سالِ نو اور اسلامی تعلیمات
از: محمد مظاہری ندوی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّه صلى الله عليه وسلم لرجلٍ وهو يَعِظُه: « اغْتَنِمْ خَمْسًا قبلَ خَمْسٍ: شبابَكَ قبلَ هَرَمِكَ، وصِحَّتَكَ قبلَ سَقَمِكَ، وغِناكَ قبلَ فَقْرِكَ، وفَراغَكَ قبلَ شُغلِكَ، وحياتَكَ قبلَ موتِكَ». (أخرجه البيهقي في شعب الإيمان رقم: ١٠٢٤٨)
ترجمہ: حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جانو، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح : اسلام پاکیزہ اور مکمل دین ہے، اس میں تمام تر انسانی مسائل کا حل اور خوشی و غم منانے کے طریقے اور احکام موجود ہے، اسلام نے سال میں دو دن (عید الفطر اور عید الاضحی) خوشی کے دن بتائے ہیں، اور ان دو دنوں میں بھی خوشی منانے کے حدود اور طریقے متعین کر دیے ہیں، لہذا مومنین کو اللّہ اور رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنا چاہیے اور غیروں کے طور طریق، رسم و رواج اور خرافات سے پرہیز کرنا چاہئے، تبھی اللّہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوگی، نیز ماہ و سال کا گذرنا ایک مؤمن کیلئے خوشی کا وقت نہیں بلکہ غور و فکر اور احتساب کا وقت ہوتا ہے، نئے سال کی آمد پر جشن منانا یہود و نصاری کا طریقہ ہے، اسلامی تعلیمات میں کہیں بھی نئے سال کی آمد پر خوشی اور جشن منانے کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ اپنی گزری ہوئی زندگی کے احتساب اور مستقبل میں صحیح بنیادوں پر زندگی استوار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور لا یعنی سے پرہیز کرنے کا حکم دیا دیاگیا گیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ نئے سال کی آمد پر مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ نئے سال سے متعلق کسی عمل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو قرون اولیٰ کا کوئی اور عمل تو مل نہ سکا؛ البتہ بعض کتبِ حدیث میں یہ روایت نگاہوں سے گذری کہ جب نیا مہینہ یا نئے سال کا پہلا مہینہ شروع ہوتا تو اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے اور بتاتے تھے: ”اللّٰھُمَّ أدْخِلْہُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَارٍ مِّنَ الشَّیْطَانِ“ (المعجم الاوسط للطبرانی حدیث: ٦٢٤١) ترجمہ: اے اللہ اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن وایمان، سلامتی و اسلام او راپنی رضامندی؛ نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔
اس دعا کو پڑھنا چاہیے ؛ نیز اس وقت مسلمانوں کو دو کام خاص طور پر کرنے چاہئیں یا دوسرے الفاظ میں کہہ لیجیے کہ نیا سال ہمیں خاص طور پر دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے (۱) ماضی کا احتساب (۲) مستقبل کا لائحۂ عمل؛
نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے، کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں؟! اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے، لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچ سکتا، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : «الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت، والعاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله الأماني» عقلمند ہے وہ شخص جو اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہے ، اور موت کے بعد کی زندگی میں کام آنے والے اعمال کرتا ہے، اور وہ آدمی عاجز و بے بس ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا رہتا ہے اور اللہ کی ذات سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔(سنن ترمذی) اسی بات کو اللہ جلّ شانہ نے قرآن کریم میں ایک خاص انداز سے ذکر کیا ہے: « وَأنْفِقُوْا مِنْ مَا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ أنْ یَأتِيَ أحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلاَ أخَّرْتَنِيْ إلیٰ أجَلٍ قَرِیْبٍ فَأصَّدَّقَ وَأکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ. وَلَنْ یُّوٴَخِّرَ اللہُ نَفْسًا إذَا جَاءَ أجَلُھَا وَاللہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(سورۂ منافقون) ترجمہ: اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجاؤں، اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ اچھی طرح باخبر ہے۔
اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا موٴاخذہ اور محاسبہ کرنا چاہیے،خود کا جائزہ لینا چاہیے اورجو زندگی کی مہلت مل رہی ہے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ مہلت ختم ہوجائے، بالخصوص آج کے دور میں جس طرح لوگوں کو موت آرہی ہے وہ ہمارے قابلِ عبرت ہے، کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اچھا خاصا تندرست جوان انسان گھرسے نکلا ٹھوکر لگی، گرا، اور انتقال کر گیا، رات کو سویا اور صبح بستر سے اٹھ نہ سکا، کسی جگہ سفر کے ارادے سے نکلا، حادثہ پیش آیا، اور وہیں سے سفرِ آخرت پر روانہ ہوگیا۔ شاعر نے سچ کہا ہے؎
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
آدمی بُلبُلا ہے پانی کا
