01/05/2026
آج یکم مئی ہے۔ اس دن کو مزدوروں کے عالمی دن کے طور منایا جاتاہے ۔
یہ دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ترقی و خوشحالی کا اصل سہارا محنت کش ہاتھ ہیں۔
آج سے پانچ سال قبل ماہنامہ تہذیب الاخلاق علی گڑھ کے مدیر کے حکم پر مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جسے تہذیب الاخلاق کے مئی 2021کے شمارے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
محمد اسماعیل
29/04/2026
مرکزی مکتبہ اسلامی، جو کہ ملک کا ایک معتبر اشاعتی ادارہ ہے، کو حال ہی میں ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے ہیڈ آفس میں آگ لگ گئی۔ تاہم ادارے کی طرف سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ریٹیل اور گودام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا ہے اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ مینیجنگ باڈی کے دفاتر کو بھاری نقصان پہنچا ہے جس کا اندازہ کروڑوں روپے میں لگایا جا رہا ہے۔ذیل میں مکتبہ کا وضاحتی نوٹ منسلک ہے:۔ 🌆🔥📚
As you might already be aware, we had a fire accident early Friday morning that caused significant damage to our office space. Alhamdulillah, by the grace of Allah, our showroom, godown, and all other offices within the building remain safe and unaffected.
We are grateful to everyone who supported us in this moment of distress—especially the fire department, police authorities, our dearest neighbours, security personnel, volunteers who stood with us, and all those who remembered us in their duas.
With the grace of Allah, we are back in action. Business operations at Maktaba may continue as usual.
Please continue to remember us in your duas. May Allah be our Protector and Helper, and always keep us in His protection and mercy
امید ہے کہ آپ کو یہ اطلاع مل گئی ہوگی کہ مورخہ 24 اپریل 2026 بروز جمعہ کو صبح سویرے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز میں آگ لگنے کا اندوہ ناک واقعہ پیش آیا جس میں دفتر کو کافی نقصان پہنچا ،مگر اللہ کے فضل وکرم سے الحمدللہ ریٹیل شو روم ،گودام اور عمارت میں قائم دیگر دفاتر متاثر ہو نے سے بچ گۓ اور بالکل محفوظ ہیں ۔
ہم ان تمام لوگوں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مشکل کی گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا ۔خاص طور سے فاءر بریگیڈ کا عملہ ،پولیس افسران ،سیکوریٹی عملہ ،محترم پڑوسی حضرات اور وہ رضا کار جو ہمارے ساتھ ڈٹے رہے ۔وہ تمام لوگ بھی جنھوں نے اپنی دعاؤں میں یاد رکھا ۔
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئے ہیں ۔آپ مکتبہ کے ساتھ اپنے کاروباری تعلقات حسب معمول جاری رکھیں اور ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو اور ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے نیز اپنی رحمت وبرکت سے نوازے ۔آمین
17/04/2026
جناب احمد سعید اصلاحی (سکریٹری، انجمن طلبۂ قدیم مدرستہ الاصلاح سرائے، شاخ دہلی) کی عنایت سے ارسال کردہ نقشِ سالانہ 2026 کا شمارہ، جناب احمد فراز اصلاحی (نائب صدر، انجمن طلبۂ قدیم مدرستہ الاصلاح سرائے، شاخ علی گڑھ) کے توسط سے موصول ہوا۔
اکیڈمی ان دونوں مخلص و متحرک نوجوانوں کی تہِ دل سے شکر گزار ہے اور ان کی علمی و تنظیمی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
سردست بطورِ رسید، مجلہ کے سرورق کی تصویر پیشِ خدمت ہے۔
15/04/2026
گزشتہ دنوں اسوہ اکیڈمی میں مولانا کلیم صفات اصلاحی کی آمد کے موقع پر مختلف اہلِ علم نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ اسی ضمن میں مولانا محمد انس فلاحی مدنی نے نہایت دلنشیں انداز میں اپنے احساسات قلم بند کیے ہیں۔ اکیڈمی معزز مہمانِ گرامی اور مولانا مدنی دونوں کی تہِ دل سے شکرگزار ہے۔ ذیل میں مولانا مدنی کی یہ دلنشیں تحریر نذرِ قارئین ہے:
