Silent Billionaire

Silent Billionaire He never shouted. His lifestyle did.
💰 Mindset • Luxury • Legacy

(2)

انڈیا کا فلمی اسسٹنٹ ڈائریکٹر  ناکام لوٹا تو پہلی بار اسے اپنے دیہاتی باپ کے چہرے پر کروڑوں روپے نظر آئے اور پھر  باپ بی...
01/07/2026

انڈیا کا فلمی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ناکام لوٹا تو پہلی بار اسے اپنے دیہاتی باپ کے چہرے پر کروڑوں روپے نظر آئے اور پھر باپ بیٹا نے وہ کارنامہ ادا کیا جس نے اسے دنیا بھر میں نہ صرف مشہور کرادیا بلکہ دولت کی دیوی نے بھی جھونپڑی کا دروازہ دیکھ لیاتھا۔

گوپی ناتھ تامل ناڈو کے ایک دیہات کے چھوٹے سے دکاندار کا بیٹا تھا لیکن خواب اونچے تھے
وہ فلمی ڈائریکٹر بننا چاہتا تھا لیکن اس بے رحم انڈسٹری میں دوست رشتہ دار یا دولت کے بغیر جگہ بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے -
اسے بڑی مشکل پاؤں رکھنے کی جگہ ملی بھی تو عہدہ تھا اسٹنٹ ڈائریکٹر کا
اب سننے کو تو کانوں کو بھلا لگتا ہے کہ اس میں لفظ
ڈائریکٹر بھی آتا ہے

لیکن حقیقت میں ایک چپڑاسی یا صفائی کرنے والا اس سے بہت بہتر ہوتے ہیں کیونکہ اس کی پوری پگار اور کام کے مقرر اوقات ہوتے ہیں

گوپی ناتھ مفت کا پڑھا لکھا چپڑاسی تھا شاید اس سے بھی کمتر۔
وہ عموما دو وقت کی دوران ڈیوٹی روٹی چائے کے دو تین کپ پر ڈائریکٹر کی جھڑکیاں سنتا اور کرسیاں لگانے سے لیکر ہیرو کے جوتوں کے تسمے باندھنے تک ہر کام کرتا۔

کبھی نچلے درجے کی ہیروئن کی چھتری پکڑ کر کھڑا ہوتا تو کبھی غیر حاضر اداکار کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا لیکن سب کچھ مفت میں

عام طور پر ایسے مفت کے ڈائریکٹر دو تین مہینے سے زیادہ نہیں نکالتے لیکن گوپی پانچ سال گذار گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اسے ویب ڈیزائنگ اور ویڈیو ایڈیٹنگ آتی تھی اور وہ چھوٹے موٹے اداکاروں کے یہ کام سستے میں کردیتا تھا اس کی گاڑی کو بھی دھکا لگا جاتا

پانچ سال کی ناکامی اور تذلیل مسلسل کے بعد گوپی ناتھ ٹوٹے دل اور خالی ہاتھ کے ساتھ واپس اپنے گاؤں چلا گیا
جہاں اسے اپنا باپ پہلے سے زیادہ بوڑھا لگا۔

اس کا کہنا ہے کہ اپنے باپ کا تھکا ہوا چہرہ دیکھ مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا ہو ا۔

میں نے اپنی زندگی کے پانچ سال ایک ایسے خواب کے سامنے ضائع کر دیئے جس نے مجھے میرے باپ کے سامنے شرمندہ کردیا۔

میں جیسا خالی ہاتھ گیا ویسا ہی واپس کھڑا تھا ۔

پھر یہاں وہ موڑ آیا جس نے نہ صرف گوپی بلکہ اس کے باپ آروم گم اور پورے گاؤں کایا پلٹ دی۔

اس ناکام فلمی اسٹنٹ ڈائریکٹر نے اپنے باپ میں ایک بہت بڑا فنکار دیکھا۔

اس کے باپ کے پاس ایک ایسا ہنر تھا جس سے وہ برسوں سے پورے گاؤں والوں کی خدمت کررہا تھا۔

اس کا باپ گاؤں میں ہونے والی چھوٹی بڑی خوشی غمی کی تقریبات کے لیے کھانا پکا دیتا تھا۔

