03/12/2025
قسط #2
اہم مسئلہ: آج کی زندگی انتشار، بے چینی اور مسلسل الجھنوں میں گھری ہوئی ہے۔ ہر انسان سکون چاہتا ہے، لیکن سمجھ نہیں آتی کہ اس زندگی کا رخ کیسے بدلا جائے؟
واحد حل: میں آپ کے سامنے اپنے چالیس پینتالیس سال کے وہ قیمتی تجربات رکھ رہا ہوں جو میں نے طالب علمی کے دور میں اور حضور ﷺ کے کام میں لگ کر حاصل کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگوں، حکماء اور مریضوں سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ بھی پیش کر رہا ہوں۔
زندگی کی زیادہ تر پریشانیاں انسان کے اپنے ذہن کی کمزوری، ناپختگی، نہ سمجھ اور لاپروائی سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب بڑے مسائل کو بچوں کی سوچ والی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو انجام ذہنی انتشار ہوتا ہے۔
پختگی اور سمجھ بوجھ خود بخود پیدا نہیں ہوتی۔ یہ سیکھنے سے آتی ہے۔ مگر آج کے دور میں یہ سکھانے والا مشکل سے ملتا ہے۔ اگر کہیں زندگی کا سچا راستہ مل سکتا ہے تو وہ صرف حضور ﷺ کی زندگی میں ہے یا ان لوگوں میں جو ان کی کامل پیروی کرتے ہیں۔
آج ماں کی گود وہ تربیت نہیں دے رہی، اور تعلیمی ادارے صرف دنیاوی علم کے پیچھے ہیں۔ اس لیے انسان کو مضبوط بنانے والے ادارے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ وہ مائیں اور وہ درسگاہیں کہاں ہیں، جو بچوں میں شجاعت، سخاوت، ایثار اور بے خوفی پیدا کرتی تھیں؟
"بو آئے کس طرح اولاد میں ماں باپ کے اطوار کی
دودھ تو ڈبہ کا ہے، تعلیم ہے اغیار کی"
پرسکون اور خوشگوار زندگی کی ضرورت ہر شخص کو ہے، خاص طور پر اپنی معاشی، خانگی، ازدواجی اور خاندانی زندگی میں۔ بڑھاپے میں تو یہ ضرورت شدید ہو جاتی ہے۔ سکون تب ملتا ہے جب جذبات اور ذہنی رجحانات اعتدال میں ہوں۔
پختگی کے لیے کسی خاص ڈگری، علم یا دولت کی ضرورت نہیں، میرے عزیزو! صرف ایک چیز ضروری ہے: حضور ﷺ کی لائی ہوئی زندگی کو اپنانا۔ ان کا طریقہ ایسا پاکیزہ ہے کہ انسان دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
پختہ انسان کی خوبیاں:
ایمان، یقین، پاکیزگی، حق گوئی، تواضع، صبر، شکر، قناعت، شجاعت، خدمتِ خلق، والدین کی خدمت، خوش اخلاقی، صلہ رحمی۔
کمزور انسان کی برائیاں:
وہم، شرک، خودغرضی، ناپاکی، جھوٹ، بد نظری، چوری، شراب، جوا، سود، حسد، غیبت، بدخوئی، نماز کی غفلت، والدین کی نافرمانی، گھریلو انتشار وغیرہ۔
ان بیماریوں کا علاج صرف یہی ہے کہ انسان اپنا باطن پاک کرے، مسجد اور خانقاہ جیسے پاکیزہ ماحول میں وقت گزارے، اور برے جذبات کو جڑ سے نکال کر ان کی جگہ اچھی صفات پیدا کرے۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
"جس نے اپنے سارے غم ایک غم—آخرت—میں سمیٹ لیے، اللہ اس کی دنیا کے ہر کام کی ذمہ داری لیتا ہے۔"
اس تحریر میں مختلف کہانیاں اور مثالیں بھی دی گئی ہیں جن میں اگر چند چیزیں بدلی گئی ہوں تو وہ صرف عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے ہیں۔
تمہیں شوق ہے ورق گردانی کا؟
ذرا دیکھو، ان اوراق میں تمہارا حال لکھا ہوا ہے!