مولانا کلیم صفات اصلاحی سے ایک ملاقات
محمد انس فلاحی مدنی
اسوہ اکیڈمی ،علی گڑھ کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی نے یہ مسرت آمیز اطلاع دی کہ مولانا کلیم صفات اصلاحی صاحب علی گڑھ آگئے ہیں ۔ صبح کا ناشتہ ان کے ساتھ کریں۔فوراً حامی بھرلی ،صبح ہوتے ہی اکیڈمی پہنچ گیا ۔مولانا کلیم صفات اصلاحی سے یہ باقاعدہ پہلی ملاقات تھی ۔ غائبانہ تعارف پہلے ہی سےتھا ۔ ماہ نامہ معارف میں ان کے تبصرے اور مقالات پابندی سے پڑھنے کی کوشش ہوتی ہے ۔
مولانا کلیم صفات اصلاحی نام کلیم ،لیکن کم گو ،صفات : طبیعت سادہ ،مزاج صالح ،علم وتحقیق سےوالہانہ لگاؤ،تحریر سے زیادہ مطالعہ کا شوق ،قلم کی آبرو کے محافظ،کتابوں کے عاشق اور ہمہ وقت علم وتحقیق کی جستجو کے عادی۔ اس نام اور ان صفات کے حامل شخصیت کو علمی دنیا مولانا کلیم صفات اصلاحی کے نام سے جانتی ہے ۔اصلاحی کا لاحقہ اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ ہندوستان کی معروف درس گاہ مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے فارغ ہیں ۔
مولانا کلیم صفات اصلاحی کو مولانا ضیاء الدین اصلاحیؒ اور مولانا عمیر الصدیق دریا آبادی کی بافیض صحبت میسّر رہی ۔دا ر المصنّفین کا پُر سکون علمی ماحول ملا ،علامہ شبلیؒ ، علامہ سید سلیمان ندویؒ ،مولانا شاہ معین الدین ندویؒ ،مولانا سید صباح الدین عبد الرحمٰنؒ کا علمی و روحانی فیض کتابوں سے حاصل کیا ۔
مولانا کلیم صفات اصلاحی برّصغیر ہند وپاک کے مشہور مقبول تاریخ ساز ادارہ دارالمصنّفین، اعظم گڑھ سے وابستہ ہیں ۔تین دہائی سے زیادہ عرصہ ہوا پوری یکسوئی ،دل چسپی اور پوری مستقل مزاجی سے دار المصنّفین میں تحقیقی وتصنیفی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کسی ادارہ میں تمام تر حالات کے باوجود پورے انہماک کے ساتھ اپنے کاموں سے جڑے رہنا ،بہت صبر آزما اور حوصلہ افزا کام ہے ۔
مولانا کلیم صفات اصلاحی کی دل چسپی کا میدان تاریخ ہے ۔ ایک درجن سے زائد طبع زاد ومرتبہ کتابیں ان کے قلم اشہب کا بہترین نمونہ ہیں ۔ان کی تحریر یں متعلقہ موضوع پر مستند مواد کی جمع وترتیب ،موضوع پر نیا اضافہ اور امہات الکتب کے حوالے سے مملو ہوتی ہیں ۔ماہ نامہ معارف میں شائع ہونے والے ان کے تبصروں میں ماہر القادری ؒ اور مولانا عامر عثمانیؒ کا رنگ و آہنگ دیکھنے کو ملتا ہے ۔
علم وتحقیق کی دنیا ایسے افراد سے خالی ہوتی جارہی ہے ،جو تحقیق وتصنیف کا عمدہ ذوق اوراہلیت بھی رکھتے ہوں ،جنھیں قلم وتحریر کے مقام کا پاس ولحاظ ہو ،جن کی تحریریں تاریخ کا سرمایہ بن سکیں ،جنھیں دیکھ کر اسلاف کی کمی پوری ہونے کا احساس دل کے کسی نہاں خانے سے اٹھتا ہو۔ایسے افراد کی چھوٹی سے چھوٹی کوئی فہرست بھی تیار ہوگی تو مولانا کلیم اصلاحی کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی ۔
اللہ تعالیٰ انھیں صحت وعافیت کے ساتھ تادم ِزیست ان کی زندگی کے محبوب مشغلے میں منہمک رکھے اوران کے قلم کو توانا رکھے تاکہ ان کی صلاحیتوں سے امت مسلمہ کو فیض پہنچتا رہے ،آمین!
13/04/2026
اسوہ اکیڈمی: رہنمائی کے روشن لمحات
اسوہ اکیڈمی اس وقت اپنے قیام کے ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہے، اور اس کے ذمہ داران مسلسل اس فکر میں ہیں کہ اس میدان کے تجربہ کار اہلِ علم کی رہنمائی میں اپنے لائحۂ عمل کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف علمی و تحقیقی اداروں سے استفادہ کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی تناظر میں دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ کے معزز رفیق اور ماہنامہ معارف کے مجلسِ ادارت کے رکن، مولانا کلیم صفات اصلاحی سے متعدد بار گزارش کی گئی کہ وہ علی گڑھ تشریف لاکر اکیڈمی کی رہنمائی فرمائیں۔ الحمدللہ! مولانا نے اس درخواست کو شرفِ قبولیت بخشا اور گزشتہ شب اکیڈمی میں ان کی آمد ہوئی۔
