Uswa Academy

Directions

Uswa Academy Uswa Academy a literary & research academy working on social issues, promoting knowledge, literature, and poetry.

15/08/2026
تمام اہل وطن کو یوم آزادی کی ڈھیروں مبارکباد 🇮🇳
15/08/2026

تمام اہل وطن کو یوم آزادی کی ڈھیروں مبارکباد 🇮🇳

گزشتہ دنوں اعلیٰ پریس، دہلی سے سہ ماہی اسوہ کی مطبوعہ کاپیاں لے کر علی گڑھ پہنچتے ہی   مولانا انس مدنی صاحب کے ہمراہ ممت...
07/08/2026

گزشتہ دنوں اعلیٰ پریس، دہلی سے سہ ماہی اسوہ کی مطبوعہ کاپیاں لے کر علی گڑھ پہنچتے ہی مولانا انس مدنی صاحب کے ہمراہ ممتاز مؤرخ و محقق محترم پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کی خدمت میں حاضر ہونے اور انہیں سہ ماہی اسوہ پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

محترم ظلی صاحب نے اکیڈمی کے ترجمان کی اشاعت پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اسی موقع پر اسوہ اکیڈمی کی رکنیت اختیار کرکے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔

محترم ظلی صاحب کی اس محبت اور سرپرستی پر اکیڈمی تہہ دل سے شکر گزار ہے۔

ان یادگار لمحات کو مولانا انس مدنی صاحب نے اپنے موبائل کیمرے میں محفوظ کرلیا تھا جسے یہاں ان کے شکریے کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔

With Dr. Muhammad Raziul Islam Nadvi – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
07/08/2026

With Dr. Muhammad Raziul Islam Nadvi – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

جناب اشرف علی بستوی ذرائع ابلاغ کی دنیا کا ایک معتبر اور باوقار نام ہیں۔ اکیڈمی کے قیام ہی سے وہ اس کی خدمات کے قدردان ا...
04/08/2026

جناب اشرف علی بستوی ذرائع ابلاغ کی دنیا کا ایک معتبر اور باوقار نام ہیں۔ اکیڈمی کے قیام ہی سے وہ اس کی خدمات کے قدردان اور اس کی ترقی کے خیرخواہ رہے ہیں۔ آج "سہ ماہی اسوہ" کی آواز کو دور تک پہنچانے میں ان کا مخلصانہ تعاون ہمارے لیے باعثِ حوصلہ ہے۔

نئی دہلی: اسوہ اکیڈمی، علی گڑھ کے سہ ماہی ترجمان

"سہ ماہی اسوہ" کے اجرا کے موقع پر محترم ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے جن حوصلہ افزا اور قیمتی کلمات سے ہماری حوصلہ افزا...
04/08/2026

"سہ ماہی اسوہ" کے اجرا کے موقع پر محترم ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے جن حوصلہ افزا اور قیمتی کلمات سے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی، اس پر اسوہ اکیڈمی دل کی گہرائیوں سے ان کی ممنون و مشکور ہے۔

اسوہ اکیڈمی علی گڑھ کے ترجمان ’’سہ ماہی اسوہ‘‘ کا اجراتیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ سماجی و معاشرتی مسائل میں بھی مسل...
02/08/2026

اسوہ اکیڈمی علی گڑھ کے ترجمان ’’سہ ماہی اسوہ‘‘ کا اجرا

تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ سماجی و معاشرتی مسائل میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسائل اب ایک سنگین سماجی چیلنج کی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ان حالات میں ان موضوعات پر سنجیدہ تحقیق، تجزیہ اور مؤثر حل پیش کرنا وقت کا اہم تقاضا تھا۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سماجی موضوعات سے دلچسپی رکھنے والے چند نوجوانوں نے گزشتہ سال علی گڑھ میں اسوہ اکیڈمی قائم کی، جس کا مقصد تحقیق کے ذریعے عصری سماجی مسائل کا جائزہ لینا اور ان کے قابلِ عمل حل پیش کرنا ہے۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے اکیڈمی نے اپنے سہ ماہی ترجمان ’’سہ ماہی اسوہ‘‘ کا اجرا کیا، جس کا افتتاح آج دہلی میں معروف علمی و سماجی شخصیت ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کے دستِ مبارک سے عمل میں آیا۔

