The Reconstruction of Religious Thought in Islam

The Reconstruction of Religious Thought in Islam

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Reconstruction of Religious Thought in Islam, Educational Research Center, Oxford, Oxford.

21/04/2024

https://www.facebook.com/share/p/FJ295vGEN3q1xdKU/

A Palestine Quiz Night is coming up on Thursday, May 2nd to raise awareness for Palestine!

It'll be held after the Vigil at , which is a Halal restaurant that does not serve alcohol.
- 7:30pm: Peace Vigil
- 8:15pm: Palestine Quiz

Join us for an evening for a good cause! To help the restaurant prepare, please tell Chris you're coming by texting 07595221123.

There's no entry fee on the day, but donations of £5 are suggested. You can donate directly via bank transfer to 'Medical Aid for Palestinians' or another charity you choose.

Photos from The Reconstruction of Religious Thought in Islam's post 10/11/2020

Iqbal's thoughts continue to inspire & guide.
"He is a great mystic, with a pure spirit, delivered of materiality and, at the same time, a man who respects and honors science, technological progress, and the advancement of human reason in our age."
https://t.co/QGx0Gyvrp3

29/10/2020

علامہ اقبال
“بانگ درا” سے

*عقل و دل*

دل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہے
پر مجھے بھی تو دیکھ ، کیا ہوں میں

راز ہستی کو تو سمجھتی ہے
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں

ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں میں

علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو ، خدا نما ہوں میں

علم کی انتہا ہے بے تابی
اس مرض کی مگر دوا ہوں میں

شمع تو محفل صداقت کی
حسن کی بزم کا دیا ہوں میں

تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائر سدرہ آشنا ہوں میں

کس بلندی پہ ہے مقام مرا
عرش رب جلیل کا ہوں میں!

27/10/2020

shara-e-mohabbat mein hai ishrat-e-manzil haraam

shorish-e-toofan halal, lazzat-e-sahil haraam

*Translation*
The luxury of destination is forbidden in the *religion of Love*

Fighting the *storm* is permitted but the *comfort* of the *shores* is forbidden 🚫

13/07/2020

علامہ اقبال
“ضرب کلیم” سے

*مدرسہ*

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا ، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش

دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے، کھو دیتی ہے جب ذوق خراش

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

فیض فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ خفاش

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوت کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

13/07/2020

علامہ اقبال
“ضرب کلیم” سے

مقصد ہو اگر تربیت لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پر تو

دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ، کیا مدرسے والوں کی تگ و دو!

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

13/07/2020

علامہ اقبال
“ضرب کلیم” سے

ملے گا منزل مقصود کا اسی کو سراغ
اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ

میسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
نہیں ہے بندۂ حر کے لیے جہاں میں فراغ

فروغ مغربیاں خیرہ کر رہا ہے تجھے
تری نظر کا نگہباں ہو صاحب 'مازاغ'

وہ بزم عیش ہے مہمان یک نفس دو نفس
چمک رہے ہیں مثال ستارہ جس کے ایاغ

کیا ہے تجھ کو کتابوں نے کور ذوق اتنا
صبا سے بھی نہ ملا تجھ کو بوئے گل کا سراغ

13/07/2020

علامہ اقبال
“ضرب کلیم” سے

جس گھر کا مگر چراغ ہے تو
ہے اس کا مذاق عارفانہ

جوہر میں ہو 'لاالہ' تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ

شاخ گل پر چہک و لیکن
کر اپنی خودی میں آشیانہ!

وہ بحر ہے آدمی کہ جس کا
ہر قطرہ ہے بحر بیکرانہ

دہقان اگر نہ ہو تن آساں
ہر دانہ ہے صد ہزار دانہ

''غافل منشیں نہ وقت بازی ست
وقت ہنر است و کارسازی ست''

13/07/2020

علامہ اقبال
“ضرب کلیم” سے

*عورت کی حفاظت*

اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد

نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہباں ہے فقط مرد

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

13/07/2020

علامہ اقبال
“ضرب کلیم” سے

*جلال و جمال*

مرے لیے ہے فقط زور حیدری کافی
ترے نصیب فلاطوں کی تیزی ادراک

مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی
کہ سر بسجدہ ہیں قوت کے سامنے افلاک

نہ ہو جلال تو حسن و جمال بے تاثیر
نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک

مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ
کہ جس کا شعلہ نہ ہو تند و سرکش و بے باک!

13/07/2020

علامہ اقبال
“ضرب کلیم” سے

*مصور*

کس درجہ یہاں عام ہوئی مرگ تخیل
ہندی بھی فرنگی کا مقلد ، عجمی بھی !

مجھ کو تو یہی غم ہے کہ اس دور کے بہزاد
کھو بیٹھے ہیں مشرق کا سرور ازلی بھی

معلوم ہیں اے مرد ہنر تیرے کمالات
صنعت تجھے آتی ہے پرانی بھی ، نئی بھی

فطرت کو دکھایا بھی ہے ، دیکھا بھی ہے تو نے
آئینۂ فطرت میں دکھا اپنی خودی بھی!

Want your school to be the top-listed School/college in Oxford?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Oxford
Oxford
OX13