01/07/2026
انڈیا کا فلمی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ناکام لوٹا تو پہلی بار اسے اپنے دیہاتی باپ کے چہرے پر کروڑوں روپے نظر آئے اور پھر باپ بیٹا نے وہ کارنامہ ادا کیا جس نے اسے دنیا بھر میں نہ صرف مشہور کرادیا بلکہ دولت کی دیوی نے بھی جھونپڑی کا دروازہ دیکھ لیاتھا۔
گوپی ناتھ تامل ناڈو کے ایک دیہات کے چھوٹے سے دکاندار کا بیٹا تھا لیکن خواب اونچے تھے
وہ فلمی ڈائریکٹر بننا چاہتا تھا لیکن اس بے رحم انڈسٹری میں دوست رشتہ دار یا دولت کے بغیر جگہ بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے -
اسے بڑی مشکل پاؤں رکھنے کی جگہ ملی بھی تو عہدہ تھا اسٹنٹ ڈائریکٹر کا
اب سننے کو تو کانوں کو بھلا لگتا ہے کہ اس میں لفظ
ڈائریکٹر بھی آتا ہے
لیکن حقیقت میں ایک چپڑاسی یا صفائی کرنے والا اس سے بہت بہتر ہوتے ہیں کیونکہ اس کی پوری پگار اور کام کے مقرر اوقات ہوتے ہیں
گوپی ناتھ مفت کا پڑھا لکھا چپڑاسی تھا شاید اس سے بھی کمتر۔
وہ عموما دو وقت کی دوران ڈیوٹی روٹی چائے کے دو تین کپ پر ڈائریکٹر کی جھڑکیاں سنتا اور کرسیاں لگانے سے لیکر ہیرو کے جوتوں کے تسمے باندھنے تک ہر کام کرتا۔
کبھی نچلے درجے کی ہیروئن کی چھتری پکڑ کر کھڑا ہوتا تو کبھی غیر حاضر اداکار کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا لیکن سب کچھ مفت میں
عام طور پر ایسے مفت کے ڈائریکٹر دو تین مہینے سے زیادہ نہیں نکالتے لیکن گوپی پانچ سال گذار گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے ویب ڈیزائنگ اور ویڈیو ایڈیٹنگ آتی تھی اور وہ چھوٹے موٹے اداکاروں کے یہ کام سستے میں کردیتا تھا اس کی گاڑی کو بھی دھکا لگا جاتا
پانچ سال کی ناکامی اور تذلیل مسلسل کے بعد گوپی ناتھ ٹوٹے دل اور خالی ہاتھ کے ساتھ واپس اپنے گاؤں چلا گیا
جہاں اسے اپنا باپ پہلے سے زیادہ بوڑھا لگا۔
اس کا کہنا ہے کہ اپنے باپ کا تھکا ہوا چہرہ دیکھ مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا ہو ا۔
میں نے اپنی زندگی کے پانچ سال ایک ایسے خواب کے سامنے ضائع کر دیئے جس نے مجھے میرے باپ کے سامنے شرمندہ کردیا۔
میں جیسا خالی ہاتھ گیا ویسا ہی واپس کھڑا تھا ۔
پھر یہاں وہ موڑ آیا جس نے نہ صرف گوپی بلکہ اس کے باپ آروم گم اور پورے گاؤں کایا پلٹ دی۔
اس ناکام فلمی اسٹنٹ ڈائریکٹر نے اپنے باپ میں ایک بہت بڑا فنکار دیکھا۔
اس کے باپ کے پاس ایک ایسا ہنر تھا جس سے وہ برسوں سے پورے گاؤں والوں کی خدمت کررہا تھا۔
اس کا باپ گاؤں میں ہونے والی چھوٹی بڑی خوشی غمی کی تقریبات کے لیے کھانا پکا دیتا تھا۔
گوپی نے اپنے باپ کو کہا کہ میں آپ پر فلمیں بناؤں گا پہلے تو اس کے باپ کو سمجھ نہ آئی لیکن جب گوپی نے پوری بات بتائی تو وہ شفقت سے ہنس پڑا۔
پہلا شوٹ مچھلی کا کھانا بنانے کا تھا ۔