گوپی نے اپنے باپ کو کہا کہ میں آپ پر فلمیں بناؤں گا پہلے تو اس کے باپ کو سمجھ نہ آئی لیکن جب گوپی نے پوری بات بتائی تو وہ شفقت سے ہنس پڑا۔

پہلا شوٹ مچھلی کا کھانا بنانے کا تھا ۔

بجٹ تھا صفر اور شوٹنگ کے آلات میں شامل تھا گوپی کا اکلوتا پرانا موبائیل فون ۔

نہ کوئی ٹرائی پوڈ نہ کوئی مائیک

گاؤں میں یہ بات پھیل گئی گوپی فلم بنائے گا آروگم ہیرو ہوگا جو سنتا اس کی ہنسی نہ رکتی۔

باپ اور اس کے دونوں بیٹوں نے خود ہی مچھلیاں شکار کیں مصالحے اور برتن دستیاب تھے۔

اب باپ نے خوش مزاجی سے کھانا پکانا بیٹے نے ویڈیو بنانا شروع کی ۔

گوپی کو پانچ سال میں کیمرے کے فریم روشنی اور ایڈیٹنگ کا مکمل علم تھا اور یہ تجربہ یہاں اس کے بہت کام آیا

لیکن دو پہاڑ جیسی رکاوٹیں ابھی بھی باقی تھیں ایک تو یہ اس کا بوڑھا ہیرو انگلش تو کیا ہندی کے دو لفظ نہیں بول سکتا تھا

اور دوسرے یہ کہ اس کی اس چھوٹی سی دستاویزی فلم کو پیرس لندن میں تو کسی نے کیا دیکھنا تھا خود انڈیا کی فلم انڈسٹری کے لوگوں نے گوپی کی شکل دیکھتے ہی اسے اس کے موبائل سمیت اٹھا کر باہر پھینک دینا تھا۔

گوپی نے دونوں مسئلے اپنی مہارت اور ذہانت سے حل کیے۔
ایک تو اس نے خاموش فلم بنائی اور صرف کھانے پکانے اور ماحول کے شور کو ریکارڈ کیا اور دوسرے اس نے احسان فراموش فلم انڈسٹری کی بجائے اپنی ویڈیو سیدھی یوٹیوب پر اپلوڈ کردی۔

میں نے بھی گوپی کے بارے میں ویڈیو اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں



لیکن گوپی ناتھ رکا نہیں وہ

اور پھر ایک کے بعد ایک کرتا چلا گیا دیہاتی کھانے پکانے کی یہ ویڈیو پوری دنیا میں پسند کی جانے لگیں

اور پھر وہ چمتکار ہوا جو ہر بڑے یوٹیوبر کی زندگی میں ضرور ہوتا ہے ۔

اس کے باپ کا سو انڈوں کے آملیٹ اور بکروں کی رانوں کے پکوان کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔

کانز میلہ یا فلم فئیر آسکر ایوارڈ تو نہیں ملے لیکن عوام میں ایسی پزیرائی ملی کہ ریکارڈ ٹوٹ گئیے

آج اس کے پانچ ملیں سبسکرائبر ہیں
سواارب سے زیادہ ویوز ہیں

سب سے مشہور ہاتھی جتنی بڑی مچھلی کی بھجیا ہے ۔
اس کے ویوز ایک سو دس ملین ہیں۔

یوٹیوب یہ ویڈیوز اس کا ایسا اثاثہ کہ ہر وقت ان کے ویوز بڑھتے رہتے ہیں اور ڈالر اس کے اکاؤنٹ گرتے رہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس کی صرف ویوز سے ماہانہ آمدن ایک کروڑ روپے ہے جبکہ اس کے ریستوران اس کے علاوہ ہیں۔

میں معجزوں پر یقین نہیں رکھتا لیکن اچھائی کے چمتکار مانتا ہوں ۔

گوپی کے ہندو باپ کی دو بڑی نیکیاں تھیں

ایک تو یہ کہ وہ اپنے دوست عزیز رشتہ داروں کی خوشی غمی میں مفت کھانا پکا دیتا تھا اور دل سے پکاتا تھا یہی ہنر اس کے کام آیا

دوسرا ہر ویڈیو کے بعد سارا کھانا پورے گاؤں میں بانٹ دیتا تھا ۔
اس کی بانٹنے کی ویڈیو جب منظر عام پر آئی تو لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت مزید بڑھ گئی ۔

نیکی گھوم کر واپس آتی ہے آپ بھی نیکی کریں اور کچھ نہیں تو اس پوسٹ کو نیکی سمجھ کر شئیر کریں یقین کریں یہ نیکی گھوم کر آپ کے پاس بھی آئے گی۔

آپ پریشان مت ہوں!ایران-اسرائیل جنگ میں اگر کسی ملک نے کھل کر ایران کی حمایت کی ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔ پاکستان ...
24/06/2026

آپ پریشان مت ہوں!