مولانا کی تشریف آوری کی اطلاع پر ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ کے فعال رکن مولانا انس فلاحی مدنی بھی اکیڈمی پہنچے۔ 13 اپریل 2026 کی صبح ان دونوں فاضل محققین کی موجودگی سے اکیڈمی کا ماحول علمی و فکری نشاط سے بھر گیا۔
صبح کی چائے اور ناشتے کے ساتھ ہونے والی اس نشست میں اکیڈمی کی رفتار کو تیز کرنے، اور عصری سماجی مسائل پر سنجیدہ علمی کام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
مولانا کلیم صفات اصلاحی نے اکیڈمی کی اب تک کی پیش رفت کو بہت حوصلہ افزا قراردیا اور اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں نہایت اہم مشورہ دیا کہ کسی بھی تحقیقی ادارے کی فعالیت اور اثر پذیری کے لیے اس کے ترجمان (جریدہ) کی اشاعت نہایت کارآمد ثابت ہوتی ہے—لہٰذا اکیڈمی کو اپنے ترجمان کے اجرا کی جانب سنجیدگی سے قدم بڑھانا چاہیے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سے قبل ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کے سکریٹری مولانا اشہد جمال ندوی بھی اسی نوعیت کا مشورہ دے چکے ہیں۔ اکیڈمی اس سلسلے میں غور و خوض کے مرحلے میں ہے۔ اکیڈمی اپنے تمام بہی خواہان اور اربابِ علم سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہے کہ وہ اس اہم معاملے پر اپنی قیمتی آراء سے نوازیں تاکہ اس علمی سفر کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔
مہمانِ گرامی مولانا کلیم صفات اصلاحی اگرچہ اسوہ اکیڈمی کی خصوصی دعوت پر تشریف لائے تھے، تاہم علی گڑھ کے دیگر اہم علمی و تحقیقی مراکز کے ذمہ داران نے بھی ان کی آمد کو غنیمت جانتے ہوئے ان سے اپنے اداروں کے دورے کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ مولانا نے اس محبت بھرے اصرار کو قبول کرتے ہوئے البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، ادارہ علوم القرآن اور ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی کا بھی دورہ فرمایا، جہاں ان کے ارشادات اور رہنمائی سے وابستگانِ ادارہ نے بھرپور استفادہ کیا۔ ان کی روداد ان شاءاللہ ائندہ پوسٹ میں الگ سے پیش کی جائے گی۔
دعا ہے کہ یہ علمی روابط مستقبل میں بھی اسی طرح مضبوط ہوتے رہیں اور اکیڈمی اپنے مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار ہو۔
09/04/2026
With Facebook – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
01/04/2026
📚 تعارف:
"مولانا سلطان احمد اصلاحی: حیات اور علمی وفکری جہات"
✍️ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی
مولانا سلطان احمد اصلاحی رحمہم اللہ (آمد: یکم اپریل 1950—رخصت: 29 مئی 2016) سے ڈھیر ساری یادیں وابستہ ہیں۔ افسوس کہ ان کے انتقال پر تقریباً دس سال گزر جانے کے بعد بھی میں ان یادوں کو سپردِ قرطاس نہ کرسکا، حالاں کہ ان کے انتقال کے تقریباً ایک سال بعد ہی انجمن طلبہ قدیم مدرستہ الاصلاح، شاخ علی گڑھ کے نوجوان ذمہ داران ڈاکٹر سیف اللہ اصلاحی اور برادر حسیب اللہ اصلاحی نے مولانا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے، ان کے وارثین کے خصوصی تعاون سے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کیمپس میں 23-24 ستمبر 2017 کو ایک باوقار دوروزہ سمینار منعقد کیا تھا۔
مولانا کی یادوں کو تحریری شکل میں پیش کرنے کا یہ ایک بہترین موقع تھا، مگر افسوس کہ میں بہ وجوہ اس سمینار میں شریک نہ ہوسکا۔ مذکورہ سمینار میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ، عمدہ کتابت و طباعت کے ساتھ، تقریباً آٹھ سال بعد 2025 کے اواخر میں منظر عام پر آیا، جس کی تقریبِ رونمائی انجمن طلبہ قدیم مدرستہ الاصلاح شاخ علی گڑھ کی جانب سے ادارہ علوم القرآن، علی گڑھ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔
