23/03/2025
ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو اچھی بات کہے گا اس کو چار سو دینار (سونے کے سکے) دیئے جائیں گے...!!!!
ایک دن بادشاہ رعایا کی دیکھ بھال کرنے نکلا اس نے دیکھا ایک نوے سال کی بوڑھی عورت زیتون کے پودے لگا رہی ہے بادشاہ نے کہا تم پانچ دس سال میں مر جاؤ گی اور یہ درخت بیس سال بعد پھل دیں گے تو اتنی مشقت کرنے کا کیا فائدہ؟؟؟
بوڑھی عورت نے جواباً کہا ہم نے جو پھل کھائے وہ ہمارے بڑوں نے لگائے تھے اور اب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہماری اولاد کھائے...!!!!
بادشاہ کو اس بوڑھی عورت کی بات پسند آئی حکم دیا اس کو چار سو دینار دے دیئے جائیں...!!!!
جب بوڑھی عورت کو دینار دیئے گئے وہ مسکرانے لگی...!!!!
بادشاہ نے پوچھا کیوں مسکرا رہی ہو؟؟؟
بوڑھی عورت نے کہا کہ زیتون کے درختوں نے بیس سال بعد پھل دینا تھا جبکہ مجھے میرا پھل ابھی مل گیا ہے...!!!!
بادشاہ کو اس کی یہ بات بھی اچھی لگی اور حکم جاری کیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں...!!!!
جب اس عورت کو مزید چار سو دینار دیئے گئے تو وہ پھر مسکرانے لگی...!!!!
بادشاہ نے پوچھا اب کیوں مسکرائی؟؟؟
بوڑھی عورت نے کہا زیتون کا درخت پورے سال میں صرف ایک بار پھل دیتا ہے جبکہ میرے درخت نے دو بار پھل دے دیئے ہیں..!!!!
بادشاہ نے پھر حکم دیا اس کو مزید چار سو دینار دیئے جائیں یہ حکم دیتے ہی بادشاہ تیزی سے وہاں سے روانہ ہو گیا...!!!!
وزیر نے کہا حضور آپ جلدی سے کیوں نکل آئے؟؟؟
بادشاہ نے کہا اگر میں مزید اس عورت کے پاس رہتا تو میرا سارا خزانہ خالی ہو جاتا مگر عورت کی حکمت بھری باتیں ختم نہ ہوتیں...!!!!
اچھی بات دل موہ لیتی ہے، نرم رویہ دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے حکمت بھرا جملہ بادشاہوں کو بھی قریب لے آتا ہے اچھی بات دنیا میں دوست بڑھاتی اور دشمن کم کرتی ہے اور آخرت میں ثواب کی کثرت کرتی ہے آپ مال و دولت سے سامان خرید سکتے ہیں مگر دِل کی خریداری صرف اچھی بات سے ہو سکتی ہے💯!
28/11/2023
*@* کاپی
*نصیحت __!!*
*"*
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﺮﺽ ﻋﻼﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ۔ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﺗﻘﻮٰﯼ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻦ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ اﻥ ﮐﯽ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮑﺮﯾﻢ ﮐﺮﺗﯽ تھی ﺍﻭﺭ ﺍﻥ کی ﺧﺪﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺷﺮﻑ ﻭ ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﻣﺸﺎﮨﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ آﺋﯽ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ اﮐﺜﺮ ﻭ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺯﯾﺐ ﺗﻦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ کے ﺗﻘﺎﺿﻮﮞ پر (ﭘﺮﺩﮦ ﭘﻮﺷﯽ) ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺧﺼﻮﺻﺎً .. ﺷﺎﭦ ﺳﮑﺮﭦ .. ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺭﮨﺘﯽ تھیں۔
ﺣﻀﺮﺕ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺒﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ آﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ بتائیے ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ آﭖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﺘﯽ ﺁؤں۔۔۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ..
ﺑﯿﭩﯽ ! ﺑﮑﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﻟﯿﺘﯽ آﻧﺎ ۔ ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﯾﺎ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺑﯿﮏ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺮِﻋﺎﻡ ﮨﺎﺗﮫ میں ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ .
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ..
ﺣﻀﺮﺕ ؛
ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﺍﻥ ﺗﻮ ﻟﮯ آؤنگی ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ آﭖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ہیں۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﯿﭩﯽ؟ ,,
ﮐﮩﻨﮯ لگی ..
ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﮭﯿﻠﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﻥ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﮌﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ لئے ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺑﯿﭩﯽ ؛
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺑﮑﺮﮮ ﮐﯽ ﺭﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ۔
ﺍﺗﻨﮯ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺍﺛﺮﺍﻧﺪﺍﺯ میں ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﯽ آﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﺮﻧﻢ ﮨﻮگئیں۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮔﻮﺍﮦ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ..!
ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﺍﮔﺮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻭﻗﺖ و ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎئے تو بااثر ہوتی ہے۔
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے...