ایران-اسرائیل جنگ میں اگر کسی ملک نے کھل کر ایران کی حمایت کی ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔ پاکستان اس جنگ میں ایران کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہا ہے۔ ایران کی فوجی قیادت کی شہادت کے بعد اچانک ایران کا پلڑا بھاری ہونا یہ معمولی بات نہیں ہے۔ پاکستان اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ امریکہ کی حمایت کے بغیر اسرائیل زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکے گا۔ اس لئے امریکہ کو اس جنگ سے دور رکھنے کیلئے پاکستان نے نوبل پرائز والی گیم کھیلی۔ لازمی نہیں ہے کہ ہر گیم آپ جیت بھی جائیں۔ یہ ایک سیریز ہے۔ ایک میچ ہارنے کا مطلب سیریز ہارنا نہیں ہوتا۔ ابھی سیریز کے بقیہ میچز باقی ہیں۔ جنگ کے پتے کیسے کھیلنے ہیں یہ اس دھرتی پر پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ پاکستان نے تہران کے ساتھ ساتھ ریاض اور استنبول کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔ اسرائیل کے ہی دانت کھٹے نہیں کرنے بھارت کی چالیں بھی ناکام بنانی ہیں۔ اس سارے کھیل میں اسلام آباد اکیلا نہیں ہے بیجنگ اور ماسکو بھی آن بورڈ ہیں۔ آپ اپنی محب وطن قیادت پر اعتماد کیجیے یہ قیادت آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔
پاکستان زندہ باد

بت پرستی کیسے شروع ہوئی:-​ابنِ عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ:"جو بت قومِ نوح میں پوجے جاتے تھے بعد میں وہی عرب میں پوجے جانے ل...
19/06/2026

بت پرستی کیسے شروع ہوئی:-
​ابنِ عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ:
"جو بت قومِ نوح میں پوجے جاتے تھے بعد میں وہی عرب میں پوجے جانے لگے۔ یہ نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان کی موت ہو گئی تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اپنی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے ان کے بت نصب کر دیں اور ان بتوں کے نام اپنے ان بزرگوں کے نام پر رکھ دیں چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا لیکن ان کی عبادت نہیں کی تھی یہاں تک کہ جب وہ لوگ بھی مر گئے اور اس کا علم جاتا رہا تو اس کی عبادت کی جانے لگی"۔
(صحیح البخاری: ۶۵ کتاب التفسیر: باب تفسیر سورۃ نوح: حدیث نمبر: ۴۹۲۰)

19/06/2026

I got over 1,000 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

12/06/2026

Need Your Support My Lovely Follower's ゚

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے حج سے کتنے ارب ڈالر کمائے، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ...
09/06/2026

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے حج سے کتنے ارب ڈالر کمائے، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ دنیا کے اس سب سے بڑے مجمعے کو سنبھالنے کے لیے سعودی انتظامیہ کی کتنی عظیم محنت، راتوں کی نیندیں اور پسِ پردہ کتنے اربوں ڈالرز کا خرچہ ہوتا ہے؟

محض *5 دنوں* کے اس نظام کو چلانے کے لیے سال کے 365 دن دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس آپریشن کیسے کام کرتا ہے؟

آئیے، آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حج کے اس عظیم الشان انتظام کے پیچھے چھپے وہ حیران کن حقائق کیا ہیں جو آپ کو دنگ کر دیں گے:

👥 *حصہ اول: عازمینِ حج کا عالمی ہجوم اور پاکستان کا حصہ*

1۔ کل کتنے خوش نصیبوں نے حج کیا؟ 🕋

سعودی جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس کے آفیشل ڈیٹا کے مطابق، اس سال (ہجری سال 1447 / عیسوی 2026) کل 1,707,301 (تقریباً 17 لاکھ) مسلمانوں کو حج کی سعادت نصیب ہوئی۔