اگرچہ سہ ماہی اسوہ 72 صفحات پر مشتمل ایک مختصر رسالہ ہے، لیکن اپنے علمی معیار، موضوعاتی تنوع اور افادیت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ محض مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے اہم سماجی مسائل کی تحقیق، تجزیہ اور ان کے عملی حل پیش کرنے کی ایک سنجیدہ علمی کوشش ہے۔

افتتاحی شمارے کے اداریے میں مدیرِ رسالہ اور صدر اسوہ اکیڈمی ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی نے اکیڈمی کے قیام، رسالے کے اجرا اور اس کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

سہ ماہی پیامِ برکات کے مدیر ڈاکٹر محمد سلمان رضا علیمی نے اپنے مضمون میں غصے سے جنم لینے والے سماجی مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے مؤثر حل پیش کیے ہیں، جبکہ مولانا انس مدنی نے نئی نسل (Gen Z) میں بڑھتی ہوئی اینزائٹی کے اسباب اور اس کے تدارک پر روشنی ڈالی ہے۔

موجودہ دور میں ذیابیطس ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کرچکی ہے اور تقریباً ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ اس موضوع پر مدیرِ اسوہ ڈاکٹر محمد اسماعیل اصلاحی کا خصوصی مطالعہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے ذیابیطس پر تحقیقی مضامین کا ایک مستقل سلسلہ شروع کیا ہے، جس کی پہلی قسط اس افتتاحی شمارے میں شامل کی گئی ہے۔

یوگا کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے، اگرچہ اس جانب عمومی توجہ نسبتاً کم رہی ہے۔ ڈاکٹر خورشید عالم خان نے اپنے مضمون میں یوگا کے روحانی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے ہندوستان کی سنت روایت پر روشنی ڈالی ہے۔

عصری علوم کی اسلامائزیشن کی تحریک میں سید محمد نقیب العطاس کی خدمات سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی وفات کو اس علمی روایت کے ایک اہم باب کے اختتام سے تعبیر کرتے ہوئے معروف اہلِ قلم ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی نے ان کی علمی خدمات پر مبنی ایک جامع خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

اس کے علاوہ شمارے میں متعدد اہم کتابوں پر تبصرے، اسوہ اکیڈمی کی مختلف علمی و سماجی سرگرمیوں کی روداد اور دیگر مفید مواد بھی شامل کیا گیا ہے۔

اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے کہا کہ ’’سہ ماہی اسوہ‘‘ عصرِ حاضر کی ایک اہم علمی و سماجی ضرورت کو پورا کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ امید ہے کہ یہ رسالہ عوام اور خواص، دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگا اور سماجی مسائل کے حل کے سلسلے میں مثبت رہنمائی فراہم کرے گا۔

اس موقع پر سہ ماہی اسوہ کے نائب مدیر ڈاکٹر سیف اللہ اصلاحی اور مجلسِ ادارت کے اراکین جناب دلشاد حسین اصلاحی اور ایشیا ٹائمس کے بانی اور چیف ایڈیٹر جناب اشرف بستوی اور مولانا محمد نصیر اصلاحی بھی موجود رہے.