27/11/2023
🌺*کسی نے ایک دانا سے پوچھا۔۔۔*🌺
*"*
انسانوں میں سب سے حیرت انگیز چیز کیا ہے؟
اُس نے جواب دیا:
"لوگ بچپن سے بور ہو جاتے ہیں، بڑے ہونے کی جلدی کرتے ہیں،
پھر دوبارہ بچے بننے کی آرزو کرتے ہیں، وہ پیسے اکٹھے کرنے کیلیے اپنی صحت کو برباد کرتے ہیں،
پھر صحت کو بحال کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ مستقبل کے بارے میں فکر مندی سے سوچتے ہیں، اور حال کو بھول جاتے ہیں،
اس لیے وہ نہ حال میں رہتے ہیں نہ مستقبل میں......وہ ایسے جیتے ہیں جیسے وہ کبھی نہیں مریں گے، اور وہ ایسے مرتے ہیں جیسے وہ کبھی جیے ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
27/11/2023
ایک_عبرت_انگیز_واقعہ😥
ستر کی دہائی تھی، کوئی آج کل والا پاکستان تو تھا نہیں، اُس نے کراچی میں موجود امریکی لائبریری میں قدم رکھا اور پڑھنا شروع کردیا۔ وہ پیاسا تھا اور علم پیتا چلا گیا، کچھ ہی سالوں میں انجینئرنگ میں ٹاپ کیا اور امریکہ چلا آیا۔ کام، کام اور بس کام۔ وہ اپنے خاندان میں واحد گریجویٹ تھا، اکیلا خوش نصیب جسے ملک سے باہر کام ملا اور واحد کفیل۔
کام کے دوران اُس کی ایک وائٹ امریکی مارگریٹ سے شادی ہوگئی۔ ترقی پر ترقی، اپنا گھر، اپنی گاڑی، بینک بیلنس، وہ منزلوں پر منزلیں طے کرتا چلا گیا۔
کافی سالوں بعد وہ آج اپنی بیوی کے ساتھ پاکستان لوٹا۔ سن 83ء کا زمانہ تھا۔ سب لوگ خوب خوش ہوئے مگر ایک ضروری کام سے کمپنی نے واپس بلا لیا۔ بیوی کو پاکستان چھوڑ کر ایک ہفتے کے بعد واپس آنے کا کہہ کر وہ امریکہ روانہ ہوگیا۔
26 گھنٹوں کے طویل سفر کے بعد اُس نے رات کی تاریکی میں نیویارک میں موجود اپنے گھر کا دروازہ کھولا اور بستر پر آکر اوندھے منہ لیٹ گیا کہ صبح کام پر پہنچنا تھا۔ اُس نے بمشکل تمام 6 بجے کا الارم لگایا۔
صبح اُس کی آنکھ 11 بجے کھلی، وہ کافی دیر تک حیران و پریشان گھڑی کو دیکھتا رہا، اُس نے چھلانگ مار کر بستر سے اٹھنے کی کوشش کی مگر یہ کیا، وہ تو اپنے آپ کو ایک انچ بھی نہ ہِلا پایا۔ اُس نے گھبراہٹ میں چیخنا چاہا مگر کوئی آواز نہ نکل سکی۔
رات کے کسی پہر جب وہ خوابوں میں دنیا فتح کررہا تھا تو قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اُسے فالج کا اٹیک ہوا اور صبح تک اُس کا جسم، اُس کا چہرہ اور تمام عضلات کسی بھی قسم کی حرکت سے معذور ہوچکے تھے۔ اُس کا دماغ کچھ کچھ کام کر رہا تھا مگر اُسے بڑی مشکل پیش آرہی تھی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ وہ کون ہے؟ اُس کا نام کیا ہے؟ بیوی بچے، ماں باپ کون ہیں؟ وہ سب کچھ بھولتا چلا جارہا تھا۔ یاداشت کا کھونا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی قسطوں میں خود کشی کرے۔ ہلکے ہلکے، رفتہ رفتہ، مدھم مدھم وہ تمام لوگ جن کے ہونے کو ہم زندگی کہتے ہیں دماغ سے رخصت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دل میں رہتے ہیں مگر دل تو احساسات کا مجموعہ ہے۔ شکل کو نام اور صفات تو دماغ دیتا ہے۔
مسٹر صدیقی کو بستر پر پڑے پڑے آج تیسرا روز تھا۔ موبائل فون تو اُس دور میں ہوتے نہیں تھے اور اگر ہوتے بھی تو وہ کون سے اِس قابل تھے کہ وہ ہاتھ ہِلا سکتے۔ گھر میں موجود فون بجتا رہا، کبھی آفس والے کال کرتے تو کبھی پاکستان میں گھر والے۔
اتنی بے بسی تو شاید مُردوں کو بھی نہ ہوئی ہوگی کہ انہیں کم از کم اِس بات کا تو سکون ہوتا ہوگا کہ وہ مرچکے ہیں۔ مرنا کتنی بڑی نعمت ہے انہیں آج سمجھ آرہا تھا۔
چوتھا دن، پانچواں دن اور آج چھٹا دن، غلطی سے آج ڈاکیا دروازہ کھلا دیکھ کر مسٹر صدیقی کو ہیلو ہائے کرنے آگیا کہ اُن کے اخلاق اچھے تھے اور وہ ہمیشہ ڈاکیے کو دیکھتے تو حال احوال پوچھتے۔
ڈاکیے نے کھلی آنکھوں مگر ساکت جسم کو دیکھا تو 911 پر ایمرجنسی کال کردی۔ وہ آئے اور اٹھا کر لے گئے۔ اگلے 9 ماہ صدیقی صاحب کومے میں رہے۔ وہاں سے ہوش آیا تو کینٹکی کے ایک ہاس پائس ری ہیبیلی ٹیشن سنیٹر میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں ایسے لوگوں کو رکھا جاتا تھا جن کا واحد علاج خود موت ہوتی تھی۔ دن، ہفتے، مہینے اور سال گزرتے چلے گئے۔
بیوی نے سمجھا کہ ’کسی اور‘ کے ساتھ گھر بسالیا اور اسے بھول گئے، اُس نے بھی کہیں اور شادی کرلی۔
بہن بھائیوں اور رشتہ داروں نے سمجھا کہ پیسے کی ہوس نے تمام رشتے ناطے توڑنے پر مجبور کردیا۔
باپ نے سمجھا کہ بیٹا امریکی زندگی میں مصروف ہوگیا اور گھر والوں کی خیریت لینے کا وقت نہیں ہے، وہ ناراض ہوگیا اور اُسی ناراضگی میں کچھ سالوں بعد باپ کا انتقال ہوگیا۔
ماں پھر ماں ہوتی ہے، وہ آخری وقت تک انتظار کرتی رہی کہ ایک دن اُس کا بیٹا ضرور واپس آئے گا۔ اُس نے مرتے وقت بھی وصیت کردی کہ جب بیٹا آئے تو اُس کی قبر پر ضرور لے آئیں۔