(٢) مستقبل کا لائحہ عمل : خود احتسابی اور جائزہ کے بعد اس کے تجربات کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کا منصوبہ بنانا ہے، کمزوریوں کو دور کرنا ہے، اس سے سبق حاصل کرنا ہے ، اور اسلامی اصول کے مطابق اپنی زندگی کی عمارت کو درست انداز سے تعمیر کرنا ہے، اسی بات کی طرف مذکورہ بالا روایت میں توجہ دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ جوانی کی قدر کرنی ہے، صحت کی قدر کرنی ہے ، مال اور وقت کی قدر کرنی ہے، اس لیے کہ آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے۔ ارشاد ربّانی ہے: «وَأنْ لَیْسَ لِلإنْسَانِ إلاَّ مَاسَعٰی، وَأنَّ سَعْیَهُ سَوْفَ یُرٰی، ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الأوْفیٰ»۔ (سورۂ نجم)
ترجمہ: اور ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی، اور بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
خلاصۂ کلام یہ کہ نئے سال کی آمد ایک مؤمن کو بجائے خوش کرنے کے فکرمند کردیتی ہے، اسے بتاتی ہے کہ تیری عمر کا ایک سال کم ہوگیا، تو موت سے ایک سال اور قریب ہو گیا، تیری زندگی کا سورج رفتہ رفتہ مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے، اور یہی ماہ و سال کا گزرنا تجھے ایک دن غروب کر دیگا، اس بناء پر نئے سال کی آمد خوشی اور سرور کا موقع نہیں ہے بلکہ گزرتے ہوئے وقت کی قدر کرنے اور آنے والے لمحاتِ زندگی کا صحیح استعمال کرنے کے عزم کا وقت ہے، اور از سرِ نو عزائم کو بلند کرنے اور حوصلوں کو پروان چڑھانے کا وقت ہے، اسی کے ساتھ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک اور اہم معاملہ کی طرف بھی توجہ دلائی دی جائے کہ مسلمانوں کا نیا سال جنوری سے نہیں؛ بل کہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے، لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ قمری تاریخ کے ساتھ ساتھ ہجری سال کو بھی یاد رکھیں، چونکہ ہر قوم اپنی تاریخ کو کسی خاص واقعے سے مقرر کرتی ہے؛ اس لیے مسلمانوں نے بھی اپنی تاریخ کو خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّہ عنہ کے مشورے سے واقعہ ہجرت سے مقرر کیا تھا، اس لیے اس کو یاد رکھنا ہے اور قمری تقویم کے ساتھ اس کا استعمال بھی جاری و ساری رکھنا ہے۔
Muhammad Mazahiri Nadwi
Teacher of Hadith and Arabic literature
Hafiz
Aalim
M.A. in Arabic literature
M.A. in Hadith
درود شریف کے فضائل
از: محمد مظاہری ندوی
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ذُكِرتُ عنده فلْيُصلِّ عليَّ ومن صلّى عليَّ مرَّةً صلّى اللهُ عليه بها عشرًا وفي روايةٍ من صلّى عليَّ صلاةً واحدةً صلّى اللهُ عليه عشرَ صلواتٍ ويحطُّ عنه عشرَ سيِّئاتٍ ورفعه بها عشرَ درجاتٍ. أخرجه النسائي في السنن الكبرى: ٩٨٨٩)
ترجمہ: حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "جس کے سامنے میرا تذکرہ آئے اس کو چاہئے کہ مجھ پر درود بھیجے، اور جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے گا، اللّہ جل شانہ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائیں گے، اس کی دس خطائیں معاف کریں گے، اور اس کے دس درجے بلند کریں گے"۔ (سننِ کبری، نسائی)
تشریح: آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے رحمت و محبت اور ہمدردی کے جذبات سے لبریز رہی ہے، اسی لیے آپ کو باری سبحانہ و تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین کے لقب سے ملقب کیا ہے، آپ کے لیل و نہار امّت کو صراطِ مستقیم پر لانے میں صرف ہوئے ہیں، آپ کو شب و روز یہی فکر سوار رہتی کہ کسی طرح میرا ایک ایک امتی جہنم سے نجات پاکر جنت میں جانے والا بن جائے، آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے اپنی امت کی نجات کیلئے بارگاہِ ایزدی میں خوب دعائیں کی ہیں، آپ کی حیاتِ طیبہ کا لمحہ لمحہ امت کی فلاح و بہبود میں صرف ہوا ہے، لہذا امت کا بھی حق ہے کہ وہ آپ کے حقوق ادا کرنے والے ہوں، آپ کی اطاعت کرنے والے ہوں، آپ کی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے والے ہوں، اور آپ کی بارگاہ میں کثرت سے درود پیش کرنے والے ہوں، اور یہ ایسا عمل ہے جس کا حکم اللّہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں عجیب و غریب انداز سے دیا ہے، ارشاد باری ہے : اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ ؕ يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞ بے شک اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو اے مؤمنوا ! تم بھی حضور پر درود و سلام بھیجو۔ (سورۂ احزاب)
اس آیتِ کریمہ میں اس جانب اشارہ ہے کہ درود بھیجنے والا عمل بڑا نرالا عمل ہے، اس لیے کہ کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہے جس کے کرنےمیں اللّہ تعالی بندوں کے ساتھ شریک ہوں لیکن درود شریف ایسا عمل ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عمل میں پہلے سے کر رہا ہوں، اگر تم بھی کرو گے تو تم بھی ہمارے ساتھ اس عمل میں شریک ہو جاؤں گے، اللہ اکبر! کیا ٹھکانہ ہے اس عمل کا جس میں بندوں ساتھ اللہ تعالیٰ بھی شریک ہوں البتہ یہ بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مطلب اور ہے اور بندوں کے درود بھیجنے کا مطلب اور ہے، اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ اللّہ تعالی براہِ راست آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرما رہے ہیں اور فرشتوں کا درود ان کا دعا کرنا ہے، اور بندوں کے درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللّہ تعالیٰ سے دعا کر رہا ہے کہ یا اللّہ! آپ محمد صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجئے، چنانچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابۂ کرامؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا : یا رسول اللہ! سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو چکا لیکن ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہو: اللَّهُمَّ صَلِّ على مُحَمَّدٍ، وعلى آلِ مُحَمَّدٍ، كما صَلَّيْتَ على آلِ إبْراهِيمَ، إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بارِكْ على مُحَمَّدٍ، وعلى آلِ مُحَمَّدٍ، كما بارَكْتَ على آلِ إبْراهِيمَ، إنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. (صحیح بخاری: ٦٣٥٧)
کونسا درود شریف پڑھنا چاہیے؟
درودِ ابراہیمی دوسروے درودوں کی بہ نسبت افضل ترین کلمات پر مشتمل ہے، اور اس کے صیغے تمام درودوں سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں، رسولِ کریم ﷺنے نمازوں کے لیے اس درورد کا انتخاب فرمایاہے، لہذا نمازوں میں اور نماز کے باہر اس درود پاک کا وِرد زیادہ افضل ہے، اس کے علاوہ دوسرا درود پڑھنا چاہے تو منقول درود شریف پڑھنا بہتر اور زیادہ باعث اجر ہوگا، علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں کہ درود اسی طرح پڑھنا چاہیے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمایا ہے، اسی سے تیرا مرتبہ بلند ہوگا، نیز کثرت سے درود پڑھنا چاہیے اور اس کا بہت اهتمام اور مداومت کرنی چاھیے، اس لیے کہ کثرتِ درود محبت کی علامات میں سے ہے "من أحب شيئا أكثر من ذكره". (فضائل درود شریف ص…١٠) اور ہم جو بھی درود شریف پڑھتے ہیں وہ حضورِ اقدس صلی اللّہ علیہ وسلم تک پہونچائے جاتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللّہ جل شانہ کے بہت سے فرشتے ایسے ہیں جو زمین میں پھرتے رہتے ہیں اور میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہونچاتے ہیں۔ (سننِ نسائی) ایک اور روایت میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب میرا کوئی امتی دور سے میرے اوپر درود بھیجتا ہے تو اس وقت فرشتوں کے ذریعہ وہ درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے، اور جب کوئی امتی میری قبر پر آکر درود بھیجتا ہے، اور کہتا ہے "الصلاة والسلام علیک یا رسول اللہ" اس وقت میں خود اسکے درود و سلام کو سنتا ہوں، (کنز العمال: ٢١٦٥)
درود شریف پڑھنے کے فضائل
درود شریف پڑھنے کے کچھ فضائل تو حدیثِ بالا میں بیان ہوئے اور بھی بہت فضیلتیں ہیں جو ہمیں احادیث کے عظیم ذخیرہ میں ملتی ہیں جیسے کہ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ قیامت میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ شخص ہوگا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجے (سنن ترمذی : ٤٨٤) اسی طرح حضرت ابو الدرداء رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح و شام مجھ پر دس مرتبہ درود شریف پڑھے اس کو قیامت کے دن میری شفاعت پہونچ کر رہے گی (الترغیب والترہیب بحوالہ طبرانی ١/٢٦١) اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللّہ عنہ حضور اقدس صلى اللہ علیه وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جس کے پاس صدقہ کرنے کو کچھ نہ ہو وہ یوں دعاء مانگا کرے "اللهم صل على محمد عبدك ورسولك وصل علي المؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات" تو يہ دعاء اس کیلئے صدقہ کے قائم مقام ہوگی، اور مؤمن کا پیٹ کسی خیر سے کبھی نہیں بھرتا یہاں تک کہ وہ جنت پہونچ جائے۔ (صحيح ابن حبان : ٩٠٣) اسی طرح حضرت ابی بن کعبؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے اللّہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یارسول اللہ! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجنا چاھتا ہوں تو اس کی مقدار اپنے اوقاتِ دعاء میں سے کتنا مقرر کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تیرا جتنا جی چاہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک چوتھائی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے اختیار ہے اور اگر اس سے زیادہ کر دے تو تیرے لیے بہتر ہوگا، تو میں نے عرض کیا : نصف کردوں؟ تو حضور صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھے اختیار ہے اور اگر بڑھا دے تو تیرے لیے زیادہ بہتر ہوگا، میں نے عرض کیا : دو تہائی کر دوں؟ تو حضورﷺ نے فرمایا: تجھے اختیار ہے اور اگر اس سے زیادہ کر دے تو تیرے لیے زیادہ بہتر ہوگا، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! پھر میں اپنے سارے وقت کو آپ کے درود کیلئے مقرر کرتا ہوں، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں تیری ساری فکروں اور غموں کی کفایت کردی جائیگی اور تیرے گناہ بھی بخش دیے جائیں گے۔ (سننِ ترمذی: ٢٤٥٧)
