عاشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم

عاشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم عاشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم

23/02/2024

قاضی صاحب سیاسی طور پر بیشک یہ قوم الگ الگ ہو سکتی ہے مگر ختم نبوت کے معاملے میں کل بھی ایک تھی آج بھی ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گی
تاجدار ختم نبوت زندہ باد

23/02/2024

میری پروفائل میں کوئی بھی قادیانی یا قادیانی نواز ہے تو میری پروفائل سے دفع ہو جائے سیاست اپنی جگہ مگر میرے نبی کا دین میرے لیے سب سے افضل ہے

قادیانیت  مردہ  باد
22/02/2024

قادیانیت مردہ باد

22/02/2024

ننگی لیک والے تو قادیانی نکلے تمہارا قاضی تو قادیانی نکلا
اس نے نا وکیلوں کو بولنے دیا نہ کسی کی سنی اور فیصلہ دے دیا
مبارک ہو ننگی لیک
اور چوپو فائز عیسیٰ کو

30/10/2023

‏شام میں چار ہزار انبیاء اور کئی ہزار اولیا کے مزارات ہیں
صرف دمشق شہر میں پانچ سو کے قریب مزارات ہیں جن میں ابن عربی جیسے بڑے بزرگ کا مزار بھی ہے
داعش نے پورے شام کو تباہ و برباد کر دیا مگر کسی نبی کسی ولی کی روح نے مسلمانوں کی اعانت نہیں کی ؟
یہاں تک کہ بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے روضے کو راکٹ حملوں سے گرا دیا گیا، مگر کہیں کوئی جنبش نہیں ہوئی
داعش دس سال تک تباہی و بربادی کی نئی تاریخ لکھنے کے بعد اپنی طبعی موت مر گئی
عراق چلیں :
یہاں بھی ہزاروں انبیا ، اہل بیت اور اولیا کے مزارات ہیں
بغداد ، موصل ، بصرہ ، کربلا ، نجف اشرف سب عراق میں ہیں
پہلے امریکہ نے سات سال تک دن رات بمباری کی
اور پھر داعش نے اینٹ سے اینٹ بجا دی
کسی نبی ، ولی یہاں تک کہ مولا علی علیہ السلام نے بھی کوئی مدد نہیں کی
اور سب کچھ برباد ہو گیا
اب فلسطین چلتے ہیں :
پورے فلسطین میں تین سو انبیاء کرام کے مزارات ہیں
جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے عظیم الشان پیغمبر بھی شامل ہیں
مگر پچھلے ستر سالوں سے بیت المقدس کو آگ اور خون سے نہلایا جا رہا ہے
اور جن انبیا کرام کے تبرکات (تابوت سکینہ)کی برکت سے فتح ملا کرتی تھی
ان انبیا کرام کے اپنے وجود موجود ہیں
اور برکت کا نام و نشان تک نہیں ہے ؟
چند شرپسند یہودی غالب ہیں
آئیے تھوڑا پیچھے تاریخ میں چلتے ہیں
تاکہ ہم بات کو واضح طور پر سمجھ سکیں :
مکہ میں بیت اللہ پہ ابراہہ نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا
اللہ نے اس کے لشکر کو ابابیلوں سے کنکر مروا کر نیست و نابود کر دیا
پھر وقت آیا
کہ اسی کعبہ پر حجاج بن یوسف نے پتھر برسائے
اسے اور اس کی فوج کو کچھ نہ ہوا
یزید بن معاویہ نے کعبہ کو آگ لگوا دی
مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے اور مدنی عورتوں کے ریپ کئے
اللہ کا کوئی عذاب نہ آیا
وہ مکہ اور مدینہ سے زندہ سلامت نکل گیا ، پھر 1926 میں چلیں