ایک روایت کے مطابق 8 فروری مولانا اصلاحی کا یومِ ولادت ہے۔ اسی مناسبت سے گزشتہ 8 فروری کو اسوہ اکیڈمی کے فیس بک پیج پر زیرِ نظر مجموعۂ مقالات کے سرورق کی تصاویر شائع کرکے، دوسری اور قوی روایت (یکم اپریل) کے مطابق آج ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر اس کتاب کے تعارف کا وعدہ کیا گیا تھا۔ حسبِ وعدہ، ذیل میں اس کا مختصر تعارف پیش ہے۔
"مولانا سلطان احمد اصلاحی: حیات اور علمی و فکری جہات" کے عنوان سے شائع ہونے والی اس کتاب کے مرتب، مولانا کے خلفِ رشید جناب عرفان احمد صباحی ہیں، جب کہ معاونینِ ترتیب میں ڈاکٹر سیف اللہ اصلاحی (کنوینرِ سمینار و سابق صدر انجمن) اور محمد اشرف اعظمی شامل ہیں۔ تاہم سرورق سے یہ واضح نہیں ہورہا ہے کہ یہ کسی سمینار کے مقالات کا مجموعہ ہے؛ مناسب ہوتا کہ عنوان کے ساتھ "مجموعۂ مقالاتِ سمینار" کا اضافہ کردیا جاتا۔
یہ مجموعہ پانچ حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا حصہ سمینار میں پیش کیے گئے استقبالیہ، کلیدی اور صدارتی خطبات پر مشتمل ہے۔ اس قسم کے مجموعۂ مقالات کا آغاز بالعموم عرض مرتب سے کیا جاتا ہے۔ جس میں مرتبہ کتاب کے حوالے سے کی جانے والی جدوجھد اور اغراض ومقاصد کے تذکرے کے ساتھ مختلف مقالات میں قابل گرفت مقامات کی نشان دہی اور قابل اعتراض پہلؤں کا ازالہ ہوتا ہے۔ مگر تینوں مرتبین میں سے کسی نے بھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ البتہ اس کی تلافی کے لیے مولانا مرحوم کے عزیز حکیم فخر عالم صاحب نے جامع پیش لفظ رقم فرمایا ہے۔ جس میں مولانا اصلاحی کی قاموسی شخصیت کے تعارف کے ساتھ کتاب کے مرتبین کی کوششوں کا ذکر خیر بھی موجود ہے۔
دوسرا حصہ مولانا اصلاحی کے سوانحی حالات سے متعلق ہے۔ اس میں تین مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ پہلا مضمون حکیم فخر عالم صاحب کا ہے۔ جو رشتے میں مولانا کے پوتے لگتے ہیں۔ انہوں نے مولاناکے سلسلہ نسب اور ان کے خاندانی پس منظر کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ دوسرا مضمون مولانا کے بھتیجے ڈاکٹر شکیل احمد اصلاحی کا ہے۔ مولانا کی سوانح کے حوالے سے ان کے قریب ترین عزیزوں نے بڑی تفصیل فراہم کردی تھی،اس کے بعد کسی غیرمتعلق فرد کو مولانا کے سوانحی کوائف بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لہٰذا تیسرا مقالہ اضافی معلوم ہوتاہے۔ اس لیے کہ اس میں انھیں معلومات کی تکرار ہے جو سابقہ دونوں مقالات میں پیش کی جاچکی تھیں۔
اس مجموعۂ مقالات کا تیسرا حصہ تاثرات پر مشتمل ہے ۔ 17مقالہ نگاران نے مولانا اصلاحی مرحوم سے اپنے روابط اور ان سے وابسطہ اپنی یادوں کو قلم بند کیا ہے۔ غیاث الدین اٹاوی صاحب نے مولانا کے انتقال سے چند منٹ پہلے تک کی یادوں اور خاص طور پر ان کے انتقال کی اطلاع کو بڑے جذباتی انداز میں مرتب فرمایا ہے۔مولانا رفیق احمد رئیس سلفی کا مضمون وقیع اور علمی انداز لیے ہوئے ہے۔ اس کامطالعہ کرتے ہوئے دو ذی علم شخصیات کے باہمی مراسم کا ذہن پر ایک خاص تاثر قائم ہوتا ہے۔ بعض مضامین میں جزوی طور پر مولانا مرحوم کے افکار بھی زیر بحث آگئے ہیں۔ اس قسم کا ایک مضمون "وہ مرد درویش اولئ (سلطان درویش سے علمی روابط)" کے عنوان سے ہے۔ یہ مقالہ صاحب مقالہ کی احسان ناشناسی کا بین ثبوت ہے ۔ جس کسی نے بھی یہ مضمون پڑھا اسے شدید قسم کی ناگواری کا احساس ہوا۔ کاش یہ مضمون اس مجموعہ میں شامل نہ کیا گیا ہوتا۔ اس حصے کے تمام مضامین پر استدراک لکھنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ اگر پوسٹ کے طویل ہوجانے کا خطرہ درپیش نہ ہوتا تو ہر ایک مضمون پر چند جملے ضرور تحریر کرتا۔ چنانچہ یہاں اس سلسلہ کے صرف آخری مضمون کے ایک اشکال کو رفع کرنے پر اکتفا کیا جارہا ہے۔
یہ مضمون محترم پروفیسر عبد العظیم اصلاحی کا ہے۔ جس میں مولانا مرحوم کے ادارہ علوم القرآن و ذمہ داران ادارہ علوم القرآن سے روابط کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے۔ جس کے آخر میں انہوں نے ادارہ علوم القرآن سے مولانا اصلاحی کا اپنے طور پر علاحدہ ہو جانے اور پھر دوبارہ تعلقات استوار کرلینے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں وہ لکھتے ہیں:
"سب سے پہلے غالباً برادر اشہد جمال ندوی نے انہیں اصلاحی اسکالرس کے ایک پروگرام کی سرپرستی کے لیے آمادہ کیا اور ان کی صدارت میں ادارہ میں زیر تربیت ایک اسکالر نے اپنا مقالہ پیش کیا، اس طرح کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔" (ص: 151)
درج بالا اقتباس میں سکریٹری ادارہ محترم عبد العظیم اصلاحی صاحب نے لفظ "غالباً" کا استعمال کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس سلسلہ میں انہیں کچھ تذبذب ہے۔ اس لیے امر واقعہ کی وضاحت یہاں ضروری معلوم ہوتی ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے۔
2015-16کے تعلیمی سیشن کے ابتدائی دنوں میں ہم چند منتسبیں مدرستہ الاصلاح ، اس وقت کے معاون سکریٹری ادارہ علوم القرآن مولانا اشہد جمال ندوی صاحب کے ساتھ ادارہ کے کانفرنس ہال میں جمع تھے۔ اورعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں زیر تعلیم اصلاحی برادران کوادارہ کی سرگرمیوں میں شریک کرنے کی تدابیر پر بات ہورہی تھی۔ چنانچہ ناچیز نے جس کا ادارہ علوم القرآن سے کبھی ایک دن کا بھی کوئی رسمی تعلق نہیں تھا مگر اس وقت تک گزشتہ ایک دہائی سے اپنی بساط سے بھی آگے بڑھ کر ادارے کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہتا تھا۔ اس ضمن میں اسکالرز سمینار کا سلسلہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی اور اس کا پورا خاکہ بھی پیش کیا۔ معاون سکریٹری ادارہ کو تجویز پسند آئی اور سلسلے کا آغاز کردیا گیا۔ پہلا سمینار کسی قدر عجلت میں ہوگیا دوسرے سمینار میں مجھے مقالہ پیش کرنا تھا۔ اس کی صدارت کے لیے میں نے مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ کے نام کو پیش کیا ۔ مولانا اشہد جمال ندوی صاحب نے اول وہلہ میں اس پیش کش کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ان سے بھی زیادہ بزرگ کو پہلے مدعو کرنا چاہیے۔ ان کا اشارہ پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی صاحب کی طرف تھا۔ چنانچہ میں پروفیسر اصلاحی کے پاس حاضر ہوا اور درخواست پیش کی۔ جس پر انہوں نے فوراً معذرت کرلیا۔ پروفیسر ظلی صاحب ان دنوں علی گڑھ سے باہر تھے۔ اب دوبارہ میں نے معاون سکریٹری صاحب کے سامنے مولانا سلطان أحمد اصلاحی کا نام قطعیت سے پیش کیا۔ اس دفعہ ان کو میری پیش کش کو رد کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ لہذا مجھے مولانا اصلاحی کو بحیثیت صدر مدعو کرنے کی اجازت مل گئی ۔ چنانچہ میں مولانا کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست گزار ہوا اور انہوں نے بڑی خوش دلی سے میری درخواست کو قبول کرلیا۔ مجھے یقین ہے کہ میرے یا زبیر عالم اصلاحی کے علاوہ تیسرا کوئی بھی درخواست کرتا تو مولانا معذرت کرلیتے۔
مذکورہ اقتباس میں سکریٹری ادارہ نے دوسری بات یہ تحریر کی ہے کہ:
"ادارہ میں زیر تربیت اسکالر نے اپنا مقالہ پیش کیا۔"
یہ بات درست نہیں ہے۔ مقالہ اس ناچیز نے پیش کیا تھا جس کی وضاحت اوپر آچکی ہے کہ میرا ایک دن کے لیے بھی ادارہ علوم القرآن سے رسمی تعلق نہیں رہا ہے۔ اس سمینار کی تصویر میری فیس بک پروفائل پر آویزاں ہے۔ اسےایک بار پھر اس پوسٹ کے ساتھ چسپاں کیا جارہا ہے۔
ایک بات کی یہاں وضاحت کردینا ضروری ہے کہ ادارہ علوم القرآن کے کانفرنس ہال میں منعقد پروگرام میں مولانا اصلاحی کو سرپرست کی حیثیت سے مدعو کرنے کے پیچھے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ادارے سے ان کا تعلق بحال ہو۔ الحمدللہ میں اس میں پوری طرح کامیاب رہا۔
کتاب کا چوتھاحصہ "ماثورات" کے عنوان سے ہے۔ یعنی اس میں وہ مقالات شامل ہیں جن میں مولانا کے افکار و خیالات اور تصنیفات کا تحلیل و تجزیہ کیا گیاہے۔ اس میں 27مقالے اردو زبان میں ہیں اور دو مقالے انگلش میں ہیں۔ پہلا مقالہ پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی کا ہے۔ جس میں مولانا اصلاحی کے مختصر سے رسالے "پانی کا مسئلہ اور قرآن" کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ پروفیسر اصلاحی کا مقالہ مولانا اصلاحی کے رسالہ کے بقدر ہی وقیع اور اہمیت کا حامل ہے۔
"مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار"مولانا اصلاحی کی اہم تصنیف ہے۔ پروفیسر ضیاء الدین ملک فلاحی نے اس کے حوالے سے مولانا اصلاحی کی تحریروں کے امتیازات کا جائزہ پیش کیا ہے۔
"پردیس کی زندگی اور اسلام" کا مطالعہ ڈاکٹر ابوالاعلیٰ سبحانی نے اس طرح سے پیش کیا ہے کہ اگر اس میں موجود اقتباسات کو ترتیب سے جمع کردیاجائے تو یہ مقالہ پیش نظر کتاب کی جامع تلخیص کی صورت اختیار کرلیگا۔
مولانا اصلاحی کی بعض تصانیف پر ایک سےزائد مقالے لکھے گئے ہیں جب کہ بعض تصنیفات کا تعارف سرسری طور پر بھی نہیں آسکا ہے۔ مثال کے طور پر"اسلام کا نظریۂ جنس" جس پراہل علم آج بھی قلم اٹھانے کی ہمت نہیں کر پارہے ہیں۔ حکیم وسیم احمد اعظمی نے بالواسطہ طور پر ڈرتے ہوئے اس موضوع کو ٹچ کرنے کی کوشش کی ہے مگر براہ راست نہیں۔ اسی طرح بچوں کی مزدوری، بندھوا مزدوری، ہندوستان میں مدارس عربیہ کے مسائل ، آزاد ہندوستان میں مسلمان اور سیاست، وغیرہ آج کے زندہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو کے بغیر مولانا اصلاحی کی شخصیت اور افکار وخیالات پر منعقد کی جانے والی کوئی بھی مجلس نامکمل تصور کی جائے گی۔
اس مجموعہ کا پانچواں حصہ متفرقات کے عنوان سے ہے۔ اس میں ڈاکٹر سادات سہیل اصلاحی نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا ہے اور مولانا محمد عمر اسلم اصلاحی نے دوروزہ سمینار کی رودادکو مختصراً بیان کیا ہے۔
یہ مجموعۂ مقالات کئی اعتبار سے بہت عمدہ اور معیاری ہے ۔ کاغذ کی کوالٹی اور کتابت و طباعت سب کچھ شاندار ہے ۔پروف کی غلطیاں بہت کم ہیں ۔ لیکن مولانا کے یومِ پیدائش کے بارے میں کتاب میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے: کوئی 1950، کوئی 1952 اور کوئی 1953 لکھتا ہے—اور تاریخیں بھی مختلف (یکم اپریل، 8 فروری، 2 فروری، 26 فروری وغیرہ)۔ ذیل میں مختلف صفحات پر درج یوم ولادت کو ترتیب وار نقل کیا جارہا ہے:
1- صفحہ 29پر حکیم فخر عالم صاحب نے1950 و یکم اپریل 1953اور 8فروری 1952تحریر کیا ہے اور اول الذکر سن پیدائش یعنی 1950کو زیادہ قرین قیاس بتایا ہے
2- صفحہ 33پر مولانا کے بھتیجے ڈاکٹر شکیل احمد اصلاحی نے بھی 1950درج کیا ہے۔جب کہ دیگر مقالہ نگاران نے
3- صفحہ 156پر 2فروری 1952
4- صفحہ194 پر 2فروری 1950
5- صفحہ 261پر 26فروری 1953
6- صفحہ 297پر 8فروری 1952
7- صفحہ 313پر 8فروری 1953درج کیا ہے۔
مولانا اصلاحی کی شخصیت پر پیش نظر مجموعۂ مقالات کی حیثیت اولین مآخذ کی ہے۔ اس میں مولانا کی یوم پیدائش کے حوالے سےاس قدر مختلف تاریخوں کا درج ہوجانا مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ مرتب کتاب کو بحیثیت جانشین و خلف الرشید کے یہ حق حاصل تھا کہ وہ کسی ایک قرین قیاس تاریخ کا تعین کرکے باقی کو درست یا حذف کردیتے۔ البتہ یوم وفات 29 مئی 2016 پر سب کا اتفاق ہے۔ اگرچہ حکیم فخر عالم صاحب نے پیش لفظ میں غالباً سہواً 29جون لکھ دیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب عمدہ، معیاری اور قابلِ قدر پیشکش ہے۔خصوصاً کتابت، طباعت اور مواد کے اعتبار سے۔
اس پر مرتبین اور مولانا مرحوم کے وارثین، بالخصوص جناب عرفان احمد صباحی، مبارکباد کے مستحق ہیں۔
امید ہے کہ آئندہ اشاعت میں ان فنی و تحقیقی نکات کی اصلاح بھی پیشِ نظر رکھی جائے گی۔
_____________________________________
نام کتاب: مولانا سلطان احمد اصلاحی: حیات اور علمی وفکری جہات
مرتب: عرفان احمد صباحی
صفحات: 400
قیمت: 500
ناشر: ادارہ علم و ادب، دارالانس ، پان والی کوٹھی، دودھ پور علی گڑھ۔
رابطہ: 9412671881
19/02/2026
