Noorul Quran online Academy

Noorul Quran online Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Noorul Quran online Academy, Education Website, London.

📖 Quran Sirf Parhein Nahi, Zindagi Mein Utaarein!
🌿 Online Quran • Tajweed • Islami Tarbiyat
❤️ Taleem ke saath Imaan, Akhlaq aur Kirdar ki Tarbiyat
📲 WhatsApp for Admission & Details
+923348621355

 #بچے  #کی  #کوشش کو محسوس کریں، صرف نتیجہ نہ دیکھیں! 🌿 *بچے کی کامیابی پر ہی نہیں، اس کی کوشش پر بھی خوش ہوں!**کبھی بچے...
24/09/2026

#بچے #کی #کوشش کو محسوس کریں، صرف نتیجہ نہ دیکھیں!

🌿 *بچے کی کامیابی پر ہی نہیں، اس کی کوشش پر بھی خوش ہوں!*

*کبھی بچے نے پوری کوشش کی ہو، مگر پھر بھی وہ کام ویسا نہ کر پایا ہو جیسا ہم چاہتے تھے۔*

*ایسے وقت میں ذرا رک کر سوچیے…*

*کیا اسے ہماری ناراضی چاہیے؟*
*یا یہ احساس کہ "میں نے کوشش کی، اور میرے والدین نے میری کوشش کو دیکھا ہے۔"*

*بچے کی ہر کوشش فوراً کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتی۔*

*کبھی سبق یاد کرنے میں وقت لگتا ہے،*
*کبھی تلاوت میں غلطیاں ہوتی ہیں،*
*کبھی بچہ بار بار کوشش کے باوجود وہی غلطی دہرا دیتا ہے*۔

*لیکن اگر ہم ہر بار صرف نتیجہ دیکھیں گے تو بچہ اپنی کوشش سے بھی مایوس ہونے لگے گا۔*

*اس کے بجائے کبھی اسے یہ کہہ کر دیکھیے:*

"*بیٹا! آج پہلے سے بہتر کوشش کی ہے، ماشاءاللہ… دوبارہ کوشش کرو، ان شاء اللہ ہو جائے گا۔"*

*یاد رکھیے!*

*بچے کو صرف کامیابی پر شاباش دینے والا شخص، اس کی کامیابی دیکھتا ہے؛*
*لیکن کوشش پر خوش ہونے والا شخص، بچے کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے۔*

*قرآن سیکھنے کا سفر بھی ایک دن میں مکمل نہیں ہوتا۔*

*غلطیاں ہوں گی، بھول بھی ہوگی، لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ بچے کے دل میں یہ یقین زندہ رکھیں:*

"*میں کوشش کر سکتا ہوں، اور مجھے دوبارہ کوشش کرنے کا حق ہے۔"*

🌿 *بچے کی کوشش کو محسوس کریں، اس کی ہمت بڑھائیں، اور اسے سیکھنے سے محبت کرنا سکھائیں۔*

*تحریر۔۔۔۔حافظ محمد طیب*
*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
https://whatsapp.com/channel/0029VbCojVlH5JM4WM7IX705
*+923348621355*

#والدین

 #غلطی  #ناکامی  #نہیں، سیکھنے کا پہلا زینہ ہے! ✨🌿 *بچے کو غلطی کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیں!*کل ہم نے بات کی تھ...
23/09/2026

#غلطی #ناکامی #نہیں، سیکھنے کا پہلا زینہ ہے! ✨

🌿 *بچے کو غلطی کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیں!*

کل ہم نے بات کی تھی:

"بچے کی غلطی بتانے سے پہلے، اسے احساس دلائیں کہ وہ ناکام نہیں ہے۔"

آج اسی بات کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں۔

بچہ غلطی کرے تو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ
"یہ غلط ہے!"