نیز درود شریف پڑھنے سے دعائیں قبول ہوتی ہیں، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نماز پڑھ رہا تھا رحمت عالم ﷺ (بھی وہیں) تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے پاس حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی حاضر تھے، چناچہ (نماز کے بعد) جب میں بیٹھا تو اللہ جلّ شانہ کی تعریف بیان کرنا شروع کی، اور پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا، اس کے بعد میں اپنے (دینی و دنیاوی مقاصد کے) لیے مانگنے لگا (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مانگو! دیے جاؤ گے، مانگو! دیئے جاؤ گے (یعنی دعا مانگو، ضرور قبول ہوگی)۔ (سننِ ترمذی: ٥٩٣)
خاص خاص اوقات میں درود شریف پڑھنے کا استحباب
ایک مؤمن کیلئے مناسب یہی ہے کہ یومیہ کم از کم سو مرتبہ درود شریف کا ورد کرے، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اپنے متوسلین کو روزانہ تین سو مرتبہ درود شریف پڑھنے کی تلقین کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ انشاء اللہ اس کی وجہ سے کثرت سے درود شریف پڑھنے والوں میں تمہارا شمار ہو جائیگا، اس کے علاوہ خاص خاص اوقات اور دنوں میں درود شریف پڑھنے کا استحباب معلوم ہوتا ہے ، مثلاً جمعہ کے روز کثرت سے درود شریف کا وِرد رکھنے کا حکم ہے، ارشاد نبوی ہے : تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، لہذا جمعہ کے دن کثرت سے مجھ پر درود بھیجا کرو، تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جاتا ہے جبکہ آپ تو بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟! آپ نے فرمایا : اللہ نے انبیاء کے جسم کھانا زمین پر حرام کر دیا ہے (سنن نسائی: ١٣٧٤)
اسی طرح اذان کے بعد درود شریف پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جب تم اذان سنو تو مؤذن جو الفاظ کہے وہی تم بھی کہو، اس کے بعد مجھ پر درود بھیجو، اس لیے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں پھر اللہ جل شانہ سے میرے لیے وسیلہ کی دعا کرو، اور "وسیلہ" جنت میں ایک مقام ہے جو صرف ایک شخص کو ملے گا، اور مجھے امید ہے کہ وہ ایک شخص میں ہی ہوں ، لہذا جو شخص میرے لیے اللہ سے وسیلہ کی دعاء کرے گا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی (صحیح مسلم: ٣٨٤)
اسی طرح مسجد میں داخل ہونے اور نکلتے وقت، اور وضور کرنے کے دوران، غصہ کے وقت، سونے سے پہلے وغیرہ اوقات میں درود شریف پڑھنا مستحب ہے۔
درود شریف نہ پڑھنے کی وعید
تمام علماءِ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر مؤمن کے ذمہ زندگی میں ایک مرتبہ درود پڑھنا فرضِ عین ہے، اس کے علاوہ حب کسی مجلس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی لیا جائے تو اس وقت بھی ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا واجب ہے، اگر نہیں پڑھے گا تو گنہ گار ہوگا، اور ایسے شخص سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے (سنن ترمذی: ٣٥٤٦) اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی میں خطبہ دینے کیلئے تشریف لائے، آپ منبر پر چڑھے اور تینوں سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے کہا "آمین" آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو صحابۂ کرامؓ نے اس کی وجہ سے معلوم کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ جب میں منبر پہ جانے لگا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے آئے اور تین بد دعاء کی، جس پر میں نے آمین کہا، ان میں سے ایک بد دعا یہ تھی کہ ہلاک و برباد ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ ( مستدرک حاکم: ٧٢٥٦) تصور کریں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی بدعا ہی کیا کم تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین نے اس کو اور سخت بنا دیا، نیز غالبا جمعہ کا دن اور خطبہ کا وقت، جو دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اس وقت یہ بددعا کی گئی ہے، لہذا اس بد دعاء کی قبولیت میں کیا تردد ہو سکتا ہے؟! اسی بناء پر جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی اور اسمِ گرامی لیا جائے تو درود شریف پڑھنے کا اہتمام کیا جائے۔
لباس کے شرعی اصول ومقاصد
از: محمد مظاہری ندوی
وَعَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قال: قالَ رسُولُ اللَّهِ ﷺ: الْبَسُوا البَيَاضَ، فَإِنها أَطْهرُ وأَطَيبُ، وكَفِّنُوا فِيها مَوْتَاكُمْ.(رواهُ النسائي: ١٨٩٦)
ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سفید کپڑے پہنو، اس لیے کہ یہ زیادہ پاک اور صاف ہوتے ہیں، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔ (سنن نسائی)
تشریح: اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہے، اسلام نے ایک ایسا دستورِ حیات ہے جس زندگی کے ہر گوشہ کی جانب رھنمائی کی ہے، اسی میں لباس بھی ہے، لباس انسان کا خاصہ ہے، اور انسانی ضرورت بھی ہے، اللّہ تعالی نے جانوروں کے مخصوص اعضاء کو کسی نہ کسی ساتر مثلاً دم وغیرہ سے چھپا دیا ہے، اور انسان کو کپڑے کیذریعہ اپنے بدن کو ڈھانکنے کا حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے " يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ" (سورۂ اعراف: ٢٦) اے بنی آدم، ہم نے تمہارے لئے ایسا لباس اتارا جو تمہاری پوشیدہ اور شرم کی چیزوں کو چھپاتا ہے، اور جو تمہارے لئے زینت کا سبب بنتا ہے، اور تقویٰ کا لباس تمہارے لئے سب سے بہتر ہے، اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لباس کے مقاصد بیان کیے ہیں، ان میں پہلا مقصد سترِ عورت ہے، لہذا ایسا لباس پہننا فرض ہے جو ستر کے حصوں کو چھپا لے، اور جو لباس اس مقصد کو پورا نہ کرے شریعت کی نگاہ میں وہ لباس کہلانے کے لائق ہی نہیں اسی طرح جو لباس ستر کو ڈھانکنے والا تو ہو مگر اتنا باریک ہو کہ اندر کا بدن جھلکتا ہو، یا اتنا چست ہو کہ لباس پہننے کے باوجود جسم کی بناوٹ اور جسم کی وضع قطع کو ظاہر کرنے والا ہو وہ بھی بنیادی مقصد کو فوت کرنے والا شمار ہوگا، موجودہ دور کے فیشن نے لباس کے اصل مقصد کو ہی مجروح کر دیا ہے، اس لیے کہ آج کل مردوں اور عورتوں میں ایسے لباس رائج ہو گئے ہیں جس میں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ جسم کا کونسا حصہ کھل رہا ہے اور کونسا حصہ ڈھکا ہوا ہے خصوصاً خواتین ایسا لباس پہن رہی ہیں جو جسم کو چھپانے کے بجائے اور نمایاں کرتا ہے
