Daily Learn Quran Academy

Daily Learn Quran Academy Learn Quran with proper Tajweed from an experienced Islamic scholar. Nazra | Hifz | Tajweed | Tafseer | Duas
Online & Home tutoring available for all ages.

Start your Quran journey today!

12/09/2026

Tajweed classses
Online Quran Classes for kid's








11/09/2026

جب اللہ تعالیٰ کا فضل تمہاری دعا سے بھی بڑا ہو !

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا میں ایک ایسی بات ہے جو پہلے ہی لمحات میں دل کو کھینچ لیتی ہے:

﴿رَبِّ اغفِر لي وَهَب لي مُلكًا لا يَنبَغي لِأَحَدٍ مِن بَعدي إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ﴾

"اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے شایانِ شان نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت بڑا عطا فرمانے والا ہے۔"

وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

ایک واضح، متعین اور عظیم طلب:

ایسی بادشاہت جو ان کے بعد کسی اور کو نہ ملے۔

اگر اللہ تعالیٰ انہیں صرف ایک منفرد اور بے مثال بادشاہت ہی دے دیتا، تو بھی یہ دعا کا بہترین جواب ہوتا۔

لیکن قرآن صرف یہ بتانے پر اکتفا نہیں کرتا کہ سلیمان علیہ السلام کو ان کی مانگی ہوئی چیز مل گئی۔

بلکہ وہ آپ کو قدم بہ قدم ایک سفر پر لے جاتا ہے تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل سوال کے انداز پر نہیں، بلکہ "الوھاب" (بے حساب عطا کرنے والے) کی شان کے مطابق آتا ہے۔

سلیمان علیہ السلام نے مانگا تھا کہ انہیں "عطا کیا جائے"۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں صرف نعمتیں حاصل کرنے والا نہیں بنایا۔

بلکہ انہیں دوسروں کو عطا کرنے والا بنا دیا۔

اللہ نے فرمایا:

﴿هٰذا عَطاؤُنا فَامنُن أَو أَمسِك بِغَيرِ حِسابٍ﴾
"یہ ہماری عطا ہے، اب تو (جسے چاہے) احسان کر (دے) یا روک رکھ، (تجھ سے) کوئی حساب نہ ہوگا۔"

اس تبدیلی اور تحول پر غور کیجیے۔

قصے کے شروع میں سلیمان علیہ السلام کہتے ہیں:

﴿وَهَب لي﴾ ("مجھے عطا کر").

اور اس کے آخر میں اللہ ان سے فرماتا ہے:

﴿فَامنُن أَو أَمسِك﴾ ("تو احسان کر (دے) یا روک رکھ").

انہوں نے ایک عطا کے طلب گار بن کر شروعات کی تھی۔

اور بات یہاں ختم ہوئی کہ انہیں خود عطا کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔

یہ آیات میں فضل و کرم کا ایک نہایت خوبصورت اور لطیف پہلو ہے۔

ترجمہ جاری رکھنے سے پہلے، اسی مفہوم کو مزید واضح کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی یہ صحیح حدیثِ مبارکہ یاد آتی ہے:

(الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى)

(صحیح البخاری: 1429، صحیح مسلم: 1042)

"اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔"

آپ اللہ تعالیٰ سے کسی نعمت کا سوال کرتے ہیں، تو وہ آپ کو وہ نعمت دے دیتا ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل کا ایک اس سے بھی بلند ترین مقام ہے:

وہ آپ کو اس حد تک عطا کرتا ہے کہ آپ کو دوسروں کے لیے عطاؤں کا سبب بنا دیتا ہے۔

آپ رزق مانگتے ہیں، وہ آپ پر اتنی وسعت کر دیتا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے رزق کا دروازہ بن جاتے ہیں۔

آپ علم مانگتے ہیں، وہ آپ پر علم کے باب کھول دیتا ہے یہاں تک کہ آپ معلم بن جاتے ہیں۔

آپ پردہ پوشی مانگتے ہیں، وہ آپ کا ستر ڈھانپتا ہے اور پھر آپ کے ہاتھوں لوگوں کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔

آپ دل جوئی اور زخموں کا مرہم مانگتے ہیں، وہ آپ کو ایسا سنبھالتا ہے کہ آپ لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

بسا اوقات نعمت کے ساتھ آپ کی کہانی اس صدا سے شروع ہوتی ہے:

"یا رب! مجھے عطا کر۔"

پھر ایک دن اللہ کا فضل آپ کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں آپ کا عمل خود کہتا ہے:

"اب تم تقسیم کرو۔"

یہ صرف نعمت کی مقدار میں اضافہ نہیں ہے۔

یہ نعمت کے مقام اور مرتبے کی ترقّی ہے۔

مفلس اور محتاج سوال کرتا ہے کہ اسے دیا جائے۔

لیکن جس پر وسعت کر دی گئی ہو، وہ دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔

سلیمان علیہ السلام کو صرف ایسی بادشاہت نہیں ملی جس کے وہ مالک ہوتے؛ بلکہ انہیں ایسا اختیار اور سلطان ملا جس میں وہ تصرف کر سکتے تھے:

﴿فَامنُن أَو أَمسِك بِغَيرِ حِسابٍ﴾

یہاں ایک ایسا معنوی راز کھلتا ہے جو آیات کو جلدی میں پڑھنے سے نظر نہیں آتا۔

سلیمان علیہ السلام نے مالک بننے کی خواہش کی تھی۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں "امانت دار" (امین) بنا دیا۔

اور ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔

نعمت کی سب سے بڑی بات یہ نہیں کہ وہ آپ کے ہاتھ میں ہو۔

اس سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس پر امین اور قابلِ اعتماد بنا دے۔

کسی انسان کے ہاتھ میں مال کا ہونا لازمی طور پر اس کی عزت و کرامت کی دلیل نہیں ہوتا۔

کسی کے ذہن میں علم کا ہونا لازمی طور پر رفعت کا باعث نہیں ہوتا۔

عہدہ، اقتدار، قابلیت اور مقبولیت یہ سب آزمائش اور امتحان ہو سکتے ہیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ کا آپ کو عطا کرنا، پھر تصرف میں وسعت دینا، اور آپ کو اس نعمت کو سنبھالنے، چلانے اور خرچ کرنے کے اہل بنانا؛ یہ فضل و احسان کی ایک الگ ہی سطح ہے۔

اسی لیے یہ فرمانِ الٰہی:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾ ("یہ ہماری عطا ہے")

صرف بادشاہت کے منبع کی نشاندہی نہیں ہے۔

یہ سلیمان علیہ السلام اور ہم سب کے لیے ایک کامل تربیت اور تربیتِ نفس ہے۔

آپ کے ہاتھ میں کتنی ہی وسعت کیوں نہ آ جائے، اس کا اصل نام یہی رہے گا:

"اللہ کی عطا"

آپ کی طاقت و قوت کتنی ہی عروج پر پہنچ جائے:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

آپ کے لیے کامیابیوں کے کتنے ہی دروازے کھل جائیں:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

آپ کو ایسی صلاحیت مل جائے جو کسی اور کے پاس نہ ہو:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

اور جب آپ یہ جان لیتے ہیں کہ یہ اسی کی عطا ہے، تو وہ نعمت آپ کے دل میں استحقاق (حق جتانے) کی صورت اختیار نہیں کرتی۔

آپ یہ نہیں کہتے: "یہ تو میری ذہانت کی وجہ سے ہے۔"

اور نہ یہ کہتے ہیں: "میں دوسروں سے بہتر ہوں اس لیے ملا۔"

اور نہ ہی قارون کی طرح کہتے ہیں:

﴿إِنَّما أوتيتُهُ عَلى عِلمٍ عِندي﴾

(القصص: 78) - "یہ تو مجھے صرف اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔"

بلکہ آپ کو یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے ہاتھ میں ہے، وہ صرف ایک ہی باب سے ہو کر گزرا ہے:

﴿إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ﴾

"بے شک تو ہی بے حساب عطا فرمانے والا ہے۔"

اور یہ کتنا خوبصورت ہے کہ یہ اسمِ الٰہی اس تمام بادشاہت کے ذکر سے پہلے آیا!

