زندگی تیز، بہت تیز چلی ہو جیسے،
2000 کے بعد پیدا ہونے والی نسل بدقسمتی سے اس لذت، سکون اور محبت سے محروم رہی جو اسی نوے کی دہائی کی جنریشن کو ملی۔
ہم نے زندگی کے اصل رنگ اپنی آخری ہچکیاں لیتے ہوۓ دیکھے اور انہیں الوداع کیا۔
★ ہم نے مٹی کے چولہوں پر کڑتی ہوئی چائے کا بہترین ذائقہ لیا اور مٹی کے برتنوں میں بنتے سالنوں کی مہک سے خود کو لطف اندوز کیا۔
★ ہم نے سکول ڈیسک یا بنچ پر بیٹھ کر ساتھ والے بنچ پر اپنا بستہ رکھ کر کہا کہ یہ جگہ میرے دوست کی ہے یہاں وہ بیٹھے گا.
★ ہم نے نانی اور دادی سے وہ کہانیاں بھی سنی، جن کے حصار میں جوانی تک مبتلا رہے۔
★ ہم نے دو دو روپے جمع کر کے گیندیں خریدی۔ شام دیر تک کرکٹ کھیلا اور گھر لیٹ آنے پر مار بھی کھائی۔
آج محسوس ہوتا ہے کہ کرکٹ میچ کے دوران کوئی ایک بڑا آکر ضرور کہتا تھا کہ مجھے صرف دو گیندیں کھیلنی ہیں، اس کے بعد چلا جاؤں گا۔ اس وقت ہمیں بہت چڑ آتی تھی مگر آج سمجھ آتی ہے کہ وہ دو گیندیں کھیلنے والا کیوں ضد کیا کرتا تھا۔
★ ہم نے مہمانوں کی آمد پر گھر میں جشن کا سا ماحول دیکھا، اور ان کے الوداع ہونے پر ان کی طرف سے محبت کے طور پر ملے دس روپوں کو قارون کے خزانے کے برابر سمجھا۔
★ پھر مہمانوں کی پلیٹ میں بچے ہوئے بسکٹوں پر ہاتھ صاف کیا، جس کا بعض اوقات ازالہ بھی کرنا پڑا😄
★ کلاس روم سے استاد/استانی کے ساتھ کاپیاں اٹھا کر سٹاف روم تک لے جانا اپنے لیے ای اعزاز سمجھا۔
★ کلاس ٹیسٹ کے دوران ایک خالی پیج کے لیے کلاس میں بھیک تک مانگی۔😝
★ کبھی کبھار کسی کی کاپی ہاتھ لگی تو تین چار دن کے ٹیسٹوں کے لیے پیج نکال کر جیب میں ڈال دیے۔
★ ہم نے پڑوس کے گھروں میں سالن دیتے اور لیتے دیکھا۔
★ ہم نے پڑوسیوں کے آئے ہوئے مہمانوں کو اپنے گھر لے آنے کو اپنا اعزاز سمجھا۔
★ ہم صبح اسکول جانے سے پہلے مستنصر حسین تارڑ کا پروگرام دیکھا، جس میں کارٹون ختم ہوتے ہی اسکول کی طرف دوڑ لگائی۔
★ ہم نے ففٹی ففٹی، آغوش، جانگلوس، سورج کے ساتھ ساتھ، اندھیرا اجالا، باادب با ملاحظہ ہوشیار، عینک والا جن، دھواں، گیسٹ ہاوُس وغیرہ جیسے نایاب ڈرامے دیکھے۔۔۔
★ ہم نے پنک پینتھر، وڈی وڈ پیکر، سیسم اسٹریٹ، مینیمل، نائٹ رائیڈر، ائیر وولف، چپس جیسے پروگرام دیکھے۔۔۔
★ جمعے والے دن بیگ میں آدھی کتابوں کو رکھتے وقت کی خوشی محسوس کی۔
★ ہم نے آخری پیریڈ کے دوران چھٹی کے لیے بجتی ہوئی گھنٹی کے لیے وہ بے تابی کا مزہ لیا۔
★ نوے فیصد لوگوں نے ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کلاس روم سے چاک چوری نہ کیا ہو۔
★ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ گھر جاتے راستے میں آنے والے کسی پھلدار پودے پر پتھر مار کر پھل نہ کھائے ہوں۔ یہ الگ بات تھی کہ اکثر اوقات پھلوں کے ساتھ مالکان کی طرف سے بہت کچھ سننے کو ملا، مگر ہم نے پرواہ نہیں کی اور درگزر فرمایا اور دوسرے دن پھر وہی روایت جاری رکھی۔😝
★ ہمارے سکول دور میں امیر وہی سمجھا جاتا تھا جس کے پاس جومیٹری بکس ہوتا تھا۔
★ پانی کے لیے ایک بوتل جو اکثر کاندھوں پر لٹکائی جاتی تھی اور جو ٹفن میں گھر سے کھانا لے آتا تھا۔ ہاں یہ الگ بات تھی کے ہمارے ہوتے ہوئے وہ کھانا اسے کبھی کبھار ہی نصیب ہوتا تھا😝
گلاب لمحوں کے مخمل پر کھیلتے بچپن،