ایسی خواتین کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: "صِنْفانِ مِن أهْلِ النّارِ لَمْ أرَهُما، قَوْمٌ معهُمْ سِياطٌ كَأَذْنابِ البَقَرِ يَضْرِبُونَ بها النّاسَ، ونِساءٌ كاسِياتٌ عارِياتٌ مُمِيلاتٌ مائِلاتٌ، رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ البُخْتِ المائِلَةِ، لا يَدْخُلْنَ الجَنَّةَ، ولا يَجِدْنَ رِيحَها، وإنَّ رِيحَها لَيُوجَدُ مِن مَسِيرَةِ كَذا وكَذا". مسلم (٢١٢٨) وہ خواتین لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی، اور وہ لوگوں کو (اپنے لباس وغیرہ سے) اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود مائل ہونے والی ہونگی، ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے، وہ جنت میں داخل نہیں ہونگی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اور اتنی مسافت سے آتی ہے۔ (صحیح مسلم)
لباس کا دوسرا اصول
لباس کا دوسرا مقصد اللّہ تعالیٰ نے زینت اور خوبصورتی بتایا ہے، لہذا لباس ایسا ہو جو انسان کو مناسب معلوم ہوتا ہو، بد ہیئت اور بے ڈھنگا نہ ہو، بلکہ جس شخص کی آمدنی اچھی ہو اس کیلئے گھٹیا اور بوسیدہ لباس پہننا پسندیدہ نہیں ہے، ایک صحابی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ بہت معمولی اور بوسیده لباس پہنے ہوئے تھے حضور صلی اللّہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ألك مال؟ تمہارے پاس مال ہے؟ انہوں نے جواب دیا : یا رسول الله! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا فرمایا ہے میرے پاس اونٹ بکریاں، گھوڑے اور غلام سب موجود ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب اللّہ تعالی نے تمہیں مال دیا ہے تو اس کا اثر تمہارے جسم پر بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ (سنن ابی داود : ٤٠٦٣) اور اثر ظاہر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آرام کی خاطر اور اپنی آسائش کی خاطر کوئی شخص اچھا اور قیمتی لباس پہن لے تو اس میں کوئی گناہ نہیں، جائز ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ ایسا جبہ زیبِ تن فرمایا جس کی قیمت دو ہزار دینار تھی، لیکن اگر عمدہ لباس پہننے سے مقصود نہ تو آسائش ہے اور نہ آرائش بلکہ نمائش اور دکھاوا مقصود ہے اور دوسروں پر بڑائی جتانا اور دوسروں پر رعب جمانا مقصود ہے تو یہ باتیں نمائش میں داخل ہے اور حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ نمائش کی خاطر جو بھی لباس پہنا جائے وہ حرام ہے۔ (اصلاحی خطبات ٥/٢٧٩)
لباس کا تیسرا اصول
لباس کے سلسلہ میں شریعتِ مطہرہ نے تیسرا اصول بتلایا ہے "تشبہ سے پر ہیز کرنا " اور اس کا مطلب یہ ہے غیر مسلم قوم کے طور طریق ان کا خاص لباس، اور ان کی نقالی کرنے سے پرہیز کرنا، یعنی ایک مؤمن شخص ایسا لباس نہ پہنے جس سے ان کے جیسا اور ان کا ہم شکل نظر آئے، جیسے ان کی طرح پیشانی پر سرخ رنگ کا ٹیکہ لگانا، گلے میں ان کے مثل ہار پہننا، عمامہ ان کی شکل و صورت کے مطابق پہننا، دھوتی پہننا، کہ یہ سب چیزیں ان کا خاصہ ہے، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص سے سخت ناراض ہیں جو ان کی مشابہت اختیار کرتا ہو، ارشاد فرماتے ہیں : "مَن تَشَبَهُ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ". (سننِ ابوداؤد: ٤٠٣١) یعنی جو شخص کسی قوم کے ساتھ تشبہ اختیار کرے، اسی کی نقالی کرے، اور ان کے جیسا بننے کی کوشش کرے وہ انہی میں سے ہے، وہ مسلمانوں میں سے نہیں ہے اور اس کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا، واضح رہے کہ یہ بات تشدید و تغلیظ کے طور پر کہی گئی ہے،
اسی مندرجہ بالا اصول کی بنیاد پر یہ کہا جائے گا کہ جو لباس کسی بھی قوم کا شعار بن چکے ہیں، یعنی وہ لباس اس قوم کی امتیازی علامت بن چکا ہے، اگر ان کی نقالی کی غرض سے ایسا لباس اختیار کیا جائیگا تو وہ حرام اور نا جائز ہوگا، مثلاً آج کل مردوں میں کوٹ پتلون کا رواج چل پڑا ہے اس میں بعض باتیں تو فی نفسہ بھی ناجائز ہیں، چاہے اس میں تشبہ پایا جائے یا نہ پایا جائے، چنانچہ ایک خرابی تو یہ ہے کہ یہ پتلون ٹخنوں سے نیچے پہنی جاتی ہے اور کوئی لباس بھی مردوں کے لئے ٹخنوں سے نیچے پہننا جائز نہیں، دوسری خرابی یہ ہے کہ پتلون اکثر و بیشتر چست ہوتی ہے اس کی وجہ سے اعضاء نمایاں ہوتے ہیں تو پھر لباس کا جو بنیادی مقصد تھا یعنی "ستر کرنا" وہ حاصل نہ ہوا تو پھر وہ لباس شرعی لحاظ سے بے معنی اور بے کار ہے لہذا ان دو خرابیوں کی وجہ سے فی نفسہ پتلون پہننا جائز نہیں، لیکن اگر کوئی شخص اس بات کا اہتمام کرے کہ اس کی پتلون چست نہ ہو، بلکہ ڈھیلی ڈھالی ہو، اور اس کا اہتمام کرے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہو تو ایسی پتلون پہننافی نفسہ مباح ہے،
