Za'eef Wa Mauzu Riwayat

Za'eef Wa Mauzu Riwayat

Share

It Is a educational Page

17/11/2021

क्या सुरक्षा की दृष्टि से देश की छवि अंतर्राष्ट्रीय पटल पर धूमिल नही हो रही ?

31/03/2021

جنت کو رمضان کیلئے پورا سال مزین کیا جاتا ہے

إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى حَوْلِ قَابِلٍ» . قَالَ: فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرَّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا وَتَقَرَّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا .

” جنت کو رمضان کیلئے پورا سال مزین کیا جاتا ہے۔فرمایا: جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے جنت کے پتوں سے ہوا چلتی ہوئی حورعین تک پہنچتی ہے تو وہ کہتی ہیں: رب جی! اپنے بندوں میں سے ہمارے شوہر بنادے، ہم ان سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔“

(شعب الإیمان للبیهقي: ۳۶۳۳)

ضعیف : یہ ضعیف روایت ہے، کیونکہ؛

۱: اس کا راوی ولید بن ولید مختلف فیه ہے لیکن اس کا ضعیف ہونا راجح ہے۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو روایت کرنے میں عبد الرحمٰن بن ثابت بن ثوبان عمرو بن دینار سے متفرد ہیں، اور ابن ثوبان سے روایت لینے میں ولید بن ولید متفرد ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے حجت لینا جائز نہیں۔

(العلل المتناهیة ، کتاب الصیام: ۸۸۱)

اس حدیث کے بہت سے شواہد بھی ہیں جو سب کے سب باطل ہیں۔

(مشکوٰۃ المصابیح بتحقیق زبیر علی زئی: ۱۹۶۷)

26/03/2021

⛔ سلسلة ضعیف احادیث و موضوع روایات

بعض لوگ خطبہ جمعہ شروع ہوجاٸے تو دو رکعت (تحیّة المسجد) نہیں پڑھتے ، وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں " جب امام منبر پر چڑھ جائے تو نماز جائز ہے نہ بات چیت "

لیکن یہ روایت باطل اور بے اصل ہے.❌

( موضوع اور منکر رویات : ٤٩ )

📚 ( باطل : سلسلة الضعیفہ : ٨٧ )
___________

🌷 خطبہ کے دوران تحیّة المسجد ادا کرنا

خطبہ شروع ہو تو بھی تحیّة المسجد ادا کر کے بیٹھنا چاہیئے ، سیّدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اتنے میں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آٸے اور بیٹھ گئے ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا :

" اے سلیک.. کھڑا ہو اور مختصر سی دو رکعت ادا کر."

پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا 👇

" جب تم جمعہ کے روز آؤ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو ( بیٹھنے سے پہلے ) لازمی طور پر مختصر سی دو رکعات ادا کیا کرو."

📚 ( صحیح مسلم ، کتاب الجمعة ، باب التحیّة والامام یخطب رقم الحدیث : ٨٧٥ )

https://t.me/ZaeefHadiths
#نماز #جمعہ

18/03/2021

فقیروں کا حج ؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہے:
اَلْجُمُعَةُ حَجُّ الْمَسَاكِينَ

"جمعہ فقیروں کا حج ہے۔"

(معجم ابن الأعرابي، ح : 2378، مسند الشھاب للقضاعی، ح : 78، 79)

یہ روایت سخت ضعیف ہے۔عیسی بن ابراھیم سخت ضعیف ہے۔مقاتل بن قیس کی حافظ ازدی سے تضعیف بیان کی گئی ہے لیکن ازدی خود ضعیف ہے نیز مقاتل کی توثیق نہیں مل سکی۔ضحاک بن مزاحم کا سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔

18/03/2021

┄┅════❁﷽❁════┅┄

❈••• مــــاہِ رجـــب •••❈

➠ مــــاہِ رجــب کـــے متعلــق جــــھوٹی اور کمــــزور روایات::

⛔اِن فی الجنۃ نھراً یقال لہُ رجب ، ماؤہ اشد بیاضاً مِن اللبنِ و احلیٰ مِن العَسلِ مَن صام یوماً مَن رجب سقاہُ اللہ مَن ذَلکَ النھر-

〰جنت میں ایک دریا ہے جِس کا نام رجب ہے اُس کا پانی دودھ سے زیادہ سُفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، جو کوئی رجب کے مہینے میں ایک دِن بھی روزہ رکھے گا اُسے اللہ اِس دریا کا پانی پلائے گا-

☜حدیث باطل /سلسلہ الاحادیث الضعیفہ و الموضوعہ /حدیث ١٨٩٨

⛔اللھُم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان-

〰اللہ ہمیں ر جب و شعبان میں برکت دے اور رمضان تک پہنچا دے۔

☜حدیث ناقابلِ حُجت ،ضعیف الجامع الصغیر /٤٣٩٥

⛔رجب شھر اللہ و شعبان شھری و رمضان شھر اُمتی-

〰رجب اللہ کا مہینہ ، اور شعبان میرا مہینہ، اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے ۔