پلٹ کے آ، میں تجھ سے شرارتیں مانگوں،
★ ٹیچر کی غیر حاضری کے لیے مانگی ہوئی دعا بہت کم ہی قبول ہوتی تھی، اکثر راہ سے واپس آجاتی تھی، ۔
★ فارغ پریڈ میں ہم اکثر اپنے اجداد کی بڑائی بیان کرتے ہوئے خود سے بنائے گئے قصے سنایا کرتے تھے۔
★ کبھی ہاتھوں کے ناخنوں کی وجہ سے اسمبلی میں مار نہیں کھائی، جیسے ہی چیکینگ شروع ہوتی دانتوں سے فوراً ناخنوں کا صفایا کر دیتے تھے۔😝
★ جوتوں کی پالش چیک ہوتی تو ایک جوتا دوسری ٹانگ کی پنڈلی کے پیچھے رگڑ کر صاف کر لیا کرتے تھے۔۔
★ ہماری امیدیں بھی بہت ٹوٹی ہیں۔۔ اکثر رات کو ہوتی بارش میں سکون سے سوتے تھے ک9 کل صبح بارش ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جائیں گے مگر صبح اٹھتے ہی نکلی ہوئی دھوپ دیکھتے تھے اور ایسے دیکھتے جیسے کوئی معجزہ ہو گیا ہو۔😭😭 اس ٹوٹتی امید کا دکھ کسی ماتم کے دکھ سے کم نہیں ہوتا تھا۔
★ ہم راستے میں بیٹھتے تو بیگ جھولی میں رکھتے تھے، نیچے نہیں۔ ہم ڈرتے تھے کہ اس میں اسلامیات کی کتاب ہوتی ہے۔
★ ہم بازار میں کہیں اگر جاتے اور وہاں کسی ٹیچر پر نظر پڑھ جاتی تو واپس بھاگتے ہوئے یہ بھی بھول جاتے تھے کہ بازار آئے کس لیے تھے۔
★ ہم نے گرمیوں کی دوپہر میں نیند نہ آنے کے باوجود بھی مجبوراً سونے کی اکٹینگ کی جو کسی بڑی اذیت سے کم نہ ہوتی تھی
★ہم نے احترام دیکھا، خلوص، محبت، بھائی چارہ اور ہمدردی دیکھی۔
★ ہم نے لوگوں کے لوگوں کے ساتھ دعوے اور رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی
★ ہم نے کچے گھروں پر گرتی ہوئی بارش کے پہلے قطروں سے مٹی کی اٹھتی ہوئی خوشبو کو محسوس کیا
★ ہم نے انسان کو انسان کے روپ میں دیکھا۔
★ ہم نے عشاء کے بعد فوراً سونے پر نیند کا مزہ چکھا اور فجر کے بعد پھوٹتی روشنی کا نور دیکھا۔
★★★ سچ پوچھو، تو ہم نے عام سے پتھر کو بھی کوہِ نور دیکھا۔۔
اس تحریر میں جو کمی رہ گئی ہو آپ اسے کمنٹس سیکشن میں اپنے الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں
AM Future Consultants UK
Get Free Assessment by our UK based immigration and student visa consultant ✆ Whatsapp 004478874
چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرین تقدس کے نگین ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ “والفجر” کی آیات کے اَمیں ہیں
گیسُو ہیں کہ “وَاللَّیل” کے بکھرے ہوئے سائے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
کیا ذہن میں آئے کہ تو اُترا تھا کہاں سے ؟
کیا کوئی بتائے تِری سرحد ہے کہاں تک ؟
پہنچی ہے جہاں پر تِری نعلین کی مٹی
خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک
سوچیں تو خدائی تِری مرہونِ تصوّر
دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جُدا ہے
یہ کام بشر کا ہے نہ جبریل کے بس میں
تو خود ہی بتا اے میرے مولا کہ تو کیا ہے ؟
💚💚💚
🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰه ﷺ🥀
🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَاحَبِیْبَ اللّٰه ﷺ🥀
🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَا نُوْرَ اللّٰه ﷺ🥀
🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْﷺ🥀🙏🥀🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰه ﷺ🥀
🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَاحَبِیْبَ اللّٰه ﷺ🥀
🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَا نُوْرَ اللّٰه ﷺ🥀
🥀اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْﷺ🥀🙏🥀🌺🌹
Muhammad Izharul Haq
پاکستانی تارکینِ وطن… ایک تجزیہ
پاکستانی تارکینِ وطن کی تین قسمیں ہیں۔ دولت کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے کہ اپنے کلچر‘ اپنی زبان اور اپنی جڑوں کے حوالے سے ان کا کیا کردار ہے۔
پہلی قسم میں وہ تارکینِ وطن ہیں جو ''ہر چہ بادا باد‘‘ کے قائل ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کی آئندہ نسل اپنے آبائی وطن سے‘ اپنی زبان سے یا اپنی تہذیب سے مربوط ہے یا دور ہو رہی ہے۔ یہ بچوں سے انگریزی میں بات کرتے ہیں۔ بچے کیا کر رہے ہیں‘ کہاں جا رہے ہیں‘ کہاں سے آرہے ہیں‘ انہیں اس سے کوئی علاقہ نہیں۔ اس نوع کا کوئی دردِ سر وہ نہیں پالتے۔ زندگی خوش و خرم گزارتے ہیں۔ نوکری یا کاروبار کرتے ہیں۔ اچھا مکان‘ اچھی گاڑی‘ سیرو تفریح‘ سیاحت‘ پارٹیاں‘ یہی ان کی ترجیحات ہیں۔ فخر سے بتاتے ہیں کہ بچہ آکسفورڈ میں ہے یا بیٹی کیمرج میں یا ہاورڈ میں! اگر آپ انہیں کچھ بتانے کی جسارت کریں تو ان کا جواب کچھ اس قسم کا ہوتا ہے کہ ترقی کا یہی راستہ ہے۔ ہم پیچھے کی طرف نہیں جا سکتے۔ اپنی دانست میں وہ درست ہیں۔ ایک بار اپنی جڑوں کا خیال دل سے نکال دیں تو موجاں ہی موجاں! زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ کون جھنجھٹ میں پڑے۔ بہاؤ کے ساتھ بہنے میں آسانی ہے۔ زور نہیں لگانا پڑتا! ذہن پر کوئی دباؤ ہے نہ ٹینشن! ایک تقریب میں ایک صاحب نے اپنے صاحبزادے سے ملوایا۔ بیس بائیس برس کے تھے۔ ان سے اردو میں باتیں کی گئیں۔ وہ ہر بات کا جواب انگریزی میں دیتے۔ ان کے والد محترم سے پوچھا کہ بچوں کے ساتھ کون سی زبان بولتے ہیں۔ انہوں نے ایک شانِ بے نیازی سے جواب دیا کہ انگریزی! حالانکہ میاں بیوی خود آپس میں اردو بولتے تھے۔ مجھے نہیں معلوم ایسے لوگوں کو Vegetable کہنا چاہیے یا نہیں! ایک بار ایک سینئر بیورو کریٹ سے کہا کہ کتنی زیادتی ہے ایوانِ صدر میں چوبدار‘ ویٹر اور بٹلر شیروانی اور پگڑی پہننے پر مجبور ہیں۔ اس کا جواب تھا کہ کیا حرج ہے؟ اچھی تو لگتی ہیں! چنانچہ ضروری نہیں کہ ہر شخص خوبصورت قالین کے نیچے بھی دیکھے!
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہیں احساس تو ہے مگر عملاً کچھ نہیں کر سکتے۔ ان کی قوتِ ارادی کمزور ہے۔ زندگی گزارنے کے دو راستے ہیں۔ ایک ہے زمانہ با تو نسازد‘ تو با زمانہ بساز۔ کہ زمانہ تمہارے طور اطوار نہیں پسند کرتا تو تم مدافعت نہ کرو بلکہ زمانے کے ساتھ نباہ کرو۔ دوسرا فارمولا اس کے اُلٹ ہے۔ بقول علامہ اقبال:
حدیثِ بے خبراں ہے تو با زمانہ بساز
زمانہ با تو نسازد‘ تو با زمانہ ستیز
(زمانے کی ہاں میں ہاں ملانا بے خبر لوگوں کا وتیرہ ہے۔ زمانہ تمہارے ساتھ موافقت نہیں کرتا تو تم زمانے کا مقابلہ کرو)
لیکن یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بہاؤ کے ساتھ بہنا آسان ہے اور مخالف سمت تیرنا مشکل! یہ جو قسم ہے تارکینِ وطن کی‘ یہ چاہتے تو ہیں کہ بچے اپنے کلچر سے جڑیں مگر اہتمام اور التزام ان کے بس کی بات نہیں۔ بھاری پتھر کو اٹھانے کی کوشش ہی نہیں کرتے!