لیکن اگر کوئی شخص پتلون اس مقصد سے پہنے کہ میں انگریز نظر آؤں، اور میں ان کی نقالی کروں، اور ان کے جیسا بن جاؤں تو اس صورت میں پتلون پہننا حرام اور ناجائز ہے، اور "تشبہ" میں داخل ہے۔
لباس کا چوتھا اصول
لباس کے بارے میں چوتھا اصول یہ ہے کہ ایسا لباس پہننا حرام ہے جس کو پہن کر دل میں تکبر اور بڑائی پیدا ہو جائے، جیسے بہت اعلیٰ اور شوخ لباس پہننا اور دل میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا یہ ممنوع ہے، اسی طرح مردوں ٹخنوں کے نیچے پائجامہ گھسیٹنا یہ بھی تکبر کی علامت بتایا گیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے کپڑوں کو از راہ تکبر گھسیٹے گا اللّہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر رحمت نہیں فرمائیں گے (صحیح بخاری) اب ہمارا یہ حال ہو گیا ہے کہ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹخنے کھول دو، اور ٹخنے ڈھکنا جائز نہیں تو اس وقت ہم لوگ ٹخنے کھولنے تیار نہیں ہیں، اور جب انگریز نے گھٹنہ کھول دیے اور نیکر پہن لیا، تو انگریز کی نقالی میں گھٹنہ کھولنے تیار ہوگئے اور نیکر پہن لی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ٹخنے کھولنے پر تیار نہیں؟! یہ کتنی بے غیرتی کی بات ہے؟! ارے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے بھی کچھ تقاضے ہیں، لہذا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو نا پسند فرمایا تو ایک مسلمان کو کس طرح یہ گوارا ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے خلاف کرے، بعض لوگ یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے تکبر کی وجہ سے ٹخنے سے نیچے ازار پہنے کو منع فرمایا تھا، لہذا اگر تکبر نہ ہو تو پھر ٹخنوں سے نیچے پہنے میں کوئی حرج نہیں، اور دلیل میں یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو فرمایا کہ ازار کو ٹخنے سے نیچے نہ کرو، لیکن میرا ازار بار بار ٹخنے سے نیچے ڈھلک جاتا ہے میں کیا کروں؟ تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: کہ تمہارا ازار جو نیچے ڈھلک جاتا ہے یہ تکبر کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ تمہارے عذر اور مجبوری کی وجہ سے ڈھلک جاتا ہے، اس لئے تم ان میں داخل نہیں۔ (صحيح بخاري: ٣٦٦٥)
اب لوگ استدلال میں اس واقعہ کو پیش کرکے یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی تکبر وجہ سے نہیں کرتے ، لہذا ہمارے لئے جائز ہونا چاہئے، بات اصل میں یہ ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے کہ تم تکبر کی وجہ سے کرتے ہو یا تکبر کی وجہ سے نہیں کرتے؟ ارے بھائی! یہ تو دیکھو کہ حضور اقدس ﷺ سے زیادہ تکبر سے پاک کون ہو سکتا ہے؟ لیکن حضور اقدس ﷺ نے کبھی زندگی بھر ٹخنوں سے نیچے ازار نہیں پہنا، اس معلوم ہوا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو اجازت دی گئی تھی، وہ ایک مجبوری کی وجہ سے اجازت دی گئی تھی، وہ مجبوری یہ تھی کہ ان کے جسم کی بناوٹ ایسی تھی کہ بار بار ان کا ازار خود بخود نیچے ڈھلک جاتا تھا، لیکن تمہارے ساتھ کیا مجبوری ہے؟ اور آج تک آپ نے کوئی ایسا متکبر دیکھا ہے جو یہ کہے کہ میں تکبر کرتا ہوں، اس لئے کہ کسی متکبر کو کبھی خود سے اپنے متکبر ہونے کا خیال نہیں آتا، اس لئے شریعت نے علامتوں کی بنیاد پر احکام جاری کئے ہیں، یہ نہیں کہا کہ تکبر ہو تو ازار کو اونچا رکھو ورنہ نیچے کر لیا کرو، بلکہ شریعت نے بتا دیا کہ جب ازار کو نیچے لڑکا رہے ہو، باوجودیکہ حضور اقدس ﷺ نے اس سے منع فرما دیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر تکبر ہے، اس لئے ہر حالت میں ازار نیچے لٹکانا ناجائز ہے۔
الغرض! لباس کے یہ چار اصول ہیں، پہلا اصول یہ ہے کہ وہ ساتر ہو، دوسرا اصول یہ ہے کہ حدودِ شریعت میں رہتے ہوئے اس کے ذریعہ زینت بھی حاصل ہو ، تیسرا اصول یہ ہے کہ غیروں سے تشبہ نہ ہو، چوتھا اصول یہ ہے کہ اس کے پہننے سے دل میں تکبر پیدا نہ ہو، لہذا لباس اختیار کرنے میں ان اصول کی رعایت رکھنی ہوگی، تبھی وہ شرعی لباس ہوگا، اللّہ تعالیٰ ہمیں شریعت مطہرہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
خواب کی حقیقت
از: محمد مظاہری ندوی
جامعہ کنز العلوم ، احمدآباد
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدُ رُؤْيَا الْمُؤْمِن تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ : فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللهِ، وَالرُّؤْيَا مِنْ تَحْزِينِ الشَّيْطَانِ، وَالرُّؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ فَلْيَقُمْ وَلْيَتفُلْ وَلَا يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ، قَالَ: وَأُحِبُّ القَيْدَ فِي النَّوم، وأكْرَهُ الغُلَّ القَيدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ. (رواہ الترمذی فی سننه وقال: هَذا حديث صحيح. رقم: ٢٢٦٨)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب زمانہ نزدیک آجائیگا تو مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا، اور لوگوں میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہوگا جو لوگوں میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہوگا اور مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، اور خواب کی تین قسمیں ہیں، ١- نیک خواب جو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتا ہے، ٢- وہ خواب جس میں شیطان ڈراتا ہے، ۳- وہ خواب جس میں آدمی اپنے باتیں کرتا ہے ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اس کو ناپسند ہو تو وہ کھڑا ہو اور تھتکار دے، اور کسی سے خواب بیان نہ کرے اور فرمایا : کہ مجھے خواب میں بیٹری پسند ہے، اور طوق کو ناپسند کرتا ہوں کیونکہ بیٹری دین میں مضبوطی کی علامت ہے۔ (سننِ ترمذی)
