Removing Bars from Facebook App on Android is bit easy.
There are two type of Bars on Facebook Application on in 2020.
They are:
1: Purple bar which is for
and
2: Black Bar which is for Data Mode
So to remove them you just have to whach this 2 minutes video and Boom!
Older Video: How to Remove Facebook Free Mode Bar from Facebook on Android: https://www.youtube.com/watch?v=ar-ZotNz6Fw
Music Credits: NCS
Technical Radar
Hello Friends, Welcome to "Technical Radar". It is YouTube Channel
Visit Here:
https://www.youtube.c Looking for Something New!!! You are on the Right Spot...
14/07/2019
14/07/2019
تاجروں کی ہڑتال کی اصل کہانی،، غور سے پڑھ لین.
سیل ٹیکس ہے 17 فیصد. یعنی 100 پہ 17 روپے
اب ہو کیا رہا ہے کہ بڑے بڑے دکاندار اور تاجر حضرات عوام سے تو اپنی مصنوعات پہ پورا ٹیکس وصول کرتے ہیں مثال کے طور پہ 1000 کی چیز پہ 170 ٹیکس اور قیمت بنے گی 1170 رروپے.
لیکن دہائیوں سے یہ کیا کر رہے ہیں؟
عوام سے ٹیکس لیتے ہیں لیکن حکومت کو نہیں دیتے کیوں کہ 97 فیصد تاجر انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہی نہیں اور نہ سیل ٹیکس میں.
اور جو رجسٹریشن کروا چکے وہ بهی اپنی سیل اور آمدن چهپا لیتے ہیں.
تو اب حکومت نے حکم دیا ہے کہ ہر تاجر یا دکاندار اپنی رجسٹریشن کروائے (جو کہ مفت ہے)
اور 50 ہزار سے زیادہ مالیت کا سامان بیچنے پہ باقاعدہ گاہک سے شناختی کارڈ کی کاپی لیں اور دیگر تمام بلز بهی گاہک کو دیں اور باقاعدہ ٹیکس نمبر ان بلز پہ موجود ہو اور بڑی مالیت کی تمام ادائیگیاں بینک سے کی جائیں تاکہ حکومت کو پتا ہو کہ کون کتنا کما رہا ہے؟
اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کو آسان اور قابل وصولی بنایا جا سکے.
لیکن یہ بات تاجروں کو گراں گزر رہی ہے کیونکہ ان کو حرام کی لت لگ چکی ہے انهوں نے نسلوں سے ٹیکس نہیں دیا تو اب مروڑ اٹھ رہے ہیں اور یہ احتجاج کر رہے ہیں.
یاد رہے 6 لاکھ سے کم سالانہ کمائی پہ کوئی ٹیکس نہیں ہے اور 6 سے 7 لاکھ کمائی پہ بهی بس 3 ہزار سالانہ ٹیکس ہے
اور سیلز ٹیکس پہ تاجروں کا کوئی حق نہیں یہ عوام کا پیسہ ہے اور عوام یہ پیسہ حکومت کو دینے کے لیے ادا کرتی ہے ان تاجروں کو.
اب عوام سے اپیل ہے کہ آئندہ صرف اسی بندے سے خریداری یا لین دین کریں جس کی کمپنی یا دکان باقاعدہ رجسٹرڈ ہو اور اس کے پاس ٹیکس نمبر ہو. اگر کسی پہ شک بهی ہو تو ٹیکس نمبر متعلقہ ٹیکس آفس سے چیک کروایا جا سکتا ہے.
اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کا ٹیکس تاجروں کی جیبوں میں جانے کی بجائے حکومت کو ہی جائے گا.
یاد رکهیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اگر برگر کی ریڑهی بهی لگانی ہو تو باقاعدہ رجسٹریشن ہوتی ہے جو کہ مفت ہی ہوتی ہے. اس کا مقصد صرف اور صرف ٹیکس کولیکشن کو بہتر بنانا ہوتا ہے اگر ریڑهی والے کی کمائی 6 لاکھ سے کم ہو گی تو اس پہ کوئی انکم ٹیکس نہیں لگے گا. یہی اصول ہر دکاندار پہ لگے گا. انکم ٹیکس صرف آپ کی بچت پہ لگے گا نا کہ ٹوٹل سیل پہ.
اور سیل ٹیکس تو جب ایک چیز بنتی ہے اور وہ اگر سیل ٹیکس میں شامل ہو تو وہ سیل ٹیکس اس پہ لگ جاتا ہے اور اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے.
