31/12/2025
سالِ نو اور اسلامی تعلیمات
از: محمد مظاہری ندوی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّه صلى الله عليه وسلم لرجلٍ وهو يَعِظُه: « اغْتَنِمْ خَمْسًا قبلَ خَمْسٍ: شبابَكَ قبلَ هَرَمِكَ، وصِحَّتَكَ قبلَ سَقَمِكَ، وغِناكَ قبلَ فَقْرِكَ، وفَراغَكَ قبلَ شُغلِكَ، وحياتَكَ قبلَ موتِكَ». (أخرجه البيهقي في شعب الإيمان رقم: ١٠٢٤٨)
ترجمہ: حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جانو، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح : اسلام پاکیزہ اور مکمل دین ہے، اس میں تمام تر انسانی مسائل کا حل اور خوشی و غم منانے کے طریقے اور احکام موجود ہے، اسلام نے سال میں دو دن (عید الفطر اور عید الاضحی) خوشی کے دن بتائے ہیں، اور ان دو دنوں میں بھی خوشی منانے کے حدود اور طریقے متعین کر دیے ہیں، لہذا مومنین کو اللّہ اور رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنا چاہیے اور غیروں کے طور طریق، رسم و رواج اور خرافات سے پرہیز کرنا چاہئے، تبھی اللّہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل ہوگی، نیز ماہ و سال کا گذرنا ایک مؤمن کیلئے خوشی کا وقت نہیں بلکہ غور و فکر اور احتساب کا وقت ہوتا ہے، نئے سال کی آمد پر جشن منانا یہود و نصاری کا طریقہ ہے، اسلامی تعلیمات میں کہیں بھی نئے سال کی آمد پر خوشی اور جشن منانے کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ اپنی گزری ہوئی زندگی کے احتساب اور مستقبل میں صحیح بنیادوں پر زندگی استوار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اور لا یعنی سے پرہیز کرنے کا حکم دیا دیاگیا گیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ نئے سال کی آمد پر مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟ نئے سال سے متعلق کسی عمل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو قرون اولیٰ کا کوئی اور عمل تو مل نہ سکا؛ البتہ بعض کتبِ حدیث میں یہ روایت نگاہوں سے گذری کہ جب نیا مہینہ یا نئے سال کا پہلا مہینہ شروع ہوتا تو اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے اور بتاتے تھے: ”اللّٰھُمَّ أدْخِلْہُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَارٍ مِّنَ الشَّیْطَانِ“ (المعجم الاوسط للطبرانی حدیث: ٦٢٤١) ترجمہ: اے اللہ اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن وایمان، سلامتی و اسلام او راپنی رضامندی؛ نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔
اس دعا کو پڑھنا چاہیے ؛ نیز اس وقت مسلمانوں کو دو کام خاص طور پر کرنے چاہئیں یا دوسرے الفاظ میں کہہ لیجیے کہ نیا سال ہمیں خاص طور پر دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے (۱) ماضی کا احتساب (۲) مستقبل کا لائحۂ عمل؛
نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے، کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں؟! اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے، لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچ سکتا، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : «الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت، والعاجز من أتبع نفسه هواها وتمنى على الله الأماني» عقلمند ہے وہ شخص جو اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہے ، اور موت کے بعد کی زندگی میں کام آنے والے اعمال کرتا ہے، اور وہ آدمی عاجز و بے بس ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا رہتا ہے اور اللہ کی ذات سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔(سنن ترمذی) اسی بات کو اللہ جلّ شانہ نے قرآن کریم میں ایک خاص انداز سے ذکر کیا ہے: « وَأنْفِقُوْا مِنْ مَا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ أنْ یَأتِيَ أحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلاَ أخَّرْتَنِيْ إلیٰ أجَلٍ قَرِیْبٍ فَأصَّدَّقَ وَأکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ. وَلَنْ یُّوٴَخِّرَ اللہُ نَفْسًا إذَا جَاءَ أجَلُھَا وَاللہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(سورۂ منافقون) ترجمہ: اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجاؤں، اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ اچھی طرح باخبر ہے۔
اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا موٴاخذہ اور محاسبہ کرنا چاہیے،خود کا جائزہ لینا چاہیے اورجو زندگی کی مہلت مل رہی ہے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، اس سے پہلے کہ یہ مہلت ختم ہوجائے، بالخصوص آج کے دور میں جس طرح لوگوں کو موت آرہی ہے وہ ہمارے قابلِ عبرت ہے، کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اچھا خاصا تندرست جوان انسان گھرسے نکلا ٹھوکر لگی، گرا، اور انتقال کر گیا، رات کو سویا اور صبح بستر سے اٹھ نہ سکا، کسی جگہ سفر کے ارادے سے نکلا، حادثہ پیش آیا، اور وہیں سے سفرِ آخرت پر روانہ ہوگیا۔ شاعر نے سچ کہا ہے؎
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
آدمی بُلبُلا ہے پانی کا
(٢) مستقبل کا لائحہ عمل : خود احتسابی اور جائزہ کے بعد اس کے تجربات کی روشنی میں مستقبل کی تعمیر کا منصوبہ بنانا ہے، کمزوریوں کو دور کرنا ہے، اس سے سبق حاصل کرنا ہے ، اور اسلامی اصول کے مطابق اپنی زندگی کی عمارت کو درست انداز سے تعمیر کرنا ہے، اسی بات کی طرف مذکورہ بالا روایت میں توجہ دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ جوانی کی قدر کرنی ہے، صحت کی قدر کرنی ہے ، مال اور وقت کی قدر کرنی ہے، اس لیے کہ آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے۔ ارشاد ربّانی ہے: «وَأنْ لَیْسَ لِلإنْسَانِ إلاَّ مَاسَعٰی، وَأنَّ سَعْیَهُ سَوْفَ یُرٰی، ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الأوْفیٰ»۔ (سورۂ نجم)
ترجمہ: اور ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی، اور بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
خلاصۂ کلام یہ کہ نئے سال کی آمد ایک مؤمن کو بجائے خوش کرنے کے فکرمند کردیتی ہے، اسے بتاتی ہے کہ تیری عمر کا ایک سال کم ہوگیا، تو موت سے ایک سال اور قریب ہو گیا، تیری زندگی کا سورج رفتہ رفتہ مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے، اور یہی ماہ و سال کا گزرنا تجھے ایک دن غروب کر دیگا، اس بناء پر نئے سال کی آمد خوشی اور سرور کا موقع نہیں ہے بلکہ گزرتے ہوئے وقت کی قدر کرنے اور آنے والے لمحاتِ زندگی کا صحیح استعمال کرنے کے عزم کا وقت ہے، اور از سرِ نو عزائم کو بلند کرنے اور حوصلوں کو پروان چڑھانے کا وقت ہے، اسی کے ساتھ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو ایک اور اہم معاملہ کی طرف بھی توجہ دلائی دی جائے کہ مسلمانوں کا نیا سال جنوری سے نہیں؛ بل کہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے، لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ قمری تاریخ کے ساتھ ساتھ ہجری سال کو بھی یاد رکھیں، چونکہ ہر قوم اپنی تاریخ کو کسی خاص واقعے سے مقرر کرتی ہے؛ اس لیے مسلمانوں نے بھی اپنی تاریخ کو خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللّہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّہ عنہ کے مشورے سے واقعہ ہجرت سے مقرر کیا تھا، اس لیے اس کو یاد رکھنا ہے اور قمری تقویم کے ساتھ اس کا استعمال بھی جاری و ساری رکھنا ہے۔