آل سعود نے محمد بن عبد الوہاب کے وہابی نظریات سے متاثر ہو کر جنت البقیع میں موجود بی بی فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا ، امام حسن علیہ السلام ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی اہل بیت و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مزارات مسمار کر دئیے
آسمان سے کوئی آفت نہیں اتری
وہابی روضہ رسول ﷺ کو "صنم اکبر " کہہ کر توڑنا چاہتے تھے مگر پھر امت مسلمہ کے احتجاج کی وجہ سے ڈر گئے
اور باز آ گئے
مگر انہوں نے منصوبہ آج تک ختم نہیں کیا، اور یہ دیکھیں کہ پچھلے سو سال سے وہ آل سعود حرمین شریفین کے خادم بنے بیٹھے ہیں
جو صحرائی ڈاکو ہوا کرتے تھے
اور ان کو حکومت میں لانے کا سہرا لارنس آف عربیہ کے سر جاتا ہے
ماضی اور حال کا تقابل کریں تو آپ جان پائیں گے کہ اللہ نے مسلمانوں کی صرف وہاں مدد کی
جہاں وہ کم تعداد کے باجود اس پر بھروسہ کر کے میدان عمل میں نکل آئے
بدر میں تین سو تیرہ تھے
مگر ثابت قدم رہے تو ایک ہزار پر فتح دلا دی ، حنین میں کثرت تعداد پر فخر کیا تو رگڑا لگا دیا
قادسیہ میں پھر توکل کے معیار پر پورا اترے تو رومی لشکر تین گنا زیادہ ہونے کے باوجود خاک میں مل گیا
جہاں کہیں مسلمان حق کیلئے کھڑے ہوئے ،اللہ کی مدد ضرور آئی
اور جہاں کہیں مسلمانوں نے عمل سے منہ موڑا
وہاں جوتے پڑے
اور اللہ نے کوئی مدد نہیں کی
یاد رکھیں اس وقت جتنے بھی عرب اسلامی ممالک ہیں
یہ سب مسلمانوں نے باقاعدہ فتح کیے ہیں ، جب فتح کیے
تب اللہ کیلئے جہاد کر رہے تھے
آج اپنے ہی ملکوں کو نہیں بچا پا رہے
مطلب ترجیحات درست نہیں ہیں
اللہ رب العالمین ہے
وہ رب المسلمین نہیں ہے
جو اس کے ضابطوں پر پورا اترے گا
اسے وہ بادشاہی اور طاقت عطا کرے گا
اللہ کے ہاں کوئی تفریق نہیں
جو محنت کرے گا
وہ پا لے گا
آج سارے عرب متحد ہو جائیں
اسرائیل کا نام و نشان مٹ جائے گا
پاکستانی عوام بزدلی چھوڑ دے
سب ظالموں سے نجات پا لے گی
مگر منافقت ، بزدلی اور بے غیرتی کو اللہ پسند نہیں کرتا
لہذا آپ مرتے رہیں
برباد ہوتے رہیں
اللہ کی مدد نہیں آئے گی
اللہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں
انبیا کرام ، اہل بیت ، اولیا کرام کی ارواح اور فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں
کہ اللہ جن سے راضی ہوتا ہے
اللہ کے سوا درحقیقت کوئی طاقت نہیں ہے، کیسے ممکن ہے کہ کوئی ولی یا فرشتہ اللہ کی مشیت کے خلاف جا کر کسی کی استعانت کرے ؟
اللہ کے معیار پر پورا اترو
پھر وہ جسے چاہے تمہاری مدد کیلئے
بھیج دے
تب تک تم کعبے کی دیواروں سے ٹکریں مار مار کر مر جاؤ
وہ بے نیاز ہے
حجاج بن یوسف نے کئی صحابہ کو بیت اللہ کے اندر قتل کیا
اللہ نے نہیں بچایا
اللہ کے نظام پہ غور و فکر کرو
خود کو بدلو
اللہ تو تمہاری مدد کو ہر لمحہ تیار بیٹھا ہے، بقول اقبال:
ہم تو مائل بہ کرم ہیں
کوئی سائل ہی نہیں

‏مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہےیہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ  مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا سک...
28/07/2023