ان تاجروں کا بالکل بهی ساتھ نہ دیں یہ لوگ دہائیوں سے آپ کا پیسہ مفت میں ہڑپ کر رہے ہیں اور اپنے خزانے بهرتے آئے ہیں یہ تفصیلات پہلے مجهے معلوم نہیں تهیں یہ راز تو اب کهلا ہے کہ اس ملک میں اکثر حرام خور تاجروں پہ مشتمل ہے جنہوں نے ہمیشہ عوام کو پهدو لگایا ہے
اب پہلی بار ان کو نکیل ڈالنے کی تیاری کی گئی ہے تو یہ چیخ رہے ہیں یاد رکھیں یہ سیل ٹیکس ہر حال میں لگے گا 70 سالوں سے لگا ہوا ہے یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں ہے پرانا ہے
بس اس بار حکومت نے عوام کی بجائے ان تاجروں کو ڈنڈا دیا ہے کہ جو پیسہ یہ عوام سے لے کر اپنی تجوریوں میں ڈال لیتے ہیں وہ حکومت کو دیں.
اس میں نہ تو ان تاجروں کا کوئی نقصان ہے اور نا عوام کا.
ہاں بس ان کو جو سالانہ اربوں روپیہ مفت میں حرام کا ملتا تها وہ نہیں ملے گا. یہ سیل ٹیکس عوام نے تو بهرنا ہی ہے تو کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ یہ سیل ٹیکس آپ نے قومی خزانے کے لیے دیا ہے تو یہ اسی میں جائے؟
تو اب عوام سوچ لے کہ کیا اس نے ان لوگوں کا ساتھ دینا ہے جو آج تک عوام کا پیسہ خود کهاتے رہے ہیں اور آگے بهی کهانا چاہتے ہیں.
14/07/2019
08/07/2019
※※میں بولوں کہ نہ بولوں※※
""قیدی نمبر 420""
میں 1999 میں SHO کوٹسبزل تعینات تھا میں رحیم یار خان ایک کام کے سلسلہ میں موجود تھا کہ میرے موبائل پر DIG رانا عابد سعید صاحب مرحوم کی کال آئی اُنہوں نے کہا کے مخدوم احمد محمود آپ سے ملیں گے ان کا کام ھے ضرور کرنا ھے اور فون بند ھو گیا
تھوڑی دیر بعد مخدوم صاحب کی کال آئی خیریت پوچھنے کے بعد اُنہوں نے بتلایا کہ لاھور کے ایک بٹ صاحب نے ھمیں دھوکا دیا یہاں بزنس اور پولٹری کے کام کا کہا میرے اور یوسف رضا گیلانی سابقہ وزیر اعظم کے تقریباً 5 لاکھ ڈالر کھا گیا ھے جو وصول کرنے ھیں
کیونکہ میرا بھی مخدوم صاحب سے اچھا تعلق تھا اور ھے تو میں نے قانونی کاروائی کا وعدہ کیا
اگلے دن اسلم گیلانی اور ظفر عباسی صاحبان میرے پاس آئے تمام کاغذات دیکھنے کے بعد مقدمہ بجرم 406ت پ درج کر لیا اور تفتیش si رانا کو دی
کیونکہ ملزم لاھور کا تھا اور کافی بااثر شخص تھا اور پھر کیونکہ DIG صاحب کا بھی حکم تھا میں ملازمان کے ساتھ لاھور کے لیئے روانہ ھوا ملتان سے بلال گیلانی جو یوسف رضا گیلانی کے کزن ھیں بھی ھمارے ساتھ نشاندھی کے لیے ساتھ ھو لیے
لاھور پُنہچ کر آرام کیا کیونکہ کافی لمبا سفر تھا اُن دنوں سڑکیں بھی اتنی اچھی نہیں تھیں
اگلے دن تیار ھو کے شام کو تھانہ گلبرگ اپنی آمد کی لیکن وھاں سے کسی کو ساتھ نہ لیا
رات کو کافی دیر تک بٹ کے دفتر واقع مین بلوارڈ گُلبرگ لاھور کے باھر انتظار کیا تقریباً 12بجے رات بٹ صاحب اپنی نئی ھونڈا سوک میں بیٹھنے لگے تو ھم نے لپک جھپک کر قابو کر لیا جب موصوف کو دیکھا تو ایک دفعہ پریشان ھو گیا بٹ صاحب اتنے موٹے تھے کہ اپنی کار میں پورے نہیں آرھے تھے
بڑی مشکل سے بٹ کو کار سے نکالا ملازمان کے ساتھ ویگن میں بیٹھایا اور فوری طور پر رحیم یار خان کیلئے روانہ ھو گے
