Law Teacher Online

Law Teacher Online

Share

A knowledge hub designed to guide law students and emerging advocates toward excellence.

Photos from Law Teacher Online's post 13/06/2026

قومی اسمبلی: مکمل بجٹ تقریر 2026-2027

13/06/2026

وفاقی آئینی عدالت ، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے ججز اب کسی سوشل ، ثقافتی ، سیاسی یا سفارتی تقریب میں جانے سے قبل اپنے اپنے چیف جسٹس سے اجازت لیں گے پھر ہی کا سکیں گے ، سپریم جوڈیشل کونسل نے نیا کوڈ آف کنڈکٹ جاری کر دیا

Photos from Law Teacher Online's post 12/06/2026

مندرجہ بالا مقدمہ میں درخواست گزارہ سیدہ امیرہ بتول نے پنجاب پولیس میں سب انسپکٹر (BS-14) کی آسامی پر تقرری کے لیے درخواست دی، پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے مقررہ انتخابی عمل کامیابی سے مکمل کیا اور خواتین کے کوٹہ پر منتخب بھی قرار پائیں۔ تاہم محکمہ پولیس نے محض اس بنیاد پر کہ درخواست گزارہ کے والد اور بھائی بعض فوجداری مقدمات میں ملوث رہے تھے، ان کی تقرری سے انکار کر دیا۔ اس اقدام کو درخواست گزارہ نے آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے مورخہ 01.12.2020 کو محکمہ پولیس کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزارہ کو بطور سب انسپکٹر تقرری نامہ جاری کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

محکمہ پولیس نے مذکورہ فیصلہ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی، تاہم اپیل کے دوران عدالت سے کوئی حکمِ امتناعی حاصل نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود محکمہ نے درخواست گزارہ کو ایک مشروط تقرری نامہ جاری کیا جو اپیل کے نتیجہ سے مشروط تھا۔ چونکہ درخواست گزارہ اس وقت محکمہ تعلیم میں مستقل سرکاری ملازمت پر فائز تھیں، لہٰذا انہوں نے اپیل کے حتمی فیصلہ تک اپنی موجودہ ملازمت ترک کرنے سے گریز کیا۔ بعد ازاں محکمہ نے تقرری واپس لے لی اور اپیل کے اختتام کے باوجود عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد سے انکار کر دیا، جس کے نتیجہ میں موجودہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔

فاضل عدالت نے قرار دیا کہ یہ ایک مسلمہ اور مستحکم قانونی اصول ہے کہ محض اپیل کے دائر ہونے سے اصل فیصلہ معطل یا غیر مؤثر نہیں ہو جاتا، الا یہ کہ مجاز عدالت اس پر حکمِ امتناعی جاری کرے۔ چونکہ محکمہ پولیس کو مورخہ 01.12.2020 کے فیصلہ کے خلاف کوئی حکمِ امتناعی حاصل نہ تھا، لہٰذا مذکورہ فیصلہ ہر لحاظ سے نافذ العمل اور قابلِ تعمیل تھا اور اس پر مکمل عملدرآمد محکمہ کی قانونی ذمہ داری تھی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزارہ کو جاری کیا گیا مشروط تقرری نامہ عدالتی حکم کی حقیقی اور مؤثر تعمیل تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ عدالت نے بلاشرط تقرری کا حکم دیا تھا جبکہ محکمہ نے تقرری کو زیر التواء اپیل کے نتیجہ سے مشروط کر کے عدالتی فیصلہ کی روح اور منشاء کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ ایسی مشروط اور غیر یقینی نوعیت کی تعمیل کو قانون کی نظر میں عدالتی حکم پر مؤثر عملدرآمد نہیں کہا جا سکتا۔