تیسری قسم ان باہمت تارکینِ وطن کی ہے جنہوں نے بچوں کو اپنی زبان‘ کلچر اور اپنے وطن سے وابستہ رکھنے کے لیے محنت کی ہے۔ یہ بچوں کے ساتھ گھر میں اردو بولتے ہیں۔ التزام کرتے ہیں کہ بچے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اردو بولیں جو سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ تارکینِ وطن کے جو بچے ماں باپ کے ساتھ اردو بولتے ہیں‘ وہ بھی آپس میں‘ یعنی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ زیادہ تر انگریزی ہی بولتے ہیں۔ انہیں بار بار کہنا پڑتا ہے اور یاد دلانا پڑتا ہے کہ آپس میں اردو بولیں! تعداد میں بہت کم سہی مگر ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے بچوں کو اردو لکھنا پڑھنا بھی سکھائی ہے۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ اتنا بڑا کہ ایک پوری نسل کو سنبھال لینے والا کام ہے۔ بعض حضرات ایک حوصلہ شکن نکتہ یہ پیش کرتے ہیں کہ اس نسل کو ہم نے اردو بولنا اور لکھنا پڑھنا سکھا بھی دیا تو کیا فائدہ! اس کے بعد کی نسلوں کو کون سکھائے گا! اور یہ کہ آئندہ نسلوں نے تو مقامی رنگ میں ڈھلنا ہی ہے۔ یہ ایک شکست خوردہ‘ گھِسا پٹا پوائنٹ ہے۔ آپ اس نسل پر کام کریں گے تو یہ نسل اپنے سے بعد والی نسل کو خود ہی سنبھال لے گی۔ جو کام آپ کر سکتے ہیں وہ تو کیجیے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ آپ اپنے حصے کا چراغ جلائیے‘ اس یقین کے ساتھ کہ یہ آخری چراغ نہیں ہو گا۔ ان سطور کا لکھنے والا جب ڈھاکہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا تو ہمارے ساتھ سنگا پور کے ایک صاحب تھے جو ایم بی بی ایس کر رہے تھے۔ (جی ہاں! ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سنگاپور اور کئی دوسرے ملکوں کے طلبہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کا رُخ کرتے تھے)۔ ان صاحب کا نام شمس تھا۔ ان کے آباؤ اجداد گوجرانوالہ سے سنگا پور گئے تھے۔ اس وقت ان کے خاندان کو گئے ہوئے سو سال ہو چکے تھے۔ شمس ہمارے ساتھ فصیح و بلیغ پنجابی میں بات کرتے تھے۔ ان کا خاندان‘ سو سال سے سنگا پور میں رہتے ہوئے بھی پنجابی زبان سے جڑا ہوا تھا۔
گھر میں بچوں کے ساتھ اردو بولنے کے بعد اپنی مٹی سے مر بوط رکھنے کے لیے دوسرا مؤثر ترین طریقہ یہ ہے کہ ہر سال بچوں کو پاکستان لایا جائے۔ یہ عرصہ کم سے کم ایک مہینہ ضرور ہونا چاہیے۔ دو ماہ ہو تو کیا ہی کہنے! اس قیام کے دوران بچے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں! اردو بولنے کی خوب مشق ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ غیرمحسوس طریقے سے بچے اپنی بنیادوں سے بھی آشنا ہوں گے۔ یہاں کے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہیں گے اور پاکستانی ماحول ان کے اندر سماتا رہے گا۔ ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والی بات ہو جائے گی! میں دیکھتا ہوں کہ امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا میں رہنے والے تارکینِ وطن پوری دنیا کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں ہر سال دو ماہ کے لیے پاکستان میں جانا ان کے لیے ہر گز مشکل نہیں! میں ایک ایسے صاحب کو جانتا ہوں جن کا پاکستان میں کوئی قریبی عزیز نہیں بچا مگر وہ اکثر و بیشتر لاہور میں آکر قیام کرتے ہیں صرف اس لیے کہ ان کے بچے پاکستان کے ماحول سے واقف ہو جائیں اور یہاں رہنا سیکھ جائیں!!
