قسط #2
اہم مسئلہ: آج کی زندگی انتشار، بے چینی اور مسلسل الجھنوں میں گھری ہوئی ہے۔ ہر انسان سکون چاہتا ہے، لیکن سمجھ نہیں آتی کہ اس زندگی کا رخ کیسے بدلا جائے؟
واحد حل: میں آپ کے سامنے اپنے چالیس پینتالیس سال کے وہ قیمتی تجربات رکھ رہا ہوں جو میں نے طالب علمی کے دور میں اور حضور ﷺ کے کام میں لگ کر حاصل کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگوں، حکماء اور مریضوں سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ بھی پیش کر رہا ہوں۔
زندگی کی زیادہ تر پریشانیاں انسان کے اپنے ذہن کی کمزوری، ناپختگی، نہ سمجھ اور لاپروائی سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب بڑے مسائل کو بچوں کی سوچ والی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو انجام ذہنی انتشار ہوتا ہے۔
پختگی اور سمجھ بوجھ خود بخود پیدا نہیں ہوتی۔ یہ سیکھنے سے آتی ہے۔ مگر آج کے دور میں یہ سکھانے والا مشکل سے ملتا ہے۔ اگر کہیں زندگی کا سچا راستہ مل سکتا ہے تو وہ صرف حضور ﷺ کی زندگی میں ہے یا ان لوگوں میں جو ان کی کامل پیروی کرتے ہیں۔
آج ماں کی گود وہ تربیت نہیں دے رہی، اور تعلیمی ادارے صرف دنیاوی علم کے پیچھے ہیں۔ اس لیے انسان کو مضبوط بنانے والے ادارے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ وہ مائیں اور وہ درسگاہیں کہاں ہیں، جو بچوں میں شجاعت، سخاوت، ایثار اور بے خوفی پیدا کرتی تھیں؟
"بو آئے کس طرح اولاد میں ماں باپ کے اطوار کی
دودھ تو ڈبہ کا ہے، تعلیم ہے اغیار کی"
پرسکون اور خوشگوار زندگی کی ضرورت ہر شخص کو ہے، خاص طور پر اپنی معاشی، خانگی، ازدواجی اور خاندانی زندگی میں۔ بڑھاپے میں تو یہ ضرورت شدید ہو جاتی ہے۔ سکون تب ملتا ہے جب جذبات اور ذہنی رجحانات اعتدال میں ہوں۔
پختگی کے لیے کسی خاص ڈگری، علم یا دولت کی ضرورت نہیں، میرے عزیزو! صرف ایک چیز ضروری ہے: حضور ﷺ کی لائی ہوئی زندگی کو اپنانا۔ ان کا طریقہ ایسا پاکیزہ ہے کہ انسان دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
پختہ انسان کی خوبیاں:
ایمان، یقین، پاکیزگی، حق گوئی، تواضع، صبر، شکر، قناعت، شجاعت، خدمتِ خلق، والدین کی خدمت، خوش اخلاقی، صلہ رحمی۔
کمزور انسان کی برائیاں:
وہم، شرک، خودغرضی، ناپاکی، جھوٹ، بد نظری، چوری، شراب، جوا، سود، حسد، غیبت، بدخوئی، نماز کی غفلت، والدین کی نافرمانی، گھریلو انتشار وغیرہ۔
ان بیماریوں کا علاج صرف یہی ہے کہ انسان اپنا باطن پاک کرے، مسجد اور خانقاہ جیسے پاکیزہ ماحول میں وقت گزارے، اور برے جذبات کو جڑ سے نکال کر ان کی جگہ اچھی صفات پیدا کرے۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
"جس نے اپنے سارے غم ایک غم—آخرت—میں سمیٹ لیے، اللہ اس کی دنیا کے ہر کام کی ذمہ داری لیتا ہے۔"
اس تحریر میں مختلف کہانیاں اور مثالیں بھی دی گئی ہیں جن میں اگر چند چیزیں بدلی گئی ہوں تو وہ صرف عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے ہیں۔
تمہیں شوق ہے ورق گردانی کا؟
ذرا دیکھو، ان اوراق میں تمہارا حال لکھا ہوا ہے!
Al'Wahi Online Academy
Al'Wahi Online Academy
Trusted worldwide for 5+ years! Learn anytime, anywhere!