تقریب کے شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’’سہ ماہی اسوہ‘‘ سماجی مسائل پر سنجیدہ علمی مکالمے کو فروغ دینے، تحقیقی ذوق بیدار کرنے اور معاشرے کی مثبت و تعمیری رہنمائی میں ایک مؤثر کردار ادا کرے گا۔

عالم بدیع اعظمی کی یاد میںملک کی باوقار سیاسی و ملی شخصیت، جناب عالم بدیع اعظمی صاحب کے انتقال پر دارالمصنفین اعظم گڑھ ک...
28/07/2026

عالم بدیع اعظمی کی یاد میں

ملک کی باوقار سیاسی و ملی شخصیت، جناب عالم بدیع اعظمی صاحب کے انتقال پر دارالمصنفین اعظم گڑھ کے سینیر رفیق، ادیب اور محقق مولانا کلیم صفات اصلاحی صاحب نے اپنے قلبی تاثرات قلم بند کیے ہیں۔ یہ محض ایک تعزیتی تحریر نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کی علمی وملی خدمات کا مؤثر خراجِ عقیدت ہے، جس نے اپنی سادگی، بے باکی، اصول پسندی اور عوامی وابستگی سے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

اسوہ اکیڈمی، مولانا کلیم صفات اصلاحی صاحب کی اجازت و شکریے کے ساتھ ان کی یہ تحریر اپنے ناظرین و قارئین کی خدمت میں پیش کر رہی ہے، تاکہ نئی نسل ایسی شخصیات کے کردار، فکر اور طرزِ عمل سے روشناس ہو سکے۔