آج اِس واقعے کو 33 سال اور 4 ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ مسٹر صدیقی (کوئی اُن کا پورا نام نہیں جانتا) آج بھی بولنے کی سکت نہیں رکھتے مگر تھوڑا بہت کھا پی سکتے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے اِس سینٹر میں ایک پاکستانی آتا ہے، اُس کا نام شاہد ہے۔ شاہد انہیں دیکھتا تو اسے شک گزرتا کہ یہ پاکستانی ہیں مگر ایک کلین شیو بوڑھے کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بول تو وہ سکتے نہیں تھے۔
آج مسٹر شاہد کو ایک ترکیب سوجھی، وہ گھر سے پاکستانی چکن بریانی لے گئے اور مسٹر صدیقی کے سامنے رکھ دی۔
مسٹر صدیقی کے پورے جسم میں صرف آنکھیں بولتی تھیں، آج تو جیسے وہ ابل پڑیں۔ نرس چمچ سے بریانی آہستہ آہستہ منہ میں ڈالتی جاتی مگر اتنے آنسو اس میں مل جاتے کہ اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا کہ چمچ میں چاول کی مقدار زیادہ ہے یا آنسوؤں کی۔
یہ آنسو اِس بات کا ثبوت تھے کہ بندہ یا تو پاکستانی ہے یا انڈین۔ شاہد نے مریض کو گلے لگالیا اور دونوں نجانے کتنی دیر تک روتے رہے۔
اگلے 6 ماہ میں شاہد نے سب پتہ لگالیا کہ یہ شخص کون ہے مگر اب 33 سالوں بعد فیملی کی تلاش ایک بڑا مسئلہ تھا۔
اُس نے اُن کی تصاویر کھینچ کر فیس بک پر لگادیں۔ دو ہی ہفتوں میں اُن کا مسٹر صدیقی کی گزشتہ بیوی اور بہن سے رابطہ ہوگیا۔
اِس ہفتے مسٹر صدیقی اپنی بہن سے امریکہ کے ایک اسپتال میں ملے۔ نہ کچھ بول سکے اور نہ ہاتھ ہلا سکے، ہاں مگر آنسو تو کم بخت ہیں فالج میں بھی نکل آتے ہیں۔
آج رات شاہد سوچ رہا تھا کہ آدمی غرور و تکبر کس بات کا کرے؟ چلتے ہوئے نظام میں سے قدرت نے ایک آدمی کو بِناء موت کے 33 سال کیلئے نکال کر باہر رکھ دیا۔ وہ جو سمجھتا تھا کہ اگر وہ کام نہ کرے تو کھائے گا کہاں سے؟ اُسے بھی بٹھا کر، بلکہ لٹا کر 33 سال کھلاتے رہے۔ صرف بندہ اپنے آپ کو دیکھ لے۔ اُن تمام بیماریوں کا اندازہ کرلے جو اپنے جسم میں ساتھ لے کر چلتا ہے اور اُن میں سے کوئی نکل پڑی تو وہ کہیں کا نہیں رہے گا تو غرور و تکبر آنسو بن کر بہہ جاتے ہیں۔.
🔲 *┄┅═══❁﷽❁═══┅┄*🔲
*ایک بار درودشریف پڑھ لیں*
26/11/2023
❤️امریکہ کے ایک پچپن سالہ آدمی کو ایک کالا جادو کرنے والے نے بد دعا دی کہ تم جلد مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا. "*
" دن بدن آدمی کی حالت بگڑتی گئی یہاں تک کہ اس کا تیس کلو وزن کم ہو گیا. "
"اسے ہسپتال لے کر گئے, تمام رپورٹس کلئیر تھیں. جس ڈاکٹر کو اس کا کیس دیا گیا اس نے اس مریض کی بیوی سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا کچھ ایسا ہے جو اس سب کی وجہ ہے؟
اس نے بتایا کہ ایک کالے علم والے نے اسے موت کی بد دعا دی تھی۔ ڈاکٹر نے اگلے دن نرس سے ایک انجیکشن لانے کو کہا. اور مریض کو بتایا کہ میں اس کالا جادو کرنے والے سے ملا ہوں اسے پولیس کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے تم پر چھپکلی کے انڈے پھینکے تھے ان میں سے ایک چھپکلی تمہارے جسم میں ہے اور اندر سے تمہیں ختم کر رہی ہے. اس انجیکشن سے تمہیں الٹی آئے گی. اور وہ چھپکلی باہر آجائے گی."
" آدمی کو الٹی آئی اور ڈاکٹر نے آنکھ بچا کر اس میں چھپکلی ڈال دی. اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ آدمی ٹھیک ہوتا چلا گیا اور لمبی زندگی جیا. "
قصہ مختصر.......
" ہم بیماریوں سے نہیں مرتے ہم اپنے دماغ کے ہاتھوں مرتے ہیں, یہ ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے. اسی لیے ایک آدمی جب لیور کینسر سے مرا تو اس کے پوسٹمارٹم میں پتا چلا وہ ٹیومر تو بہت چھوٹا تھا, اور پھیل بھی نہیں رہا تھا. وہ آدمی اس لیے مرا کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کینسر سے جلد مر جائے گا. "
بات کرتے ہیں عادات کی....
فرض کریں...
مجھ سے صبح اٹھا نہیں جاتا. یعنی دیر تک سونے کی عادت....
" تو بتاؤ میں کیسے اپنی یہ عادت بدلوں. "
کچھ کہیں گے کہ " کچھ دن جلدی اٹھنے کی کوشش کریں, عادت بن جائے گی. "
" کتنے دن؟ "
" کچھ لوگ کہتے ہیں اکیس دن اور کچھ کے مطابق ساٹھ دن لگتے ہیں عادت بدلنے میں. "
" اور مجھے لگتا ہے ہم ایک لمحے میں اپنی عادت بدل سکتے ہیں. "
" اگر ول پاور اسٹرانگ ہو تو ہم آج ہی اپنی عادت بدل سکتے ہیں."
" ہم اپنی ول پاور اسٹرانگ کرتے ہیں. کرنا ہے تو بس کرنا ہے. لیکن پہلے دیکھنا ہے کہ عادت بدلنے کا کوئی فائدہ بھی ہو گا؟ یا ہم یوں ہی خوار ہوں گے؟ "
" اگر میں صبح جلدی اٹھوں تو بہت سے کام کر سکتا ہوں..... سب سے بڑھ کر اپنی امی کی ڈانٹ سے بچ جاؤں گا..
ہر کام کرنے کی وجہ ہوتی ہے, اگر آپ کے پاس وجہ نہیں ہے نا تو آپکو پڑھائی بورنگ لگتی ہے, وجہ ہو تو بورنگ ترین سبجیکٹ بھی ہم ہضم کر جاتے ہیں. تو کیا ہماری اس عادت کی بھی کوئی وجہ ہے ......یا نہیں....
"سکندر اعظم نے پوری دنیا فتح کی تھی. "
" واپس آیا تو ایک درویش نے کہا سکندر تم نے کچھ نہیں کیا زندگی میں, سکندر حیران ہوا کہ میں دنیا فتح کر آیا ہوں اور آپ کہتے ہیں میں نے کچھ نہیں کیا؟ تو درویش بولا سکندر تم میرے غلام کے بھی غلام ہو."