‏مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہے
یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا سکتا ہے مگر آج سے1381 سال پہلے یہ فاصلہ ایک مُشکل اور تکلیف دہ راستہ تھا، جس پر امام حُسین علیہ السلام نے اپنا سفر 8 ذلحج 60 حجری یعنی 10 ستمبر 680 عیسوی کو ‏اپنے اہل خانہ کیساتھ شروع کیا۔

سفر شروع کرنے کے بعد تاریخ کی کتابوں میں 14 مختلف مقامات کا ذکر ملتا ہے، جہاں امام نے یا پڑاؤ کیا یا مختلف لوگوں سے ملے اور یا لوگوں سے خطاب کیا
اس آرٹیکل میں ان 14 مقامات کا سرسری ذکر کیا جائے گا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں سفر اور راستے کی ‏تھوڑی آگاہی ہوسکے۔

نمبر 1: الصفا
یہ پہلا مقام تھا امام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے ، شاعر بولا ” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”
شاعر نے امام کو کوفہ جانے سے روکا، مگر امام اپنا سفر شروع ‏کر چُکے تھے۔

نمبر 2: ذات عرق
مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے تقریباً 92 کلومیٹر پر ہے، اس مقام پر امام اپنے کزن عبداللہ ابن جعفر سے ملے اور اس مقام پر عبداللہ ابن جعفر نے اپنے دونوں بیٹوں عون اور مُحمد کو امام کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی امام کو کوفہ ‏جانے سے روکا، جس پر امام نے جواب دیا:
”میری منزل اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔

نمبر 3: بطن الروما۔
یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلومیٹر آگے ہے یہاں امام نے قیس بن مشیر کے ہاتھ کوفہ والوں کو خط لکھا اور یہاں امام کی مُلاقات عبداللہ بن مطیع سے ہُوئی جو عراق سے آرہا تھا۔ عبداللہ نے امام کو ‏آگے جانے سے روکا اور بولا ” کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں" مگر امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 4: زرود۔۔
حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا ٹاون تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔
‏یہاں امام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُسے جب پتہ چلا کہ امام کس مقصد کے لیے جارہے ہیں تو اُس نے اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اُسے کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام کے ساتھ قتل ہو جاؤں۔

نمبر 5: زبالہ
اس مقام پر امام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ‏ہُوئی جن کا تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی
امام نے فرمایا "بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور بیشک وہ ہماری قُربانیوں کا حساب رکھنے والا ہے”
اس مُقام پر امام نے اپنے ساتھ ‏چلنے والوں کو بتایا کے جناب مُسلم اور جناب ہانی کو شہید کر دیا گیا ہےاور کوفہ والے ہماری نُصرت نہیں کریں گے، امام نے اس مقام پر فرمایا جو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے واپس چلا جائے۔

بہت سے قبائل جو راستے میں امام کے ساتھ اس اُمید پر چل پڑے تھے کہ اُنہیں مال و دولت ملے گی اس مقام پر ‏ادھر اُدھر بکھر گئے اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور امام کے ساتھ اُن کے اہل خانہ سمیت تقریباً پچاس لوگ رہ گئے۔

نمبر 6: بطن العقیق
اس مُقام پر امام اکرمہ قبیلے کے ایک آدمی سے ملے جس نے امام کو آگاہ کیا کہ "کوفہ میں آپ کا کوئی دوست نہیں، کوفہ کو یزید کے لشکر نے گھیرے میں ‏لے لیا ہے اور اُس کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دئیے ہیں اور کوفہ تشریف نہ لے جائیں” ۔ یہاں بھی امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 7: Sorat
اس مُقام پر امام نے رات بسر کی اور صبح اپنے قافلے سے کہا کہ جتنا پانی ہوسکتا ہے ساتھ لے لیں۔

نمبر 8: شرف
اس مُقام پر امام کے ساتھیوں ‏میں سے ایک چلایا کے اُس نے ایک لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا ہے، امام فوراً قافلے کا رُخ موڑ کر قریب ایک پہاڑ کے پیچھے لے گئے۔

