19/06/2026
مدینہ منورہ: کائنات کا وہ واحد خطہ جہاں خاک بننے کی تڑپ ہر دل میں ہے!
مدینہ منورہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ دِلوں کا سکون اور کائنات کا وہ واحد خطہ ہے جس کی خاک میں پنہاں ہونے کی تڑپ ہر مسلمان کے دل میں دھڑکتی ہے۔ یہ وہ پاکیزہ مٹی ہے جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آرام فرما ہیں اور اسی شہرِ جاناں کا تاریخی قبرستان "جنت البقیع" ہے، جہاں ہزاروں صحابہ کرام، اہل بیت اور صالحین ابدی نیند سو رہے ہیں۔
سفرِآخرت کے لیے اس دِیارِ مقدس کا انتخاب دراصل تاجدارِ مدینہ ﷺ کی شفاعت اور ان کے پڑوس میں اٹھنے کی وہ لازوال خواہش ہے، جس کے سامنے دنیا کی تمام تر رعنائیاں ہیچ معلوم ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہر عاشقِ رسول کی راتوں کی دعاؤں کا حاصل اور زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہی ہوتی ہے یا رب! مدینے میں جینا، مدینے میں مرنا... جنت البقیع کی آغوش نصیب فرمانا۔ آمین"
18/06/2026
"اگر ایک آواز دی تو پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف امڈ آئے گا!" مولانا فضل الرحمان کی حکمرانوں کو آخری وارننگ! 🔥
حکمران حکومت چلانے کے اہل نہیں، اب انگلی ٹیڑھی کر کے گھی نکالنا پڑے گا: مولانا فضل الرحمان ⚡
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمران حکومت چلانے کے اہل نہیں اور ہر پاکستانی کو امن کی تلاش ہے، معقول سیاست کریں، اگر ہم نے ایک آواز دی تو پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف امڈ آئے گا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چارسدہ میں شہید اسلام کانفرنس سے خطاب کے دوران اسلام آباد جانے کی دھمکی دیتے ہوئے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ وہ معقول سیاست کریں، ہمیں مجبور نہ کریں، اگر ہم نے ایک آواز دی تو پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف امڈ آئے گا، گھی آرام سے ڈبے سے باہر آئے تو ٹھیک ورنہ پھر انگلی ٹیڑھی کرکے نکالنا پڑے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مولانا شیخ ادریس کی شہادت ایک خاندان کی شہادت نہیں بلکہ پوری امت کا نقصان ہے، مولانا شیخ ادریس کی روح زند ہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سرزمین پر اسلام کا انقلاب برپا کرکے دکھائیں گے، شیخ ادریس کی شہادت سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، دشمن سن لے! تم ہمارا کتنا خون بہاؤگے لیکن ہم جھکنے اور ڈرنے والے نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری پشت پر 200 سال کی طویل تاریخ ہے، جب تک برصغیر کی قیادت علما کے ہاتھ میں تھی ہر طرف امن تھا مگر علما سے قیادت چھین کر ہر طرف فساد برپا کیا گیا۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ یہ حکمران حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں، آج ہر پاکستانی کو امن کی تلاش ہے، لسانیت اور قومیت کے نام پر نفرتیں پھیلائی گئیں لیکن ہم نے نفرتوں کے نظریات اور نعروں کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور پختونخوا میں انسانی خون ارزاں ہو گیا ہے، نام اسلام کا لیا جاتا ہے اور خون مسلمانوں کا بہاتے ہیں، دہشت گردی دیگر اسلامی ممالک میں کیوں نہیں، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کیوں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عالمی استعماری قوتیں اپنے مفادات کے لیے دہشت گردی کر رہی ہیں
Disclaimer:
This report is based on official statements and publicly available Media reports. Picture generated by AI for reference.