" درویش نے کہا, نفس میرا غلام ہے اور تم نفس کے غلام ہو. "
" مطلب یہ کہ سکندر نے چاہے پوری دنیا فتح کر لی پر اصل جنگ تو انسان کی خود سے ہوتی ہے. اگر وہ خود سے ہی نہیں جیت پاتا تو اس دنیا کا کیا کرنا؟ جب ہمارا خود پر ہی بس نہیں چلتا تو دوسروں پر معتبر بن کر کیا کرنا؟ "
ہم کہتے ہیں عادت چھوڑنا آسان نہیں ہے...
" تو کیا ! دنیا جیتنا آسان تھا؟
ہم کہتے ہیں کہ ہم یہ کام کریں گے مگر کل سے... Decision کا لفظ cease سے ہے مطلب ختم. پیچھے جو ہے اسے ہم اسی لمحے ختم کرتے ہیں. آخری بار, پہلی بار وغیرہ کچھ نہیں ہوتا..
26/11/2023
گھاٹے کے سوداگر
ایک سچی کہانی جو آپکو جھنجھوڑ کے رکھ دے گی۔۔۔!
ہنری کا تعلق امریکہ کے شہر سیاٹل سے تھا وہ مائیکرو سافٹ میں ایگزیکٹو منیجر تھا۔ اس نے 1980ء میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا اور اس کے بعد مختلف کمپنیوں سے ہوتا ہوا مائیکرو سافٹ پہنچ گیا.
مائیکرو سافٹ اس کے کیرئیر میں ’’ ہیلی پیڈ ‘‘ ثابت ہوئی اور وہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتا گیا ، وہ 1995ء میں کمپنی میں بھاری معاوضہ لینے والے لوگوں میں شمار ہوتا تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا تھا جب تک ہنری کسی سافٹ وئیر کو مسکرا کر نہ دیکھ لے مائیکرو سافٹ اس وقت تک اسے مارکیٹ نہیں کرتی ، ہنری نے کمپنی میں یہ پوزیشن بڑی محنت اور جدوجہد سے حاصل کی تھی وہ دفتر میں روزانہ 16 گھنٹے کام کرتا تھا ، وہ صبح 8 بجے دفتر آتا تھا اور رات بارہ بجے گھر جاتا تھا.
ہنری کا ایک ہی بیٹا تھا ، ہنری دفتری مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے کو زیادہ وقت نہیں دے پاتا تھا ، وہ جب صبح اٹھتا تھا تو اس کا بیٹا سکول جا چکا ہوتا تھا اور وہ جب دفتر سے لوٹتا تھا تو بیٹا سو رہا ہوتا تھا ، چھٹی کے دن اس کا بیٹا کھیلنے کے لیئے نکل جاتا تھا جبکہ ہنری سارا دن سوتا رہتا تھا.
1998ء میں سیاٹل کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے ہنری کا انٹرویو نشر کیا ، اس انٹرویو میں ٹیلی ویژن کے میزبان نے اعلان کیا کہ ’’ آج ہمارے ساتھ سیاٹل میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی شخصیت بیٹھی ہے‘‘ کیمرہ میزبان سے ہنری پر گیا اور ہنری نے فخر سے مسکرا کر دیکھا ، اس کے بعد انٹرویو شروع ہو گیا ، اس انٹرویو میں ہنری نے انکشاف کیا وہ مائیکرو سافٹ سے 500 ڈالر فی گھنٹہ لیتا ہے.
یہ انٹرویو ہنری کا بیٹا اور بیوی بھی دیکھ رہے تھے انٹرویو ختم ہوا تو ہنری کا بیٹا اٹھا ، اس نے اپنا ’’ منی باکس‘‘ کھولا ، اس میں سے تمام نوٹ اور سکے نکالے اور گننا شروع کر دیئے ، یہ ساڑھے چار سو ڈالر تھے ، ہنری کے بیٹے نے یہ رقم جیب میں ڈال لی ، اس رات جب ہنری گھر واپس آیا تو اس کا بیٹا جاگ رہا تھا ، بیٹے نے آگے بڑھ کر باپ کا بیگ اٹھایا ، ہنری نے جھک کر بیٹے کو پیار کیا ، بیٹے نے باپ کو صوفے پر بٹھایا اور بڑی عاجزی کے ساتھ عرض کیا ؛
’’ ڈیڈی کیا آپ مجھے پچاس ڈالر ادھار دے سکتے ہیں ‘‘
باپ مسکرایا اور جیب سے پچاس ڈالر نکال کر بولا ’’ کیوں نہیں میں اپنے بیٹے کو ساری دولت دے سکتا ہوں ‘‘
بیٹے نے پچاس ڈالر کا نوٹ پکڑا ، جیب سے ریزگاری اور نوٹ نکالے ، پچاس کا نوٹ ان کے اوپر رکھا اور یہ ساری رقم باپ کے ہاتھ پر رکھ دی ، ہنری حیرت سے بیٹے کو دیکھنے لگا ، بیٹے نے باپ کی آنکھ میں آنکھ ڈالی اور مسکرا کر بولا ’’ یہ پانچ سو ڈالر ہیں ، میں ان پانچ سو ڈالروں سے سیاٹل کے سب سے امیر ورکر سے ایک گھنٹہ خریدنا چاہتا ہوں ‘‘ ہنری خاموشی سے بیٹے کی طرف دیکھتا رہا ، بیٹا بولا ’’ میں اپنے باپ سے صرف ایک گھنٹہ چاہتا ہوں ، میں اسے جی بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں ، میں اسے چھونا چاہتا ہوں ، میں اسے پیار کرنا چاہتا ہوں ، میں اس کی آواز سننا چاہتا ہوں ، میں اس کے ساتھ ہنسنا ، کھیلنا اوربولنا چاہتا ہوں ،
"ڈیڈی کیا آپ مجھے ایک گھنٹہ دے دیں گے ، میں آپ کو اس کا پورا معاوضہ دے رہا ہوں.
