28/09/2026
اسٹوڈنٹس یونین: علی گڑھ تحریک کی عملی روح
اسٹوڈنٹس یونین محض ایک طلبہ تنظیم نہیں، جو یونیورسٹی کے اندر طلبہ کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے؛ وہ ملک کے سماجی اور سیاسی مسائل پر نوجوانوں کی توانا آواز بھی ہے۔
سر سید احمد خان نے 1884 میں "سڈنز یونین کلب" اس مقصد سے قائم کیا تھا کہ طلبہ کو آکسفورڈ اور کیمبرج کی طرز پر بحث و مباحثے، اظہارِ خیال اور فکری تربیت کے مواقع میسر آئیں۔ وقت کے ساتھ یہی کلب ارتقا کے مراحل طے کرتا ہوا آج کی اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین کی صورت میں ڈھل گیا۔
اگر آپ علی گڑھ تحریک سے محبت کرتے ہیں تو یہ محبت اے ایم یو اسٹوڈنٹس یونین سے بھی ہونی چاہیے، کیونکہ علی گڑھ تحریک کا مقصد صرف تعلیم دینا نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی باشعور نسل تیار کرنا چاہتی تھی جو آگے چل کر قوم کی رہنمائی کر سکے۔ یونین طلبہ کو وہ جمہوری اور آزاد فضا فراہم کرتی ہے جہاں وہ تقریر، بحث و مباحثہ اور انتظامی امور کا عملی تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے "مسلم سیاست کی نرسری" کہا جاتا رہا ہے۔
علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کو جدید خطوط پر سوچنے کی بنیاد دی، اور اسٹوڈنٹس یونین نے اس سوچ کو عملی قالب عطا کیا۔ یہ وہ یونین ہے جس کی اعزازی رکنیت سے مہاتما گاندھی، علامہ اقبال، جواہر لعل نہرو اور مدر ٹریسا جیسی عظیم شخصیات کو نوازا گیا۔ یہ فہرست اس بات کی گواہ ہے کہ اس پلیٹ فارم کی گونج صرف کیمپس تک محدود نہیں تھی، بلکہ پورے ملک اور اس سے باہر تک پہنچتی تھی۔
خلاصہ یہ کہ علی گڑھ تحریک اگر ایک فکر اور نظریہ ہے تو اسٹوڈنٹس یونین اس فکر کو زندہ رکھنے اور عمل میں ڈھالنے کا ذریعہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ علی گڑھ کی انتظامیہ، جو خود کو علی گڑھ تحریک اور سر سید احمد خان کی وراثت سے وابستہ کہتی ہے، سر سید احمد خان ہی کے قائم کردہ اس ادارے کو(AMUSU)جو قوم کی سیاسی اور فکری بیداری کا دوسرا اہم ستون ہے، آخر کیوں بحال نہیں کرتی؟
آج علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک ایک طالب علم علیگڑھ انتظامیہ سے اس ادارے کی بحالی کا مطالبہ کررہا ہے !
28/09/2026