راستے میں موصوف کے موبائل پر کالز آتی رھیں
مُلتان پُنہچنے پر مجھے اپنے SSP صاحب کی کال آئی کہ کس کو اُٹھا لایا ھوں پورا لاھور ھلا ھوا ھے میں نے اُنہیں بتایا کہ DIG صاحب نے حکم دیا تھا اب وھی اس کو سنبھالیں گے یا پھر میں سسپینڈ ھوں گا آپ تسلی رکھیں
آخر کار ھم کوٹ سبزل پُنہچ گے بٹ صاحب کھانے پینے کے کافی شوقین تھے باوجود گرفتاری و پریشانی اُن کی خوش خوراکی میں کوئی فرق نہ آیا اور کیونکہ خرچہ بذمہ مدعی تھا مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
تھانہ پُنہچ کر بٹ صاحب سے پیسوں کا بڑے آرام سے پوچھا کیونکہ بٹ صاحب نے ھمیں راستے میں خبردار کر دیا تھا کہ وہ بلڈ پریشر ،دل اور شوگر کے مریض ھیں اُن سے کی گئی کسی قسم کی زیادتی ھمارے لیے بہتر نہ ھو گی
اور میرے ذھن میں اپنے ساتھ گزرا سانحہ یزمان گھوم گیا جس میں میں اور میرے بے گُناہ ملازمان 42 دن حوالات اور جیل یاترا کر چکُے تھے
کیونکہ بٹ صاحب کو اندازہ تھا کہ اُن کی سفارشیں تگڑی ھے اور وہ جلدی چھوٹ جائیں گے اس لیئے وہ میرے سامنے بڑی کرس پر بیٹھے بڑے تحمل اور آرام سے چائے پی رھے تھے
کُچھ دیر بعد دو تین بڑی گاڑیاں آ کے تھانہ کے باھر رُکیں جن سے کافی خوش پوش افراد اُتر ے پورا تھانہ پریشان ھو گیا کہ اب کیا ھو گا
کیونکہ مدعی بھی بااثر تھے جن میں رئیس محبوب اسلم گیلانی بلال گیلانی اور دیگر تھانہ میں موجود تھے اس لیے ھمارے لیے بہتر ھوا اور دونوں آپس میں مصروف ھو گے
شام تک کوئی نتیجہ نہ نکلا بٹ صاحب کوئی بات ماننے کو تیار نہ تھے
اور میں تھا کہ کبھی کسی DIG کبھی SSP کبھی سیاستدان کے فون پر فون آرھے تھے جو کبھی آرام سے اور کبھی دبی دبی دھمکیوں کے ساتھ مجھے سمجھانے کی کوشش فرما رھے تھے کہ بٹ کو نہ چھوڑا تو میرے حق میں بہتر نہ ھو گا
پھر مجھے اپنے DIG رانا عابد سعید کی کال آئی وہ بھی مجھ پہ ناراض ھو رھے تھے کہ میں نے معاملے کو درست طریقہ سے ھینڈل نہیں کیا اور ساتھ یہ بھی بولا کہ اگر اس میں کوئی گڑبڑ ھوئی تو تمہاری خیر نہیں
اب یہ صورت حال تھی کہ آگے کھڈا پیچھے کھائی؟
ملزم کے سفارشی اُسے چھوڑنے کا کہہ رھے تھے اور مدعی یہ چاھتے تھے کہ 5 لاکھ ڈالر ابھی مل جائیں
اب میری یہ حالت تھی بٹ کو چھوڑتا تھا تو مرتا تھا اور نہیں چھوڑتا تو بھی مرتا تھا
میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں سوچتے ھوئے خود ھی یہ فیصلہ کیا کہ اب جو بھی ھونا ھے میرے ساتھ ھی ھونا ھے کسی بھی افسر نے میری مدد نہیں کرنی تھی چناچہ
میں تھانہ کے اندر گیا اور تمام سفارشیوں کو کہا کہ آپ لوگ جائیں یہ fir کا مُلزم ھے میں اسے گرفتار کرتا ھوں سب میرا مُنہ دیکھنا شروع ھو گے کہ SHO کو کیا ھو گیا ھے
جونہی مدعی مقدمہ کے سفارشی اور ملزم کے سفارشی باھر گے میں نے بٹ صاحب کی شان میں گستاخی کرتے ھوے کرسی سے کھڑا کیا محرر کو کو کہا کہ ان کو حوالات میں بند کر دے گرفتاری ڈال دے