اسے یہ بھی محسوس ہونا چاہیے کہ:

"غلطی ہوئی ہے، لیکن تم دوبارہ کوشش کر سکتے ہو۔"

کبھی بچہ ایک ہی سبق بار بار پڑھتا ہے، پھر بھی غلطی کر دیتا ہے۔

ایسے وقت میں اگر ہم کہیں:

"تمہیں اتنی بار سمجھایا، پھر بھی یاد نہیں ہوا!"
"تم سے یہ بھی نہیں ہوتا؟"

تو ممکن ہے بچہ اپنی غلطی سے زیادہ
اپنے آپ کو ناکام سمجھنے لگے۔

لیکن اگر استاد یا والدین کہیں:

"کوئی بات نہیں بیٹا، دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔
اس بار ان شاء اللہ بہتر ہوگا۔"

تو بچہ غلطی سے ڈرنے کے بجائے
غلطی سے سیکھنا شروع کرتا ہے۔

یاد رکھیے!

بچے کو ہر بار کامل بنانا ہماری ذمہ داری نہیں،
بلکہ اسے کوشش کرتے رہنا سکھانا بھی تربیت کا حصہ ہے۔

قرآن سیکھنے والا بچہ جب غلطی کرے تو
اس کی غلطی ضرور درست کریں،
لیکن اس کے حوصلے کو نہ توڑیں۔

کیونکہ ایک حوصلہ پانے والا بچہ
آج کی غلطی سے سیکھ کر
کل بہت بہتر پڑھ سکتا ہے۔ 🌿

غلطی پر رہنمائی کریں،
اور دوبارہ کوشش پر حوصلہ دیں۔

یہی انداز بچے کو صرف اچھا طالب علم نہیں،
بلکہ مضبوط اور پُراعتماد انسان بھی بناتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━

*حافظ محمد طیب*
*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
📱 +923348621355
📲 WhatsApp Channel:https://whatsapp.com/channel/0029VbCojVlH5JM4WM7IX705

 #بچے  #کی  #غلطی بتانے سے پہلے، اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ ناکام نہیں ہے!🌿 *بچے کی غلطی بتانے سے پہلے، اسے یہ احساس دلائ...
20/09/2026

#بچے #کی #غلطی بتانے سے پہلے، اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ ناکام نہیں ہے!

🌿 *بچے کی غلطی بتانے سے پہلے، اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ ناکام نہیں ہے!*

کل ہم نے بات کی تھی:

"ہر غلطی پر ڈانٹ نہیں، کبھی حوصلہ بھی چاہیے۔"

آج اسی بات کو ذرا آگے بڑھاتے ہیں…

کبھی بچہ قرآن پڑھتے ہوئے بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے،
کبھی سبق یاد نہیں ہوتا،
کبھی پڑھتے ہوئے رک جاتا ہے…

اور ہم بے اختیار کہہ دیتے ہیں:

"تمہیں اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی؟"
"کتنی بار بتایا ہے!"
"تم سے تو یہ بھی نہیں ہوتا!"

لیکن ذرا سوچیں…

اگر ایک بچہ ہر غلطی کے بعد یہ محسوس کرنے لگے کہ
"میں اچھا نہیں پڑھ سکتا…"
تو آہستہ آہستہ وہ سیکھنے کی کوشش ہی چھوڑ سکتا ہے۔

ایک اچھا استاد اور سمجھدار والدین بچے کو یہ احساس دلاتے ہیں:

"تم سے غلطی ہوئی ہے، لیکن تم ناکام نہیں ہو۔
آؤ، دوبارہ کوشش کرتے ہیں۔"

قرآن سیکھنے والے بچے کو صرف درست پڑھنا نہیں سکھانا،
بلکہ غلطی کے بعد دوبارہ کوشش کرنا بھی سکھانا ہے۔

اسے یہ بتانا ہے کہ:

🌱 غلطی شرمندگی کی بات نہیں، سیکھنے کا ایک مرحلہ ہے۔
🌱 آج مشکل ہے تو کل آسان ہو سکتی ہے۔
🌱 ایک سبق میں کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ کمزور ہے۔
🌱 بچے کو دوسروں سے نہیں، اس کی اپنی کل کی کارکردگی سے دیکھیں۔

