20/03/2026
जो इंसान इंसानों से मोहब्बत करता है, वही रब के करीब होता है। ईद मोहब्बत बाँटने का दिन है।
अल्लाह हमारी ईद को ज़ाहिरी खुशियों के साथ बातिनी नूर से भी भर दे। आमीन।
جو بندہ بندوں سے محبت کرتا ہے، وہی رب کے قریب ہوتا ہے۔ عید محبت بانٹنے کا دن ہے۔
اللہ ہماری عید کو ظاہری خوشیوں کے ساتھ باطنی نور سے بھی بھر دے۔ آمین
जो इंसान इंसानों से मोहब्बत करता है, वही रब के करीब होता है। ईद मोहब्बत बाँटने का दिन है।
अल्लाह हमारी ईद को ज़ाहिरी खुशियों के साथ बातिनी नूर से भी भर दे। आमीन।
| | | |
16/03/2026
🌙 Eid-ul-Fitr Mubarak! 🌙
Alhamdulillah! Mah-e-Ramzan ki barkaton ke baad Eid ki khushiyan naseeb ho rahi hain. Allah Ta'ala is Eid ko hamare liye rahmat, barkat aur maghfirat ka zariya banaye.
📿 Namaz-e-Eid ka waqt: 07:20 subah
🕌 Maqam: Saiyed Haqqani Jama Masjid
📍 Khanqah-e-Arifia, Saiyed Sarawan
اللہ تعالیٰ ہمیں عید کی حقیقی خوشیوں کے ساتھ تقویٰ و اخلاص اور شکر کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
تقبل اللہ منا ومنکم، عید مبارک
| | | | |
11/03/2026
Sahabzadah Sheikh Husain Saeed Safawi ne Khanqah-e-Arifia, Saiyed Haqqani Jama Masjid mein 21win martaba Taraweeh mein Takmeel-e-Quran ki sa'adat hasil ki.
صاحبزادہ شیخ حسین سعید صفوی نے خانقاہ عارفیہ، سید حقانی جامع مسجد میں 21 ویں مرتبہ تراویح میں تکمیلِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔
March 10, 2026 — 21 Ramzan Mubarak 1447
https://youtube.com/shorts/V8hdTQLVZqQ?si=4gTImMHp9jRTzTIK
06/03/2026
خانقاہِ عارفیہ کی سید حقّانی جامع مسجد میں آج کے خطاب میں نقیب الصوفیہ مفتی محمد کتاب الدین رضوی نے اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن زکات کی حقیقت، فرضیت اور اس کے تقاضوں کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اقرارِ شہادتین کے بعد نماز، روزہ، زکات اور حج اسلام کے عظیم ارکان ہیں، اور یہ سب دراصل اس بات کا عملی اظہار ہیں کہ مومن اپنی جان اور مال دونوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے۔ اسی تناظر میں زکات کو ایک اہم مالی عبادت قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ ہر اس مسلمان، آزاد، عاقل، بالغ اور صاحبِ نصاب شخص پر فرض ہے جس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد مال ہو اور اس مال پر پورا سال گزر جائے۔ سونا، چاندی یا ان کی قیمت کے برابر مال کے نصاب کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ زکات کو فرض ماننے کے باوجود ادا نہ کرنا انسان کو سخت مواخذے کے قریب لے جاتا ہے۔
بیان کے دوسرے حصے میں زکات نکالنے کا طریقہ، نیت کی اہمیت، مستحقین کی پہچان اور زکات دیتے وقت ادب و احترام کی تعلیم پر زور دیا گیا۔ فرمایا کہ چونکہ زکات عبادت ہے، اس لیے نیت کے بغیر اس کی ادائیگی درست نہیں ہوتی، اور اس کا عمومی حساب مال کا ڈھائی فیصد یعنی چالیسواں حصہ ہے۔ مزید یہ وضاحت کی گئی کہ زکات اپنے اصول و فروع، یعنی ماں باپ، دادا دادی، اولاد اور پوتے پوتیوں کو نہیں دی جا سکتی، البتہ بہن بھائی اگر مستحق ہوں تو انہیں دی جا سکتی ہے۔ آخر میں یہ اہم نصیحت کی گئی کہ زکات دے کر کسی پر احسان نہ جتایا جائے، کسی کی دل آزاری نہ کی جائے اور مستحق کی عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھا جائے، کیونکہ قرآنِ کریم نے صدقات کو ’’منّ و اذیٰ‘‘ کے ذریعے ضائع کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اس طرح واضح کیا گیا کہ زکات صرف مال نکالنے کا نام نہیں بلکہ اخلاص، احترام، خیر خواہی اور اللہ کی رضا کے لیے عاجزی کے ساتھ دینے کا نام ہے۔
https://youtube.com/live/i4ST9Iee2AI
| | | | | | | | | | |