Madarsa Islamiya Darsul Uloom

Madarsa Islamiya Darsul Uloom

Share

An Organization working for the growth of Islamic Education, Training & Research all over the world.

We implement the most modern teaching methodology being used in India, USA & Europe. Ulema & teachers of Arabic Madersas have also shown interest with us. Madarsa Islamiya Darsul Uloom is an organization that working for the betterment of Indian Muslim Community. It provide the Islamic Education to Muslims and other religious communities so that they came to know the better face of Islamic rules &

03/12/2022
30/07/2018

♻️Ⓜ️♻️

*🌍🖌 تمام کائنات کا خالق کون ۔؟ 🖌🌏*

ﺳﻮﺭﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﭼﮫ ﺳﻮ ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ، ٩ ﺳﯿﺎﺭﮮ , 27 ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮍﺍﺋﭧ ‏( Meteorite ‏) ﮐﺎ ﻗﺎﻓﻠﮧ ﺍﺳﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭە ﺟﺎﮰ ﯾﺎ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮨﻮﺟﺎﮰ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍە ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ،،، ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﯾﺰﺍﯾﻦ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺫﯾﺰﺍﺋﻨﺮ کوئی ﻧﮩﯿﮟ، ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ کوئی ﻧﮩﯿﮟ، ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻟﺮ کوئی ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﺲ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ۔؟

ﭼﺎﻧﺪ ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺳﺘﺮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ کھرﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺪﻭ ﺟﺰﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ لئے ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ، ﭘﺎﻧﯽ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻔﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺘﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﮐﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩە ﻧﮧ ﮐﻢ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ، ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﺁﺑﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺑُﻮ ﻧﮧ ﭘﮭﯿﻠﮯ۔ ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺐ ﭘﺮﺩە ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ۔ ﺍﺱ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ۔؟؟ ﺍﺱ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ۔؟ ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ؟

ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ کی ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺍُﭨﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔
" ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ: ﺁﯾﺖ ۵ ۔

ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ (" ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ " ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ (Barrier) ‏ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ") ۔ ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ: ﺁﯾﺖ ٢٠ ۔

ﺟﺐ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ (" ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‏) ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ: ﺁﯾﺖ ۴٠ ۔ ‏

ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ (" ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ‏) ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ: ﺁﯾﺖ ٣٨ ۔

ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ (ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ " ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ‏) ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ: ﺁﯾﺖ ۴٧ ‏۔

ﻭە ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔

ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺳﭩﺎﺋﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ "ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭨﻞ ﮨﯿﮟ" ﭘﺮ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ، ( "ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ " ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ" ‏) ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ: ﺁﯾﺖ ٣ ۔

ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻗﺎﺑﻞِ ﻓﺨﺮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺮﺩە ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺲ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ۔؟ ﮐﺲ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔؟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﻋﻘﻞ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﺣﺎﺩﺛﮧ ؟؟

ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺍﮰ ؟ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺧﻄﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﭙﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﮰ۔
ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺷﺎﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﺗﺮﺁﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ۔؟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﮑﮭﺎﮰ ﻣﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ لئے ﻟﭙﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﻮﻥ ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔؟ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ منھ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯿﮟ۔؟ ﯾﮧ ﺁﺩﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﮯ۔؟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍﻧﮩﯿﮟ !!!

؂ﺑﺲ ﺍﺭﺗﻘﺎٴ ‏( Evolution ‏) ﮨﮯ؟

ﺷﮩﺪ ﮐﯽ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﺭﺱ ﭼﻮﺱ ﭼﻮﺱﮐﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﻻ ﮐﺮ ﭼﮭﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭘﮭﻮﻝ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟﺟﺎﺗﯽ، ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻡ ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﮩﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﮕﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﮱ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﭼﻼ ﮐﺮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩە ﮨﯿﮟ۔ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﻈﻢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ،