گویا قرآن آپ کے دل میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آنے دینا چاہتا کہ یہ منظر سلیمان اور ان کی بادشاہت کا ہے۔

یہ منظر سب سے پہلے "الوھاب" اور اس کی "ھبہ و عطا" کا منظر ہے۔

اس قصے کا حقیقی مرکز یہ نہیں کہ سلیمان کے ہاتھ میں کتنا کچھ آیا۔

اصل مرکز یہ ہے کہ: سلیمان کو عطا کرنے والی ذات کون سی ہے؟

اسی لیے ایک مومن صرف نعمت کی وسعت پر تعجب نہیں کرتا۔

وہ نعمت دینے والے کے کرم اور سخاوت پر دنگ رہ جاتا ہے۔

آپ شاید صرف ایک چیز مانگتے ہیں، اور پھر دیکھتے ہیں کہ اللہ اس کے گرد دس ایسی نعمتیں بن دیتا ہے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں۔

سلیمان علیہ السلام نے ایک بادشاہت مانگی تھی۔

انہیں بادشاہت دی گئی۔

پھر تسخیر (ہواؤں اور جنات کا تابع ہونا) عطا کی گئی۔

پھر تصرف کی کامل صلاحیت دی گئی۔

پھر دینے اور روکنے کی کھلی وسعت دی گئی۔

اور جب اس وسعتِ دنیا کا تمام تر ذکر ختم ہو جاتا ہے، تو سب سے بڑی اور حیران کن خوشخبری سامنے آتی ہے:

﴿وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفى وَحُسنَ مَآبٍ﴾

"اور بے شک ان کے لیے ہمارے پاس قرب اور عمدہ ٹھکانا ہے۔"

یہاں آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے سلیمان علیہ السلام کو صرف ان کی مانگی ہوئی چیز سے زیادہ نہیں دیا۔

بلکہ انہیں اس چیز کی پوری جنس اور نوع سے بھی بلند تر مقام عطا فرمایا۔

بادشاہت اپنی تمام تر عظمت کے ساتھ دنیا کا حصہ ہے۔

لیکن "زُلفى" (قربِ الٰہی) بادشاہت کی جنس سے نہیں ہے۔

"حسنِ مآب" (بہترین انجام) سلطنت میں اضافے کا نام نہیں ہے۔

یہ کوئی تیز ہوا نہیں ہے۔

نہ زیادہ لشکر ہیں۔

نہ وسیع تر ملک۔

بلکہ یہ بالکل ایک الگ ہی شے ہے:

﴿عِندَنا لَزُلفى﴾ ("ہمارے پاس قرب").

انہوں نے وہ چیز مانگی تھی جو ان کے لیے زمین میں ہو (دنیاوی ملک)۔

اللہ نے انہیں وہ عطا کر دیا جو اس کے پاس ان کے لیے تھا (اخروی قرب)۔

اور یہی وہ فضل و احسان ہے جو انسان خود اپنے لیے وضع یا پلان نہیں کر سکتا۔

ہم تو بس چیزوں کا نام لے کر مانگنا جانتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں:

"اے اللہ! مجھے ملازمت دے دے۔"

"اے اللہ! میرے لیے کوئی راستہ کھول دے۔"

"اے اللہ! مجھے رزق عطا کر۔"

"اے اللہ! میرے معاملے کو سنوار دے۔"

"اے اللہ! میری فلاں خواہش پوری کر دے۔"

لیکن ہم ان تمام خیر و برکات کو نہیں جانتے جو اللہ تعالیٰ اس دعا کی قبولیت کے ارد گرد لپیٹ دیتا ہے۔

ہم اس چیز کا نام جانتے ہیں جو ہمیں چاہیے ہوتی ہے۔

لیکن ہم ان خیرات و برکات سے ناواقف ہوتے ہیں جو اللہ اس کے ساتھ بھیجتا ہے۔

آپ رزق کا ایک دروازہ مانگتے ہیں، اور اللہ اس کے ساتھ قناعت و کفایت لکھ دیتا ہے۔

آپ کفایت مانگتے ہیں، وہ اس کے ساتھ دل کا اطمینان جوڑ دیتا ہے۔

آپ اطمینان مانگتے ہیں، وہ اس کے ساتھ اپنا قرب عطا کر دیتا ہے۔

آپ دنیا کی کوئی چیز مانگتے ہیں، اور اللہ اس تک پہنچنے کے راستے کو آپ کی آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

یہیں سے دعا کے بارے میں آپ کا فہم اور سوچ بدل جانی چاہیے۔

آپ اپنی دعا کسی ایسے رب کی بارگاہ میں نہیں پیش کر رہے جو صرف وہی چیز آپ کی ہتھیلی پر رکھ دے جو آپ نے اپنی خواہشات کی فہرست میں لکھی تھی اور بات ختم ہو جائے۔