اور کبھی بچے کی ایک چھوٹی سی کامیابی پر بھی کہہ دیں:

"ماشاءاللہ! آج تم نے کل سے بہتر پڑھا ہے۔"

یقین کریں، کبھی ایک جملہ بچے کے اندر وہ حوصلہ پیدا کر دیتا ہے
جو دس ڈانٹیں بھی پیدا نہیں کر سکتیں۔

بچے کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ غلطی نہیں کرنی،
بلکہ یہ بھی سکھائیں کہ غلطی ہو جائے تو ہمت نہیں ہارنی۔

کیونکہ ہمارا مقصد صرف یہ نہیں کہ بچہ قرآن پڑھ لے،
بلکہ یہ بھی ہے کہ قرآن سیکھتے ہوئے اس کے دل میں محبت، اعتماد اور شوق پیدا ہو۔ 🌿
*حافظ محمد طیب*
*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
*+923348621355*
#والدین #استاد #تجوید

 #ہر  #غلطی  #پر  #ڈانٹ  #نہیں، کبھی حوصلہ بھی چاہیے! 🌿🌿 *ہر غلطی پر ڈانٹ نہیں، کبھی حوصلہ بھی چاہیے!*کل ہم نے بات کی تھ...
18/09/2026

#ہر #غلطی #پر #ڈانٹ #نہیں، کبھی حوصلہ بھی چاہیے! 🌿

🌿 *ہر غلطی پر ڈانٹ نہیں، کبھی حوصلہ بھی چاہیے!*

کل ہم نے بات کی تھی کہ:

"بچے کو غلطی پر ڈانٹنے سے پہلے، اسے سمجھانے کا طریقہ دیکھیے!"

آج ذرا ایک قدم آگے بڑھ کر سوچتے ہیں…

کبھی بچہ قرآن پڑھتے ہوئے بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے،
کبھی سبق یاد نہیں رہتا،
اور کبھی پوری کوشش کے باوجود تلفظ درست نہیں ہو پاتا۔

ایسے وقت میں اگر ہم بار بار کہیں:

"تمہیں یہ بھی نہیں آتا؟"
"کتنی بار سمجھاؤں؟"
"تم سے تو یہ سبق بھی یاد نہیں ہوتا!"

تو ممکن ہے بچہ غلطی سے زیادہ اپنے بارے میں مایوس ہونے لگے۔

ایک اچھا استاد بچے کو یہ احساس دلاتا ہے:

"غلطی ہونا بری بات نہیں، غلطی سے سیکھنے کی کوشش چھوڑ دینا بری بات ہے۔"

جب بچہ تھوڑی سی بھی بہتری دکھائے تو اسے محسوس کرائیں کہ اس کی کوشش دیکھی جا رہی ہے۔

"ماشاءاللہ! آج کل سے بہتر پڑھا ہے، دوبارہ کوشش کرو، ان شاء اللہ اور اچھا ہو جائے گا۔"

یہ چند حوصلہ افزا الفاظ بچے کے دل میں امید پیدا کر سکتے ہیں۔

قرآن سکھانا صرف حروف اور الفاظ پڑھانا نہیں،
بلکہ بچے کے دل میں قرآن سے محبت، سیکھنے کا شوق اور کوشش کا حوصلہ پیدا کرنا بھی ہے۔

تعلیم کے ساتھ حوصلہ ہو،
اصلاح کے ساتھ محبت ہو،
اور غلطی کے ساتھ رہنمائی ہو۔

کیونکہ جس بچے کو اپنی کوشش کی قدر محسوس ہو،
وہ سیکھنے سے گھبراتا نہیں…
بلکہ دوبارہ کوشش کرتا ہے۔ 🌿

*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
*حافظ محمد طیب*
*📞 +923348621355*
#والدین #تجوید

 #🌿  #بچے  #کو  #ڈانٹنے سے پہلے، اسے سمجھانے کا طریقہ دیکھیے!🌿 *بچے کو غلطی پر ڈانٹنے سے پہلے، اسے سمجھانے کا طریقہ دیکھ...
17/09/2026

#🌿 #بچے #کو #ڈانٹنے سے پہلے، اسے سمجھانے کا طریقہ دیکھیے!

🌿 *بچے کو غلطی پر ڈانٹنے سے پہلے، اسے سمجھانے کا طریقہ دیکھیے!*

کل ہم نے بات کی تھی:

"بچے کی غلطی دیکھنے سے پہلے، اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔"

آج اسی بات کو ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں۔

کبھی بچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے، سبق یاد نہیں کرتا، یا قرآن پڑھتے ہوئے توجہ نہیں دے پاتا۔

ہم فوراً کہہ دیتے ہیں:

"تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے!"
"تم کبھی ٹھیک سے نہیں پڑھتے!"

لیکن کیا صرف ڈانٹنے سے بچہ اپنی غلطی سمجھ جاتا ہے؟

ایک اچھا استاد بچے کی غلطی کو نظرانداز نہیں کرتا،
بلکہ غلطی کو درست کرنے کا طریقہ محبت، صبر اور حکمت سے اختیار کرتا ہے۔

بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ:

"میرا استاد میری غلطی سے ناراض ضرور ہے، لیکن مجھ سے ناراض نہیں۔"

جب بچہ خوف کے بجائے اعتماد کے ماحول میں سیکھتا ہے،
تو وہ اپنی غلطی بتانے اور اسے درست کرنے سے نہیں گھبراتا۔

یاد رکھیے!

بچے کی اصلاح صرف الفاظ سے نہیں، ہمارے انداز سے بھی ہوتی ہے۔

ہماری کوشش صرف یہ نہ ہو کہ بچہ غلطی نہ کرے،
بلکہ یہ بھی ہو کہ غلطی کے بعد اسے صحیح راستہ دکھانا آ جائے۔

🌿 تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہے۔
*حافظ محمد طيب*
*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
#والدین #اساتذہ

 #🌿  #بچے  #کی  #غلطی نہیں، اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں!🌿 *بچے کی غلطی دیکھنے سے پہلے، اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں!*...
16/09/2026

#🌿 #بچے #کی #غلطی نہیں، اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں!

🌿 *بچے کی غلطی دیکھنے سے پہلے، اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں!*

کبھی ہم بچے کی ایک غلطی دیکھ کر فوراً کہہ دیتے ہیں:

"تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو!"
"تم سے کوئی کام ٹھیک نہیں ہوتا!"
"تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے؟"

لیکن ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں…

کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ
آخر ہمارا بچہ بار بار یہ غلطی کیوں کر رہا ہے؟

ہو سکتا ہے وہ ضدی نہ ہو،
بس اسے ہماری توجہ کی ضرورت ہو۔

ہو سکتا ہے وہ سست نہ ہو،
بس وہ ذہنی طور پر تھکا ہوا ہو۔

ہو سکتا ہے وہ پڑھنا نہ چاہتا ہو،
بس اسے ڈانٹ کے بجائے حوصلے کی ضرورت ہو۔

اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ
بچہ اپنی پریشانی الفاظ میں بیان نہیں کر پاتا،
تو اس کا رویہ ہی اس کی خاموش زبان بن جاتا ہے۔

ایک اچھا والدین وہ نہیں جو بچے کی ہر غلطی پر فوراً ڈانٹ دے،
بلکہ وہ ہے جو غلطی کے پیچھے چھپی ہوئی وجہ تلاش کرے۔

بچے کو صرف درست کرنا کافی نہیں،
اسے یہ احساس بھی دلانا ضروری ہے کہ
"میں تمہیں سمجھنا چاہتا ہوں۔"