بنیادی طور پر ہر پاکستانی نژاد بچہ پاکستان کے لیے محبت بھرے جذبات رکھتا ہے۔ اس کا مظاہرہ کرکٹ میچوں کے مواقع پر دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے بچوں نے اپنے کمروں میں پاکستانی جھنڈے یا جھنڈے کی تصاویر لگائی ہوئی ہیں۔ اب یہ ان کے بڑوں کا کام ہے کہ اس چنگاری کو بجھنے نہ دیں! پاکستان کی روشنی ان بچوں کے دلوں میں ہمیشہ رہنی چاہیے۔ بیرونِ ملک رہنے والا ہر پاکستانی اپنی ذات میں پورا پاکستان ہے۔ تارکینِ وطن پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران پاکستان کو اپنی گرفت میں لیتا ہے‘ تارکینِ وطن کی جان سولی پر لٹک جاتی ہے۔ پاکستان کی محبت ان کی رگوں میں‘ رگوں کے اندر بہتے خون میں‘ ہڈیوں میں اور ہڈیوں کے اندر بھرے گودے میں رچی بسی ہے۔ ان سے سیاسی اختلاف تو ہو سکتا ہے مگر ان کی پاکستان دوستی پر شک کرنا ظلم ہی نہیں‘ شاید گناہ بھی ہے۔ اس محبت اور وابستگی کو آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا ان پر فرض ہے‘ خواہ اس کے لیے کتنی ہی مشقت کیوں نہ کرنی پڑے!! ہم پاکستان سے باہر ہوں تو ہوں‘ پاکستان ہمارے اندر ہونا چاہیے۔
اے خاک پاک تجھ سے ہم آغوش ہوں کہ دور
ہر آن تیرا چاند ستارا ہو سامنے
Muhammad Izhar Ul Haq
مسلم، غیر مسلم اور قادیانی کا فرق۔
کوک، پیپسی کے نام پر کوئی بوتلیں بھرنا شروع کردے تو دنیا نہ صرف اس پر لعن طعن کرے گی بلکہ جعلسازی اور فراڈ کا پرچہ دے کر فیکٹری ہی سیل کردی جائے گی۔ انسانی حقوق کے نام پر کوئی ان فراڈیوں کے لیے ہمدردی نہیں رکھے گا
البتہ کوک، پیپسی کے مقابلے میں کوئی نئے نام سے برانڈ لانچ کردے تو کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔
اسی طرح دنیا میں مسلمانوں کے علاوہ اربوں غیر مسلم انسان ہیں انہیں کوئی بھی مذہب اپنانے یا نیا بنانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ہم اس غیر مسلم سے بطور انسان اچھا سلوک ہی کریں گے
لیکن کوئی شخص مسلمانی کا دعوی تو کرے لیکن اس کی بنیاد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ کو آخری نبی ماننے سے انکار کرتے ہوئے نیا نبی بھی گھڑ لے اور پھر یہ اصرار بھی کرے کہ وہ مسلمان ہی کہلانا چاہتا ہے۔ دنیا ہی کے قانون کے مطابق آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے؟
یہی اصول قادیانیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ وہ اپنا نیا مذہب کھول کر وہ جو جی چاہے کرتے پھریں مسلمان کو ان سے شکوہ نہیں ہو گا۔ چونکہ وہ جعلساز ہیں اور مسلمان کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں اس لیے قابل گرفت ہیں۔ یہ تو شکر کریں کہ ان سے مسیلمہ کذاب جیسے فراڈیوں والا سلوک نہیں کیا جاتا
میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔
1۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
2۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
3۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
4۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
5۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
6۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
7۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
8۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
9۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
10۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
11 ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
12۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
13۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
14۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
15۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
16۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے،
آمین ثم آمين يأرب العآلمين
ایک تحریر دل کو چھو گئی، لکھنے والے کا نام نہیں معلوم، اچھی لگی
آپ لوگ بھی محظوظ ہوں
®®®®®®®®®®®®
*خوش رہنا شروع کیجیئے*
چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھئے،
اگر ٹوٹ کر گِر گیا تو کونسا قیامت آ جائے گی؟
ایک وقت تھا خوشی بہت آسانی سے مل جاتی تھی۔
دوستوں سے ملکر،
عزیز رشتہ داروں سے ملکر،
نیکی کرکے،
کسی کا راستہ صاف کرکے،
کسی کی مدد کرکے۔
خربوزہ میٹھا نکل آیا،
تربوز لال نکل آیا،
آم لیک نہیں ھوا،
ٹافی کھا لی،
سموسے لے آئے،
جلیبیاں کھا لیں،
باتھ روم میں پانی گرم مل گیا،
داخلہ مل گیا،
پاس ھوگئے،
میٹرک کرلیا،
ایف اے کرلیا،
بی اے کر لیا،
ایم اے کرلیا،
کھانا کھالیا،
دعوت کرلی،
شادی کرلی،
عمرہ اور حج کرلیا،
چھوٹا سا گھر بنا لیا،
امی ابا کیلیئے سوٹ لے لیا،
بہن کیلیئے جیولری لے لی،
بیوی کیلیئے وقت سے پہلے گھر پہنچ گئے،
اولاد آگئی اولاد بڑی ھو گئی،
انکی شادیاں کر دیں.