18/06/2026
ہم خود کو کسی معاہدے کا پابند نہیں سمجھتے! اسرائیلی وزیراعظم کی لبنان میں سکیورٹی زون برقرار رکھنے کی دھمکی
امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا لیکن اسرائیل کی جدوجہد باقی ہے؛ نیتن یاہو
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے ہوجانے کے باوجود لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے صاف انکار کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ معاہدے اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے واپس نہیں ہٹے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا جنوبی لبنان میں قائم سکیورٹی زون برقرار رکھا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ شمالی اسرائیل کے شہروں میں امن اور خوشحالی کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی ناگزیر ہے۔
انہوں نے زور دیکر کہا کہ ہم شمالی شہروں میں سیکیورٹی اور خوشحالی بحال کریں گے اس کے لیے جنوبی لبنان میں سیکیورٹی زون برقرار رکھنا ضروری ہے اور جب تک اسرائیل کی سلامتی کا تقاضا ہوگا ہم وہاں سے نہیں جائیں گے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو ضرورت سے زیادہ جارحانہ قرار دیا تھا اور یہ محاذ شامی صدر احمد الشرح کے حوالے کرنے کی تجویز دی تھی۔
دریں اثنا ایران نے بھی امریکا کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی معاہدے میں جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا کو ایک بنیادی شرط قرار دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ روز دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی لبنان سمیت تمام جنگی محاذ بند کرنے کی شق شامل ہے تاہم اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ خود کو اس کی شرائط کا پابند نہیں سمجھتا۔
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی تعیناتی برقرار رکھنے کے معاملے پر امریکا کے ساتھ سخت اور مسلسل مذاکرات کر رہا ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے سکیورٹی زون کا نیا نقشہ بھی جاری کیا ہے کہ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ مرحلے پر اسرائیلی افواج اس علاقے سے انخلا نہیں کریں گی۔
اسرائیلی مؤقف کے برعکس ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی اسی صورت ممکن ہوگی جب اسرائیلی فوج مکمل طور پر جنوبی لبنان سے واپس چلی جائے، جس کے باعث امریکا۔ایران معاہدے کے باوجود اس معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ آج بھی لبنان میں حزب اللہ کے زیرزمین بچھائے گئے بارودی سرنگ دھماکے میں اسرائیلی فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے اور اسرائیل نے بھی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
Disclaimer:
This report is based on official statements and publicly available Media reports. Picture generated by AI for reference.
18/06/2026
⚡ 'دشمن کو گھٹنوں پر لائیں گے'.. امن معاہدے کے بعد خامنہ ای کا تاریخی ٹویٹ ایک بار پھر وائرل!
18/06/2026
🚨 بڑی خبر: پاکستان کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے 70 کروڑ ڈالر کے بھاری قرض کی منظوری! 🇵🇰💰
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں انشورنس شعبے کی اصلاحات اور مالی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 70 کروڑ ڈالر کے پالیسی بیسڈ قرضے کی منظوری دے دی ہے۔
پروگرام کا مقصد انشورنس کوریج میں اضافہ، مالیاتی تحفظ کے خلا کو کم کرنا، نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینا اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اے ڈی بی کی جانب سے منظور کردہ انشورنس ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت پاکستان کے انشورنس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ گھریلو صارفین، کاروباری اداروں، کسانوں اور سرکاری مالیات کو موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور دیگر معاشی و سماجی خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
توقع ہے کہ ان اصلاحات سے مالیاتی کمزوریوں میں کمی آئے گی، بحرانوں اور آفات کے بعد بحالی کا عمل تیز ہوگا اور قومی خزانے پر پڑنے والا مالی دباؤ بھی کم ہوگا۔
پاکستان میں اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا کہ یہ پروگرام انشورنس سیکٹر کو روایتی ضابطہ جاتی نظام سے نکال کر جدید، رسک بیسڈ اور مارکیٹ پر مبنی فریم ورک کی جانب منتقل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق مجوزہ اصلاحات ترقیاتی منصوبوں کے لیے طویل المدتی سرمایہ کاری کو متحرک کریں گی، گھریلو اور کاروباری شعبوں کے مالی تحفظ کو وسعت دیں گی اور انشورنس مارکیٹ کو مزید مسابقتی، جامع اور مضبوط بنائیں گی۔
اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کا مالیاتی نظام اب بھی بڑی حد تک بینکنگ سیکٹر پر انحصار کرتا ہے جبکہ انشورنس کا حجم مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے صرف 0.7 فیصد کے برابر ہے اسی وجہ سے بڑی تعداد میں خاندان، کاروباری ادارے اور کسان ماحولیاتی، صحت اور معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں مالی طور پر غیر محفوظ ہیں۔
پروگرام کے تحت خصوصی طور پر کسانوں، خواتین اور کمزور طبقوں کے لیے جامع اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے قابل انشورنس مصنوعات متعارف کرائی جائیں گی۔ خواتین اور بچیوں کی ضروریات کے مطابق انشورنس سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی مصنوعات، ڈیجیٹل رسائی اور صنفی بنیادوں پر مرتب کردہ ڈیٹا کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا تاکہ مالی تحفظ کے مواقع مزید وسیع ہو سکیں۔
اس پروگرام کے ذریعے ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن سسٹمز، سیٹلائٹ کی مدد سے رسک اسیسمنٹ، پیرا میٹرک انشورنس اور رسک پولنگ جیسے جدید طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان اقدامات سے انشورنس دعوؤں کی ادائیگی کے عمل کو بہتر بنانے اور شہریوں کی انشورنس خدمات تک رسائی آسان بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ پروگرام پاکستان میں سرمایہ کاری کی منڈیوں اور نجی پنشن مصنوعات کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ طویل المدتی بچتوں کو متحرک کر کے انفرا اسٹرکچر منصوبوں کی مالی معاونت، بانڈ مارکیٹ کی ترقی اور سالانہ پنشن نظام کو فروغ دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
Disclaimer:
This report is based on official statements and publicly available Media reports. Picture generated by AI for reference.