بیرونِ ملک سے آنے والے حاجی: 1,546,655 (دنیا بھر کے مختلف خطوں سے پہنچے)۔
*سعودی عرب کے اندر سے:*

160,646 (جن میں مقامی سعودی شہری اور وہاں مقیم غیر ملکی شامل ہیں)۔

*صنفی تقسیم:*
اس سال اللہ کے گھر مہمان بننے والوں میں 893,396 مرد اور 813,905 خواتین شامل تھیں۔

2۔ *دنیا کے کتنے ممالک شریک ہوئے؟* 🌍

اس سال دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے لبیک الہم لبیک کی صدائیں گونجیں۔ رنگ، نسل اور زبان کا فرق مٹا کر پوری دنیا کے مسلمان ایک لباس (احرام) میں نظر آئے۔ سب سے زیادہ حاجیوں کا کوٹہ رکھنے والے ممالک میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان سرِفہرست تھے۔

3۔ *پاکستان کا تاریخی کوٹہ اور عازمین کی تعداد* 🇵🇰

پاکستان کو اس سال کل 179,210 (ایک لاکھ نواسی ہزار دو سو دس) کا کوٹہ ملا تھا، اور پاکستان نے اپنا یہ پورا کوٹہ استعمال کیا۔

ان میں سے تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار عازمینِ حج سرکاری اسکیم کے تحت حجازِ مقدس پہنچے۔

باقی عازمین پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے گئے۔
حکومتِ پاکستان اور سعودی حکام کے تعاون سے پاکستانی حاجیوں کے لیے "روڈ ٹو مکہ" پروجیکٹ کے تحت اسلام آباد, لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر ہی سعودی امیگریشن کا عمل مکمل کیا گیا، جس سے حاجیوں کا قیمتی وقت بچا۔

🐑 *حصہ دوم:*

*لاکھوں ڈالرز کی قربانی اور گوشت کی تقسیم کا حیران کن عالمی نظام!*

قربانی کے ان 3 دنوں میں مکہ مکرمہ میں دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس آپریشن ہوتا ہے، جس کا گوشت ضائع ہونے کے بجائے دنیا کے مستحقین تک پہنچتا ہے:

💵 *قربانی کی کل مالیت:*

اس سال عید کے ایام میں حاجیوں کی طرف سے تقریباً 11 سے 12 لاکھ جانوروں (زیادہ تر بھیڑ اور دنبے) کی قربانی دی گئی۔ سعودی حکومت کے آفیشل قربانی سسٹم (Adahi Project) کے تحت فی جانور قیمت تقریباً 150 امریکی ڈالر (سعودی ریال میں 550 ریال) مقرر تھی۔ اس حساب سے دنیا بھر کے حاجیوں نے صرف 84 گھنٹوں کے اندر 150,000,000 سے 165,000,000 ڈالرز (یعنی 15 سے 16 کروڑ ڈالرز—پاکستانی اربوں روپے) کے جانور ذبح کیے۔

🕌 *مکہ کے غریبوں کا حصہ:*

قربانی کے فوراً بعد گوشت کا ایک بڑا حصہ مکہ مکرمہ کی حدود (حرم پاک) میں رہنے والے فقراء، مساکین اور ضرورت مندوں میں اسی وقت تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

🚚 *فلاحی تنظیموں کا نیٹ ورک:*

دوسرا حصہ سعودی عرب کی 250 سے زائد رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں کے حوالے کیا جاتا ہے، جن کے پاس بڑے بڑے فریزر والے ٹرک ہوتے ہیں۔ وہ اسے ملک کے یتیم خانوں اور غریب خاندانوں تک پہنچاتی ہیں۔

🚢 *27 مسلم ممالک کو منجمد گوشت کی ترسیل:*

باقی بچ جانے والے لاکھوں ٹن گوشت کو مکہ کے جدید ترین ذبح خانوں کے پلانٹس میں فوراً صاف کر کے، مائنس درجہ حرارت پر منجمد (Freeze) کیا جاتا ہے اور ویکیوم پیکنگ کی جاتی ہے۔ یکم محرم سے اس گوشت کو بحری اور ہوائی جہازوں کے ذریعے دنیا کے 27 سے زائد مستحق مسلم ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔

🕊️ *خصوصی امداد:*
یہ گوشت خصوصی طور پر ان علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں لوگ جنگ، قحط یا شدید غربت کا شکار ہیں، جیسے فلسطین (غزہ)، صومالیہ، مالی، نائجر، افغانستان، اور بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا مہاجرین کے کیمپ۔

❄️ *حصہ سوم:*

*دنیا کا سب سے بڑا کولنگ سسٹم اور بجلی کا اربوں کا خرچہ*

اس بار مکہ اور میدانِ عرفات میں درجہ حرارت 45°C سے 48°C تک پہنچ رہا تھا، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی حکومت نے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا کولنگ نیٹ ورک چلایا:

🏗️ *مستقل اور لائف ٹائم انفراسٹرکچر*:

میدانِ عرفات اور مزدلفہ میں جو لاکھوں بڑے بڑے ہائی ٹیک پنکھے اور واٹر مسٹ (دھند اڑانے والا) سسٹم نظر آتا ہے، وہ عارضی نہیں ہے۔ عرفات کے میدان میں لوہے کے بہت بڑے بڑے مستقل پولز (Poles) بنائے گئے ہیں جن پر یہ سسٹم سال بھر فٹ رہتا ہے۔ حج کے بعد انہیں خاص حفاظتی کور (Covers) سے ڈھانپ دیا جاتا ہے اور انجینئرز سال کے 12 مہینے ان کی مینٹیننس اور پائپ لائنوں کی صفائی کرتے ہیں۔

🏢 *ڈھائی لاکھ ٹن کے اے سی (AC) پلانٹس:*

منیٰ کا پورا ٹینٹ سٹی فائر پروف خیموں پر مشتمل ہے، جنہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا مرکزی کولنگ سسٹم کام کرتا ہے جس کی گنجائش 1 لاکھ ٹن ہے۔

مسجد الحرام اور اس کے مضافات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مزید دو بڑے پلانٹس (الشامیہ اور اجیاد) کام کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار ٹن (250,000 Tons) سے زیادہ کی گنجائش کے کولنگ پلانٹس چوبیس گھنٹے چلتے ہیں۔

⚡ *کسی چھوٹے ملک جتنی بجلی کا استعمال اور بل:*

حج کے ان دنوں میں مکہ اور مشاعر مقدسہ کا بجلی کا لوڈ 5,000 میگا واٹ سے بھی اوپر چلا جاتا ہے (یہ اتنی بجلی ہے جس سے پاکستان کے دو بڑے شہر جیسے لاہور اور اسلام آباد مل کر چل سکتے ہیں)۔ ان چند دنوں کا بجلی کا تخمینہ بل 4 سے 5 کروڑ امریکی ڈالرز (تقریباً 12 سے 15 ارب پاکستانی روپے) آتا ہے، جو سعودی حکومت حاجیوں کے آرام کے لیے خود برداشت کرتی ہے۔
ہنگامی حالت کے لیے سیکڑوں ہائی پاور ڈیزل جنریٹرز بھی اسٹینڈ بائی رکھے جاتے ہیں۔

👟 *ٹھنڈا فرش (Cooling Flooring):*

مسجد الحرام اور اہم مقامات کے ارد گرد خاص قسم کا سفید سنگِ مرمر لگایا گیا ہے جو سورج کی تپش کو جذب نہیں کرتا اور شدید دھوپ میں بھی فرش بالکل ٹھنڈا رہتا ہے تاکہ حاجی ننگے پاؤں طواف کر سکیں۔

🚌 *حصہ چہارم:*

دنیا کا سب سے پیچیدہ ٹرانسپورٹ لاجسٹکس اور فیول کا بجٹ
لاکھوں لوگوں کو چند گھنٹوں کے اندر ایک میدان سے دوسرے میدان منتقل کرنا دنیا کا سب سے بڑا ٹریفک چیلنج ہے:

🚊 *2.6 ارب ڈالر کی میٹرو ٹرین (صرف 7 دن کے لیے):*

"المشاعر مقدسہ میٹرو" دنیا کا واحد ٹرین سسٹم ہے جو تقریباً ڈھائی ارب ڈالر سے زیادہ کی لاگت سے بنا، لیکن یہ سال کے 365 دنوں میں سے صرف 7 دن چلتا ہے اور باقی پورا سال بند رہتا ہے! یہ ٹرین لاکھوں حاجیوں کو منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے درمیان سیکنڈوں میں منتقل کرتی ہے۔