ہنری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، اس نے بیٹے کو گلے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا ۔ ہنری نے 1999ء میں
’’ فیملی لائف ‘‘ کے نام سے ایک آرٹیکل لکھا ، مجھے یہ مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا ، اس مضمون میں اس نے انکشاف کیا دنیا میں سب سے قیمتی چیز خاندان ہوتا ہے ، دنیا میں سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑا اطمینان ہماری بیوی اور بچے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ انہیں سب سے کم وقت دیتے ہیں ، ہنری کا کہنا تھا دنیا میں سب سے بڑی بے وفا چیز ہماری نوکری ، ہماراپیشہ اور ہمارا کاروبار ہوتا ہے ، ہم آج بیمار ہو جائیں ، آج ہمارا ایکسیڈنٹ ہو جائے تو ہمارا ادارہ شام سے پہلے ہماری کرسی کسی دوسرے کے حوالے کر دے گا ، ہم آج اپنی دکان بند کر دیں ہمارے گاہک کل کسی دوسرے سٹور سے خریداری کر لیں گے ، آج ہمارا انتقال ہو جائے تو کل ہمارا شعبہ ، ہمارا پیشہ ہمیں فراموش کر دے گا لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ دنیا کی سب سے بڑی بےوفا چیز کو زندگی کا سب سے قیمتی وقت دے دیتے ہیں ، ہم اپنی بہترین توانائیاں اس بے وفا دنیا میں صرف کر دیتے ہیں اور وہ لوگ جو ہمارے دکھ درد کے ساتھی ہیں جن سے ہماری ساری خوشیاں اور ہماری ساری مسرتیں وابستہ ہیں اور جو ہمارے ساتھ انتہائی وفادار ہوتے ہیں ہم انہیں فراموش کر دیتے ہیں ، ہم انہیں اپنی زندگی کا انتہائی کم وقت دیتے ہیں۔‘‘
ہنری کی کہانی نے مجھے زندگی کا ایک دوسرا پہلو دکھایا ، مجھے محسوس ہوا ہماری زندگی میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، ایک وہ لوگ جن کے لیئے ہمارا وجود معمول کی چیز ہوتا ہے ، جو ہمیں مشین کی طرح سمجھتے ہیں ، جن کی نظر میں ہم محض ایک کارکن ہیں ، جو ہمیں میز ، کرسی ، ٹیبل لیمپ ، گاڑی ، قلم ، کاغذ ، ٹشو پیپر ، کھڑکی اور دروازے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور جو ہمارے بارے میں کہتے ہیں
’’ استعمال کرو ، پھینکو اور بھول جاؤ ‘‘
جبکہ دوسری قسم کے لوگ ہمیں اپنے وجود ، اپنی دھڑکنوں اور اپنی سانسوں کا حصہ سمجھتے ہیں ، وہ ہمارے لیئے تکلیف برداشت کرتے ہیں ، وہ ہمارے لیئے ظلم سہتے ہیں ، وہ راتوں کو جاگ کر ہمارا انتظار کرتے ہیں ، وہ ہمارے وعدوں کو آسمانی تحریر سمجھتے ہیں اور جن کی نظر میں ہمارا ایک ایک لفظ مقدس اور پاک ہوتا ہے اور جو ہمارے اصل ساتھی ہوتے ہیں ، میں نے سوچا بدقسمتی سے ہم لوگ پہلی قسم کے لوگوں کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ دے دیتے ہیں ، ہم لوگ زندگی بھر دوسری قسم کے لوگوں کو فراموش کر کے پہلی قسم کے لوگوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں ، ہم بےوفا لوگوں سے وفاداری نبھاتے رہتے ہیں اور وفاداروں سے بے وفائی کرتے رہتے ہیں ۔
میں نے کسی جگہ امریکہ کے ایک ریٹائر سرکاری افسر کے بارے میں ایک واقعہ پڑھا تھا
اس افسر کو وائٹ ہاؤس سے فون آیا کہ فلاں دن صدر آپ سے ملنا چاہتے ہیں ، اس افسر نے فوراً معذرت کر لی ، فون کرنے والے نے وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا
’’ میں اس دن اپنی پوتی کے ساتھ چڑیا گھر جا رہا ہوں‘‘
یہ جواب سن کر فون کرنے والے نے ترش لہجے میں کہا
’’ آپ چڑیا گھر کو صدر پر فوقیت دے رہے ہیں‘‘
ریٹائر افسر نے نرمی سے جواب دیا
’’ نہیں میں اپنی پوتی کی خوشی کو صدر پر فوقیت دے رہا ہوں‘‘
فون کرنے والے نے وضاحت چاہی تو ریٹائر افسر نے کہا
’’ مجھے یقین ہے میں جوں ہی وہائٹ ہاؤس سے باہر نکلوں گا تو صدر میرا نام اور میری شکل تک بھول جائے گا جبکہ میری پوتی اس سیر کو پوری زندگی یاد رکھے گی ، میں گھاٹے کا سودا کیوں کروں ، میں یہ وقت اس پوتی کو کیوں نہ دوں جو اس دن ، اس وقت میری شکل اور میرے نام کو پوری زندگی یاد رکھے گی ، جو مجھ سے محبت کرتی ہے ، جو اس دن کیلئے گھڑیاں گن رہی ہے‘‘
میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کر کے دیر تک سوچتا رہا ، ہم میں سے 99 فیصد لوگ زندگی بھر گھاٹے کا سودا کرتے ہیں ، ہم لوگ ہمیشہ ان لوگوں کو اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحات دے دیتے ہیں جن کی نظر میں ہماری کوئی اوقات ، ہماری کوئی اہمیت نہیں ہوتی ، جن کیلئے ہم ہوں یا نہ ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا ، جو ہماری غیر موجودگی میں ہمارے جیسے کسی دوسرے شخص سے کام چلا لیتے ہیں ، میں نے سوچا ہم اپنے سنگدل باس کو ہمیشہ اپنی اس بیوی پر فوقیت دیتے ہیں جو ہمارے لیئے دروازہ کھولنے ، ہمیں گرم کھانا کھلانے کے لیئے دو ، دو بجے تک جاگتی رہتی ہے ، ہم اپنے بے وفا پیشے کو اپنے ان بچوں پر فوقیت دیتے ہیں جو مہینہ مہینہ ہمارے لمس ، ہماری شفقت اور ہماری آواز کو ترستے ہیں ، جو ہمیں صرف البموں اور تصویروں میں دیکھتے ہیں ، جو ہمیں یاد کرتے کرتے بڑے ہوجاتے ہیں اور جو ہمارا انتظار کرتے کرتے جوان ہو جاتے ہیں لیکن انہیں ہمارا قرب نصیب نہیں ہوتا ، ہم انہیں ان کا جائز وقت نہیں دیتے.