18/06/2026
✈️ پاکستان اور چین اب مزید قریب! پی آئی اے کی نئی اور شاندار پیشکش! 🇵🇰🤝🇨🇳
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) نے ائیر چائنا اور شینزن ایئر لائنز کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری قائم کر کے پاکستان اور چین کے درمیان فضائی رابطوں کو ایک نئے مرحلے پر پہنچا دیا ہے، جس کے تحت اب چین کے 25 مختلف شہروں سے مسافر ایک ہی ٹکٹ پر بیجنگ کے راستے پی آئی اے کی بیجنگ تا اسلام آباد ڈائریکٹ پروازوں سے منسلک ہو سکیں گے۔
اس نئے سفری انتظام کے تحت ائیر چائنا چین کے 16 اہم شہروں (بشمول شنگھائی، گوانگ زو، ووہان اور چینگڈو) اور شینزن ایئر لائنز 9 اضافی شہروں (بشمول ناننگ اور ووشی) سے مسافروں کو بیجنگ ٹرانزٹ حب تک سفری سہولت فراہم کریں گی، جہاں سے وہ باآسانی پاکستان پہنچ سکیں گے۔
پی آئی اے نے اس نیٹ ورک کے لیے خصوصی اور انتہائی مسابقتی کرائے بھی متعارف کروائے ہیں، جو نہ صرف سفری اخراجات کو نمایاں حد تک کم کریں گے بلکہ چین میں مقیم پاکستانی طلبہ، تاجروں، سیاحوں اور خاندانوں کے لیے وقت کی بچت اور بے پناہ سہولت کا باعث بنیں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، تعلیمی تبادلوں اور اقتصادی روابط کو مزید تقویت ملے گی۔
Disclaimer:
This report is based on official statements and publicly available Media reports. Picture generated by AI for reference.
17/06/2026
کیا امریکہ ایران کے اربوں ڈالرز واپس کرنے جا رہا ہے؟ امریکی صدر کے بیان نے سب کو حیران کر دیا! 🤔👇
ایران کے منجمد اربوں ڈالرز واپس کرنے پر آمادہ ہیں؛ ٹرمپ نے گھٹنے ٹیک دیے
منجمد رقم ایران کی ہے اس سے امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے بارے واضح پیغام دیا ہے جو کہ پالیسی بیان ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منجمد اثاثے ایران کی اپنی رقم ہے جس سے امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کی بہت سی رقم منجمد کر رکھی ہے وہ ہمارا پیسہ نہیں بلکہ ایران کا اپنا پیسہ ہے جسے ایک خاص وقت پر منجمد کیا گیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں وہ رقم واپس کرنی پڑے گی۔
انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر طے پانے والے معاہدے پر درست طریقے سے عمل درآمد ہوتا ہے تو ایران کے منجمد اثاثے واپس کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور مزید کہا کہ امریکی حکومت یا ٹیکس دہندگان کا ایک ڈالر بھی ایران کو نہیں دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ہم ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہے۔ اگر وہ معاہدے پر صحیح طریقے سے عمل کرے تو دوسرے ممالک یا سرمایہ کار وہاں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں لیکن امریکا اپنی طرف سے کوئی پیسہ فراہم نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں اور امریکی مالی امداد میں واضح فرق ہے اور امریکا ایران کی تعمیر نو کے لیے کسی مالی فنڈ میں حصہ نہیں ڈالے گا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران معاہدے کی تمام شرائط، خصوصاً اپنے جوہری پروگرام سے متعلق وعدوں پر مکمل عمل کرے تو اس پر عائد امریکی پابندیوں میں بھی مرحلہ وار نرمی کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پابندیوں کے باعث ایران اپنی معیشت بحال نہیں کر سکتا اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ مالی مشکلات اور غربت کا شکار رہے گا، تاہم معاہدے کی پاسداری کی صورت میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے
Disclaimer:
This report is based on official statements and publicly available Media reports. Picture generated by AI for reference.
17/06/2026
شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد کل صبح سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگا
اس اہم دورے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا اور اہم عالمی رہنماؤں و کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرنا ہے۔ وفد ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بات چیت کرے گا۔
Disclaimer:
This report is based on official statements and publicly available Media reports. Picture generated by AI for reference.