🚌 *25,000 بسوں کا بیڑا اور کروڑوں کا فیول:*

جو حاجی ٹرین پر نہیں جاتے، ان کے لیے 25 ہزار سے زائد جدید ترین ہائی ٹیک اے سی بسیں چوبیس گھنٹے سڑکوں پر رہتی ہیں۔ شدید گرمی میں ان بسوں کے انجن اور اے سی چوبیس گھنٹے اسٹارٹ رکھنے کے لیے صرف ان چند دنوں میں 35,000,000 سے 40,000,000 ڈالرز (تقریباً 4 کروڑ ڈالرز) کا پٹرول اور ڈیزل استعمال ہو جاتا ہے۔

🤖 *ڈرونز اور اے آئی (AI) کیمرے:*

ٹریفک کو جام ہونے سے بچانے کے لیے مکہ کی فضائوں میں ڈرونز اڑتے ہیں اور سڑکوں پر لگے آرٹیفیشل انٹیلیجنس والے کیمرے لائیو ٹریفک مانیٹرنگ کرتے ہیں، جو ہجوم دیکھ کر سگنلز کا وقت خودکار طریقے سے تبدیل کرتے ہیں۔

👥 *حصہ پنجم:*

*3 لاکھ ورکرز کی فوج (انسانی طاقت کا معجزہ)*

اتنے بڑے مینیجمنٹ سسٹم کو چلانے کے لیے پس پردہ لاکھوں انسان دن رات کام کرتے ہیں:

🛠️ *عارضی اور مستقل ورکرز*:

عام دنوں میں مکہ پاک کی دیکھ بھال کے لیے 15 سے 20 ہزار مستقل عملہ ہوتا ہے، لیکن حج کے ان چند دنوں کے لیے سعودی حکومت 3 لاکھ (300,000) سے زائد ورکرز کی فورس میدان میں اتارتی ہے۔

🧹 *40 ہزار صفائی کے ورکرز:*

یہ ورکرز منیٰ اور عرفات میں لاکھوں ٹن کچرا اور پلاسٹک کی بوتلیں چوبیس گھنٹے شفٹوں میں کام کر کے سیکنڈوں میں صاف کرتے ہیں۔

🩺 *50 ہزار میڈیکل ورکرز:*

ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ملا کر 50 ہزار سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز عارضی فیلڈ ہاسپٹلز اور 3,000 ایمبولینسز کے ساتھ حاجیوں کو ہیٹ اسٹروک اور دیگر بیماریوں سے بچانے کے لیے الرٹ رہتے ہیں۔

💂 *1 لاکھ سے زائد سیکیورٹی فورس:*

سیکیورٹی، پولیس اور سول ڈیفنس کے ایک لاکھ سے زائد جوان تپتی دھوپ میں کھڑے ہو کر ہجوم کو کنٹرول کرتے ہیں اور حاجیوں کو راستے بتاتے ہیں۔

🛡️ *حصہ ششم:*

نظم و ضبط اور سلامتی کی رپورٹ (خاتمہ)
اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر اور احسان ہے کہ اتنے بڑے ہجوم, شدید ترین گرمی اور کھربوں روپے کے اس لاجسٹکس آپریشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس بار پورے حج کے دوران کوئی ایک بھی بڑا حادثہ، بھگدڑ (Stampede) یا سیکیورٹی کا مسئلہ پیش نہیں آیا۔ سعودی حکومت کی ڈیجیٹل "نسک" ایپ اور سخت سمارٹ مانیٹرنگ کی وجہ سے تمام حاجیوں نے انتہائی امن، سکون اور حفاظت کے ساتھ اپنے مناسک ادا کیے۔

سبحان اللہ! اسلام کا یہ نظامِ حج اور قربانی کتنا عظیم الشان ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔اللھم لک الحمد
اللہم اصلح ولاہ امورنا و ولاہ الحرمین الشریفین

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ وہاں اس نے سیکڑوں سانپ دیکھے جو سخت دھو...
05/04/2026

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ وہاں اس نے سیکڑوں سانپ دیکھے جو سخت دھوپ میں جل کر مر چکے تھے۔

اس نے اپنے اردگرد پھیلے اس سنسان، بے جان منظر کو دیکھا اور ایک ایسا عہد کیا جس نے ایک دن 1,360 ایکڑ زمین کو زندگی سے بھر دینا تھا۔