ان کا پر ھیزی کھانا (نہاری ھریسا مٹن پالک سری پائے) بھی بند کر دے اور میں ساتھ ھی واقع اپنی رھائیش گاہ پر چلا گیا
گرمیوں کے دن تھے جون کا مہینہ تھا تقریناً دس بجے رات محر ر تھانہ میری رھائش پر بھاگتا ھو آیا اور بولا سر تھانہ پر چلیں بٹ نے شور مچا کہ تھانہ سر ہر اُٹھایا ھوا ھے
میں فوری تھانہ گیا بٹ صاحب حوالات کے جنگلے سے مُُنہ لگائے رو رھے تھے اور فرما رھے تھے کہ مجھے باھر نکالو میری بیوی کی طلاق پہ دستخط کروا لو پر مجھے باہر نکالو
گرمی ,حوالات میں ایک پنکھا اور 22/23 حوالاتی اور موٹے بٹ صاحب طبیعت درست ھو گی
انہیں حوالات سے نکلوا کر میرے دفتر میں لایا گیا بٹ بولا میرے سفارشیوں کو بلوائیں چناچہ مدعی اور سفارشیوں کو بلایا گیا بٹ صاحب نے اپنا قصور مانا اور فوری طور پر ادائیگی کا فیصلہ ھو گیا اور ادائیگی کر دی گی
مگر میں نے بٹ کو رات رھانہ میں رکھا صُبح مدعی نے عدالت میں صُلح نامہ دیا اور بٹ کی ضمانت ھو گی
اس ساری کہانی لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جیل میں A کلاس گھر سے مزیدار کھانے ،اپنی مرضی کے پروڈیکشن آرڈرز ،ریمانڈ جسمانی پر انٹرویوز اور پریس کانفرنسز میڈیکل پر عیاشی شہد بوتلیں
تو عمران خان صاحب اس طرح تو مُلک و قوم کا پیسہ نہیں نکلے گا
آپ کو اُنگلی ٹہڑی کرنی پڑے گی ورنہ آپ قوم سے کیا گیا وعدہ کبھی پورا نہیں کر سکیں گے اور پھر جو آپ کا حال ان سب نے مل کے کرنا ھے آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے
عزت ذلت زندگی موت سب اللہ کے ھاتھ میں ھے اب بھی وقت ھے کر جاو اس مُلک کو بچا لو ورنہ مریم صفدر پھر جُنید صفدر ،
بلاول زرداری اس کے بعد آصفہ زرداری ھمارے حکمران ھوں گے
اور ھم تو ویسے غلامی میں رھنا پسند کرتے ھیں پہلے انگریز پھر فوجی آمر اور پھر ان آمروں کی پیداوار حکمران
کیا اس لیئے قائد اعظم نے پاکستان بنایا تھا یہ قائد کا پاکستان تو نہیں ھے یہ تو ان کُچھ خاندانوں کا پاکستان ھے جو ھمارے آقا ھیں اور یہ پاکستانی ان کے غلام
عزیز اللہ خان ڈی ایس پی (ریٹائرڈ)
ایڈوکیٹ مُلتان
03008689990
03/07/2019
دنیا کے قابل ترین لوگ 😂😂
03/07/2019
دو تصویریں دو سبق
آپ کے سامنے دو تصاویر رکھی ہیں جو کہ ضلع میانوالی کے اک انتہائی پسماندہ علاقے کی ہیں یہ محض تصویریں نہیں بلکہ اک صاحب علم اور با شعور انسان کے لئے اس میں دو سبق موجود ہیں اگر ان تصاویر پہ غور کریں تو اک تصویر میں تحریک انصاف میانوالی کے کرتا دھرتا بندے موجود ہیں جن کے سامنے منزل واٹر کی بوتلیں موجود ہیں جبکہ دوسری طرف بد قسمت عام انسان آپ کو اک گندے جوہڑ جس سے ہر طرح کے جانور بھی پانی پیتے ہیں بلکہ اس میں ناپاک جانور نہاتے بھی ہوں گے وہاں سے پانی پیتے نظر آ رہے ہیں اور یاد رہے یہ تحریک انصاف کے نمائندے اسی پانی کے مسئلہ کے حل کے لئے وہاں موجود ہیں جناب والا اب آ جائیں کہ یہ تصاویر ہیمں کیا سبق دے رہی ہیں تو جناب والا پہلے آ جائیں ذرا اس تصویر پہ جس میں عالی شان لوگوں کی میز پہ منرل واٹر کی بوتلیں پڑی ہیں اب یہ تصویر ہمیں سبق دے رہی ہے کہ جب ہمارے نمائندے بے شرم بےحیا بے حس بے ضمیر اور احساس سے محروم ہو جائیں تو تب ایسی تصویر بنتی ہے اگر یہ واقع پانی کا مسئلہ حل کرنے پہنچے تھے تو کم ازکم ان میں اتنی حیا ہونی چاہیئے تھی کہ یہ منرل واٹر کا نام بھی نہ لیتے اب آ جائیں دوسری تصویر پہ جس میں اک طرف لوگ گندے غلیظ جوہڑ کا پانی پی رہے ہیں تو انہی لوگوں میں سے اک بندہ ان نمائندوں کے آگے منرل واٹر کی بوتلیں رکھ رہا ہے اب اس بے شعور عوام کو چاہیئے تو یہ تھا کہ یہ وہی گندا غلیظ پانی ان عالی شان لوگوں کو پلاتے تاکہ ان کو شرم وحیا آتی اور شاید ان کا ضمیر جاگتا کہ یہ لوگ کیسے ظلم کا شکار ہیں لیکن بحیثیت قوم مراثی پن ہم میں تھوک کے حساب سے موجود ہے اس لئے یہ ایسا نہ کر سکے اور ان کے سامنے منرل واٹر رکھ دیا اب اگر ان دونوں تصاویر کا موازنہ کریں تو قرآن پاک کا دیا گیا سبق کہ جیسی قوم ویسے حکمران سو فیصد واضح ہے اللہ پاک ہم کو شعور علم اور زندہ ضمیر عطا فرمائے۔آمین
Via محترم طاہر نیازی
30/06/2019
گزشتہ روز سے میرے سامنے تین خبریں چل رہی ہیں۔
پہلی خبر یہ تھی
"پاکستان نے تین ہزار افغانیوں کے لیے فری سکالرشپ کا اعلان کر دیا"
دوسری خبر یہ تھی
"پاکستان نے افغان مہاجرین کی مدت قیام میں مزید ایک سال کا آضافہ کر دیا۔"
اور
تیسری خبر یہ تھی،
"افغانستان اور پاکستان کے میچ کے دوران افغانیوں کے پاکستان مخالف نعرے، افغانیوں کا میچ ہارنے کے بعد پاکستانی شائقین پر حملہ، افغانیوں کی گراونڈ کے اندر آکر پاکستانی ٹیم پر حملے کی کوشش، 16افغانیوں کا اکیلے ایک پاکستانی پر تشدد۔"
یہ تین خبریں پڑھیں، تو بطور ایک محب وطن پاکستانی میرا دل چھلنی ہو گیا۔
کیا بطور ایک ایٹمی طاقت ہم اتنے ہی گر گئے ہیں کہ ایک نمک حرام قوم کو انکا اصل مقام نہیں دکھا سکتے؟
کیا ہمارے لیے یہ نمک حرام افغانی ہمارے ملک سے زیادہ عزیز ہیں۔؟ کیا ہم نے ان افغانیوں کی لگائ ہوئ آگ سے اپنے ستر ہزار پاکستانیوں کے ٹکڑے اکھٹے نہیں کیے؟
آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے سیاست دان ان نمک حراموں کو ملک سے نکالنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے اور ملک تباہ و برباد کروا رہے ہیں؟
پاکستانی شائقین پر حملہ کرنے والے افغانیوں کے پاسپورٹ چیک کر لیں، آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ حملہ آور وہی لوگ ہیں جو پاکستانی پاسپورٹ پر ان مغربی ممالک میں داخل ہوئے ہیں۔
اگر حکومت چاہے تو انکے پاسپورٹ بلاک کروا کر انہیں انکی اوقات یاد دلا سکتی ہے، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ حکومت کوئ ایکشن نہیں لے گی۔
آخر میرا ان افغانیوں کے لیے ایک چھوٹا سا پیغام ہے:
"تم جیتو یا ہارو، سنو تم انمول نمک حرام ہو"
#پاکستان vs #انڈیا
میچ 22
ورلڈ کپ 2019
سے #لائیو
میچ کے اختتام پر #پاکستانی کھلاڑیوں کی #درگت 😂😂😂😂
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Address
Sir Matt Busby Way, Manchester M16 0RA, United Kingdom
Manchester