رمضان کی برکتوں کی آمد ہے، جو ہمیں صبر و استقامت کے رشتوں میں جکڑ کر نئے عزم کی طرف لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے التجا ہے کہ وہ ہمیں اس مقدس مہینے کی قدرتی برکتوں سے مالا مال کرے۔ آمین یارب العالمین🤲 🌙✨🌃😊👍💫
08/02/2026
"یوم سلطان "
(مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ کی یاد میں)
تقریباً دو مہینے کی سخت سردی کے بعد جب موسم نے ذرا کروٹ لی تو مجھے بھی بلینکٹ سے نکل کر اکیڈمی کے آفس میں مطالعہ کی میز تک آنے کا موقع مل گیا۔ وہاں مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ کی حیات و خدمات پر مشتمل ان کے صاحبزادے، جناب عرفان احمد صباحی کی مرتبہ کتاب چند ماہ قبل کچھ لکھنے کے ارادے سے رکھ دی گئی تھی، مگر اکیڈمی کی انتظامی مصروفیات نے اس کا موقع نہ دیا، اور موسم نے اس قسم کے جذبات کو مزید سرد کر دیا تھا۔
اب جب دوبارہ اس کتاب پر نظر پڑی اور اس کے صفحات الٹ پلٹ کر دیکھے تو معلوم ہوا کہ ایک روایت کے مطابق 8 فروری، یعنی آج، مولانا کا یومِ ولادت ہے۔ جب کہ دوسری روایت، جسے مولانا کے عزیز حکیم فخر عالم صاحب کی تائید بھی حاصل ہے، اس کے مطابق مولانا کا یومِ ولادت یکم اپریل ہے۔
روایت کے اس اختلاف نے ہمیں کچھ اور مہلت دے دی ہے کہ ہم مولانا کی حیات خدمات اوران کے افکار و نظریات کو بہتر طریقے سے پیش کرسکیں۔ ان شاءاللہ یکم اپریل کو پیشِ نظر کتاب کا تفصیلی تعارف پیش کیا جائے گا۔ فی الحال سوشل میڈیا کے برق رفتار قارئین و ناظرین کے لیے اس کتاب کے سرورق کی چند تصاویر اس کے مرتب جناب عرفان احمد صباحی اور معاونین ڈاکٹر سیف اللہ اصلاحی واشرف اعظمی کے شکریے کے ساتھ پیش کیے جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی مولانا کے وارثین و محبین سے یہ درخواست بھی ہے کہ وہ سال میں کوئی ایک موقع فراہم کریں, تاکہ مولانا کے افکار وخیالات کی توسیع واشاعت کا سلسلہ چلتارہے۔
محمد اسماعیل
علی گڑھ
07/02/2026
سہارا ٹوٹ گیا — جہاں سے قلم نے چلنا سیکھا
چند ماہ قبل ہی ہم نے اپنے اخبار والے سے شکایت کی تھی کہ ایک مہینے سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر سہارا کا جمعہ اور اتوار کا اخبار نہیں ملا، کیونکہ ان دنوں کے مخصوص صفحات میں محفوظ کیا کرتا تھا، اس لیے اس کی غیر موجودگی نے توجہ دلانے پر مجبور کر دیا۔
اس نے بڑے افسوس کے ساتھ بتایا کہ سہارا تو مہینہ بھر پہلے ہی آنا بند ہو چکا ہے۔
البتہ اس نے یہ امید ظاہر کی کہ ابھی مکمل بندش کا اعلان نہیں ہوا، کچھ انتظامی مسائل درپیش ہیں، شاید اخبار پھر سے شروع ہو جائے۔
مگر آج جب اخبار کے تمام ایڈیشن کے بند ہونے کی خبر موصول ہوئی تو صدمہ زیادہ گہرا ہو گیا۔
مجھے وہ دن شدت سے یاد آ گئے جب ہمارے بچپن میں سرائمیر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اردو اخبار پہلی بار لائبریریوں اور تعلیمی اداروں کی چار دیواری سے نکل کر بازار کی چھوٹی بڑی دکانوں اور چائے خانوں تک پہنچا تھا۔
چائے کے کپ کے ساتھ اخبار پڑھا جاتا تھا، بحث ہوتی تھی، اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ زبان زندہ ہے۔
میرے لیے یہ محض کسی اخبار کے بند ہونے کی اطلاع نہیں ہے، یہ ایک ذاتی زخم ہے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے تقریباً 23 سال پہلےجب میرے دل میں مضمون نگاری کا جذبہ بیدار ہوا تو سہ روزہ دعوت دہلی اور روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو ہی وہ نام تھے جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا تھا۔
سن 2003 میں میرا پہلا مختصر مضمون سہ روزہ دعوت میں شائع ہوا،
اور اس کے چند ہی مہینوں بعد روزنامہ راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹوریل صفحے پر میرا ایک طویل مضمون مولانا محمد علی جوہر کے یوم ولادت کی مناسبت سےشائع ہوا۔
ذرا سوچیے…
ایک ایسا بچہ جس کا کوئی مضبوط علمی خاندانی پس منظر نہ ہو، جس نے زندگی کے محض پندرہ مشکل برس گزارے ہوں،
اس کے لیے اس دن کی خوشی کیا معنی رکھتی ہوگی؟!!