نمبر 9: ذو حسم۔۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات حُر اور اُس کے ایک ہزار سپاہیوں ہُوئی جو پیاسے تھے، امام نے سب کو پانی پلانے کا حُکم دیا اور بذات خُود بھی ‏سب کو پانی پلایا اور جانوروں کو بھی پانی پلایا گیا، اس مُقام پر ظہر کی نماز ادا کی گئی اور سب نے ملکر امام کی امامت میں نماز ظہر ادا کی۔

اس مُقام پر امام نے حُراور اُس کی فوج سےخطاب کیا اور فرمایا ، مفہوم” او اہل کوفہ تُم لوگوں نے میرے پاس اپنے قاصد بھیجے اور مُجھے خطوط لکھے ‏کہ تُم لوگوں کے پاس کوئی امام نہیں اور میں کوفہ آؤں اور تم لوگوں کو اللہ کے راستے میں اکھٹا کرؤں اور تم لوگ میری بیعت کر سکو، تم لوگوں نے لکھا کے آپ اہل بیعت ہیں اور ہمارے معاملات کو اُن لوگوں کی نسبت جو ناانصافی کرتے ہیں اور غلط ہیں، بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، مگر اگر تُم ‏لوگوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور مُنکر ہوگئے ہو اور اہل بیعت کے حقوق نہیں جانتے اور اپنے وعدوں سے پھر گئے ہوتو میں واپس چلا جاتا ہُوں”۔
حُر کے لشکر نے امام کو واپس نہیں جانے دیا اور اُنہیں گھیر کر کوفہ کی بجائے کربلا کی طرف لے گئے۔

نمبر 10: بیضہ
امام اگلے دن بیضہ پہنچے ‏اور اس مقام پر پھر حُر کے لشکر سے خطاب کیا آپ نے فرمایا، مفہوم "لوگو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اللہ کے حرام قرار دئیے کو حلال کہے ، خُدائی عہدوپیمان کو توڑے ، سنت رسول کی مخالفت کرے اور اللہ کے بندوں پر گُناہ اور زیادتی کیساتھ حکومت ‏کرتا ہو، تو وہ شخص اپنی زبان اپنے فعل اور اپنے ہاتھ سے اُس بادشاہ کو نہ بدلے تو اللہ کو حق پہنچتا ہے کے ایسے شخص کو اُس بادشاہ کی جگہ جہنم میں داخل کرے”
امام نے اس مُقام پر مزید فرمایا ، مفہوم” لوگو تمہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیارکی اور اللہ سے مُنہ پھیرا ‏مُلک میں فساد برپا کیا، حدود شرح کو معطل کیا اور مال غنیمت کو اپنے لیے مختص کر دیا، ایسی صورت میں مُجھ سے زیادہ کس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے، میرے پاس تمہارےقاصد آئے اور خطوط پہنچے کے تُم نے بیعت کرنی ہے اور تُم میرے مدد گار بنو گے اور مُجھے تنہا نہ چھوڑو گے، ‏پس اگر تُم اپنا وعدہ پُورا کرو گے تو سیدھے راستے پر پہنچو گے”

امام نے یہاں لوگوں کو اپنے حسب اور نسب کا حوالہ دیا اور فرمایا، مفہوم "اگر تُم اپنے وعدے سے پھر جاؤ گے تو تعجب نہیں، تُم اس سے پہلے میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی مُسلم کیساتھ ایسا ہی کر چُکے ہو اور عنقریب اللہ ‏مُجھے تمہاری مدد سے بے نیاز کر دے گا”۔

امام کی تقریر سُن کر حُر نے امام سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپکو قتل کر دیا جائے گا، امام نے فرمایا "تُم مُجھے موت سے ڈراتے ہو اور کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچے گی کہ مُجھے قتل کر دو گے”

حُر کے لشکر پر کوئی اثر نہ ہُوا اور وہ امام ‏کو کربلا کی طرف گھیر کر لیجاتے رہے۔

نمبر 11: عزیب الحجنات۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات طرماح بن عدی سے ہُوئی جس نے امام کو کوفے والوں کے خطرناک ارادے سے آگاہ کیا، جسے امام پہلے ہی جانتے تھے اور امام سے اپنے ساتھ کوہ آجاہ چلنے کی درخواست کی تاکہ امام وہاں پناہ لے سکیں۔‏امام نے فرمایا، مفہوم "اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے، ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہو چُکا ہے اور اب ہم اس عہد سے پھر نہیں سکتے”۔