قرآن ہمیں حکمت اور نرمی کا راستہ سکھاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا

"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔"
(البقرۃ: 83)

یاد رکھیے…

بچہ ہماری ڈانٹ کے الفاظ شاید بھول جائے،
لیکن ہمارے رویّے کا احساس دیر تک اس کے دل میں رہتا ہے۔

اس لیے اگلی بار جب بچہ کوئی غلطی کرے،
فوراً غصہ کرنے سے پہلے ایک سوال ضرور کیجیے:

"بیٹا! آخر کیا ہوا ہے؟ مجھے بتاؤ…"

شاید ایک سوال
اس کے دل کا وہ دروازہ کھول دے
جسے ہم بار بار ڈانٹ کر بند کرتے رہے ہیں۔ 🌿
*حافظ محمد طیب*
*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
#والدین ّہ

 #🌿  #بچے  #کو بدلنے سے پہلے، اسے سمجھیں!🌿 *بچے کو بدلنے سے پہلے، اسے سمجھنے کی کوشش کریں!*کبھی ایک استاد کے سامنے بچہ ق...
14/09/2026

#🌿 #بچے #کو بدلنے سے پہلے، اسے سمجھیں!

🌿 *بچے کو بدلنے سے پہلے، اسے سمجھنے کی کوشش کریں!*

کبھی ایک استاد کے سامنے بچہ قرآن کھول کر بیٹھتا ہے،
لیکن اس کی آنکھیں سبق پر نہیں ٹھہرتیں۔

ہم فوراً کہہ دیتے ہیں:

"اس بچے کا قرآن میں دل ہی نہیں لگتا!"

لیکن ایک اچھا استاد صرف یہ نہیں دیکھتا کہ بچہ سبق کیوں نہیں پڑھ رہا،
وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ:

"آخر میرے بچے کے دل پر کیا گزر رہی ہے؟"

ہو سکتا ہے وہ تھکا ہوا ہو،
کسی بات سے پریشان ہو،
اسے سبق مشکل لگ رہا ہو،
یا بار بار کی ڈانٹ نے اس کے دل میں خوف پیدا کر دیا ہو۔

ایسے وقت میں بچے پر مزید دباؤ ڈالنے کے بجائے
اس کے قریب بیٹھنا، اس کی بات سننا اور اسے حوصلہ دینا زیادہ ضروری ہے۔

کیونکہ بچہ صرف الفاظ نہیں سیکھتا، وہ استاد کا رویہ بھی محسوس کرتا ہے۔

اگر قرآن پڑھاتے وقت اسے ہر غلطی پر ڈانٹ ملے گی تو شاید وہ سبق تو پڑھ لے،
مگر قرآن کی مجلس سے محبت پیدا نہیں ہوگی۔

اور اگر اسے محبت، صبر اور حوصلہ ملے گا تو آہستہ آہستہ
قرآن صرف اس کی زبان پر نہیں، اس کے دل کے قریب بھی آنے لگے گا۔

اس لیے جب بچہ قرآن پڑھنے میں سستی کرے تو صرف یہ نہ کہیں:

"میرا بچہ پڑھتا ہی نہیں!"

ایک بار خود سے بھی پوچھیں:

"کیا میں نے اسے قرآن سے محبت کرنے کا ماحول دیا ہے؟"

🌿 بچے کو بدلنے سے پہلے اسے سمجھیں،
کیونکہ دل جیت کر کی گئی تربیت زیادہ اثر رکھتی ہے۔

✍️ *حافظ محمد طیب*
*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
#نورالقرآن #والدین

 #🌿  #بچے  #کا  #دل قرآن میں نہیں لگتا؟ شاید مسئلہ بچے میں نہیں… ہمارے انداز میں ہے!ایک لمحے کے لیے خود سے یہ سوال ضرور ...
13/09/2026

