26/07/2026
جادوگرنی بہو
ایک پریشان حال عورت گھبرائی ہوئی ایک عامل کے پاس پہنچی۔ بیٹھتے ہی بولی:
"پیر صاحب! میری بہو جادوگرنی ہے۔ مجھے اس کے جادو کا توڑ چاہیے۔"
عامل نے اس کی بے چینی دیکھ کر اسے سب سے آگے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہاں موجود دوسری عورتیں بھی احتراماً پیچھے ہٹ گئیں۔
عامل نے نرمی سے پوچھا، "بتاؤ، کیا مسئلہ ہے؟"
عورت نے گہرا سانس لیا اور بولی، "باباجی! میری بہو نے میرے پورے گھر پر جادو کر دیا ہے۔ سب اس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ اس کی ہر غلط بات بھی انہیں صحیح لگتی ہے۔"
عامل نے پوچھا، "کیا تم بھی اس کے جادو میں آگئی ہو؟"
"نہیں باباجی! صرف میں اور میری بیٹی اس کے اثر سے بچے ہوئے ہیں۔ لیکن وہ ہمیں بھی قابو کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔"
"تفصیل سے بتاؤ۔"
عورت ذرا قریب ہو کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی:
"میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ شوہر بھی الحمدللہ زندہ ہیں۔ بیٹی کی شادی کے بعد گھر میں ہم چار افراد تھے۔ زندگی بڑی خوشحال تھی، مگر پھر ہم اس لڑکی کو بہو بنا لائے اور سب کچھ بدل گیا۔
میں نے سوچا تھا غریب گھر کی ہے، میری عزت کرے گی، میری بات مانے گی۔ لیکن شادی کے تیسرے ہی دن بغیر پوچھے کچن میں گھس گئی اور بولی، 'امی جی، آج کھانا میں بنا لیتی ہوں۔'
میں نے بہت منع کیا مگر اس نے ایک نہ سنی۔ پھر آہستہ آہستہ پورا کچن اپنے قبضے میں لے لیا۔ میرے گھٹنوں میں درد رہتا تھا، اس نے ہمدردی کے نام پر مجھے کھانا پکانے سے ہی روک دیا۔ یہاں تک کہ چولہا بھی فرش سے اٹھوا کر شلف پر رکھ دیا تاکہ میں چاہ کر بھی زیادہ دیر کھڑی نہ رہ سکوں۔"
پاس بیٹھی ایک عورت بولی، "اس میں تو اچھی بات ہے، تمہیں آرام مل گیا۔"
یہ سن کر وہ اور بھڑک اٹھی۔
"کون سی اچھی بات؟ شروع میں میں بھی یہی سمجھی تھی۔ مگر میری بیٹی شمائلہ نے میری آنکھیں کھول دیں۔
ایک دن وہ اپنے سسرال والوں کے ساتھ آئی۔ میری بہو ان کی ایسی خدمت کر رہی تھی کہ بس! ایک وقت کے کھانے میں کئی کئی ڈشیں بنا ڈالیں۔ سب انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔
بعد میں شمائلہ مجھے الگ لے جا کر بولی، 'امی! یہ آپ کا گھر اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔ ہر کام خود کر کے سب کی پسندیدہ بن رہی ہے۔ آپ کو آرام کے بہانے ایک طرف کر رہی ہے تاکہ کل کو گھر کی اصل مالکن یہی بن جائے۔'
تب مجھے احساس ہوا کہ میں کتنی بڑی غلطی کر بیٹھی تھی۔"
وہ رکتے رکتے پھر بولی:
"میرے چھوٹے بیٹے کو باہر کے کھانے کا بہت شوق تھا۔ جیب خرچ سارا فاسٹ فوڈ پر اڑا دیتا تھا۔ مگر یہ آنے کے بعد گھر میں ہی پیزا، پاستا اور نہ جانے کیا کیا بنا دیتی ہے۔ وہ سامان لے آتا ہے اور یہ انٹرنیٹ سے ترکیبیں دیکھ کر سب کچھ تیار کر لیتی ہے۔
اب حال یہ ہے کہ جو بیٹا ہر وقت 'امی، امی' کرتا تھا، اب ہر وقت 'بھابھی، بھابھی' کرتا پھرتا ہے۔"
ایک اور عورت بولی، "ہائے! پھر تمہارے شوہر کو کیسے قابو کیا؟"
وہ آبدیدہ ہو گئی۔
"قسم خدا کی! اتنا خیال تو شاید اپنے شوہر کا بھی نہ رکھتی ہو جتنا میرے شوہر کا رکھتی ہے۔
وہ گھر آئیں تو فوراً پانی حاضر، پھر شربت، پھر پوچھنا کہ طبیعت کیسی ہے۔ چونکہ انہیں معدے کا مسئلہ ہے، اس لیے ہر سالن میں نمک مرچ ڈالنے سے پہلے ان کے لیے الگ حصہ نکال لیتی ہے۔
بس، اتنا ہی کافی تھا۔ اب وہ بھی ہر وقت اسی کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔"
یہ کہتے کہتے وہ رونے لگی۔
عامل خاموشی سے سنتا رہا۔ پھر مسکرا کر بولا:
"تمہاری بہو کا جادو واقعی بہت طاقتور ہے۔"
عورت گھبرا گئی۔
"باباجی! کوئی توڑ بتائیں۔ جتنے پیسے چاہیں لے لیں، مگر میرا گھر مجھے واپس دلوا دیں۔"
اس نے خاموشی سے پانچ پانچ ہزار کے چار نوٹ عامل کی طرف سرکا دیے۔
عامل نے اپنا پرانا سا لکڑی کا ڈبہ کھولا، پانچ چھوٹی چھوٹی پڑیاں نکالیں، ان پر پھونک ماری اور عورت کے حوالے کر دیں۔
پھر بولا:
"ہر جمعرات کی رات، جب تمہاری بہو کھانا تیار کر لے، ایک پڑی سالن میں ملا دینا۔ ان شاء اللہ تین جمعراتوں بعد اثر ظاہر ہونا شروع ہو جائے گا۔"
عورت خوشی خوشی دعائیں دیتی ہوئی وہاں سے روانہ ہوگئی۔
عامل نے اس کے جاتے ہی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ڈبہ بند کیا۔
ان پڑیوں میں نہ کوئی جادو تھا، نہ کوئی تعویذ۔
کسی میں نمک تھا، کسی میں چینی، اور کسی میں میٹھا سوڈا۔
اصل علاج کسی بہو کے جادو کا نہیں، بلکہ اس حسد، خوف اور غلط فہمی کا تھا جو بعض اوقات انسان کی اپنی سوچ میں گھر کر جاتی ہے۔
کبھی کبھی محبت، خدمت، احترام اور خلوص کو بھی لوگ جادو سمجھ بیٹھتے ہیں۔