نمبر 12: قصر بنی مقاتل۔۔
فیصلہ ہوچُکا تھا کہ امام کو کوفہ نہیں جانے دیا جائے گا چنانچہ حُر کے لشکر نے کوفہ کا راستہ بدل کر امام ‏کوگھیر کر کربلا کی طرف لیجانا شروع کیا اور امام راستے میں قصر بنی مقاتل رُکے اور شام کے وقت میں امام نے فرمایا ” بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں”۔

امام کے 18 سالہ بیٹے علی اکبر امام کے قریب آئے تو امام نے فرمایا کہ اُنہوں نے خواب میں کسی کو ‏کہتے سُنا ہے کہ یہ لوگ اُنہیں قتل کرنے والے ہیں۔ جس پر جناب علی اکبر نے امام کو تسلی دی اور فرمایا، مفہوم ” کیاہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں”۔

نمبر 13: نینوا۔۔
اس مُقام پر حُر کو ابن زیاد کا خط ملا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ امام جہاں ہیں اُنہیں وہیں روک لواور اُنہیں ایسی جگہ ‏اُترنے پر مجبور کردو جہاں پانی اور ہریالی نہ ہو۔
حُر نے امام کو ابن زیاد کے خط سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا ہم اپنی مرضی سے نینوا میں خیمہ زن ہوں گے۔ جس پر حُر نے کہا کہ ابن زیاد کے جاسوس ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں لہذا میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دے سکتا، پھر امام کا قافلہ ایک ‏مقام پر پہنچا تو امام نے پُوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کسی نے جواب دیا کربلا۔ امام نے فرمایا یہ کرب و بلا کی جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قتل کیا جائے گا۔

نمبر 14: کربلا
امام کے حکم پر کربلا کے میدان میں خیمے گاڑ دئیے گئے ۔ دریائے فرات خیموں سے کُچھ میل کے فاصلے پر تھا اور ‏یہ 2 محرم 61 ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر 3 اکتوبر 680 کی تاریخ تھی۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں کربلا کے حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے جارہے ۔
اس آرٹیکل کا مقصد امام کے مکہ سے کربلا تک کے سفر میں آنے والی منازل اور چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرنا تھا تاکہ ‏یہ 2 محرم 61 ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر 3 اکتوبر 680 کی تاریخ تھی۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں کربلا کے حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے جارہے ۔
اس آرٹیکل کا مقصد امام کے مکہ سے کربلا تک کے سفر میں آنے والی منازل اور چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرنا تھا تاکہ
جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں 1731 کلومیٹر کے امام کے اس سفر کی تھوڑی آگاہی ہو

06/07/2023

*جسکی کوئی گارنٹی نہیں اسکا نام "زندگی" ہے*
*اور جسکی فل گارنٹی ہے اس کا نام "موت" ہے زندگی ایک کتاب ہے*
*پہلا صفحہ''پیدائش''*
*آخری صفحہ''موت''*
*درمیانی صفحات خالی ہیں*
*اس میں جو پسند ہو لکھیں*
*بس ایسا کچھ لکھیں*
*کہ"الله"کو دکھاتے ہوئے*
*شرمندگى محسوس نہ ہو*

تیری آزمائشوں سے ہوں بے خَبر ،                     یہ میری آنکھوں ، کا قَصؔور ہے .تیری رَاہ میں ---------- قَدم قَدم ،  ...
05/07/2023

تیری آزمائشوں سے ہوں بے خَبر ،
یہ میری آنکھوں ، کا قَصؔور ہے .
تیری رَاہ میں ---------- قَدم قَدم ،
کَہیں عَرش ----- کَہیں طُور ہے .
یہ بَجا ہے تُو ---- مالکِ دو جَہاں ،
میری بَندگی ----- میں فَتور ہے .
یہ بَتا میں تُجھ سے مِلوں کَہاں ،
مُجھے تُجھ سے مِلنا ضَرور ہے .
کَہیں دِل کی ---- شَرط نہ ڈالنا ،
اَبھی دِل ، گُناہوں سے چور ہے .
تو بَخش دے ، میرے سَب گُناہ ،
تو رَحیم ہے ------ تُو غفور ہے .