تشریح: انسان رات کو نیند کی حالت میں جو منظر دیکھتا ہے اسے خواب کہتے ہیں، خواب مختلف طرح کے ہوتے ہیں، کبھی تو وہ اللہ کی جانب سے بشارت دینے والے ہوتے ہیں، اور کبھی شیطان کی جانب سے ڈرانے والے ہوتے ہیں، اور کبھی انسان کے پراگندہ خیالات ہوتے ہیں کہ دن میں جو کچھ دیکھتا اور سوچتا ہے وہی چیز رات کو نیند کی حالت میں دیکھتا ہے، اچھے خواب میں کبھی مؤمن کو خود بشارت دی جاتی ہے، اور کبھی دوسرے شخص کیلئے بشارت ہوتی ہے، جیسے ام العلاء الأنصاریہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کو ان کی وفات کے بعد دیکھا کہ ان کیلئے ایک چشمہ جاری کیا گیا ہے، جب آپ صلی اللّہ علیہ وسلم سے اس کی تعبیر معلوم کی تو آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ چشمہ ان کے اعمال ہیں جو موت کے بعد بھی جاری ہے، یہ خواب حضرت عثمان بن مظعونؓ کیلئے بعد از وفات بشارت ہے، لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اگر کسی شخص نے اپنے بارے میں اچھا خواب دیکھا کہ میں جنت میں پھر رہا ہوں اور جنت کے باغات اور محلات کی سیر کر رہا ہوں تو یہ اچھی بات ہے اور اس خواب میں اس کیلئے بشارت ہے لیکن اس کی وجہ سے دھوکہ میں نہ آئے کہ میں تو جنتی ہو گیا اور مجھے کسی عمل کی ضرورت نہیں رہی یہ خیال غلط ہے، بلکہ اگر کوئی شخص اچھا خواب دیکھنے کے بعد اعمال میں اور آگے بڑھتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ خواب اچھا تھا اور بشارت والا تھا، اور اس نے غلط نتیجہ نہیں نکالا، لیکن اگر خدانخواستہ خواب دیکھنے کے بعد عمل چھوڑ بیٹھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس خواب نے اس کو دھوکہ میں مبتلا کردیا۔
نیز اچھے خواب کے متعلق حضور صلی اللّہ علیہ وسلم کا فرمان "ورؤيا المسلم جزء من ستة وأربعين جزء من النبوۃ" کہ مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، اس کی توجیہ عام طور سے یہ کی جاتی ہے کہ نبوت کی کل مدت ۲۳/ سال ہے، اور جب آپ ﷺ کی بعثت کا وقت آیا تو ابتداء میں چھ مہینے تک آپ کو سچے خواب آتے رہے، اور ۲۳ کا دو گنا ٤٦ ہے، اس طرح سچے خواب نبوت کا ٤٦واں حصہ ہوئے، صاحبِ تحفۃ الالمعی تحریر فرماتے ہیں کہ اس توجیہ پر علامہ ابن بطالؒ اور امام خطابیؒ نے اشکال کیا ہے کہ سچے خوابوں کا ٦/ماہ تک آنا کسی روایت میں منصوص نہیں ہے، نیز سچے خواب نبوت کا کونسا جزء ہے اس سلسلہ میں احادیث میں پندرہ عدد منقول ہے، کم از کم ٢٤ ، اور زیادہ سے زیادہ ٧٦/ کا عدد آیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ نے فتح الباری میں ان اعداد کو جمع کیا ہے اور ان اعداد میں مشہور روایت ٤٦/ کی ہے، جیسا کہ اس حدیث میں ہے، اس اختلافِ عدد کی توجیہ حضرت گنگوہی نوراللہ مرقدہ نے یہ کی ہے کہ خواب دیکھنے والوں کے صلاح و تقوی کے اختلاف سے نسبتیں مختلف ہوتی ہیں، جو شخص جس قدر متقی ہوگا اس کا خواب اسی قدر اہم اور عدد چھوٹا ہوگا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا خواب نبوت کا ۲۲/ واں جزء ہوگا اور دوسرے صدیقوں کا خواب ٢٥/٢٦ واں یا ۲۷/ واں حصہ ہوں گے ، اسی طرح صالحین کے بھی مختلف درجات ہیں، پس جس قدر ان کے اخلاص میں صدق مقال میں اور اکل حلال اور نیتوں کی صداقت میں کمی ہوگی عدد بڑھتا جائیگا اور اوسط عدد یعنی عام صالحین کے خوابوں کی نسبت ٤٦/ ہے یہ ایک بہترین توجیہ ہے۔ (تحفۃ الالمعی ٦/٥٤) اور اس کی نظیر جماعت کی فضیلت والی روایات ہیں، عام روایات میں جماعت کا ثواب ۲۵/ گنا آیا ہے، اور حضرت ابن عمرؓ رضی اللہ عنہما کی روایت میں ۲۷/ گنا آیا ہے، اس کی ایک توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ یہ ثواب اس صورت میں ہے جبکہ امام پرہیز گار ہو، نمازیوں میں نیک لوگ شامل ہوں، اور جماعت بڑی ہو تو یہ ثواب ہے، یعنی خارجی چیزوں کے اثرات پڑتے ہیں، اسی طرح خوابوں کا معاملہ ہے۔
خواب کی دوسری قسم شیطانی اثرات اور وساوس کی بناء نظر آنے والے ڈراؤنے خواب ہیں، جس میں شیطان انسان کو پریشان کرتا ہے، کسی ملعون جانور کی شکل میں آکر انسان کو پریشان کرتا اور ڈراتا ہے ایسے خوابوں کے سلسلہ میں اللّہ کے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم کی جانب سے رھنمائی یہ ہے کہ ایسے خواب نظر آنے پر آنکھ کھلے تو بائیں طرف تین مرتبہ تھتکار دے، اور "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" تین مرتبہ پڑھ لے تو ان شاء اللہ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، اور خواب کی تیسری قسم انسان کے اپنے خیالات ہیں، کہ انسان بیداری کی حالت میں جن چیزوں کا عادی ہوتا ہے خواب میں وہی چیزیں نظر آتی ہیں جیسے پڑھنے پڑھانے سے دل چسپی رکھنے والے کو کتاب کے مطالعہ کے خواب آتے ہیں اور شراب کے عاشق کو شراب نوشی کے منظر دکھائی دیتے ہیں، یا بیمار دیکھتا ہے کہ اس کے آپریشن کی تیاری ہورہی ہے، ان خوابوں کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی، تعبیر صرف مبشرات کی ہوتی ہے۔