— اسوہ اکیڈمی۔ علی گڑھ

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے

کلیم صفات اصلاحی

ہمارےشہراعظم گڑھ بلکہ سنجیدہ ہندوستانی سیاست کےسب سےایماندر،سب سےپاک دامن اورسب سےمقبول کہےجانےوالےلیڈر،رکن اسمبلی جناب عالم بدیع اعظمی صاحب کےانتقال سےدل بےحد رنجیدہ وافسردہ ہے۔وہ کیاگئےکہ اترپردیش کی پوری سیاست کوسوگوارکر گئے۔ان کی شخصیت کی کشش کےمختلف پہلوؤں میں سب سےنمایاں پہلوموجودہ فرقہ وارانہ سیاسی ماحول میں بھی اپنی مسلم شناخت کو باقی رکھتے ہوئےہندو مسلم میں یکساں حسن قبول کاحاصل ہونا ہے۔ہم اہل اعظم گڑھ توجیسےیتیم ہوگئے۔وہ ہماری قوم کے ایک ایسےبزرگ تھےکہ وقت کی تپتی اورچلچلاتی دھوپ میں شجرسایہ دار تھے۔ایک ایساسہاراکہ ڈوبتے کو تنکےکاسہارا۔عزم وحوصلےکاپہاڑاورمظلوموں اور بیکسوں کی ڈھال تھے۔ سیاسی امورومسائل اورغیرعلمی مشاغل میں شب وروز مصروف ہونے کےباوجود عالم بدیع صاحب علم وفن کےشیدااورمطالعہ وکتب بینی کےدلدادہ تھے۔انہوں نےہندوستان کی علمی،تعلیمی، ملی ،قومی،ثقافتی اور سیاسی تاریخ کاجس کشادہ ذہنی اورگہرائی وگیرائی سےمطالعہ کیاتھاوہ ان کے معاصرسیاسی رہناؤوں میں بہت کم کسی کےحصے میں آیا۔ان کےمطالعے کادائرہ ادب اسلامی اوردینی موضوعات تک وسیع تھا۔قرآن کی تلاوت کےساتھ ساتھ اس کےمفاہیم ومعانی کوسمجھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔انہوں نےاپنے پیچھے سادگی وسادہ مزاجی،بےنفسی واستغناء،نام ونمود اورریاء و نمائش سےاجتناب، افسروں کے سامنے بےخوفی وبےجگری ،قومی وملی مسائل سےبےپناہ دلچسپی، فرقہ واریت وفسطائیت کےخلاف صدائے احتجاج بننےاورمسلمانوں کوبیدارکرنےکی مہم کی جومثال پیش کی ہےوہ موجودہ لیڈروں بالخصوص سیاست سےدلچسپی رکھنےوالے مسلم نوجوانوں کےلیےقابل تقلیدہے۔
علامہ شبلی نعمانی کےہم وطن تھے۔گھرکاماحول علمی وادبی تھا۔ان کی پیدائش ایسےزمانے میں ہوئی جب ہندوستان برطانوی تسلط سےآزادی کی آخری منزل میں داخل ہوچکاتھا۔آزادی کاسورج طلوع ہوتے ہوئے انہوں نےاپنےشعور کی آنکھوں سے دیکھاتھا۔آزادی کے بعدملک کے تمام خوش گوارو ناخوشگوار واقعات اورہندوستان میں جمہوریت اورسیکولرزم کی کےارتقاء اوراس کےبعداس کےہوش ربا انحطاط وتنزل کی داستان انہیں ورق درورق یاد تھی۔انہوں نے نہایت ہوشیاری سے ذاتی طور پر ان واقعات سے ہوش کے ناخن لیے تھے۔اسی وجہ سے ان کی سیاست میں ایک طرح کی مثبت اورمتین سوچ کی جھلک زیادہ پائی جاتی ہے۔ پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے اس لیےسیاست کےعملی تجربات کاجوتارپود اورادھیڑبن ان کےیہاں نظرآتا ہے اوروں کے یہاں نہیں ملتا۔
دارالمصنّفین اوراس کےخدمت گذاروں سےگزشتہ پندرہ سالوں سےان کو خاص انس ہوگیاتھا۔یہاں آئےدن تشریف لاتے۔یہاں کےلوگوں سےباتیں کرتے۔ان کی علمی مصروفیات کےبارےمیں جاننے کی کوشش کرتے۔ہمارےمولاناعمیرالصدیق دریابادی صاحب سے قابل رشک محبت کرتے تھے۔ معارف میں ان کےتحریرکردہ شذرات اورتبصروں کوپہلی فرصت میں پڑھتےتھے۔ان کی وجہ سے ہم جیسےخوردوں کوبھی ان سے شرف باریابی حاصل تھا۔یہاں ان کی علم دوستی اوراہل علم وتحقیق کی قدر دانی کا تذکرہ اس لیے ضروری ہےکہ اس سےان کے فکری طرزوانداز کاپتہ چلتاہے۔چندسال پہلےمیری ریڈیائی تقریروں کامجموعہ "حروف بازگشت" چھپ کر منظر عام پرآیاتومولاناندوی نےازراہ محبت ان کی خدمت میں پیش کیا۔عالم بدیع صاحب نےاس کےمطالعے کے بعداس ناچیز کوفون کیااور مجھےنہیں معلوم کہ ان ہلکے پھلکے مضامین میں انہیں کیانظرآیا۔فرمایاکہ"کلیم صاحب! آپ کی یہ کتاب ایک شاہ کارہے۔میں اس کےمتعددمضامین ہندی میں ترجمہ کراکےلوگوں کوتقسیم کروں گا"۔اتنےہی پر بس نہیں کیا۔ فرمایا کہ میں شبلی منزل میں آکر آپ کو اعزاز دیناچاہتاہوں۔ میں نےکہاکہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔آپ کےیہ تاثرات میری حوصلہ افزائی کے لیے کافی ہیں۔میں نےذاتی طور پران کی اس عزت افزئی سے فرار کی بہت کوشش کی لیکن میرے فرار پر ان کا اصرار غالب آگیااورانہوں نے شال اوڑھاکرہی دم لیا۔ان کی یہ ذرہ نوازی،یقیناً میری اب تک کی علمی زندگی کےبیش قیمت لمحات میں ہے ۔اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے۔ایک سیکھنےوالےکے لیےان کی زندگی میں بہت سے سبق ہیں۔

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس

یوں تودنیامیں سبھی آئے ہیں مرنےکے لیے

🌟  #योग 🧘‍♂️
22/06/2026

🌟 #योग 🧘‍♂️

Address

Doharra Mafi
Aligarh
202001

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Uswa Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share