نانے نانیاں بن گئے.
دادے دادیاں بن گئے.
سب کچھ آسان تھا
اور سب خوش تھے.
پھر ہم نے پریشانی ڈھونڈنا شروع کردی،
بچہ کونسے سکول داخل کرانا ھے،
پوزیشن کیا آئے،
نمبر کتنے ہیں،
جی پی اے کیا ھے،
لڑکا کرتا کیا ہے،
گاڑی کونسی ہے،
کتنے کی ہے،
تنخواہ کیا ہے،
کپڑے برانڈڈ چاہیئں
یا پھر اس کی کاپی ہو،
جھوٹ بولنا پھر اسکا دفاع کرنا،
سیاست انڈسٹری بن گئی.
ھم سے ھمارے دور ھو گئے،
گھر کتنے کنال کا ہو،
پھر آرچرڈ سکیمز آگیئں،
گھر اوقات سے بڑے ہو گئے،
اور ہم دور دور ہو گئے،
ذرائع آمدن نہیں بڑھے پر قرضوں پر گاڑیاں،
موٹر سائیکل،
ٹی وی،
فریج،
موبائل سب آ گئے،
سب کے کریڈٹ کارڈ آ گئے.
پھر ان کے بل،
بجلی کا بل،
پانی کا بل،
گیس کا بل،
موبائل کا بل،
سروسز کا بل،
پھر بچوں کی وین،
بچوں کی ٹیکسی،
بچوں کا ڈرائیور،
بچوں کی گاڑی،
بچوں کے موبائل،
بچوں کے کمپیوٹر،
بچوں کے لیپ ٹاپ،
بچوں کے ٹیبلٹ،
وائی فائی،
گاڑیاں،
جہاز،
فاسٹ فوڈ،
باہر کھانے،
پارٹیاں،
پسند کی شادیاں،
دوستیاں، طلاق پھر شادیاں، بیوٹی پارلر،
جم،
پارک،
اس سال کہاں جائیں گے،
یہ سب ہم نے اختیار کئے
اور اپنی طرف سے ہم زندگی کا مزا لے رہے ہیں.
کیا آپ کو پتہ ھے آپ نے خوشی کو کھو دیا ہے۔
جب زندگی سادہ تھی تو خوشی کی مقدار کا تعین ناممکن تھا-
اب اسی طرح دھوم دھڑکا تو بہت ھے پر پریشانی کا بھی کوئی حساب نہیں۔
اپنی زندگی کو سادہ بنائیے
تعلق بحال کیجیئے،
دوست بنائیے،
دعوت گھر پر کیجیئے،
بے شک چائے پر بلائیں،
یا پھر آلو والے پراٹھوں کا ناشتہ ساتھ کیجیئے،
دور ھونے والے سب چکر چھوڑ دیجیئے،
واٹس ایپ، فیس بک زرا کم استعمال کیجیئے،
آمنے سامنے بیٹھئیے،
دل کی بات سنیئے اور سنائیے، مسکرائیے.
یقین کیجیئے خوشی بہت سستی مل جاتی ہے.
