Syed Habib Orakzai - Social Affairs - London

Syed Habib Orakzai - Social Affairs - London London-based women’s rights initiative committed to highlighting issues of justice, dignity, and equality for women in Pakistan.

This platform serves as a voice for awareness, advocacy, and digital documentation of women’s rights.

26/07/2026

جادوگرنی بہو

ایک پریشان حال عورت گھبرائی ہوئی ایک عامل کے پاس پہنچی۔ بیٹھتے ہی بولی:

"پیر صاحب! میری بہو جادوگرنی ہے۔ مجھے اس کے جادو کا توڑ چاہیے۔"

عامل نے اس کی بے چینی دیکھ کر اسے سب سے آگے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہاں موجود دوسری عورتیں بھی احتراماً پیچھے ہٹ گئیں۔

عامل نے نرمی سے پوچھا، "بتاؤ، کیا مسئلہ ہے؟"

عورت نے گہرا سانس لیا اور بولی، "باباجی! میری بہو نے میرے پورے گھر پر جادو کر دیا ہے۔ سب اس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ اس کی ہر غلط بات بھی انہیں صحیح لگتی ہے۔"

عامل نے پوچھا، "کیا تم بھی اس کے جادو میں آگئی ہو؟"

"نہیں باباجی! صرف میں اور میری بیٹی اس کے اثر سے بچے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ ہمیں بھی قابو کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔"

"تفصیل سے بتاؤ۔"

عورت ذرا قریب ہو کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی:

"میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ شوہر بھی الحمدللہ زندہ ہیں۔ بیٹی کی شادی کے بعد گھر میں ہم چار افراد تھے۔ زندگی بڑی خوشحال تھی، مگر پھر ہم اس لڑکی کو بہو بنا لائے اور سب کچھ بدل گیا۔

میں نے سوچا تھا غریب گھر کی ہے، میری عزت کرے گی، میری بات مانے گی۔ لیکن شادی کے تیسرے ہی دن بغیر پوچھے کچن میں گھس گئی اور بولی، 'امی جی، آج کھانا میں بنا لیتی ہوں۔'

میں نے بہت منع کیا مگر اس نے ایک نہ سنی۔ پھر آہستہ آہستہ پورا کچن اپنے قبضے میں لے لیا۔ میرے گھٹنوں میں درد رہتا تھا، اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے کھانا پکانے سے ہی روک دیا۔ یہاں تک کہ چولہا بھی فرش سے اٹھوا کر شلف پر رکھ دیا تاکہ میں چاہ کر بھی زیادہ دیر کھڑی نہ رہ سکوں۔"

پاس بیٹھی ایک عورت بولی، "اس میں تو اچھی بات ہے، تمہیں آرام مل گیا۔"

یہ سن کر وہ اور بھڑک اٹھی۔

"کون سی اچھی بات؟ شروع میں میں بھی یہی سمجھی تھی۔ مگر میری بیٹی شمائلہ نے میری آنکھیں کھول دیں۔

ایک دن وہ اپنے سسرال والوں کے ساتھ آئی۔ میری بہو ان کی ایسی خدمت کر رہی تھی کہ بس! ایک وقت کے کھانے میں کئی کئی ڈشیں بنا ڈالیں۔ سب انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔

بعد میں شمائلہ مجھے الگ لے جا کر بولی، 'امی! یہ آپ کا گھر اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔ ہر کام خود کر کے سب کی پسندیدہ بن رہی ہے۔ آپ کو آرام کے بہانے ایک طرف کر رہی ہے تاکہ کل کو گھر کی اصل مالکن یہی بن جائے۔'

تب مجھے احساس ہوا کہ میں کتنی بڑی غلطی کر بیٹھی تھی۔"

وہ رکتے رکتے پھر بولی:

"میرے چھوٹے بیٹے کو باہر کے کھانے کا بہت شوق تھا۔ جیب خرچ سارا فاسٹ فوڈ پر اڑا دیتا تھا۔ مگر یہ آنے کے بعد گھر میں ہی پیزا، پاستا اور نہ جانے کیا کیا بنا دیتی ہے۔ وہ سامان لے آتا ہے اور یہ انٹرنیٹ سے ترکیبیں دیکھ کر سب کچھ تیار کر لیتی ہے۔

اب حال یہ ہے کہ جو بیٹا ہر وقت 'امی، امی' کرتا تھا، اب ہر وقت 'بھابھی، بھابھی' کرتا پھرتا ہے۔"

ایک اور عورت بولی، "ہائے! پھر تمہارے شوہر کو کیسے قابو کیا؟"

وہ آبدیدہ ہو گئی۔

"قسم خدا کی! اتنا خیال تو شاید اپنے شوہر کا بھی نہ رکھتی ہو جتنا میرے شوہر کا رکھتی ہے۔

وہ گھر آئیں تو فوراً پانی حاضر، پھر شربت، پھر پوچھنا کہ طبیعت کیسی ہے۔ چونکہ انہیں معدے کا مسئلہ ہے، اس لیے ہر سالن میں نمک مرچ ڈالنے سے پہلے ان کے لیے الگ حصہ نکال لیتی ہے۔

بس، اتنا ہی کافی تھا۔ اب وہ بھی ہر وقت اسی کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔"

یہ کہتے کہتے وہ رونے لگی۔

عامل خاموشی سے سنتا رہا۔ پھر مسکرا کر بولا:

"تمہاری بہو کا جادو واقعی بہت طاقتور ہے۔"