پھر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہم سب گھاٹے کے سوداگر ہیں ۔۔۔!!
شام کی خصوصی پیشکش اور
قابل توجہ داستان جو آپکی زندگیوں میں نمائیاں
تبدیلی کی حامل ہو گی!..
کاپی ......
26/11/2023
🌺*ایک دفعہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ*🌺
اپنے خاص مریدین سے مخاطب تھے خاص مریدین جوکہ درجہ کمال کو پہنچ چکے تھے دوران گفتگو بابا جی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ شہر ہرات میں ایک بزرگ رہتے تھے
جن کا کاروبار سالن بنا کر بیچنا تھا حسب معمول وہ سالن کی دیگ بنا کر گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے سالن طلب کیا بزرگوں نے دے دیا بدلے میں اس عورت نے بابا جی کو بطور قیمت کھوٹا سکہ دیا بابا جی نے بغیر اس عورت پر ظاہر کیئے کہ مجھے کھوٹے کھرے کی پہچان ہے کہ نہیں غلے میں سکہ رکھ دیا اور خاموش ہوگئے
اب اس عورت نے گاؤں کی ساری عورتوں کو بتایا کہ فلاں جگہ پر ایک بابا جی ہیں انکو کھوٹے سکے کی پہچان نہیں ہے پھر اور عورتیں اور لوگ آئے بابا جی سے سالن طلب کرتے اور بدلے میں کھوٹے سکے دے کر چلے جاتے بابا جی بھی بغیر کچھ بولے قبول کرتے اور سالن دے دیتے
کچھ روز بابا جی بیمار ہوگئے اور ان کا پتہ لینے کے لیئے گاؤں کے کچھ لوگ آئے بابا جی نے فرمایا کہ مجھے مصلہ بچھا دو جب ایسا کیا گیا تو بابا جی اٹھے اور اپنے سامنے مصلے پے کھوٹے سکوں کی تھلیاں بھی رکھ دی اور یوں اللہ کے آگے عرض کرتے ہیں کہ باری تعالی تیری مخلوق کھوٹے سکے لے کر آتی رہی میں قبول کرتا رہا اے پیکر حق یا رب آج میرا وقت آخر ہے
تو بھی میری کھوٹی نمازیں کھوٹے روزے کھوٹے سجدے قبول فرما تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہاں مکان کے درو دیوار کاپنے لگے اور آواز آئی کہ قبول کی تمہاری دعا
درگزر کیا تمھارا حساب اور جنت میں نبیوں اور صدیقوں کا پڑوسی کیا
*بحوالہ*
راحت القلوب فوائد الفواد
26/11/2023
🌺ایک خوبصورت تحریر۔۔۔۔۔۔🌺
مصر کے ایک مشہور بزرگ شرف الدین بوصیری گزرے ہیں
انہوں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھلی
جیسا کہ والدین بچوں کو سکولوں مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجتے ہیں اسی طرح بوصیری کو بھی والدین نے مدرسے بھیجنا شروع کیا
اور جلد ہی آپ نے قرآن پاک حفظ کر لیا
اس کے بعد آپکے والد صاحب کی خواہش تھی کہ اب آپ کچھ کام کاج کریں تا کہ گھر سے غربت کا خاتمہ ہو
جبکہ بوصیری ابھی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک زیادہ روشن مستقبل چاہتے تھے۔۔گھر میں باپ بیٹے کے درمیان کھینچا تانی شروع ہو گئی
آخر کار بوصیری نے اپنی والدہ کو اپنے ساتھ ملا کے والد سے مزید پڑھنے کی اجازت لے لی
اس کے بعد آپ نے تجوید، فقہ اور باقی ضروری مضامین کو پڑھا اور بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا
اس وقت تک آپ ایک دنیادار شخص تھے اور مادی کامیابیوں کو ہی ترجیح دیتے تھے
آپ غربت سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔۔شاعری کا وصف آپ کو اللہ کی طرف سے ودیعت کیا گیا تھا
اب آپ بادشاہوں کی شان میں قصیدے بھی لکھتے تھے اور نئے شعراء کی اصلاح بھی کیا کرتے تھے۔درس و تدریس سے بھی منسلک تھے
ایک دن آپ گھر سے باہر کہیں جا رہے تھے جب ایک شخص نے اپکو روک کے آپ سے پوچھا
کبھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زیارت ہوئی؟؟
اس شخص کا یہ سوال کرنا امام بوصیری کی زندگی کو بدلنے کا سبب بن گیا
اب امام بوصیری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا بغور مطالعہ شروع کر دیا
آپ جوں جوں مطالعہ کرتے جارہے تھے آپ کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھتی جا رہی تھی
جوں جوں وقت گزر رہا تھا آپ کے دل میں نبی آخر الزماں محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی تڑپ بڑھتی جا رہی تھی
اسی دوران میں انہیں فالج کا حملہ ہوا اور یہ صاحب فراش ہو گئے۔اسی حالت میں پندرہ سال گزر گئے
وہ بادشاہ جن کے قصیدے امام بوصیری لکھتے تھے انہوں نے پلٹ کے نہ پوچھا
آپ بہت دل گرفتگی کے عالم میں ایک رات لیٹے ہوئے تھے۔جب آپ نے سوچا کہ زندگی بھر دنیا کے بادشاہوں کے قصیدے لکھے آج کیوں نہ ان کا قصیدہ لکھوں جن کے سامنے ان بادشاہوں کی کوئی اوقات نہیں
جب ٹوٹے ہوے دل سے ، سچی محبت کے ساتھ الفاظ نکلے تو وہ اس بارگاہ میں مقبول ہوگئے جس کے بعد وہ الفاظ امر ہو گئے
اس سے پہلے بھی امام بوصیری نے عرب کے صحراؤں پہ، صحراؤں کے خیموں پہ اور خوش جمال چہروں پہ شاعری لکھی