24/04/2018

قرآنی معجزات کی ایک جھلک :{مرد کی منی سےعورت کے بدن میں DNA کا خلاصہ}
....................................................
ایک ماہرِ جنین یہودی (جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ:
( روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے۔)
پورا واقعہ یوں ہے کہ:
الپرٹ اینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوا روبرٹ غیلہم نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی .
اللہ کا فرمان ہے : والمطلقات یتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء[ البقرة:228]
"مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں"
اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی.اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہے، اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے.جب کوئی مرد ہم بستری کرتاہے تو عورت کا جسم مرد کی تما بیکٹریاں جذب ومحفوظ کر لیتا ہے۔ اس لئے طلاق کے فورا بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں.
سائنس نے پتا لگایا کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے اور دوسرے حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہو جاتا ہے،اور تیسرے حیض میں 99.9%کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم، سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے، اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نئے ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔
ایک طوائف کئ لو گوں سے تعلقات بناتی ہے. جس کے سبب اس کے رحم مختلف مردوں کی منی چلی جاتی ہیں اور جسم مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہٰیں اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے ۔
اور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کے بنا پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے ایسی عورتوں کے لئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے۔ فر مان الہی ہے :( وا لذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر، و عشرا)[البقرة:٢٣٤]
”اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں“۔
اس حقیقت سے راہ پا کرایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلے میں تحقیق کیا۔ ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں۔ وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک شوہر ہی کا ڈی این اے پایا گیا ۔جبکہ دوسرا محلہ ،جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے۔
جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی۔اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے.
اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں۔
عربی سے ترجمہ:
By: Madarsa Islamiya Darsul Uloom

01/01/2018

دعوت نامہ کل ہند اجلاس مجلس عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند تاریخ 5مارچ 2018 بروز شنبہ

04/12/2017

*خدائے پاک نے آخر ہماری آبرو رکھ لی*

**

الیکشن کے نتائج آچکے ، جسے جیتنا تھا وہ جیت چکا اور جسے ہارنا تھا وہ ہار چکا۔ جیتنے والے کو بہت بہت مبارک باد اور ہارنے والے سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ آپ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرلیں تاکہ دوبارہ اس مرحلے سے نہ گزرنا پڑے۔

اس پوسٹ کا مقصد نہ کسی کی دل آزاری ہے اور نہ ہی کسی کا استہزاء، بس چند توجہ طلب امور کی طرف توجہ مبذول کرانی ہے۔

ازل سے حق و باطل کی کشمکش جاری ہے، حق کی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں لیکن یہ بات بھی اہل دانش جانتے ہیں کہ حق ہمیشہ فتح یاب ہوتا ہی رہا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ہر فتح یاب کو آپ برحق سمجھ لیں، بلکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظریاتی اختلافات میں مولائے کل کسی کی غلطیوں کی پاداش میں اسے اقتدار سے محروم کرکے اسے یہ بتانا چاہتا ہے کہ تمھارے اوپر بھی ایک حاکم ہے جو حاکم مطلق ہے، اس لیے خود کو مطلق العنان نہ سمجھو، بلکہ ہمارے احکام کے تابع بن کر رہو تو ہم تمھیں کامیابیوں سے ہم کنار رکھیں گے، اگر ہمارے دین اور مذہب کا استہزاء کروگے تو ہم نے ہی یہ اقتدار و اختیار تمھیں سونپ رکھا ہے اور ہم ہی اسے واپس لینے والے ہیں۔