آج جب سہارا بند ہوا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے
میری زندگی کے ابتدائی سہاروں میں سے ایک سہارا ٹوٹ گیا ہو۔
اخبار بند ہوا ہے،
مگر جہاں سے قلم نےچلنا سیکھا،
وہ سفر ابھی جاری ہے۔
محمد اسماعیل
علی گڑھ
07/02/2026
قلم کی واپسی — II
محمد اسماعیل ✍️
حسب وعدہ ڈاکٹر ظفر الاسلام اصلاحی صاحب کی تازہ تصنیف "نصرتِ الٰہی کی طلب اور اس کے تقاضے" کا مختصر تعارف پیش ہے۔
یہ 72 صفحات کا ایک مختصر مگر نہایت بامعنی رسالہ ہے جو تین ابواب پر مشتمل ہے۔
پہلا باب براہِ راست کتاب کے نام پر قائم کیا گیا ہے، جب کہ دوسرا اور تیسرا باب اسی سے متعلق موضوعات پر مشتمل ہے۔
پہلے باب میں قاری پر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ انسان کو مدد اور نصرت بہر حال من جانبِ اللہ ہی ملتی ہے، چاہے جب اور جس شکل میں ملے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ مدد و نصرت اللہ کے علاوہ کہیں اور سے نہیں مل سکتی تو لازم ہے کہ انسان زندگی کے تمام معاملات میں اللہ ربّ العزت کی ہی اطاعت و بندگی اختیار کرے۔
دوسرے باب میں اسی نکتے پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن اطاعتِ الٰہی کی جب بات کی جاتی ہے تو بالعموم لوگ اس سے مراد صرف صوم و صلاۃ کو لیتے ہیں اور اللہ کی اطاعت و بندگی کو محض فرض عبادات کی ادائیگی تک محدود کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے اس مغالطے کو دور کرتے ہوئے اطاعتِ الٰہی کے وسیع تر مفہوم کو واضح کیا ہے۔ اس باب کے آخری ذیلی عنوان
“قرآن کا تصورِ اطاعتِ الٰہی، اس کے مطالبات اور موجودہ مسلم معاشرہ کا رویہ — ایک لمحۂ فکریہ”
کے تحت سات نکات بیان کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے اطاعتِ الٰہی کے حقیقی مفہوم کو نہایت مؤثر انداز میں واضح کیا گیا ہے۔
آخر میں موجودہ مسلم معاشرہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“مختصر یہ کہ عبادتِ الٰہی کے تصور اور اطاعتِ الٰہی کے تقاضوں سے متعلق غلط سوچ اور غیر متوازن طرزِ عمل کو بدلنے کی سخت ضرورت ہے”(ص: 55)
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سیدھے اور صحیح راستے پر چلتے ہوئے بھی مصائب و مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں کبھی اہلِ ایمان کے قدم بھی ڈگمگانے لگتے ہیں، اور کبھی اس کے برعکس صورت حال یہ ہوتی ہے کہ دین داری اور عبادت پر غرور پیدا ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تواضع و انکساری کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے۔
ان دونوں صورتوں میں اس بات کی شدید ضرورت ہوتی ہے کہ مومن اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہ رہے۔ مصیبتوں میں گھبرانے کے بجائے اپنے رب سے دعا کرے اور اسی سے مدد طلب کرے، اور اگر اللہ نے اطاعت و بندگی کی توفیق بخشی ہے تو اس پر بھی عاجزی اور شکر گزاری اختیار کرے، کیوں کہ اللہ غنی و بے نیاز اور قادرِ مطلق ہے، جب کہ بندے اس کے محتاج ہیں۔
کتاب کے تیسرے باب میں دعا کی اہمیت، اس کے فیوض و برکات اور آداب کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ محض نصیحتوں کا مجموعہ بن کر نہیں رہ جاتی بلکہ عہدِ حاضر کے مسائل کا حل بن کر سامنے آتی ہے۔
یوں کتاب کے تینوں ابواب آج کے پیچیدہ مسائل کو نہایت خوبی سے ایڈریس کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ہر دور کی طرح اس دور کے مسائل کا حل بھی نصرتِ الٰہی کی طلب میں ہی مضمر ہے۔
کتاب کا انتساب بھی اس کی معنویت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ امت کے ان تمام افراد کے نام ہے جو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے مسائل اور مصائب سے نجات کے لیے نصرتِ الٰہی کے طلب گار ہیں۔
البتہ کتاب کے بیک ٹائٹل پر ناشر کی جانب سے اپنے پبلیکیشن سے شائع شدہ مختلف کتابوں کی فہرست شامل کی گئی ہے۔ اگر اس مقام پر صاحبِ کتاب کی اپنی سابقہ تصانیف کی فہرست یا ان کتابوں کے سرورق شامل کر دیے جاتے تو یہ نہ صرف قاری کے لیے زیادہ بامعنی ہوتا بلکہ مصنف کے علمی و فکری تسلسل کو بھی بہتر طور پر نمایاں کرتا۔ چونکہ اس نوعیت کی متعدد اہم تصانیف پہلے ہی مصنف کے نام سے شائع ہو چکی ہیں، اس لیے ان کا تعارف اس کتاب کی افادیت اور وقعت میں مزید اضافہ کا سبب بن سکتا تھا۔
کتاب کے مختلف مقامات پر حسبِ موقع ادعیۂ ماثورہ اردو ترجمے کے ساتھ شامل کی گئی ہیں، جس سے مطالعے کے دوران قاری کے ذہن پر ایک خاص تاثر قائم ہوتا ہے۔ جو اس کتاب کی ترتیب اشاعت کا اہم مقصد ہے۔
کتابت و طباعت عمدہ ہے اور قیمت محض سو روپے ہے۔ کتاب براؤن بکس، اپوزٹ بلائنڈ اسکول، شمشاد مارکیٹ، علی گڑھ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
قلم کی واپسی کی تیسری قسط ان شاءاللہ ڈاکٹر صاحب کی دوسری تصنیف " مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی ۔۔۔۔" کے تعارف پر مشتمل ہوگی۔
_____________________________________
📘 نامِ کتاب: نصرتِ الٰہی کی طلب اور اس کے تقاضے
✍️ مصنف: ظفر الاسلام اصلاحی
🏢 ناشر: براؤن بکس، علی گڑھ — 202001
📅 سنِ اشاعت: 2025
📄 صفحات: 72
💰 قیمت: 100 روپے
📞 رابطہ: 9818897975