہ ہائیبرنیشن کے دوران کئی جانداروں کے جسم کے کئی حصے (آرگنز) کام کرنا بند کردیتے ہیں۔
چاہےباہر کا درجہ حرارت جیسا بھی ہو دنیا کی زیادہ تر غاروں کا درجہ حرارت سارا سال مستقل رہتا ہے۔ اصحاب کہف کا پہلا قدم غار تھا اسکے بعد سوجانا، قرآن کا یہ کہنا کہ ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا دراصل ہمارے اندرونی کان کے حصے کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے جو ایک غیر معمولی آواز پر چونک کر دماغ کو سگنل بھیجتا ہے اور دماغ ہمیں جگا دیتا ہے لیکن اصحاب کے معاملے میں وہ حصہ مکمل رک چکا (Suspended) تھا۔
۰ اگر سورج کی روشنی غار میں پڑتی تو غار کا درجہ حرارت بڑھتا جو اصحاب کو جگا سکتا تھا دوسرا سورج کی تیز شعاعیں جلد پر پڑھنے سے جسم میں Free Radical مالیکیولز بڑھتے ہیں جو انسان کی عمر بڑھانا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن قرآن کا یہ کہنا کہ طلوع و غروب کے وقت سورج غار کے سامنے نہ ہوا، کہانی کو بڑے دلچسپ مرحلے میں لے کر جارہا ہے۔( یعنی غار سارا عرصہ ٹھنڈی رہی)
۰ سائینس مانتی ہے کہ سویا ہوا شخص اگر زیادہ دیر تک کروٹ نہ بدلے تو خون کا بہائو رکنے اور پریشر کی وجہ سے جسم پر بڑے بڑے زخموں کی بیماری کا شکار ہوسکتا ہے جسے Pressure Ulcer کہتے ہیں لیکن قرآن کہتا کہ اصحاب کی کروٹ باقاعدہ بدلائی جاتی رہی (چنانچہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہے)۔
۰ سائینس کہتی ہے کہ اگر آنکھیں زیادہ دیر تک بند رہیں تو آنکھوں کے Nerve Optic کو نقصان پہنچا کر اندھا کر سکتی ہیں اگر زیادہ دیر تک مستقل کھلی رہیں تو Cornea کو نقصان پہنچائیں گی۔یعنی زیادہ دیر تک آنکھیں کھلی رکھنے یا بند کرنے سے نقصان ہے۔ کوما کے اکثر مریض اگر لوٹ آئیں تو آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔اب ظاہری سی بات ہے کہ اتنا لمبا عرصہ سونے کے لئیے آنکھوں کا باقاعدہ وقفے وقفے سے جھپکتے رہنا ضروری ہے تاکہ نظر ضائع ہونے سے بچ جائے۔ قرآن کہتا ہے تو تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ جاگ رہے ہیں ( مطلب آنکھیں جھپک رہی ہیں) حالانکہ وہ سورہے ہیں اور مارے دہشت کے پیٹھ پھیر کے بھاگ جائو۔ ظاہر ہے آپ کسی کو ایسے سوئے دیکھیں گے جو آواز بھی نہ سن رہا ہو اور آنکھیں جھپکا رہا ہو آپ بھی بھاگیں گے۔
۰ سائینس کہتی ہے ہائیبرنیشن میں ایک جاندار اپنے جسم کی انرجی کا بڑا حصہ استعمال کرلیتا ہے اور باہر آتے ساتھ ہی وہ شکار شروع کر دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے جیسے ہی وہ اٹھے ایک نے کہا بازار سے بہترین کھانا لے کر آئو۔
ان سب نکات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اصحاب کہف Human Hibernation کی وہ ٹیکنالوجی حاصل کرچکے تھے جو فلم Messenger میں دکھائی گئی ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہوا کیا انہوں نے کوئی پھل یاجڑی بوٹی کھائی یا کسی ایسے جانور سے کوئی چیز ان کے جسم میں منتقل ہوئی جو غار میں ہائیبرنیٹ کر رہا تھا اللہ بہتر جانتا ہے لیکن قرآن کی اس سورت کے ان چند جملوں کو پرکھنے کے لئیے میں ناسا اور ان دوسرے اداروں کو دعوت دیتا ہوں جو ہائیبرنیشن کو (خلا میں جانے کے لئیے اور کئی مریضوں کو علاج کے لئیے) استعمال کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آئیں غور کریں اور دیکھیں ایسی کیا وجہ ہے کہ اصحاب کہف اتنا عرصہ سو پائے۔
اگر تین سو شمسی سال کو گوگل میں لکھ کر قمری سال میں تبدیل کریں تو 309 سال بنتے ہیں قرآن کہتا:
" اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے"
سبحان اللہ کیا اعدادوشمار اور حکمت ہے میرے رب کی۔ یہ چند نوجوان تھے باقی پوری سلطنت گمراہ اور بادشاہ ظالم تھا جو انہیں پتھر مار مار کر مارنا چاہتے تھے لیکن جب ان نوجوانوں نے رب پہ بھروسہ کیا تو اس نے ان کے لئیے راہ نکالی اور ہمارے لئیے اس میں ایک سبق چھوڑ دیا۔
ترکی کے شہر Tarsus میں ایک غار موجود جسے اصحاب کہف کی غار مانا جاتا ہے۔ اصحاب کہف کا واقعہ عیسائی مذہبی کتابوں اور رومی تاریخ میں بھی The Seven Sleepers کے نام سے موجود ہے. لیکن جو قرآن نے بالکل سائینس کے موافق بیان کیا ایسا بیان کسی کتاب میں نہیں ملتا۔

Night view of Grand Osmania Masjid
26/05/2020

Night view of Grand Osmania Masjid

The Grand Success
16/09/2018

The Grand Success

05/09/2018
Educational Conference, Felicitation and Scholarship Distribution Programme
31/08/2018

Educational Conference, Felicitation and Scholarship Distribution Programme

Address

Osmania Masjid Complex, Bus Stand Road
Amravati
444606

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Berar Muslim Educational Conference & Osmania Masjid Trust, Amravati posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Berar Muslim Educational Conference & Osmania Masjid Trust, Amravati:

Shortcuts

Share

Category