چالیس سال بعد اُس نے ایک جملہ کہا…
اور اُس جملے نے پورا گھر خاموش کر دیا۔
“شاید تم سے شادی میری سب سے بڑی غلطی تھی…”
وہ ایسے بولا جیسے کوئی معمولی بات ہو۔
جیسے موسم بدلنے کی خبر دے رہا ہو۔
میرے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔
ہاتھ لرزا… اور کپ فرش پر گر کر ٹوٹ گیا۔
مگر اُس سے زیادہ کچھ میرے اندر ٹوٹا تھا۔
میں نے نہ بحث کی…
نہ شکوہ کیا…
بس خاموشی سے کچن سمیٹتی رہی۔
چالیس برس…
میں نے اُس کے لیے اپنی خواہشیں دفن کیں،
بچوں کے سامنے اُس کی عزت بچائی،
ہر تکلیف چھپا لی…
اور آج…
میں صرف ایک “غلطی” تھی۔
رات کو میں نے الماری کھولی۔
پرانا سا بیگ نکالا۔
چند کپڑے… دوائیں…
اور ایک فائل۔
وہ فائل جس میں میری بیماری کی رپورٹس تھیں۔
کینسر آخری اسٹیج پر تھا۔
لیکن میں نے کبھی اُسے بتایا نہیں۔
کیونکہ برسوں پہلے وہ میرا شریکِ حیات ہونا چھوڑ چکا تھا…
صرف ایک ذمہ داری رہ گیا تھا۔
“کہاں جا رہی ہو؟” اُس نے پوچھا۔
میں نے دھیرے سے جواب دیا،
“غلطیاں ایک دن چلی ہی جاتی ہیں…”
وہ جھنجھلا گیا۔
“اس عمر میں ڈرامہ مت کرو۔”
میں بس ہلکا سا مسکرائی۔
عورتیں اکثر بڑھاپے تک خاموش رہنا سیکھ جاتی ہیں۔
اور پھر میں گھر چھوڑ کر چلی گئی۔
سات دن گزر گئے۔
پہلے چند دن اُس نے پرواہ نہیں کی۔
پھر گھر بکھرنے لگا۔
دوائیں وقت پر نہ ملتیں،
کپڑے استری نہ ہوتے،
کھانے میں ذائقہ نہ رہتا…
اور سب سے بڑھ کر…
گھر میں خاموشی چیختی تھی۔
ایک دن وہ میری الماری کھول کر کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
وہیں اُسے ایک ڈائری ملی۔
سرخ رنگ کی پرانی ڈائری۔
اُس نے پہلا صفحہ کھولا۔
“آج وہ بہت دیر سے گھر آیا…
میں نے سوال نہیں کیا…
کیونکہ بعض اوقات سوال صرف فاصلے بڑھاتے ہیں…”
اُس کی پیشانی پر شکن آئی۔
اگلا صفحہ…
“آج اُس کے کپڑوں سے کسی اور عورت کی خوشبو آ رہی تھی…
میں نے پھر بھی خاموشی اختیار کی…
کیونکہ میں اپنے بچوں کا گھر ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتی تھی…”
اُس کے ہاتھ لرزنے لگے۔
پھر ایک اور صفحہ…
“آج میں نے اپنے زیور بیچ دیے تاکہ اُس کا کاروبار بچ جائے…
اُسے کبھی نہیں بتایا…
کیونکہ مرد اپنی ہار برداشت نہیں کرتے…”
صفحے بدلتے گئے…
اور اُس کی آنکھیں نم ہوتی گئیں۔
پھر آخری صفحہ آیا۔
“ڈاکٹر نے کہا ہے میرے پاس وقت کم ہے…
میں نے اُسے نہیں بتایا…
کیونکہ اب وہ میری محبت نہیں…
صرف عادت ہے…”
وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔
ڈائری ہاتھ میں تھی…
اور پچھتاوا دل میں۔
اسی لمحے دروازہ کھلا۔
میں واپس آئی تھی۔
خاموشی سے۔
وہ دوڑ کر میرے قریب آیا۔
اور زندگی میں پہلی بار…
وہ میرے سامنے جھک گیا۔
“مجھے معاف کر دو…
میں نے کبھی تمہیں سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی…”
اُس کی آواز بھرّا گئی تھی۔
میں نے سکون سے اُس کی طرف دیکھا۔
اور آہستہ سے کہا،
“تم نے مجھے آج نہیں کھویا…
تم تو مجھے بہت سال پہلے کھو چکے تھے…”
وہ خاموش ہو گیا۔
کبھی کبھی محبت مرتی نہیں…
بس خاموش ہو جاتی ہے۔
اور جب احساس جاگتا ہے…
تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ 💔
Best urdu Quotes
Asslam-O-Alikum All friends۔In this page In will upload urdu quotes Stories News Nawal
04/04/2026
Masoom Ladki Bani Jin k bachy Ki Maa
https://www.facebook.com/share/r/1CQqnCr84g/
Jinzadi Ka Dil Aa Gaya Ek Ladke Par | Hairatangez Love Story
urdu quotes
Ak Peedh or Admi ka wakia
mor or Hazart Shahbaz Kalandar RA ka wakia
Shahbaz Kalandar or Ak Ghulam Toty ka wakia
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
London