آپ تو "الوھاب" کو پکار رہے ہیں۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ کا جواب آپ کے سوال سے کہیں زیادہ وسیع اور بے اندازہ ہو سکتا ہے۔

اور شاید کچھ سالوں بعد آپ پر یہ انکشاف ہو کہ آپ کو ملنے والی سب سے بڑی نعمت وہ چیز تھی ہی نہیں جس کی آپ نے اصل میں دعا کی تھی۔

آپ نے ایک چیز مانگی تھی۔

اس کے ساتھ ایک اور نعمت آئی۔

پھر تیسری نعمت ملی۔

پھر اس راستے میں آپ کی اپنی ذات اور شخصیت بدل گئی۔

پھر آپ کا دل اللہ تعالیٰ کے اور قریب ہو گیا۔

پھر آپ دوسروں کے لیے خیر کا باعث بن گئے۔

پھر آپ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور کہا:

"میں نے تو صرف ایک چھوٹی سی چیز مانگی تھی۔ یہ سب کہاں سے آ گیا؟"

جواب ہے:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

اللہ جب اپنا فضل فرماتا ہے، تو وہ آپ کے محدود تصور کا پابند نہیں ہوتا۔

اور اس کا کرم وہاں نہیں رکتا جہاں آپ کی طلب ختم ہوتی ہے۔

اسی لیے سلیمان علیہ السلام کے واقعے سے سیکھی جانے والی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ آپ دعا کو اس نظر سے نہ دیکھیں جیسے آپ اللہ کے لیے عطا کی حدیں مقرر کر رہے ہیں۔

آپ صرف اپنی ضرورت بیان کیجیے۔

جو چاہتے ہیں، مانگیے۔

لیکن اپنے دل میں ایک ایسا گوشہ کھلی حالت میں رکھیے جو کہے:

"اے رب! میں جانتا ہوں کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔

لیکن تو جانتا ہے کہ مجھے واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔

میں اپنی آرزو کو جانتا ہوں۔

اور تو اس کے پیچھے چھپی حکمتوں کو جانتا ہے۔

میں تجھ سے ایک چیز مانگتا ہوں۔

اور تو 'الوھاب' ہے۔

پس مجھے اپنے فضل سے وہ بھی عطا کر جو میں نے مانگا، اور وہ بھی جو اسے سنوار دے، اس کی حفاظت کرے، اس میں برکت ڈالے، اور اس کے ذریعے مجھے تیرے قریب کر دے۔"

کیونکہ کچھ لوگوں کو نعمت ملتی ہے اور وہ ان کے لیے اذیت بن جاتی ہے۔

بعض کو نعمت ملتی ہے اور وہ انہیں اللہ تعالیٰ سے کاٹ دیتی ہے۔

اور کچھ کو نعمت ملتی ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ سے غافل کر دیتی ہے۔

لیکن سلیمان علیہ السلام کو ایک عجائب سے بھری بادشاہت دی گئی، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اس فرمان پر ختم کیا:

﴿وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفى وَحُسنَ مَآبٍ﴾

یہاں جا کر عطیہ اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔

کامل عطیہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا دے دے۔

کامل عطیہ یہ ہے کہ وہ آپ کو دنیا میں سے عطا کرے، اور پھر بھی آپ اس کے ہاں اپنا مقام و مرتب نہ کھوئیں۔

آپ کے ہاتھ کشادہ ہو جائیں، لیکن آپ کا دل تنگ نہ ہو۔

آپ کا مقام و مرتبہ بلند ہو جائے، لیکن آپ کی بندگی میں کمی نہ آئے۔

آپ کی نعمتیں بڑھ جائیں، اور آپ کی سب سے بڑی ملکیت وہی رہے یعنی نعمتیں دینے والے (المنعم) کا قرب۔

بلکہ آیات کی ترتیب ہی دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے:

﴿هٰذا عَطاؤُنا﴾

اور اس کے فوراً بعد:

﴿وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفى﴾

گویا پچھلا تمام تر ذکر، اپنی تمام تر عظمت کے باوجود، آپ کو اس آخری جملے سے غافل نہ کرنے پائے۔

ہاں، یہ ہماری عطا ہے۔

لیکن یہ نہ سمجھنا کہ یہ عطا ہی آخری حد ہے۔

"ان کے لیے ہمارے پاس قربِ خاص ہے۔"