#🌿 #بچے #کا #دل قرآن میں نہیں لگتا؟ شاید مسئلہ بچے میں نہیں… ہمارے انداز میں ہے!
ایک لمحے کے لیے خود سے یہ سوال ضرور کریں۔ ❤️

*بچے کا دل قرآن میں نہیں لگتا… تو پہلے اپنا انداز دیکھیے!*

کل ہم نے سوچا تھا کہ
*بچے کا دل قرآن میں کیوں نہیں لگتا؟*

آج ذرا ایک قدم آگے بڑھ کر سوچتے ہیں…

کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ بچے کو قرآن سے محبت نہیں،
بلکہ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ قرآن کے ساتھ اس کا تجربہ کیسا ہے؟

اگر ہر بار قرآن پڑھنے پر ڈانٹ ملے،
غلطی پر سختی ہو،
دوسرے بچوں سے موازنہ کیا جائے،
اور صرف یہ دیکھا جائے کہ سبق مکمل ہوا یا نہیں…

تو آہستہ آہستہ بچہ قرآن کو شوق کی بجائے ایک ذمہ داری یا دباؤ سمجھنے لگ سکتا ہے۔

ایک استاد کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ بچے سے سبق سنا لے،
بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ بچے کے مزاج کو سمجھے،
اس کی کوشش کو سراہائے،
غلطی پر نرمی سے اصلاح کرے
اور قرآن کے ساتھ اس کے دل کا تعلق مضبوط کرے۔

اور والدین بھی گھر میں ایسا ماحول بنائیں جہاں قرآن صرف "پڑھنے کا وقت" نہ ہو،
بلکہ محبت، برکت اور سکون کا حصہ ہو۔

بچے کو قرآن سے جوڑنے کے لیے صرف آواز نہیں،
ہمارا رویہ بھی اہم ہے۔ 🌿

*نور القرآن آن لائن اکیڈمی*
*حافظ محمد طیب*
#قرآن #والدین #استاد

 #🌱  #کبھی  #بچے کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے یہ سوال ضرور کریں:"آخر اس کا دل قرآن میں کیوں نہیں لگ رہا؟"🌿 *کیا ہم نے کبھی...
12/09/2026

#🌱 #کبھی #بچے کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے یہ سوال ضرور کریں:
"آخر اس کا دل قرآن میں کیوں نہیں لگ رہا؟"

🌿 *کیا ہم نے کبھی سوچا کہ بچے کا دل قرآن میں کیوں نہیں لگتا؟*
کل ایک بات ہوئی کہ:
"بچہ قرآن پڑھتا تو ہے… مگر دل لگا کر نہیں پڑھتا!"
لیکن ایک استاد کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ بچے کا دل ہی نہیں لگتا۔
کبھی ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آخر بچے کا دل کیوں نہیں لگ رہا؟
کیا ہم اسے ہر وقت ڈانٹ کر قرآن پڑھاتے ہیں؟
کیا ہم اس کی معمولی غلطی پر بھی اسے دوسروں سے ملاتے ہیں؟
کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ فوراً دوسروں جتنا تیز پڑھنے لگے؟
یاد رکھیے، بچے کا دل محبت سے جیتا جاتا ہے، صرف دباؤ سے نہیں۔
جب بچہ قرآن پڑھتے ہوئے خود کو محفوظ، خوش اور حوصلہ پاتا ہے تو آہستہ آہستہ قرآن سے اس کا تعلق مضبوط ہونے لگتا ہے۔
ایک اچھے استاد کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ بچہ سبق مکمل کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھتے ہوئے بچے کے دل میں قرآن کی محبت پیدا ہو۔
اور والدین کے لیے بھی ایک چھوٹی سی گزارش:
اپنے بچے کی رفتار کو دوسروں سے نہ تولیں۔
اس کی آج کی معمولی سی بہتری کو بھی سراہیں۔
کیونکہ ممکن ہے آپ کا ایک حوصلہ افزا جملہ
اس بچے کو قرآن کے ساتھ مزید جڑنے کا سبب بن جائے۔ 🌱
قرآن صرف زبان سے پڑھوانا نہیں، دل سے جوڑنا بھی ہے۔
— *حافظ محمد طیب*
نور القرآن آن لائن اکیڈمی