اس کا نام جادھو پائینگ تھا۔

یہ جگہ تھی مجولی جزیرہ، آسام، بھارت۔ وہ ریتلا ٹکڑا صرف ریت اور گاد پر مشتمل تھا۔ نہ کوئی پودا، نہ سایہ، نہ زندگی۔ یہ سانپ سیلاب کے دوران وہاں پھنس گئے تھے۔ جب پانی اتر گیا تو ان کے پاس تیز دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی پناہ نہ تھی۔ اس لیے وہ سب مر گئے۔

جادھو مقامی محکمہ جنگلات کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ اس ریتلے علاقے میں درخت لگائے جائیں۔

وہ ہنس پڑے۔ انہوں نے کہا، “یہاں کچھ نہیں اگے گا۔ یہ صرف ریت ہے۔ ہمارا وقت ضائع نہ کرو۔”

تب جادھو نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ کام خود کرے گا۔

وہ صرف سولہ سال کا تھا۔ اس کے پاس نہ پیسہ تھا، نہ رسمی تعلیم، نہ جنگلات یا نباتات کی تربیت۔ وہ میسنگ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، ایک مقامی برادری جسے اکثر مرکزی سماج سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا۔

لیکن وہ ایک بات سمجھتا تھا جو ان ماہرین نے نہیں سمجھی، اگر آپ درخت لگائیں اور ان کی دیکھ بھال کریں، تو وہ اگتے ہیں۔ حتیٰ کہ ریت میں بھی۔

اس نے ابتدا بانس سے کی، کیونکہ بانس مضبوط ہوتا ہے، تیزی سے پھیلتا ہے، اور زمین کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ اس نے ایک چھوٹے سے حصے میں 20 پودے لگائے۔

ہر روز وہ واپس آتا، ان کو پانی دیتا، دریا سے برتن بھر بھر کر پانی لاتا، شدید گرمی میں گھنٹوں چلتا رہتا۔

آہستہ آہستہ بانس نے جڑ پکڑ لی۔

حوصلہ پا کر اس نے اپنا کام بڑھا دیا۔ اس نے آس پاس کے جنگلات سے بیج جمع کیے، مثلاً کاٹن کے درخت، برگد، ارجن، موج اور دوسرے پودے۔ وہ ان کو لگاتا، پانی دیتا، جانوروں سے بچاتا۔

سال بہ سال، دہائی بہ دہائی۔

اس کے گھر والوں کو لگتا تھا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ گاؤں کے لوگ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ وہ اپنی زندگی ایک بے کار ریتلے ٹاپو پر کیوں ضائع کر رہا ہے۔ وہ کھیتی باڑی کر سکتا تھا، پیسہ کما سکتا تھا، ایک عام زندگی گزار سکتا تھا۔

لیکن اس نے درخت لگانے کا راستہ چنا۔ اکیلا، ہر دن۔

لوگ پوچھتے، “اس کا کیا فائدہ؟ یہ تو صرف ریت ہے۔ یہاں کبھی کچھ نہیں ہوگا۔”

جادھو نے بحث نہیں کی۔ وہ بس درخت لگاتا رہا۔

بانس پھیلنے لگا۔ درخت بلند ہونے لگے۔ ان کی جڑوں نے مٹی کو تھاما۔ گرتے پتوں نے نامیاتی مادہ پیدا کیا۔ ریت آہستہ آہستہ زرخیز زمین میں بدلنے لگی۔

پانچ سال بعد پہلے جانور نمودار ہوئے۔ پرندوں نے شاخوں پر گھونسلے بنائے۔ کیڑے مکوڑے آئے۔ چھوٹے جانوروں کو پناہ ملنے لگی۔

دس سال بعد وہاں ایک چھوٹا جنگل واضح نظر آنے لگا۔ پورا نظام زندگی کی طرف لوٹ رہا تھا، پودے، جانور، کیڑے، سب اپنی اپنی جگہ بناتے جا رہے تھے۔

جادھو درخت لگاتا رہا۔

اس کے ذہن میں کوئی عظیم منصوبہ نہیں تھا۔ وہ یہ خواب نہیں دیکھ رہا تھا کہ ایک دن وہ دنیا کا سب سے بڑا انسان کے ہاتھوں بنایا گیا جنگل کھڑا کر دے گا۔ وہ صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں سانپ دھوپ میں مرنے پر مجبور نہ ہوں۔