بجٹ تھا صفر اور شوٹنگ کے آلات میں شامل تھا گوپی کا اکلوتا پرانا موبائیل فون ۔
نہ کوئی ٹرائی پوڈ نہ کوئی مائیک
گاؤں میں یہ بات پھیل گئی گوپی فلم بنائے گا آروگم ہیرو ہوگا جو سنتا اس کی ہنسی نہ رکتی۔
باپ اور اس کے دونوں بیٹوں نے خود ہی مچھلیاں شکار کیں مصالحے اور برتن دستیاب تھے۔
اب باپ نے خوش مزاجی سے کھانا پکانا بیٹے نے ویڈیو بنانا شروع کی ۔
گوپی کو پانچ سال میں کیمرے کے فریم روشنی اور ایڈیٹنگ کا مکمل علم تھا اور یہ تجربہ یہاں اس کے بہت کام آیا
لیکن دو پہاڑ جیسی رکاوٹیں ابھی بھی باقی تھیں ایک تو یہ اس کا بوڑھا ہیرو انگلش تو کیا ہندی کے دو لفظ نہیں بول سکتا تھا
اور دوسرے یہ کہ اس کی اس چھوٹی سی دستاویزی فلم کو پیرس لندن میں تو کسی نے کیا دیکھنا تھا خود انڈیا کی فلم انڈسٹری کے لوگوں نے گوپی کی شکل دیکھتے ہی اسے اس کے موبائل سمیت اٹھا کر باہر پھینک دینا تھا۔
گوپی نے دونوں مسئلے اپنی مہارت اور ذہانت سے حل کیے۔
ایک تو اس نے خاموش فلم بنائی اور صرف کھانے پکانے اور ماحول کے شور کو ریکارڈ کیا اور دوسرے اس نے احسان فراموش فلم انڈسٹری کی بجائے اپنی ویڈیو سیدھی یوٹیوب پر اپلوڈ کردی۔
میں نے بھی گوپی کے بارے میں ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں
لیکن گوپی ناتھ رکا نہیں وہ
اور پھر ایک کے بعد ایک کرتا چلا گیا دیہاتی کھانے پکانے کی یہ ویڈیو پوری دنیا میں پسند کی جانے لگیں
اور پھر وہ چمتکار ہوا جو ہر بڑے یوٹیوبر کی زندگی میں ضرور ہوتا ہے ۔
اس کے باپ کا سو انڈوں کے آملیٹ اور بکروں کی رانوں کے پکوان کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔
کانز میلہ یا فلم فئیر آسکر ایوارڈ تو نہیں ملے لیکن عوام میں ایسی پزیرائی ملی کہ ریکارڈ ٹوٹ گئیے
آج اس کے پانچ ملیں سبسکرائبر ہیں
سواارب سے زیادہ ویوز ہیں
سب سے مشہور ہاتھی جتنی بڑی مچھلی کی بھجیا ہے ۔
اس کے ویوز ایک سو دس ملین ہیں۔
یوٹیوب یہ ویڈیوز اس کا ایسا اثاثہ کہ ہر وقت ان کے ویوز بڑھتے رہتے ہیں اور ڈالر اس کے اکاؤنٹ گرتے رہتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس کی صرف ویوز سے ماہانہ آمدن ایک کروڑ روپے ہے جبکہ اس کے ریستوران اس کے علاوہ ہیں۔
میں معجزوں پر یقین نہیں رکھتا لیکن اچھائی کے چمتکار مانتا ہوں ۔
گوپی کے ہندو باپ کی دو بڑی نیکیاں تھیں
ایک تو یہ کہ وہ اپنے دوست عزیز رشتہ داروں کی خوشی غمی میں مفت کھانا پکا دیتا تھا اور دل سے پکاتا تھا یہی ہنر اس کے کام آیا
دوسرا ہر ویڈیو کے بعد سارا کھانا پورے گاؤں میں بانٹ دیتا تھا ۔
اس کی بانٹنے کی ویڈیو جب منظر عام پر آئی تو لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت مزید بڑھ گئی ۔
نیکی گھوم کر واپس آتی ہے آپ بھی نیکی کریں اور کچھ نہیں تو اس پوسٹ کو نیکی سمجھ کر شئیر کریں یقین کریں یہ نیکی گھوم کر آپ کے پاس بھی آئے گی۔