بلکہ مفت،
اور پریشانی تو بہت مہنگی ملتی ہے
جس کیلیئے ہم اتنی محنت کرتے ہیں،
اور پھر حاصل کرتے ھیں۔
خوشی ہرگز بھی چارٹر طیارے میں سفر کرنے میں نہیں ھے۔ کبھی نئے جوتے پہن کر بستر پر رھیئے پاؤں نیچے رکھے تو جوتا گندا ھو جائے گا۔
بس محسوس کرنے کی بات ہے،
ہمسائے کی بیل تو بجائیے-
ملیئے مسکرائیے،
بس مسکراھٹ واپس آجائے گی،
دوستوں سے ملیئے دوستی کی باتیں کیجیئے،
ان کو دبانے کیلیئے ڈگریاں، کامیابیاں، فیکٹریوں کا ذکر ہر گز مت کیجیئے۔
پرانے وقت میں جائیے جب ایک ٹافی کے دو حصے کر کے کھاتے تھے،
فانٹا کی بوتل آدھی آدھی پی لیتے تھے.
ہم نے کیا کرنا چائے خانہ کا؟
جہاں پچاس قسم کی چائے ہے۔
آؤ وہاں چلیں جہاں سب کیلیئے ایک ہی چائے بنتی ہے ملائی مار کے، چینی ہلکی پتی تیز۔
آؤ پھر سے خوش رہنا شروع کرتے ھیں.
خوش رہنے کے لیئے بچوں جیسے بن کے تو دیکھیئے
*چائے میں بسکٹ ڈبو کر تو دیکھیئے-*
*ٹوٹ کر گر گیا تو کونسی قیامت آجائے گی.*
(کاش کہ یہ پوسٹ تمام لوگ پڑهیں، اور اسے آگے بهی پھیلائیں)
یہ یاد ركھيے دنیا میں سب سے زیادہ اموات كولیسٹرول بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک سے ہوتی ہیں.
آپ خود اپنے ہی گھر میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہوں گے جن کا وزن اور كولیسٹرول بڑھا ہوا ھے.
امریکہ کی بڑی بڑی كمپنياں دنیا میں دل کے مریضوں کو اربوں کی دوا
(heart patients)فروخت کر رہی ہیں
لیکن اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوئی تو ڈاکٹر کہے گا angioplasty (اےنجيوپلاسٹي) كرواؤ .اس آپریشن میں ڈاکٹر دل کی نالی میں ایک spring ڈالتے ہیں جسے stent کہتے ہیں.یہ stent امریکہ میں بنتا ہے اور اس کا cost of production صرف 3 ڈالر (روپیہ150یا180) ہے.
اسی stent کو پاک و ہند میں لاکر 3یا5 لاکھ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے اور آپ کو لوٹا جاتا ہے.ڈاکٹروں کو ان روپوں کا commission ملتا ہے ، اسی لیے وہ آپ سے بار بار کہتا ہے کہ angioplasty كرواؤ .
Cholestrol، BP ya heart attack
آنے کی اہم وجہ ہے، Angioplasty آپریشن. یہ کبھی کسی کا کامیاب نہیں ہوتا.كيونکے ڈاکٹر جو spring دل کی نالی میں رکھتا ہے وہ بالکل pen کی spring کی طرح ہوتی ہے.
کچھ ہی مہينوں میں اس spring دونوں سائیڈوں پر آگے اور پیچھے blockage (cholestrol اور fat) جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے.اس کے بعد پھر آتا ہے دوسرا heart attack (ہارٹ اٹیک)
ڈاکٹر کہتا هے دوبارہ angioplasty كرواؤ .آپ لاكھوں روپے لٹاتے ھیں اور آپ کی زندگی اسی میں نکل جاتی ھے
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
اب پڑھیں اس آئرود کا علاج
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ادرک (ginger juice) -
●●●●●●●●●●●●●●●●
اس خون کو پتلا کرتا ھے.
یہ درد کو قدرتی طریقے سے 90٪ تک کم کرتا هے.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
لہسن (garlic juice)
●●●●●●●●●●●●●●
اس میں موجود allicin عنصر cholesterol اور BP کو کم کرتا ھے.
وہ دل کے بلوکج کو کھولتا ھے.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
لیموں (lemon juice)
●●●●●●●●●●●●●●●●
اس میں موجود antioxidants، vitamin C اور potassium خون کو صاف کرتے ہیں.
یہ بیماری کے خلاف مزاحمت (immunity) بڑھاتے ہیں.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ایپل سائڈر سرکہ (apple cider vinegar)
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
اس میں 90 قسم کے عناصر ہیں جو جسم کے سارے اعصاب کو کھولتے ھیں، پیٹ صاف کرتے ہیں اور تھکاوٹ کو مٹاتے ہیں.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ان مقامی اشیاء (یعنی چیزوں) کو
اس طرح استعمال میں لایئں
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
1-ایک کپ لیموں کا رس لیں.