لیکن اس رات وہ اس بدرالدجی،شمس الضحی کی شان بیان کر رہے تھے جن کی خاطر رب نے اس دنیا اور اسکی ہر چیز کو تخلیق فرمایا۔ میرا ایمان یہ ہے کہ یہ کلام بھی رب کی ہی دین ہے اور وہی رب ہی اسے انسان پہ اتارتا ہے
جب آپ قصیدہ لکھ چکے تو آپ نے قلم دوات رکھی اور سو گئے
اسی رات آپ نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں ہیں اور فرمایا کہ
اٹھ بوصیری،،
امام بوصیری نے کہا
،، میں ہزار جانوں سے قربان لیکن کیسے اٹھوں،،
کیونکہ وہ فالج زدہ تھے اور اٹھنے سے قاصر تھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست شفقت ان کے جسم پہ پھیرا اور فرمایا
،،اٹھ اور مجھے وہ سنا جو تو نے لکھا،،
امام بوصیری اٹھ بیٹھے اور جھوم جھوم کے سنا رہے
مولا یا صلی وسلم۔۔۔ دایما ابا دا
اے اللہ۔ آپ دائمی اور ابدی سلامتی بھیجئے اپنے محبوب پہ
میری آنکھیں آپ کی یاد میں آنسو بہا رہی ہیں اور رواں دواں ہیں
مدینہ پاک سے ٹھنڈی ہوا آرہی ہے۔اندھیری رات میں بجلی چمک رہی ہے
میرے عشق کا تذکرہ لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب میرا راز محبت بھی نہیں چھپ سکتا اور نہ ہی میرا مرض ختم ہو گا
تیری محبت کی، میرے آنسو اور میری بیماری گواہی دے رہے ہیں۔میں اپنے عشق کو کیسے چھپا سکتا ہوں
اے دل۔ اگر تو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عاشق نہیں تو مکہ کو دیکھ کے آنسو کیوں بہاتا ہے
کیا محبت میں رونے والا عاشق خیال کرتا ہے کہ بہتے آنسوؤں اور سوختہ دل کی آڑ میں محبت کا راز چھپا پاے گا
تیری آنکھوں کو کیا ہوا ہے کہ تو انہیں آنسو روکنے کیلئے کہتا ہے اور یہ بہائے جا رہی ہیں
تیرے دل کو کیا ہو گیا ہے کہ سنبھلنے کی بجاے مزید غمناک ہو رہا ہے
جب رات مجھے محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) کا خیال آیا تو میں رات بھر جاگتا رہا۔
درد محبت نے میرے چہرے پہ آنسو اور رخساروں پہ زردی پیدا کر دی ہے
اے غریبوں کا خیال رکھنے والے
اے دل گیروں کی دلجوئی کرنے والے
اے مظلوموں کا ہاتھ پکڑنے والے
اے سچ کہنے والے
سے گناہگاروں کا پردہ رکھنے والے
اے ازل کا نور
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔آپکے منہ میں آپ کے دانت ایسے ہیں جیسے سیپ کے اندر قیمتی موتی
اے اللہ آپ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پہ ابدی اور دائمی سلامتی نازل فرمائیں
اب امام بوصیری جھوم جھوم کے پڑھ رہے ہیں اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی محبت کو قبول فرماتے ہوئے ان کے ساتھ سن رہے ہیں
جب قصیدہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوش ہوے کہ انہوں نے اپنی چادر(بردہ) اتار کے انہیں مرحمت فرمائی
اس کے ساتھ ہی انکی آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو چادر ان کے پاس ہی رکھی ہوئی تھی
وقت دیکھا تو تہجد کا وقت تھا
امام بوصیری پندرہ سال کے بعد ہشاش بشاش صحت مند اٹھے ۔ فالج کا کہیں دور دور تک نام و نشان بھی نہیں تھا وضو کیا اور مسجد کا رخ کیا کہ تہجد ادا کریں
گھر سے نکلے تو ایک فقیر نے آواز لگائی
،،ہمیں بھی تو سناؤ وہ قصیدہ،،
امام بوصیری نے تجاہل عارفانہ سے کہا
کونسا؟؟
وہی جس کے بدلے یہ بردہ بھی ملا
مجذوب نے چادر کی طرف اشارہ کیا اور آنکھوں سے اوجھل ہو گیا
اس قصیدے میں 100 سے اوپر اشعار ہیں اور کسی شعر میں لفظ ،، بردہ،، استعمال نہیں ہوا
لیکن جو چادر آپ کو دی گئی اس کی مناسبت سے اس کا نام قصیدہ بردہ شریف زبان زد خاص و عام ہوا
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو شرف قبولیت سے نوازا تو آج تک اس کا ورد جاری ہے.
25/11/2023
ایک نوجوان حضرت موسی علیہ السلام سے عرض کرنے لگا اے اللہ کے نبی مجھے جانوروں کی زبان سکھا دیجئے ہو سکتا ہے کہ میں حیوانات اور درندوں کی زبان سیکھ کر اللہ تعالی کے دین میں کوئی عبرت حاصل کروں کیونکہ میرے خیال میں انسانوں کی تمام باتیں تو دنیا داری کی باتیں ہیں ہو سکتا ہے جانوروں کی باتوں کا کوئی اور معمول ہو اور ان کی باتیں آخرت کے بارے میں ہوں مجھے یہ زبانیں سیکھنے کا بہت ہی شوق ہے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے بھولے انسان شاید تجھے شیطان نے بہکایا ہے تیرا یہ شوق ٹھیک نہیں وہ نوجوان کہنے لگا آپ اس وقت اللہ تعالی کے نائب ہیں اگر مجھے جانوروں کی زبانیں نہیں سکھائیں گے تو میں مایوس ہو جاؤں گا آپ مجھے سکھا دیں آپ کا اس میں کیا نقصان ہے جب اس نوجوان نے بے حد اصرار کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ سے رجوع کیا اور فرمایا اے اللہ اگر میں اس کو جانوروں کی زبانیں سکھا دوں تو یہ بات اس کے نقصان دہ ہوگی اور اگر نہیں سکھاتا تو اس کا دل برا ہوتا ہے ارشاد باری تعالی ہوا اے موسیٰ اس کو سکھا دو تاکہ اس کو پتہ چلے کہ ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے چنانچہ موسی علیہ السلام نے اس کو جانوروں کی زبانیں سکھا دیں اسی شخص نے اپنے گھر میں ایک کتا اور ایک مرغ پال رکھا تھا ایک دن صبح کے وقت اس نے آزمائش کرنے کی خاطر مرغ اور کتے کی گفتگو سننے کا ارادہ کیا اس کی ملازمہ ںے دسترخوان کو جھاڑا اور اس میں روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا زمین پر گرا مرغ اور کتا دونوں اس روٹی کے ٹکڑے پر جھپٹے مگر مرغ اس کو اچک کر لے گیا کتے نے مرغ سے کہا اے ظالم تو نے مجھ پہ ظلم کیا تو تو گندم کا گرا پڑا دانہ بھی کھا سکتا ہے جبکہ میں زمین پر گرا پڑا گندم کا دانہ نہیں کھا سکتا یہ روٹی کا ٹکڑا جو کہ میری خوراک ہے اس کو بھی تو نے اچک کر کھا لیا یہ روٹی کا ٹکڑا مجھے کھانے دیتا تو تمہارا کیا جاتا اب پتہ نہیں مجھے کھانے کو کچھ ملے یا نہ ملے بھوک سے میرا برا حال ہوا جا رہا ہے مرغ نے کتے کی یہ بات سنی تو کہنے لگا چپ ہو جا غم نہ کر اللہ تعالی اس سے بہتر تجھے کھانے کو خوراک دے گا کل ہمارے آقا کا گھوڑا مر جائے گا تم پیٹ بھر کر اس کا گوشت کھا لینا اس شخص نے جب یہ سنا تو اسی وقت گھوڑا بازار لے جا کر فروخت کر دیا وہ گھوڑا دوسرے دن مر گیا مگر یہ شخص نقصان سے بچ گیا مرغ بیچارہ کتے کے سامنے شرمندہ ہوا کتے نے مرغ سے شکایت کرتے ہوئے کہا اے مرغ تو کس قدر چالاک اور جھوٹا ہے وہ گھوڑا جس کے بارے میں تم نے کہا تھا کل مرے گا اور تم اس کا گوشت جی بھر کے کھانا وہ کہاں ہے مرغ بولا میں جھوٹ نہیں کہتا تھا ہمارے آقا نے اپنا گھوڑا دوسری جگہ فروخت کر دیا اور وہ وہاں جا کر مر گیا اس طرح ہمارا آقا نقصان سے بچ گیا اور اس نے اپنی بلا دوسرے کے سر ڈال دی ہے لیکن کل ہمارے آقا کا خچر مرے گا اور تمہاری عید ہو جائے گی پیٹ بھر کر خچر کا گوشت کھا لینا اس شخص نے ملک کی یہ بات سنی تو فورا خچر کو بھی بازار میں فروخت کر دیا اس طرح اس نقصان سے بھی بچ گیا اگلے دن کتے نے مرغ سے شکوہ کیا کہ اے جھوٹوں کے سردار تو آخر کب تک جھوٹ بولے گا مرغ کہنے لگا فکر نہ کر کل ہمارے آقا کا غلام بیمار پڑے گا اور رات کو مر جائے گا اس کا رشتہ دار اس کے مرنے پر یتیموں اور مانگنے والوں کو روٹیاں دیں گے تجھے بھی کچھ نہ کچھ کھانے کو مل ہی جائے گا جب اس شخص نے یہ سنا تو اسی وقت غلام کو فروخت کر ڈالا اور نقصان سے بچ گیا دل میں بڑا خوش ہوتا تھا اور اٹھکیلیاں کرتا تھا کہ میں تھوڑے ہی دنوں میں تین بڑے بڑے نقصانات سے بچ گیا جب سے میں نے جانوروں کی بولیاں سیکھی ہیں مجھے تو فائدہ ہی فائدہ ہو رہا ہے جب اگلا دن ایا تو کتے نے پھر مرغ سے کہا اے بکواسی مرغ تیرے پاس جھوٹ کے علاوہ کوئی بات ہے مرغ کہنے لگا جھوٹ بولنا ہماری خصلت میں نہیں ہے ہم مرغے تو موذن کی طرح سچ بولنے والے ہیں ہمارے آقا کا غلام مر تو گیا لیکن خریدار کے پاس جا کر مرا اور نقصان خریدار کا ہوا لیکن ہمارا آقا ہے بڑا بے وقوف جو اپنی بلا دوسروں کے سر ڈال رہا ہے اس نے گھوڑا فروخت کر دیا اور وہ گھوڑا خریدار کے پاس جا کر مر گیا پھر اس نے خچر کو بھی بیچ ڈالا اور وہ بھی خریدار کے گھر جا کر مر گیا اسی طرح اس نے اپنا مال بچا لیا حالانکہ ایک نقصان بہت سے نقصانات کا دفعیہ ہوتا ہے یعنی اگر انسان کا کوئی ایک نقصان ہو جائے تو اللہ تعالی انسان کو اس کا بہتر نعم البدل عطا فرما دیتا ہے اگر آقا کا گھوڑا اور خچر اسی گھر میں مرتے تو ہمارے آقا کی جان کا فدیہ ہوتے کیونکہ مال اگر انسان کی جان پر قربان ہو جائے تو وہ نقصان نہیں ہے بلکہ نفع ہی نفع ہے لیکن ہمارے آقا نے اپنے جان پر بلا ڈال کر اپنے مال کو بچایا ہے اور سخت گھاٹے کا سودا کیا ہے اب ہمیں تمہیں ایک اور سچی بات بتاتا ہوں کہ کل کو یقینا ہمارا آقا خود مر جائے گا اور اس کے غم میں جو لوگ اکٹھے ہوں گے گھر والے ان کے لیے گائے ذبح کریں گے اور طرح طرح کے لذیذ کھانے پکائیں گے اس میں تمہیں بھی بہت کچھ کھانے کو مل جائے گا اس شخص نے یہ سنا تو انتہائی تیزی سے دوڑتا ہوا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور خوف کی وجہ سے اس کے چہرے کی رنگت اڑی ہوئی تھی کہنے لگا اے اللہ کے پیغمبر میری مدد فرمائیں بے شک مجھ سے غلطی ہوگئی جو میں نے جانوروں کی بولیاں سیکھنے کا اصرار کیا میں آپ سے معافی مانگتا ہوں مجھے موت کے منہ میں جانے سے بچا لیں موسیٰ علیہ السلام نے اس شخص کی حالت دیکھی تو فرمایا اے بے وقوف اب یہ بات بڑی دشوار ہے کیونکہ آئی ہوئی قضا ٹل نہیں سکتی میں نے تو اس قضا کو اسی دن دیکھ لیا تھا جو تجھ پر آج نازل ہوئی ہے لہذا اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا تمہاری موت واقع ہونا اٹل ہے اور اگلے دن اس شخص کا انتقال ہو گیا..