*خواب کی تعبیر*
تعبیر جاننے کا عمدہ طریقہ خواب میں آنے والے خیال کی معرفت ہے، یعنی یہ جاننا کہ کسی خیال کا کیا مطلب ہے؟ کیونکہ:
١- کبھی مسمّٰی سے اسم مراد ہوتا ہے۔ جیسے نبی کریم ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ حضرت عقبہ بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں جلوہ افروز ہیں، آپ کی خدمت میں ابن طاب نامی تازہ کھجوریں پیش کی گئیں، آپ ﷺ نے اس کی تعبیر بیان فرمائی کہ رافع سے رِفعت مراد ہے، یعنی ہمارے لئے دنیا میں رفعت و بلندی ہے، اور عقبہ سے مراد آخرت کا اچھا انجام ہے، اور طاب سے مراد دین کی عمدگی ہے۔ (مشکوۃ : ٤٦١٧)
٢- اور کبھی لازم سے ملزوم مراد ہوتا ہے، جیسے تلوار سے جنگ مراد ہوتی ہے، نبی کریم ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں ذو الفقار نامی تلوار ہے، آپ نے اس کو ہلایا تو اس کا بالائی حصہ ٹوٹ گیا، پھر ہلایا تو پہلے سے بہتر ہوگئی، اس کی تعبیر یہ تھی کہ جنگ احد میں پہلے ہزیمت ہو گی، پھر اللہ فتح نصیب فرمائیں گے ( مشکوۃ : ٤٦١٨)
٣- اور کبھی صفت سے موصوف مراد ہوتا ہے، جیسے آپ ﷺ نے خواب دیکھا کہ سونے کی دو چوڑیاں آپ کے ہاتھ میں رکھی گئیں، آپ کو یہ بات ناگوار ہوئی، تو وحی آئی کہ ان کو پھونک مار دیجیے، چنانچہ آپ نے پھونک ماری تو دونوں غائب ہو گئیں اس کی تعبیر دو جھوٹے نبوت کے دعویدار اسود عنسی اور مسلیمہ کذاب تھے، چونکہ دونوں پر مال کی محبت غالب تھی اس لئے وہ سونے کی شکل میں دکھائے گئے۔ ( مشکوۃ: ٤٦١٩)
حاصل کلام یہ ہے کہ خواب میں نظر آنے والی چیز سے کیا مراد ہے؟ اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، اور اس کے لئے کوئی قاعدۂ کلیہ نہیں، یہ بات تعبیر دینے والے کی ذہانت پر موقوف ہے، اور مبشرات نبوت کا ایک حصہ ہیں یعنی کمالاتِ نبوت میں شامل ہیں، کیونکہ وہ بھی غیبی فیضان اور اللہ کی طرف سے مخلوق کی طرف تجلی کی ایک صورت ہے، اور مبشرات نبوت کی بنیاد ہیں، چنانچہ نبی کریم ﷺ کو نبوت سے چھ ماہ قبل ہی سے سچے خواب آنے شروع ہو گئے تھے، رہی خواب کی دیگر انواع تو ان کے لئے کوئی تعبیر نہیں۔ ( رحمۃ اللہ الواسعۃ ٥/٥٣٩)
*خواب میں حضور اقدس ﷺ کی زیارت کرنا*
اس سلسلہ میں حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے یقینا مجھے ہی دیکھا، اس لیے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ (سننِ ترمذی: ٢٢٧٤) اس حدیث کی تشریح میں صاحب تحفۃ الالمعی تحریر فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں متقدمین کی دو رائے ہے، بعض کی رائے یہ ہے کہ جس نے نبی کریم ﷺ کو آخری زندگی والے حلیہ میں دیکھا اس نے بالیقین آپ کو دیکھا، چنانچہ وہ حضرات خواب دیکھنے والے سے حلیہ دریافت کیا کرتے تھے، اگر خواب دیکھنے والا وہ حلیہ بیان کرتا جو آپ کا آخری زندگی میں تھا، تو وہ اس خواب کی تصدیق کرتے تھے، ورنہ کہتے کہ آپ نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں نہیں دیکھا۔
اور متقدمین کی دوسری رائے یہ ہے کہ جس نے آپ کو آپ کے حلیہ میں دیکھا خواہ وہ آخری زندگی کا حلیہ ہو یا پہلے کا اس نے آپ کو دیکھا اور اگر ایسی حالت میں دیکھا جو آپ کا حلیہ بھی نہیں رہا تو اس نے آپ کو نہیں دیکھا۔
اور متأخرین کی رائے یہ ہے کہ خواب دیکھنے والے نے آپ کو جس حلیہ میں بھی دیکھا ہو اگرچہ نامناسب حلیہ میں دیکھا ہو، اور خواب میں قرائن سے جانا ہو کہ یہ نبی کریم ﷺ ہیں تو وہ آپ ہی ہوتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا، خواہ روایات میں منقول حلیہ میں دیکھا ہو یا کسی اور حلیہ میں، اور حضرت گنگوہی قدس سرہ فرماتے ہیں: یہی رائے برحق ہے، کیونکہ خواب دیکھنے والے کو جس شخص سے مناسبت ہوتی ہے اس کی شکل میں آپ نظر آتے ہیں، نیز خواب دیکھنے والے کی ایمانی حالت، نیت اور امور باطنہ کے اختلاف سے بھی آپ ﷺ کی زیارت مختلف صورتوں میں ہوتی ہے۔ (تحفۃ الالمعی ٦/٦١)
*جھوٹا خواب گھڑنے کی وعید*
جھوٹا خواب بیان کرنے کی سخت وعید ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "جو شخص جھوٹا خواب بناتا ہے اسے قیامت کے دن جَو میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائیگا" اور ایک روایت میں ہے " وہ ہرگز ان کے درمیان گرہ نہیں لگا سکے گا، (سننِ ترمذی: ٢٢٧٩) اس لیے اپنے مسلک کی نشر و اشاعت کیلئے چھوٹا خواب بیان کرنا، یا اپنی نیک نامی اور شہرت کیلئے چھوٹے خواب گڑھنا، یا پیر کو دھوکہ دینے اور جلدی خلافت حاصل کرنے کیلئے اچھے اچھے خواب گڑھ کر پیر کو سنانا، یا کسی کو نیک نام اور بدنام کرنے کیلئے جھوٹے خواب بیان کرنا سخت بری بات ہے، اس سے باز آجانا چاہیے ورنہ ہمیشہ کے لیے عذابِ خداوندی کا مستحق ہوگا، اللّہ تعالی ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Address
Jamalpur
Ahmedabad
380001
Opening Hours
| Monday | 9am - 5pm |
| Tuesday | 9am - 5pm |
| Wednesday | 9am - 5pm |
| Thursday | 9am - 5pm |
| Saturday | 9am - 9pm |
| Sunday | 9am - 5pm |