2-ایک کپ ادرک کا رس لیں.
3-ایک کپ لہسن کا رس لیں.
4 ایک کپ ایپل apple سرکہ
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ان چاروں کو ملا کر دھيمي آنچ پر گرم کریں جب 3 کپ رہ جائے تو اسے ٹھنڈا کر لیں.
اب آپ
اس میں 3 کپ شہد ملا لیں .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
روز اس دوا کے 3 چمچ صبح خالی پیٹ لیں جس سے سارے
ساری بلوکج ختم ہو جائیں گی . یعنی شریانیں کھل جائینگی . إن شاء اللہ .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
آپ سب سے درخواست ہے کہ اس میسج کو زیادہ سے زیادہ نشر کریں تاکہ سب اس دوا سے اپنا علاج کر سکیں . جزاکم اللہ خیرا .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ذرا سوچیں کہ شام کے
7:25 بجے ھیں اور آپ گھر جا رہے ھیں وہ بھی بالکل اکیلے .
ایسے میں اچانک آپ کے سینے میں تیز درد ہوتا ہے جو آپ کے ہاتھوں سے ھوتا ہوا آپ
جبڑوں تک پہنچ جاتا ہے .
آپ اپنے گھر سے سب سے قریب ہسپتال سے 5 میل دور ہیں اور اتفاق سے آپ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ وهاں تک پہنچ پائیں گے یا نہیں .
آپ نے سی پی آر میں تربیت لی ہے مگر وہاں بھی آپ کو یہ نہیں سکھایا گیا کہ اس کو خود پر استعمال کس طرح کرنا ہے .
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
ایسے میں دل کے دورے سے بچنے
کے لئے یہ اقدامات کریں
●●●●●●●●●●●
چونکہ زیادہ تر لوگ دل کے دورے کے وقت اکیلے ہوتے ہیں بغیر کسی کی مدد کے انہیں سانس لینے میں تکلیف
ہوتی ہے. وہ بے ہوش ہونے لگتے ہیں اور ان کے پاس صرف 10 سیکنڈ ہوتے ہیں
.
ایسی حالت میں مبتلا شخص زور زور سے کھانس کر خود کو عام رکھ سکتا ہے.
ایک زور کی سانس
لینی چاہئے ہر کھانسی سے پہلے
اور کھانسی اتنی تیز ہو کہ
سینے سے تھوک نکلے .
جب تک مدد نہ آئے یہ
عمل دو سیکنڈ کے وقفے سے دہرایا
جائے تاکہ دھڑکن عام
ہو جائے.
زور کی سانسیں پھیپھڑوں میں
آکسیجن پیدا کرتی ہے
اور زور کی کھانسی کی وجہ
دل سكڑتا ہے جس سے
خون سنچالن باقاعدگی سے
چلتا ہے.
●●●●●●●●●●●●●●●●●●●●
جہاں تک ممکن ہو اس پیغام کو سب تک پہنچائیں . پیغام سب کو بھیجیں
👈ذرا نہیں پورا سوچیں
آج کل کچھ لوگ بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ، کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔۔۔
مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دو۔۔۔
حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھاؤ۔۔۔
تبلیغ میں نکلنے سے بہتر ہے کہ کسی لاچار مریض کو دوا فراہم کر دو۔۔۔
مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔۔۔
یاد رکھیں۔۔۔👇
دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ہے۔
اگر تقابل ہی کرنا ہے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو !
15 ، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
50 ، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔
ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍئو ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ۔۔۔
ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔
یہ کروڑوں کی گاڑیاں ، لاکھوں کے موبائل فونز اورہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کو زحمت گوارا کیوں نہیں ہوتی۔۔۔؟
آخر یہ چِڑ کعبہ مسجد حج وعمرہ اور تبلیغ ہی سے کیوں ہے۔۔۔؟
ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں...
ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتی ہیں؟
اک بار ضرور سوچیں
کیا
انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ہے یا کہ فرائض کا ترک؟؟؟
07/04/2024
https://secure.avaaz.org/campaign/en/british_aid_workers_loc/?copy
💔 British Heroes killed: Demand Arms Embargo Now ✊ An Israeli airstrike, possibly with British weapons, killed 3 Brits, in Gaza. We need an arms embargo on Israel now. Join the call.
05/04/2024
UK is breaching international law by continuing to arm Israel, Sunak warned Three former Supreme Court justices are among the signatories of a 17-page letter that also urges ministers to work towards a ceasefire and resume funding to the UNRWA aid agency.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
60 Ilford Lane
London