We offer expert online tutoring in Math, Banking, Science, Languages, Islamic Studies & Quran with qualified teachers.
بسم الله الرحمن الرحيم
"مسرت کو بنا لو زندگی کا اصول"
"کہ سب ہی پھینک دیتے ہیں مرجھائے پھول "
لیکن سوال یہ ہے کہ مسرت آخر ہے کیا؟
یہ کہاں ملتی ہے؟ کیسے ملتی ہے؟
اس فانی دنیا میں انسان پیدائش سے موت تک اسی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
کبھی سوچا ہے کہ انسان پوری زندگی خوشی کی تلاش میں رہتا ہے…
لیکن خوشی پھر بھی ہاتھ کیوں نہیں آتی؟
وجہ صرف ایک ہے:
ہم نے سوچنے کا صحیح طریقہ ہی نہیں سیکھا۔
یہ تحریر اُن لوگوں کے لیے ہے جو اپنے دل و دماغ کے بوجھ سے تھک چکے ہیں،
اور سکون کی اصل حقیقت جاننا چاہتے ہیں۔
اگر آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ
"مسرت کہاں ہے؟ کیسے ملتی ہے؟"
تو اس پارٹ #1 کو آخر تک ضرور پڑھیں۔
آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں ہر طرف پریشانیاں، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا راج ہے، وہاں بے شمار لوگ حقیقتِ زندگی کا سامنا کرنے کے بجائے الجھنوں، شکوک، وہم اور بے اعتمادی میں گرفتار رہتے ہیں۔
یہی کیفیت ان کے دل و دماغ کو تھکا دیتی ہے، اور یوں خوشی کا تصور بھی ان کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔
ایسے لوگ جذبات کے بہاؤ میں بہتے رہتے ہیں۔
ذرا سی بات پر ٹوٹ جاتے ہیں، چھوٹی سی مشکل پر ہمت چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر پوری زندگی اپنے آپ کو ناکام، بدقسمت اور نامراد سمجھتے رہتے ہیں۔
ذہنی کرب، بے چینی اور دل کا تھکاوٹ زدہ پن انسان کو خوشی کے نور سے کوسوں دور لے جاتا ہے۔
جب انہیں سمجھایا جائے کہ یہ سب تمہاری اپنی سوچ، اپنی ترجیحات اور اپنا ذہنی نظام ہے، تو اکثر ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔
یوں وہ جسمانی، ذہنی اور اخلاقی بیماریوں کی ایک پوری فہرست ساتھ لے کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی غصہ، لڑائی جھگڑے، عدم برداشت اور ذہنی بے توازنی کا اصل سبب بھی یہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ذہنی بیماری اتنی خاموش اور خطرناک ہوتی ہے کہ اس سے سینکڑوں جسمانی امراض جنم لیتے ہیں۔
میرا اپنا تجربہ ہے کہ جو لوگ ڈاکٹرز اور حکیموں کے پاس علاج کے لیے آتے ہیں، ان میں سے قریب 80% لوگ اصل میں ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
انہیں جینے کا صحیح ڈھنگ ہی معلوم نہیں ہوتا۔
وہ یہ نہیں جانتے کہ حضور نبی کریم ﷺ, صحابۂ کرامؓ، اور اولیائے کرام نے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کیسے کیا، کیسے مصیبت میں مضبوط رہے، اور کیسے ایک مسرت بھری زندگی کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔
یہ بھی مشاہدہ ہے کہ آج دنیا میں پھیلی اکثر بیماریاں غلط سوچ، بے اعتدالی اور منفی فکر کا نتیجہ ہیں—
گویا قوتِ مدافعت ہمارے اندر سے چھین لی گئی ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟
ذہنی و روحانی انتشار سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟
سب سے پہلے ان بڑے اسباب کو سمجھنا ضروری ہے جو عام طور پر ہماری زندگی کو بے سکون بناتے ہیں:
زندگی میں بے سکونی کے بنیادی اسباب
1. ذہنی انتشار اور بے ترتیبی
2. مشکلات سے نمٹنے کے بجائے راہِ فرار اختیار کرنا
3. ہر دکھ پر صبر کے بجائے لوگوں کے سامنے مسلسل شکایتیں کرنا
4. خود اعتمادی کی کمی اور حوصلے کی پستی
5. غصہ، تیزی اور چڑچڑاپن