☜ضعیف الجامع الصغیر /حدیث٣٠٩٤

⛔فضل رجب علیٰ سائر الشھورِ کفضل القُرانِ علیٰ سائز الاذکار-

〰تمام مہینوں پر رجب کی فضیلت اُس طرح ہے جِس طرح تمام تر اذکار پر قُران کی فضیلت ہے ۔

☜تبيين العجب فيما ورد في فضل رجب ، لابن حجر ، ص6

⛔مَن صلی لیلۃ سبعۃ و عشرین مِن رجب اثنتی عشرۃ رکعۃ ،حط اللہ عنہُ ذنوبہ ستین سنۃ-

〰جِس نے رجب کی ستائیسویں رات میں بارہ رکعت نماز پڑھی اللہ اُسکے ساٹھ سال کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔

☜تنزیۃ الشریعۃ / حدیث ٤٩

⛔اِن فی رجب یوم و لیلۃ مَن صام ذلک الیوم و قام تلک اللیلۃ کان کمن صام الدھر مائۃ سنۃ و قام مائۃ سنۃ-

〰بے شک رجب میں ایک دِن اور ایک رات ایسے ہیں کہ جو اُس دِن روزہ رکھے گا اور اُس رات نماز پڑھے گا تو گویا اُس نے سو سال مسلسل روزے رکھے اور سو سال مسلسل رات بھر نماز پڑھی ۔

☜تبین العجب مما ورد فی فضل رجب /اِمام ابن حَجر

◉نـــوٹ::: مــذکورہ تمام روایات باطل و کمزور ہیـں جو قابلِ حجت نہیـں-

••┈┈•◈◉❒ ❌❒◉◈•┈┈••
┄┄┄•─╮Join╭─•┄┄┄

📱📚ٹیلیگــــرام چینــــل👇🏻

https://t.me/joinchat/G7xg40tm6YqtulGl

📚 اس چینل میں صرف ضعیف اور موضوع من گھڑت روایات شیئر کی جائیں گی ان شاءاللہ✔

🥀خود بھی ایڈ ہوں اور دیگر احباب کو بھی ایڈ کروائیں

🌹لنک زیادہ سے زیادہ شیئر کریں

💞جــــزاک اللہ خــــیرا💞

18/03/2021

یہ اسراف ہے کہ تم ہر اس چیز کو کھاؤ جس کی تمہیں رغبت اور خواہش ہو۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ السَّرَفِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّمَا اشْتَهَيْتَ» غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، لَا أَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْهُ إِلَّا نُوحٌ

حلية الأولياء وطبقات الأصفياء

3352 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ السَّرَفِ، أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ»

سنن ابن ماجہ

2765 - حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ السَّرَفِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ»

مسند ابی یعلی

5334 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنِي سُوَيْدٌ، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنَ الْإِسْرَافِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ "
شعب الایمان

2467- (312) أخبرنا محمدٌ: حدثنا إسماعيلُ: حدثنا أبوبكرٍ محمدُ بنُ أحمدَ بنِ أبي بكرٍ: حدثنا محمدُ بنُ عبدِالعزيزِ الرمليُّ: حدثنا بقيةُ بنُ الوليدِ، عن يوسفَ بنِ أبي كثيرٍ، عن نوحِ بنِ ذكوانَ، عن الحسنِ، عن أنسِ بنِ مالكٍ،
أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم كانَ يَكرهُ للرجلِ أَن يأكُلَ كلَّ ما اشتَهى
المخلصيات وأجزاء أخرى لأبي طاهر

ضعیف جدا

راوی نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ کےمتعلق :

------------------------------
ابو حاتم نے کہا کہ یہ کچھ نہیں مجھول ہے۔
ابن عدی نے کہا کہ اسکی احادیث غیر محفوظ ہوتی ہیں۔
ابن حبان نے کہا کہ شدید منکر الحدیث ہے۔
حاکم نے کہا کہ قوی نہیں، حسن سے جوروایت کرتا ہے وہ تمام معضل ہوتی ہیں۔
ساجی نے کہا کہ باطل روایات بیان کرتا ہے۔
ابو سعید نقاش نے کہا کہ حسن سے منکر روایات بیان کرتا ہے۔
ابو نعیم نے کہا کہ حسن سے معضلات بیان کرتا ہے اور اسکا صحیفہ جو حسن عن انس سے ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

(تھذیب التھذیب)

-------------
صحیح حدیث
-------------

کسی انسان نے اپنے پیٹ سے بُرا برتن کبھی نہیں بھرا ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے، تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے مختص کر دے"

ترمذی ( 2380 ) ابن ماجہ ( 3349 )

06/03/2021

جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے۔

2888 - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةٍ أَصْبَحَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ»: " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الوَجْهِ. وَعُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ يُضَعَّفُ قَالَ مُحَمَّدٌ:

«وَهُوَ مُنْكَرُ الحَدِيثِ»

سنن الترمذی

2246 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَامِدٍ الْبَزَّارُ بِهَمَدَانَ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حدثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حدثنا عمر بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الدُّخَانَ فِي لَيْلِةٍ أَصْبَحَ وَهُوَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلِكٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
شعب الایمان للبیھقی

راوی عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم کے متعلق :
------------------------------------------
بخاری نے ضعیف جدا اور ذاھب الحدیث کہا۔
ابو زرعة نے واھی الحدیث کہا۔
ابن عدی نے کہا کہ منکر الحدیث ہے اور اسکی بعض روایات کی متابعت موجود نہیں۔

(تھذیب التھذیب)

------------
صحیح حدیث
------------
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ کی دو آیتیں ( «امن الرسول» سے آخر تک) ایسی ہیں کہ جو شخص رات میں انہیں پڑھ لے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔

صحیح بخاری : 4008

27/02/2021

روزی میں برکت کے متعلق ضعیف حدیث
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

لسان المیزان میں اس طرح ہے

1700- عبد الرحمن" بن محمد اليحمدي ويقال التميمي شيخ مجهول روى عنه أحمد بن محمد بن غالب المعروف بغلام خليل وهو تالف وأخرج الدارقطني في الرواة عن مالك عن داود بن حبيب عن أحمد بن محمد بن غالب عنه عن مالك عن نافع عن ابن عمر قال: قال رجل يا رسول الله إن الدنيا أدبرت عني فقال: "أين أنت من صلاة الملائكة وتسبيح الخلائق وبه يرزقون قل عند طلوع الفجر سبحان الله العظيم وبحمده سبحان الله العظيم استغفر الله مائة مرة تأتك الدنيا صاغرة راغمة"

ابن جوزی نے بھی موضوعات (3/164) میں اس روایت کو بیان کیا ہے۔

أَنبأَنَا مُحَمَّد بن عبد الملك أَنبأَنَا الجوهرى عَن الدَّارقطني عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْبُسْتِيِّ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجِنْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّبَرِيّ عَن عبد الله بْنِ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ مَالِكِ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِع عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ فَقْرًا أَوْ دَيْنًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ صَلاةِ الْمَلائِكَةِ وَتَسْبِيحِ الْخَلائِقِ وَبِهَا يُنْزِلُ اللَّهُ الرِّزْقَ مِنَ السَّمَاءِ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ فَاسْتَوَى رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ تَقُولُ مِنْ مَطْلَعِ الْفَجْرِ إِلَى صَلاةِ الصُّبْحِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظْيِمِ وَتَسْتَغْفِرِ اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ، تَأْتِكَ الدُّنْيَا رَاغِمَةٌ ذَاخِرَةٌ، وَيَخْلُقُ اللَّهُ عزوجل مِنْ كُلِّ كَلِمَةٍ تَقُولُهَا مَلَكًا يُسَبِّحُ لَكَ ثَوَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".

راوی إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّبَرِيّ کے متعلق :

ابن عدی اور دارقطنی کہتے ہیں کہ منکر الحدیث ہے۔

ابن حبان کہتے ہیں کہ شدید منکر الحدیث ہے ، ‍ثقہ راویوں سے من گھڑت روایات بیان کرتا ہے۔

(ميزان الاعتدال في نقد الرجال : 719)

ابن حبان کہتے ہیں کہ کہ اس حدیث کی کوئی اصل نہیں اور کوئی شک نہیں کہ یہ گھڑی ہوئی روایت ہے مالک بن انس پر اور اسحاق بن ابراھیم شدید منکر الحدیث ہے ثقہ راویوں سے من گھڑت روایات بیان کرتا ہے۔

اسمیں عبد الرحمن" بن محمد اليحمدي کو شیخ مجھول کہا گیا ہے۔

داود بن حبيب بھی مجھول الحال ہیں۔

غُلاَمُ خَلِيْلٍ أَحْمَدُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ غَالِبٍ البَاهِلِيُّ پر بھی جرح موجود ہے۔

============================================

صحیح روایات :
__________

حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ من قال سبحان الله وبحمده‏.‏ في يوم مائة مرة حطت خطاياه، وإن كانت مثل زبد البحر ‏"‏‏.
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے سبحان اللہ وبحمد ہ دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
(صحیح بخاری : 6405)

حدثنا زهير بن حرب، حدثنا ابن فضيل، عن عمارة، عن أبي زرعة، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ كلمتان خفيفتان على اللسان، ثقيلتان في الميزان، حبيبتان إلى الرحمن، سبحان الله العظيم، سبحان الله وبحمده ‏"‏‏.‏

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہاہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابو زرعہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوکلمے جو زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بہت بھاری اور رحمان کو عزیز ہیں۔ سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ وبحمدہ۔
(صحیح بخاری : 6406)

Want your school to be the top-listed School/college in Allahabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Prayagraj
Allahabad
211003