05/07/2023

ہر شخص حافظ قرآن تو نہیں بن سکتا
لیکن۔۔!!
محافظ قرآن تو بن سکتا ہے
قرآن پاک ہماری زندگی کا اثاثہ ہے

05/07/2023

تِری ذات مصدرِ ہر ضیا،تِرا نام مطلعِ نور ہے
تِرا درد حاصلِ بندگی،تِرا غم متاعِ سَرُور ہے۔۔۔!!!

یہ یقیں فروزِقیاس ہے،تو ہر اِک مقام سے پاس ہے
نظر آ رہے ہیں جو فاصلے،یہ مِری نظر کا قصور ہے۔۔۔!!!

جو جہاں نُما،جو خدا نُما،وہ جمال اُن کا جمال ہے
جو کٹے خیالِ حضور میں،وہ حیات نور ہی نور ہے۔۔۔!!!

مِرا ذکروفکر مِرا سُخن، مِرا سوزوساز، یہ مِرا فن
تِری نعت بن کے سنور گئے،یہ تِرے کرم کا ظہور ہے۔۔۔!!!

تِرے راستے میں جو آ گیا،وہ مرادِ زیست کو پا گیا
اسے زندگی کے علوم پر،تِرے فیض ہی سے عبور ہے۔۔۔!!!

مِرےپاس کچھ بھی نہیں تو کیا،مِرےلاج والےکی خیرہو
مجھے ناز اُن کے کرم پہ ہے، مجھے مصطفیٰ پہ غرور ہے۔۔۔!!!

جو تمہارے غم کا اسیر ہے، وہ بڑا امیروکبیر ہے
جو تمہارے در کا فقیر ہے،غمِ دوجہاں سے وہ دور ہے۔۔۔!!!

جوطلب سےپہلےکرے عطا،جو صدا سےپہلے سنےصدا
مِری لاج والا وہی تو ہے، جو حبیبِ ربِ غفور ہے۔۔۔!!!

تِری آرزو تِری جستجو، تِری گفتگو مِری آبرو
مِری مستیوں کا بھرم ہے جو،تِری یاد ہی کا سَرُور ہے۔۔۔!!!

تھےجہاں میں اوربھی مشغلے،تھےجہاں میں اوربھی تذکرے
تِرے ذکر ہی سے سکوں مِلا، کوئی بات اس میں ضرور ہے۔۔۔!!!

ہے تمہارا خالدِ بے نوا، اسے بےسبب ہی نواز دو
نہ اسے قرینۂِ آرزو، نہ اسے طلب کا شعور ہے۔۔۔!!!

صَلَّی اللّٰہُ عَلٰٰی حَبِیْبِہٖ ُمحَمَّدٍ وَّٓاٰ لِہٖ وََسَلَّم ْ

‏یہ اولادیں آپ کے لئے قرآن پڑھیں گی جو آپ کے کہنے پر نماز کے لئے نہیں اٹھتی؟ یہ رشتے دار اپ کے لئے دعا کریں گے جن سے لڑا...
15/12/2022

‏یہ اولادیں آپ کے لئے قرآن پڑھیں گی جو آپ کے کہنے پر نماز کے لئے نہیں اٹھتی؟ یہ رشتے دار اپ کے لئے دعا کریں گے جن سے لڑایاں ختم نہیں ہوتی۔ یہ دوست اور بہن بھائی آپ کے لئے صدقہ و خیرات کریں گے جو عید کی عید ملتے ہیں۔اے بھولے انسان خلوص کا زمانہ گزر گیا یہ افراتفری کا دور ہے

Address

Nelson

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عاشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to عاشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم:

Shortcuts

Share