عورت گھبرا گئی۔

"باباجی! کوئی توڑ بتائیں۔ جتنے پیسے چاہیں لے لیں، مگر میرا گھر مجھے واپس دلوا دیں۔"

اس نے خاموشی سے پانچ پانچ ہزار کے چار نوٹ عامل کی طرف سرکا دیے۔

عامل نے اپنا پرانا سا لکڑی کا ڈبہ کھولا، پانچ چھوٹی چھوٹی پڑیاں نکالیں، ان پر پھونک ماری اور عورت کے حوالے کر دیں۔

پھر بولا:

"ہر جمعرات کی رات، جب تمہاری بہو کھانا تیار کر لے، ایک پڑی سالن میں ملا دینا۔ ان شاء اللہ تین جمعراتوں بعد اثر ظاہر ہونا شروع ہو جائے گا۔"

عورت خوشی خوشی دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے روانہ ہوگئی۔

عامل نے اس کے جاتے ہی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ڈبہ بند کیا۔

ان پڑیوں میں نہ کوئی جادو تھا، نہ کوئی تعویذ۔

کسی میں نمک تھا، کسی میں چینی، اور کسی میں میٹھا سوڈا۔

اصل علاج کسی بہو کے جادو کا نہیں، بلکہ اس حسد، خوف اور غلط فہمی کا تھا جو بعض اوقات انسان کی اپنی سوچ میں گھر کر جاتی ہے۔

کبھی کبھی محبت، خدمت، احترام اور خلوص کو بھی لوگ جادو سمجھ بیٹھتے ہیں۔

24/07/2026

دعاؤں کی دولت

ایک روز ایک اسکول ٹیچر بس میں سوار ہوئیں۔ بس مسافروں سے بھری ہوئی تھی اور کہیں بھی کوئی نشست خالی نہیں تھی۔

اچانک ایک سادہ لباس، غریب سی دکھائی دینے والی خاتون احترام سے کھڑی ہوئیں اور بولیں: "میڈم، آپ یہاں بیٹھ جائیں۔"

یہ کہہ کر انہوں نے اپنی نشست ٹیچر کے لیے چھوڑ دی اور خود کھڑی ہو گئیں۔

ٹیچر نے تشکر کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا: "بہت شکریہ، واقعی میری تو بہت بری حالت ہو گئی تھی۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔"

یہ دعائیں سن کر خاتون کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔

کچھ دیر بعد برابر والی نشست خالی ہوئی، مگر خاتون خود نہ بیٹھیں۔ انہوں نے ایک ایسی عورت کو بٹھا دیا جو گود میں چھوٹا بچہ اٹھائے سفر کر رہی تھی اور واضح طور پر تھکی ہوئی تھی۔

چند اسٹاپ بعد وہ عورت اتر گئی۔ نشست دوبارہ خالی ہوئی، لیکن اس مرتبہ بھی خاتون نے خود بیٹھنے کے بجائے ایک ضعیف اور کمزور بزرگ کو عزت سے وہاں بٹھا دیا۔

کچھ دیر بعد بزرگ بھی اپنی منزل پر اتر گئے۔ اب بس میں مسافر کم رہ گئے تھے اور کئی نشستیں خالی تھیں۔

ٹیچر نے محبت سے اس خاتون کو اپنے پاس بٹھایا اور حیرت سے پوچھا:

"آپ کو کئی بار بیٹھنے کا موقع ملا، لیکن آپ نے ہر بار کسی اور کو ترجیح دی۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟"

خاتون مسکرائیں اور نہایت عاجزی سے بولیں:

"میڈم، میں ایک مزدور عورت ہوں۔ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ میں بڑی بڑی خیرات کر سکوں۔ اس لیے میں اپنی استطاعت کے مطابق نیکی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

کبھی راستے میں پڑا پتھر ہٹا دیتی ہوں تاکہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے، کبھی کسی پیاسے کو پانی پلا دیتی ہوں، اور کبھی بس میں اپنی نشست کسی ضرورت مند کے لیے چھوڑ دیتی ہوں۔

جب لوگ دل سے دعائیں دیتے ہیں تو میری ساری تھکن اتر جاتی ہے اور میں اپنی غربت بھی بھول جاتی ہوں۔

دوپہر کو جب میں روٹی کھانے بیٹھتی ہوں تو چند پرندے میرے پاس آ جاتے ہیں۔ میں اپنی روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ان کے سامنے ڈال دیتی ہوں۔ انہیں خوشی سے دانہ چگتے دیکھ کر میرے دل کو ایسا سکون ملتا ہے جیسے میرا اپنا پیٹ بھر گیا ہو۔

میرے پاس دولت نہیں، مگر میں امید رکھتی ہوں کہ ان چھوٹی چھوٹی نیکیوں کے بدلے مجھے لوگوں کی دعائیں اور اللہ کی رضا ضرور مل جائے گی۔

آخر اس دنیا سے ساتھ لے کر جانا ہی کیا ہے؟ صرف ہمارے اعمال۔"

ٹیچر خاموش رہ گئیں۔

ایک بظاہر ان پڑھ اور غریب عورت نے انہیں انسانیت، ایثار اور حقیقی خوشی کا وہ سبق سکھا دیا جو شاید بڑی بڑی کتابیں بھی نہ سکھا سکیں۔

اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق کسی ایک انسان، جانور یا پرندے کے لیے روز ایک چھوٹی سی نیکی کر لے، تو یقیناً یہ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت، پُرسکون اور جنت کا نمونہ بن سکتی ہے۔

19/07/2026
17/07/2026

Address

St Stephens Road
London
E61AN

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Habib Orakzai - Social Affairs - London posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share