فاضل عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ درخواست گزارہ کا اپنی مستقل سرکاری ملازمت سے استعفیٰ نہ دینا اور اپیل کے حتمی فیصلہ کا انتظار کرنا کسی طور ان کے حقِ تقرری سے دستبرداری یا انکار کے مترادف نہیں تھا۔ محکمہ خود ایک غیر یقینی اور مشروط صورتحال پیدا کرے اور بعد ازاں اسی صورتحال کو درخواست گزارہ کے خلاف بنیاد بنائے، یہ اصولِ انصاف اور مسلمہ قانونی قواعد کے منافی ہے۔ کوئی فریق اپنے ہی پیدا کردہ حالات سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ مورخہ 02.03.2022 کا تقرری کی منسوخی کا حکم اور مورخہ 08.05.2026 کا سپیکنگ آرڈر، دونوں ایسے انتظامی اقدامات ہیں جو ایک نافذ العمل اور حتمی عدالتی فیصلہ کے اثرات کو زائل نہیں کر سکتے۔ انتظامی احکامات کے ذریعے عدالتی فیصلوں کو محدود، مؤخر یا غیر مؤثر بنانا قانوناً ناقابلِ قبول ہے۔ جب انٹرا کورٹ اپیل مورخہ 27.01.2026 کو واپس لے لی گئی تو مورخہ 01.12.2020 کا فیصلہ قطعی اور حتمی حیثیت اختیار کر گیا، جس کے بعد محکمہ پر لازم تھا کہ درخواست گزارہ کو فیصلہ کے ثمرات فوری طور پر فراہم کرتا۔

فاضل عدالت نے مزید قرار دیا کہ توہینِ عدالت کے اختیار کا بنیادی مقصد سزا دینا نہیں بلکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور عدلیہ کے وقار و اختیار کا تحفظ کرنا ہے۔ چنانچہ عدالت نے اس مرحلہ پر تعزیری کارروائی شروع کرنے کے بجائے محکمہ کو ایک موقع فراہم کیا کہ وہ مورخہ 01.12.2020 کے فیصلہ پر اس کی حقیقی روح اور منشاء کے مطابق عملدرآمد کرے۔ لہٰذا توہینِ عدالت کی درخواست نمٹا دی گئی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ تیس دن کے اندر عدالتی فیصلہ پر مکمل عملدرآمد کر کے تعمیلی رپورٹ جمع کروائیں، بصورتِ دیگر درخواست گزارہ ذمہ دار افسران کے خلاف ازسرِ نو توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی مجاز ہوں گی۔

12/06/2026

Courts will be full functional from next weak!

Photos from Law Teacher Online's post 11/06/2026

یہ بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست تھی جو ملزم محمد اجمل نے مقدمہ نمبر 431/2025، تھانہ صدر جام پور، ضلع راجن پور، زیر دفعات 376، 371-A اور 292 تعزیراتِ پاکستان میں دائر کی۔ استغاثہ کے مطابق مدعیہ، جو ملزم کی بیوی ہے، نے الزام عائد کیا کہ ملزم محمد اجمل نے قرض کی ادائیگی سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسے اسلحہ کے زور پر غلام نازک عرف خانی کے گھر لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کروائی اور اس تمام عمل کی ویڈیو بھی بنائی۔ بعد ازاں ملزم نے اسی ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرتے ہوئے مدعیہ کو مختلف افراد کے ساتھ جنسی تعلقات پر مجبور کیا جبکہ شریک ملزم یاسین مسلح پہرے دار کے طور پر موجود رہتا تھا۔ مزید الزام تھا کہ شریک ملزم ریاض حسین نے اسے فروخت کرنے کی بھی کوشش کی۔ مدعیہ ایک ماہ قبل گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی اور بعد ازاں مقدمہ درج کروایا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں مبینہ واقعات کی تاریخیں اور اوقات درج نہیں، نہ ہی کوئی طبی، فرانزک یا ویڈیو ثبوت ریکارڈ پر موجود ہے۔ مزید یہ کہ مرکزی شریک ملزم غلام نازک پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکا ہے اور مقدمہ ایک ماہ کی تاخیر سے درج کیا گیا، جس سے استغاثہ کا مؤقف مشکوک ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ مدعیہ مسلسل جبر اور قید کی حالت میں تھی، اس لیے تاخیر قابلِ فہم ہے اور ملزم اپنے افعال کے باعث زیادتی میں اعانت، فروختِ عورت کی کوشش اور فحش مواد تیار کرنے کے جرائم کا مرتکب ہوا۔

فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ پاکستان پینل کوڈ میں "Spousal Abuse" یا ازدواجی استحصال کے عنوان سے کوئی مخصوص جرم موجود نہیں، تاہم ایسے افعال مختلف تعزیری دفعات کے تحت قابلِ مواخذہ ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے تفصیلی قانونی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ شوہر اگر اپنی بیوی کو جبر، دھونس یا مالی فائدے کے حصول کے لیے کسی دوسرے شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات پر مجبور کرے تو حالات کے مطابق دفعات 365-B، 375، 376، 496-A، 496-B، 109 PPC یا دیگر متعلقہ قوانین کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ Offence of Zina (Enforcement of Hudood) Ordinance, 1979 کی دفعہ 19 کے خاتمے کے بعد زنا کے جرائم میں اعانت سے متعلق سابقہ قانونی ڈھانچہ باقی نہیں رہا اور منسوخ شدہ دفعات محض بعد میں قانون منسوخ ہونے سے خود بخود بحال نہیں ہوتیں۔ اس ضمن میں عدالت نے General Clauses Act اور Punjab General Clauses Act کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ منسوخ شدہ قانون کی بحالی کے لیے واضح قانون سازی ضروری ہوتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016 ازدواجی تشدد کے متاثرین کو تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم یہ بنیادی طور پر حفاظتی اور سول نوعیت کا قانون ہے اور ازدواجی استحصال کو بطور الگ فوجداری جرم تسلیم نہیں کرتا۔
فیصلہ (Held)

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مقدمہ ایک ماہ کی تاخیر سے درج ہوا، مدعیہ کے الزامات کی تائید میں کوئی طبی، فرانزک یا ویڈیو شہادت موجود نہیں، فروخت یا جسم فروشی سے متعلق کوئی مؤثر مادی ثبوت بھی ریکارڈ پر نہیں آیا، جبکہ مرکزی شریک ملزم غلام نازک پہلے ہی ضمانت پر رہا ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ درخواست گزار کے خلاف اعانتِ زیادتی، دفعہ 371-A کی کوشش یا دفعہ 292 PPC کے تحت جرم کے حوالے سے موجود مواد فی الحال محدود اور مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔

ان حالات میں عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کا معاملہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت "مزید تفتیش" (Further Inquiry) کے زمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ محمد اجمل کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں اور ایک ضامن کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی آبزرویشن دی کہ مقننہ کو ازدواجی استحصال (Spousal Abuse) کو ایک مستقل اور مخصوص فوجداری جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی پر غور کرنا چاہیے۔

11/06/2026

New closing hours for markets, malls, restaurants, and commercial establishments have been notified by the District Administration Islamabad. The revised timings come into effect from 10 June 2026 and will remain applicable until further orders. Essential services, including hospitals, pharmacies, fuel stations, IT companies, and sports facilities, remain exempt.

Photos from Law Teacher Online's post 09/06/2026

آزاد کشمیر میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر دلی رنج و غم اور گہری تشویش کا اظہار کرتا ہوں۔ احتجاج میں شریک افراد کسی سیاسی جماعت، گروہ یا طبقے کے نمائندے نہیں تھے بلکہ ہمارے اپنے لوگ، ہمارے بھائی ہیں جو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ انسانی جان کا ضیاع ہر صورت ایک سانحہ ہے، اور اس کا درد آج پورا آزاد کشمیر محسوس کر رہا ہے۔

ریاست اپنے شہریوں کے لیے ماں کی مانند ہوتی ہے۔ ماں اپنے بچوں کو تحفظ دیتی ہے، ان کے دکھ درد بانٹتی ہے اور اختلاف و شکایات کا حل حکمت، تحمل اور شفقت سے تلاش کرتی ہے۔ افسوس کہ آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اپنے ہی لوگوں کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ جن عوام نے روٹی، بجلی، روزگار اور دیگر بنیادی حقوق کا مطالبہ کیا، ان کے مطالبات کا جواب مذاکرات، افہام و تفہیم اور سیاسی بصیرت سے دیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ طاقت کے استعمال سے۔

آزاد جموں و کشمیر ایک حساس اور نظریاتی خطہ ہے، جہاں ہر فیصلہ غیر معمولی ذمہ داری، دور اندیشی اور قومی مفاد کا متقاضی ہے۔ داخلی کشیدگی، تصادم اور خونریزی نہ صرف عوامی مفاد کے خلاف ہے بلکہ اس سے وہ قوتیں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو مسئلہ کشمیر اور تحریکِ آزادی کشمیر کو نقصان پہنچانے کی خواہاں ہیں۔ ہمیں ہر حال میں اتحاد، استحکام اور قومی یکجہتی کو مقدم رکھنا ہوگا۔

میں حکومت، انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ حالات کو مزید کشیدہ بنانے کے بجائے تحمل، دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کریں، تمام فریقین کو اعتماد میں لیں اور مسائل کے حل کے لیے فوری، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کریں۔ یہی جمہوری، آئینی اور قومی مفاد کا تقاضا ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد اور مکمل صحت یابی نصیب کرے اور آزاد کشمیر کو امن، استحکام، عدل اور بھائی چارے کی نعمت سے ہمیشہ مالا مال رکھے۔

09/06/2026

ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا لائسنس پھر خطرے میں؟

اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال ایڈووکیٹ نے بھی ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کے خلاف پنجاب بار کونسل میں درخواست جمع کروا دی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میاں علی اشفاق نے ذاتی نوعیت کے حملے کیے اور وکالت کے پیشہ ورانہ آداب کی خلاف ورزی کی۔

درخواست میں پنجاب بار کونسل سے معاملے کی تحقیقات اور مناسب تادیبی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

Photos from Law Teacher Online's post 09/06/2026

استغاثہ کے مطابق مورخہ 01.08.2014 کو دوپہر کے وقت مقتول محمد صدیق اپنی بیوی روشنائی بی بی کے ہمراہ اپنی زرعی اراضی پر موجود تھا کہ ملزم محمد یونس اور اس کا والد چراغ وہاں آئے۔ الزام تھا کہ اراضی کے تنازعہ اور قبضہ کی نیت سے ملزمان نے مقتول پر ڈنڈے اور کَسی کے وار کیے، جبکہ روشنائی بی بی کو بھی زخمی کیا۔ مقتول شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں رات 11 بجے وفات پا گیا۔ بعد ازاں مورخہ 02.08.2014 کو رات 12:15 بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔

تفتیش کے بعد ملزم محمد یونس کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے استغاثہ کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے ملزم کو دفعہ 302(b) PPC کے تحت عمر قید اور معاوضہ کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف ملزم نے اپیل دائر کی جبکہ مدعیہ نے سزا میں اضافہ کے لیے نظرثانی درخواست دائر کی۔

فاضل عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ ایف آئی آر وقوعہ کے تقریباً بارہ گھنٹے بعد درج کی گئی جبکہ وقوعہ کی اطلاع پولیس کو اس سے پہلے مل چکی تھی۔ اس غیر معمولی تاخیر کی کوئی تسلی بخش وضاحت پیش نہ کی گئی جس سے مشاورت، غور و خوض اور بعد ازاں کہانی مرتب کیے جانے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ ایف آئی آر کی بروقت اور فطری حیثیت مشکوک قرار پائی۔

عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ استغاثہ کے عینی گواہوں، خصوصاً روشنائی بی بی (PW-1) اور محمد اسلم (PW-2)، نے اہم حقائق چھپائے۔ دونوں گواہوں نے انکار کیا کہ پولیس نے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا یا ملزم محمد یونس بھی اسی وقوعہ میں زخمی ہوا تھا، جبکہ سرکاری ریکارڈ، میڈیکل دستاویزات اور پولیس گواہوں کے بیانات اس کے برعکس تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب زبانی شہادت دستاویزی ریکارڈ سے متصادم ہو تو دستاویزی شہادت کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم محمد یونس کو اسی وقوعہ میں متعدد سنگین چوٹیں آئی تھیں جن میں سر کی کھلی چوٹ اور بازو کا فریکچر شامل تھا، مگر استغاثہ نے ان زخموں کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ قانوناً جب استغاثہ ملزم کی وقوعہ میں آنے والی نمایاں چوٹوں کی تشریح کرنے میں ناکام رہے تو اس سے وقوعہ کی اصل حقیقت مخفی کیے جانے کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔

عدالت نے عینی گواہوں کے بیانات میں متعدد (Improvements) اور تضادات بھی پائے۔ گواہوں نے عدالت میں ایسے تفصیلی اوورٹ ایکٹس اور واقعات بیان کیے جو نہ ایف آئی آر میں موجود تھے اور نہ ہی ان کے سابقہ بیانات میں۔ عدالت نے قرار دیا کہ جان بوجھ کر کی گئی بہتری گواہ کی ساکھ کو مجروح کر دیتی ہے اور اس کی شہادت پر بلا تائید اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

فاضل عدالت نے اس اصول کو بھی دہرایا کہ محض زخمی ہونا کسی گواہ کی صداقت کی ضمانت نہیں۔ زخمی گواہ کی موجودگی تو ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کی سچائی اور قابلِ اعتماد ہونے کا تعین دیگر حالات اور شواہد کی روشنی میں کیا جائے گا۔

پوسٹ مارٹم میں تقریباً تیرہ گھنٹے کی تاخیر، انکوائسٹ رپورٹ میں بعض اہم کوائف کا فقدان، وقوعہ کے اصل پس منظر کے متعلق ابہام اور تفتیشی خامیوں کو بھی عدالت نے استغاثہ کے خلاف اہم عوامل قرار دیا۔ عدالت کے مطابق یہ تمام حالات مجموعی طور پر استغاثہ کے مقدمہ کو مشکوک بناتے ہیں۔

برآمدگی کے متعلق عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ کے انتالیس دن بعد ایک عام ڈنڈے کی برآمدگی، جو خون آلود بھی نہ تھا، کوئی مؤثر شہادت نہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر ملزم وقوعہ کے بعد فرار ہو گیا تھا تو اس نے اتنی طویل مدت تک آلۂ ضرب اپنے پاس کیوں محفوظ رکھا ہوگا۔

محرک (Motive) کے حوالے سے بھی عدالت نے قرار دیا کہ مبینہ اراضی تنازعہ کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ مزید برآں فریقین کے درمیان پرانی دشمنی مسلمہ تھی، جو ایک طرف جرم کا سبب بن سکتی تھی تو دوسری طرف جھوٹے پھنسائے جانے کا محرک بھی بن سکتی تھی۔ اس لیے محرک استغاثہ کے لیے سودمند ثابت نہ ہوا۔

📍اصولِ قانون (Ratio Decidendi):

فاضل عدالت نے قرار دیا کہ:
جب استغاثہ وقوعہ کی اصل حقیقت چھپا لے، ملزم کی چوٹوں کی وضاحت نہ کرے، عینی گواہوں کے بیانات میں مادی تضادات اور بہتریاں موجود ہوں، ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم میں غیر وضاحتی تاخیر ہو، اور مجموعی شہادت اعتماد پیدا نہ کرے، تو ملزم کو شک کا فائدہ بطور حق دیا جائے گا۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں قرار دیا کہ شک کا فائدہ رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے، اور ایک معقول شک بھی بریت کے لیے کافی ہوتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم محمد یونس کے خلاف الزام کو بلا شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ چنانچہ ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اس کی سزا اور محکومیت کالعدم قرار دی گئی اور اسے بری کر دیا گیا۔ مدعیہ کی سزا میں اضافہ کی نگرانی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔

ایڈمن: عمیر شفیق مغل ایڈووکیٹ

09/06/2026
Want your school to be the top-listed School/college in London?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Central
London

Opening Hours

Monday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Tuesday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Wednesday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Thursday 8am - 4pm
6pm - 10pm
Friday 8am - 12pm
6pm - 10pm
Saturday 8am - 4pm
6pm - 10pm