ہواؤں کا چلنا اس کی عطا سے ہے۔

بادشاہت اس کی عطا سے ہے۔

تسخیر اور اختیارات اس کی عطا سے ہیں۔

دینے اور روکنے کی قدرت اس کی عطا سے ہے۔

لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں آپ کا قرب ہونا؛ یہ وہ عطا ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام چیزیں ہیچ اور بے حقیقت ہو جاتی ہیں۔

اور شاید یہی سب سے خوبصورت دعا ہے جو آپ اللہ سے مانگ سکتے ہیں:

"اے رب! اگر تو مجھے عطا کرے، تو مجھے صرف اپنی نعمت پر رکنے نہ دینا۔

اس نعمت کے ذریعے مجھے اپنے تک پہنچا دے۔

اگر تو مجھے مال دے، تو مال ہی میرے رزق کا خاتمہ نہ ہو۔

اگر تو مجھے کامیابی دے، تو کامیابی ہی تیرے فضل کی آخری حد نہ ہو۔

اور اگر تو میرے لیے کوئی دروازہ کھولے، تو وہ دروازہ ہی میری آخری منزل نہ ہو۔

ہر نعمت کے پیچھے اس سے بڑی نعمت رکھ دے:

کہ میں تجھے اور زیادہ پہچان سکوں،

تیرا اور زیادہ شکر ادا کر سکوں،

تیری نعمت کے ساتھ تیرے بندوں کے لیے نفع بخش بن سکوں،

اور یہ کہ دنیا میں جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے، اس کے بعد تیرے پاس آخرت میں بھی میرے لیے ایک بلند مقام ہو۔"

سلیمان علیہ السلام کے قصے میں خوبصورت بات صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کہا:

﴿وَهَب لي﴾ ("مجھے عطا کر")

اور اللہ نے انہیں عطا کر دیا۔

بلکہ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ نے انہیں اس حد تک دیا کہ ان سے فرمایا:

﴿فَامنُن﴾ ("اب تو احسان کر/عطا کر")۔

پھر انہیں اس سے بھی بڑھ کر وہ چیز دی جو دنیا کی کوئی بادشاہت نہیں دے سکتی:

﴿عِندَنا لَزُلفى وَحُسنَ مَآبٍ﴾

قصے کی شروعات ایک ایسے بندے سے ہوئی جو ہبہ اور عطا مانگ رہا تھا۔

اور اختتام ایک ایسے بندے پر ہوا جسے اللہ نے اس قدر غنی کر دیا کہ وہ خود دینے والا بن گیا، اور اسے اتنا قریب کر لیا کہ اس کے لیے اللہ کے ہاں خاص قرب کا مقام بن گیا۔

اور "الوہاب" کا فضل و کرم ایسا ہی ہوتا ہے:

آپ اس کے سامنے ایک محدود سوال رکھتے ہیں

وہ آپ کو ایسا عطیہ لوٹاتا ہے جو آپ کے سوال سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے،

ایک ایسا کردار جو آپ کے تصور سے کہیں بڑا ہوتا ہے،

ایک ایسی نعمت جو آپ کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں کے ہاتھوں تک پھیل جاتی ہے ۔

Daily Learn Quran Academy

Online Quran Classes for kid's and adults Quran Academy
08/09/2026

Online Quran Classes for kid's and adults
Quran Academy




08/09/2026

Online Quran Classes for kid's and adults
Quran Academy






Arabic language.
07/09/2026

Arabic language.

07/09/2026

Online Quran Classes for kid's
Quran For Kids
Online Quran Classes
Learn Quran Online
Quran With Tajweed
Muslim Parenting
Islamic Education
Quran Teacher
Hifz Quran
Noorani Qaida




05/09/2026

Online Quran Classes for kid's
Learn Quran Online with Tajweed
One to One Online Quran Classes
Female Quran Teacher Online




03/09/2026

Quran Online Lernen
Koran Online Lernen
Online Koranunterricht Deutschland
Online Koranlehrer Deutschland
Koranunterricht für Kinder Online
Quranunterricht für Kinder
Tajweed Online Lernen
Privater Koranunterricht Online
Online Quran Lehrer Deutschland
Koran Unterricht Online




Address

London
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Learn Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Daily Learn Quran Academy:

Shortcuts

Share