🔄 اگر یہ پیغام آپ کو اہم لگا تو اسے کسی والدین تک ضرور شیئر کریں۔
#استاد #قرآن

 #بچے  #کو  #قرآن سے جوڑنا ہے تو محبت سے جوڑیں ❤️🌿 *بچہ قرآن پڑھتا ہے… مگر دل لگا کر نہیں پڑھتا؟**کل ہم نے بات کی تھی:*"...
11/09/2026

#بچے #کو #قرآن سے جوڑنا ہے تو محبت سے جوڑیں ❤️

🌿 *بچہ قرآن پڑھتا ہے… مگر دل لگا کر نہیں پڑھتا؟*

*کل ہم نے بات کی تھی:*

"*میرا بچہ قرآن پڑھتا ہے، لیکن دل لگا کر نہیں پڑھتا!"*

*آج ذرا ایک اور پہلو پر غور کریں…*

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچہ مدرسے میں قرآن پڑھ کر گھر تو آ جاتا ہے، لیکن اگلے دن جب مدرسے جانے کا وقت ہوتا ہے تو کہتا ہے:

"آج میرا مدرسے جانے کو دل نہیں کر رہا…"

تو ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ
"بچہ پڑھنا نہیں چاہتا۔"

بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ
"اسے مدرسے اور قرآن کے ساتھ کیسا تجربہ مل رہا ہے؟"

بچے کے دل میں قرآن اور مدرسے کی محبت پیدا کرنے کے لیے:

❤️ استاد کا رویہ محبت بھرا ہو۔
غلطی پر اصلاح ضرور ہو، لیکن ایسا انداز نہ ہو کہ بچہ قرآن سے خوف محسوس کرنے لگے۔

🌱 بچے کی کوشش کی قدر کریں۔
صرف غلطیاں نہ دیکھیں، اس کی چھوٹی سی کامیابی پر بھی کہیں:
"ماشاءاللہ! آج تم نے بہت اچھی کوشش کی۔"

📖 بچے کو اس کی عمر اور استعداد کے مطابق پڑھائیں۔
ہر بچے سے ایک جیسی رفتار کی توقع نہ رکھیں۔

مدرسے کا ماحول ایسا ہو جہاں بچہ خود کو محفوظ اور خوش محسوس کرے۔

🏡 والدین بھی گھر میں مدرسے اور استاد کے بارے میں مثبت بات کریں۔
بچے کے سامنے بار بار یہ نہ کہیں کہ
"چلو، مدرسے جاؤ، ورنہ استاد سے شکایت کریں گے!"

کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ بچہ مدرسے خوف سے نہیں، شوق سے جائے۔

یاد رکھیں…

بچے کو قرآن پڑھانا صرف اسے الفاظ پڑھانا نہیں،
بلکہ اس کے دل میں قرآن کے لیے محبت پیدا کرنا بھی ہے۔ ❤️

آج بچے سے صرف یہ نہ کہیں:
"کل مدرسے ضرور جانا ہے!"

بلکہ محبت سے کہیں:

"بیٹا! کل پھر قرآن پڑھنے چلیں گے،
دیکھنا آج سے بھی اچھا پڑھیں گے۔" 🌸

شاید ہمارے الفاظ ہی
بچے کے دل میں قرآن اور مدرسے کی محبت کا سبب بن جائیں۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کے دلوں میں قرآن کی محبت پیدا فرمائے اور انہیں شوق و خوشی کے ساتھ قرآن پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

دعاگو:
*حافظ محمد طیب*
نور القرآن آن لائن اکیڈمی
#قرآن #والدین

Address

London

Telephone

+923348621355

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noorul Quran online Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Noorul Quran online Academy:

Shortcuts

Share