6. چھوٹی چھوٹی باتوں پر پکڑ اور عیب جوئی
7. وہم، ڈر اور بے جا خوف
8. جوانی کی غلطیاں اور بری صحبت
9. گھریلو جھگڑے، بحث و تکرار اور ماحول کی کشیدگی
یہ وہی اسباب ہیں جو انسان کی زندگی کو اسی دنیا میں جہنم بنا دیتے ہیں۔
کاش ہم اللہ کی بتائی ہوئی اعتدال والی، متوازن اور سنت کی روشنی میں چلنے والی زندگی کا ذوق سیکھ لیں۔
زندگی گزارنے کا فن—ایک ہنر ہے۔
اور یہ ہنر سیکھنا یقیناً مشکل نہیں۔
صرف ایک مرتبہ سیرتِ رسول ﷺ، صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین کی زندگی کا گہرا مطالعہ کرکے دیکھیں…
اور پھر اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کی ہمت کریں۔
آپ دیکھیں گے کہ ذہنی ادھیڑپن، بے چینی اور انتشار کیسے ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جاتا ہے۔
دل کو مسرت، روح کو سکون، اور خیالات کو روشنی ملتی چلی جائے گی—
ان شاء اللہ۔
(جاری ہے…)
نوٹ؛
اس موضوع پر مزید پڑھنا آپ پسند کریں گے یا نہیں؟
یہ آپ کا رسپانس (لائک/ شئیرنگ کی صورت میں) بتائیں گا۔
#مسرت #سکون
PART #1
بسم الله الرحمن الرحيم
"مسرت کو بنا لو زندگی کا اصول"
"کہ سب ہی پھینک دیتے ہیں مرجھائے پھول "
لیکن سوال یہ ہے کہ مسرت آخر ہے کیا؟
یہ کہاں ملتی ہے؟ کیسے ملتی ہے؟
اس فانی دنیا میں انسان پیدائش سے موت تک اسی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں ہر طرف پریشانیاں، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا راج ہے، وہاں بے شمار لوگ حقیقتِ زندگی کا سامنا کرنے کے بجائے الجھنوں، شکوک، وہم اور بے اعتمادی میں گرفتار رہتے ہیں۔
یہی کیفیت ان کے دل و دماغ کو تھکا دیتی ہے، اور یوں خوشی کا تصور بھی ان کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔
ایسے لوگ جذبات کے بہاؤ میں بہتے رہتے ہیں۔
ذرا سی بات پر ٹوٹ جاتے ہیں، چھوٹی سی مشکل پر ہمت چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر پوری زندگی اپنے آپ کو ناکام، بدقسمت اور نامراد سمجھتے رہتے ہیں۔
ذہنی کرب، بے چینی اور دل کا تھکاوٹ زدہ پن انسان کو خوشی کے نور سے کوسوں دور لے جاتا ہے۔
جب انہیں سمجھایا جائے کہ یہ سب تمہاری اپنی سوچ، اپنی ترجیحات اور اپنا ذہنی نظام ہے، تو اکثر ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔
یوں وہ جسمانی، ذہنی اور اخلاقی بیماریوں کی ایک پوری فہرست ساتھ لے کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی غصہ، لڑائی جھگڑے، عدم برداشت اور ذہنی بے توازنی کا اصل سبب بھی یہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ذہنی بیماری اتنی خاموش اور خطرناک ہوتی ہے کہ اس سے سینکڑوں جسمانی امراض جنم لیتے ہیں۔
میرا اپنا تجربہ ہے کہ جو لوگ ڈاکٹرز اور حکیموں کے پاس علاج کے لیے آتے ہیں، ان میں سے قریب 80% لوگ اصل میں ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
انہیں جینے کا صحیح ڈھنگ ہی معلوم نہیں ہوتا۔
وہ یہ نہیں جانتے کہ حضور نبی کریم ﷺ, صحابۂ کرامؓ، اور اولیائے کرام نے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کیسے کیا، کیسے مصیبت میں مضبوط رہے، اور کیسے ایک مسرت بھری زندگی کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔
یہ بھی مشاہدہ ہے کہ آج دنیا میں پھیلی اکثر بیماریاں غلط سوچ، بے اعتدالی اور منفی فکر کا نتیجہ ہیں—
گویا قوتِ مدافعت ہمارے اندر سے چھین لی گئی ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟
ذہنی و روحانی انتشار سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟
سب سے پہلے ان بڑے اسباب کو سمجھنا ضروری ہے جو عام طور پر ہماری زندگی کو بے سکون بناتے ہیں:
زندگی میں بے سکونی کے بنیادی اسباب
1. ذہنی انتشار اور بے ترتیبی
2. مشکلات سے نمٹنے کے بجائے راہِ فرار اختیار کرنا
3. ہر دکھ پر صبر کے بجائے لوگوں کے سامنے مسلسل شکایتیں کرنا
4. خود اعتمادی کی کمی اور حوصلے کی پستی
5. غصہ، تیزی اور چڑچڑاپن
6. چھوٹی چھوٹی باتوں پر پکڑ اور عیب جوئی
7. وہم، ڈر اور بے جا خوف
8. جوانی کی غلطیاں اور بری صحبت
9. گھریلو جھگڑے، بحث و تکرار اور ماحول کی کشیدگی
یہ وہی اسباب ہیں جو انسان کی زندگی کو اسی دنیا میں جہنم بنا دیتے ہیں۔
کاش ہم اللہ کی بتائی ہوئی اعتدال والی، متوازن اور سنت کی روشنی میں چلنے والی زندگی کا ذوق سیکھ لیں۔
زندگی گزارنے کا فن—ایک ہنر ہے۔
اور یہ ہنر سیکھنا یقیناً مشکل نہیں۔
صرف ایک مرتبہ سیرتِ رسول ﷺ، صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین کی زندگی کا گہرا مطالعہ کرکے دیکھیں…
اور پھر اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کی ہمت کریں۔
آپ دیکھیں گے کہ ذہنی ادھیڑپن، بے چینی اور انتشار کیسے ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جاتا ہے۔
دل کو مسرت، روح کو سکون، اور خیالات کو روشنی ملتی چلی جائے گی—
ان شاء اللہ۔
(جاری ہے…)
نوٹ؛
اس موضوع پر مزید پڑھنا آپ لوگ پسند کریں گے یا نہیں؟
یہ آپ کا رسپانس بتائیں گا۔
06/10/2025
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم - بہترین استاد
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
(سورۃ نمبر 3 آل عمران، آیت نمبر 164)
اس یوم اساتذہ، آئیے اس عظیم ترین استاد کو درود وسلام کا تحفہ ہدیہ کرکے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کے صرف انسانیت پر ہی نہیں، بلکہ تمام مخلوقات پر بہت احسانات ہے۔ محسن کائنات، نبی آخر الزماں، خاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے علم، کردار، انصاف، ہمدردی اور سچائی کی اقدار کو مجسم کیا۔ انہوں نے جہالت کے اندھیروں کو علم کی شمع سے روشن کیا، مظلوموں کو بااختیار بنایا اور خواتین کو معاشرے میں ان کا جائز مقام دیا۔
05/05/2025
Welcome to Al'Wahi Online Academy – Lighting the Path of Knowledge with the Light of Revelation
For over 5 years, Al'Wahi Online Academy has been committed to delivering high-quality online tutoring to students across the globe. We believe in the transformative power of knowledge—both worldly and spiritual—and strive to provide an education that nurtures the mind and uplifts the soul.
Our academy is blessed with a team of highly qualified and dedicated teachers, offering personalized instruction in:
Mathematics | Physics | Chemistry | Biology | Banking | English | Urdu | Arabic | Islamic Studies | Quran & Tafseer
Whether you're seeking academic excellence or spiritual growth, Al'Wahi Online Academy is here to guide you every step of the way.
Join us to gain knowledge that benefits you in this life and the hereafter.
22/07/2023
22/08/2022
Tajweed Course,Takhti1,Huroof-e-Hijah ka Taruf,#6th Class #shorts #trending #viral پیارے نبیﷺ کی پیاری دعائیں: https://www.youtube.com/playlist?list=PLSmT5mjmFXLTUiHiIrDhIiz4h-_ySZo1- ...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Cardiff
CF24
22/08/2022