جس طرح چند مہینوں قبل ہنگامے کھڑے کیے گئے تھے، اس وقت کسی کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی تھی، میں نے اپنی ایک پوسٹ میں اشارہ کیا تھا کہ یہ سب کچھ سیاست کے لیے ہے، سیاست میں وہی زندہ رہتا ہے جو سرخیوں میں رہتا ہے، اسی اصول کے مد نظر جان بوجھ کر صنفی تفریق کے نام پر ایک فریق کو اپنا ہم نوا بنانے کی فاش غلطی کی گئی تھی، مجھے نہیں معلوم کہ یہ غلطی پالیسی سازوں کی تھی یا آنجناب کی اپنی ذہنی اپج تھی، لیکن بہرحال جو کچھ بھی تھا، مطلع صاف ہوچکا ہے۔ اللہ پاک کا بے پناہ کرم ہے کہ اس نے ہم دکھے دل والوں کی پکار کی لاج رکھ لی، آج طبیعت میں اس بات کا احساس جاگا ہے کہ ہماری قوم ابھی مردہ نہیں ہے بلکہ جب بھی اس کے ساتھ ، اس کی غیرت کے ساتھ تماشا ہوتا ہے تو وہ جاگتی ضرور ہے یہ الگ بات کہ اسے جاگنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ معبود برحق ہم تیرے شکرگزار ہیں کہ تو نے اہل غرور کے غرورکو توڑدیا، تو نے انھیں یہ بتادیا کہ تو اپنے دکھیارے بندوں سے دور نہیں، تو نے کہا تھا ’’مجھے پکارو میں سنوں گا‘‘، ہم نے تجھے پکارا تو نے سن لیا، الٰہا ہم کمزور بندے تیرا شکر ادا نہیں کرسکتے کہ ہمارے الفاظ قاصر ہیں، ہماری زبانیں گنگ ہیں، لیکن مالک تو تو عالم الغیب ہے، دلوں کا حال جانتا ہے، مولائے کریم! ہمارے تشکر کے جذبات کو قبول فرمالے۔ تو نے ہم خطاکاروں، گناہگاروں کی لاج رکھ لی۔

یقینا آج کا دن ہنگاموں سے بھرپور ہے، کہیں جیت کا جشن ہے تو کہیں ہار کا سوگ۔ میں نے بارہا کہا ہے کہ مجھے ذاتی طور پر کسی سے کوئی اختلاف نہیں، جو کچھ ہے وہ فقط نظریہ کا اختلاف ہے، ہم نے موافقت و مخالفت ہر دو کی بنیاد صرف نظریات کی بنیاد پر رکھی ہے، اس لیے آج کی شکست و فتح بھی صرف اور صرف نظریہ کی ہے۔ عالی وقار نے عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست تسلیم کرلی ہے، ہم ان سے بھی صرف اتنی گزارش کریں گے کہ آپ اپنی سابقہ غلطیوں پر نظر ثانی کریں، اور انھیں دوبارہ نہ دوہرانے کا عزم کرلیں۔ جیتنے والوں سے ، اورخصوصا میں اپنے دوستوں اور متعلقین سے یہ گزارش کروں گا کہ خدارا! خدارا! جیت کے جشن میں اندھے نہ ہوجائیں، آپ نے بیت المقدس نہیں فتح کیا ہے، آپ نے مدائن کے قلعے نہیں ڈھائے ہیں، یہ جیت بہت معمولی سی جیت ہے، ہم نے جشن تو تب بھی نہیں منایا جب ہم آدھی دنیا کے حاکم تھے، تو آج یہ معمولی سی جیت آپ کے لیے کیا حیثیت رکھتی ہے؟ کسی کا کوئی استہزاء نہ کیا جائے، کسی کا مذاق نہ اڑایا جائے، بلکہ خاموشی اور وقار کے ساتھ اعلی ظرفی کا ثبوت دیا جائے۔ یہ دنیا کی تاریخ رہی ہے، وقت بدلتا رہتا ہے اور اسے بدلنے والا مالک حقیقی ہی ہے، آپ کی محنتیں اور کوششیں صرف دکھاوے کا سامان ہیں۔ اس لیے ہوٹلوں اور بازاروں میں بیٹھ کر، پٹاخے پھوڑ کر، گالی گلوج کرکے ایک دوسرے پر چھینٹا کشی کرکے اپنے آپ کے رسوائی کا باعث نہ بنیں۔

اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہیں، اوراللہ سے دعا کریں کہ اللہ ہر دو فریق کو صحیح شعورعطا فرمائے۔ جیتنے والا شہر کی تعلیم و ترقی کے لیے کوشاں نہ رہے، لیکن وہ راستہ ہرگز نہ اپنائے جو اس سے پہلے کے لوگوں نے اپنایا تھا، فطرت کے قوانین کو توڑنے کی کوشش نہ کرے۔ اور ہارنے والے بھی سنجیدگی کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں اور خیالی دنیاؤں سے نکل کر زمین پر چلنا بھرنا شروع کریں۔خصوصا نوجوان طبقے سے ہماری گزارش ہے کہ لایعنی اورفضول حرکتوں سے مکمل طور پر دوررہیں اور شہرکی فضا کو خوشگوار بنائے رکھیں۔
کسی بھی طرح کے اشتعال بیانات اور حرکتوں سے مکمل اجتناب کی گزارش کے ساتھ

*آپ کا خیراندیش*
*Hafiz Mohd. Younus*

06/09/2017

کیا وہ وقت آ گیا ہے...؟
جس کے بارے میں رسول اللہﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دُشمن کے سینوں سے تُمہارا خوف نکال دے گا، اور تُمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا“ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! وہن کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دُنیا کی محبّت اور موت کا ڈر ہے-"

سنن ابی داؤد-كتاب الملاحم.
باب في تداعي اﻷمم على الإسلام- حدیث: 4297

ظلم دیکھ کر چیپ رہنا بھی ظلم ہے۔
تمام مسلمان برما کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیۓ۔

"اور مسلمانوں (اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ اللّٰہ سب کچھ جانتا ہے)"
(سورۃ بقرۃ 244)

ﻭَﻣَﺎ ﻟَﻜُﻢْ ﻟَﺎ ﺗُﻘَﺎﺗِﻠُﻮْﻥَ ﻓِﻰْ ﺳَﺒِﻴْﻞِ ﺍﻟﻠّـٰﻪِ ﻭَﺍﻟْﻤُﺴْﺘَﻀْﻌَﻔِﻴْﻦَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺮِّﺟَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟﻨِّﺴَﺂﺀِ ﻭَﺍﻟْﻮِﻟْـﺪَﺍﻥِ ﺍﻟَّـﺬِﻳْﻦَ ﻳَﻘُﻮْﻟُﻮْﻥَ ﺭَﺑَّﻨَـﺂ ﺍَﺧْﺮِﺟْﻨَﺎ ﻣِﻦْ ﻫٰﺬِﻩِ ﺍﻟْﻘَﺮْﻳَﺔِ ﺍﻟﻈَّﺎﻟِﻢِ ﺍَﻫْﻠُـﻬَﺎۚ ﻭَﺍﺟْﻌَﻞ ﻟَّﻨَﺎ ﻣِﻦْ ﻟَّـﺪُﻧْﻚَ ﻭَﻟِﻴًّﺎ ﻭَّﺍﺟْﻌَﻞ ﻟَّﻨَﺎ ﻣِﻦْ ﻟَّـﺪُﻧْﻚَ ﻧَﺼِﻴْـﺮًا
"ﺍﻭﺭ تمہیں کیا ہوگیا ھے ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺑﮯ ﺑﺲ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ نہیں ﻟﮍتے ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﮮ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻤﺎﯾﺘﯽ بھیج ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ".
(سورہ النساء, 75)

"اے نبی ﷺ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو۔اور اگر تم میں 20 آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو 200 کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر (100 ایسے ہونگے) تو 1000 پر غالب رہیں گے۔ اس لیئے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے"
(سورة انفال 65)

"اے ایمان والو! اللّٰہ سے ڈرتے رہو اور اسکا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اسکے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ"
(سورۃ المائدۃ 35)

"وہ یہ کہ اللّٰہ پر اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور اللّٰہ کی راہ میں اپنے مال اور (جان سے جہاد کرو۔) اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے".
(سورۃ صف 11)

Photos 21/12/2016
Want your school to be the top-listed School/college in Agra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Masjid Noor Ki Baghichi, New Agra
Agra
282005