وہ اپنی گایوں کا دودھ بیچ کر گزر بسر کرتا تھا۔ سادہ زندگی گزارتا تھا۔ کبھی جنگل کے اندر اپنی بنائی ہوئی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں سوتا، کبھی اپنے خاندان کے ساتھ گاؤں میں۔

ہر صبح وہ اپنے درختوں کے پاس واپس آتا۔ لگانا، سنبھالنا، حفاظت کرنا۔

دہائیاں گزر گئیں۔ جنگل بڑھتا گیا۔ اور جادھو پائینگ اسی جنگل میں گم ہو گیا، ان درختوں کے درمیان جنہیں اس نے اپنے ہاتھوں سے اگایا تھا، ایک تنہا انسان، جسے دنیا جانتی بھی نہ تھی۔

پھر 2000 کی دہائی میں ایک غیر معمولی بات ہوئی۔

جنگلی ہاتھیوں نے اس جنگل کو ڈھونڈ لیا۔

100 سے زیادہ ہاتھیوں کا ایک ریوڑ، ایسے ہاتھی جن کے روایتی مسکن تباہ ہو رہے تھے، جادھو کے جنگل تک پہنچا اور وہیں رک گیا۔ اس جنگل نے انہیں خوراک، پانی اور پناہ دی۔

پھر ہرن آئے۔ پھر گینڈے۔ پھر بنگال کے شیر۔

جو جگہ کبھی ویران ریت تھی، وہاں اب ایک مکمل، زندہ ماحولیاتی نظام قائم ہو چکا تھا۔ شکاری بھی، شکار بھی۔ پرندے بھی، کیڑے بھی۔ ایک ایسا گھنا جنگل جو بڑے جانوروں کو بھی سنبھال سکتا تھا۔

اور اس سب کے مرکز میں جادھو پائینگ تھا، وہ انسان جس نے ہر درخت اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔

2008 میں ایک فوٹو جرنلسٹ اس جنگل تک پہنچا۔ وہ دراصل ایک غیر معمولی مقام پر ہاتھیوں کی موجودگی کی خبر کی تحقیق کر رہا تھا۔ جب اس نے یہ جنگل دیکھا تو حیران رہ گیا۔ مقامی حکام نے تصدیق کی کہ یہ جنگل تقریباً 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا، یعنی نیویارک کے سینٹرل پارک سے بھی بڑا، اور یہ سب ایک ہی انسان نے تیس برس میں بنایا تھا۔

پھر یہ کہانی دنیا تک پہنچی۔ میڈیا آیا۔ وہ “پاگل” آدمی جسے گاؤں والے برسوں تک نظر انداز کرتے رہے تھے، اچانک ایک ماحولیاتی ہیرو کے طور پر پہچانا جانے لگا۔

سائنس دانوں نے اس جنگل کا مطالعہ کیا۔ تحفظ ماحول کے کارکنوں نے اس کا جشن منایا۔ وہ سرکاری افسران جنہوں نے کبھی اس کی بات نہ سنی تھی، اب اسے اعزاز دینا چاہتے تھے۔

2015 میں اسے پدم شری دیا گیا، جو بھارت کے بڑے سول اعزازات میں سے ایک ہے۔ دنیا اسے “دی فاریسٹ مین آف انڈیا” کے نام سے جاننے لگی۔

لیکن اس شہرت نے جادھو کو نہیں بدلا۔ وہ آج بھی جنگل میں رہتا ہے۔ آج بھی اپنے درختوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آج بھی نئے پودے لگاتا ہے۔

جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے یہ سب کیوں کیا، تو اس کا جواب بہت سادہ ہوتا ہے:
“سانپ اس لیے مر گئے تھے کیونکہ وہاں درخت نہیں تھے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اور مخلوق بھی اسی طرح مرے۔”

آج مولائی جنگل، جو اس کے عرفی نام پر رکھا گیا، 100 سے زیادہ ہاتھیوں، کئی بنگال ٹائیگرز، بھارتی گینڈوں، ہرنوں، جنگلی سوروں، سینکڑوں پرندوں اور بے شمار چھوٹی مخلوقات کا گھر بن چکا ہے۔ ایک مکمل، پھلتا پھولتا ماحولیاتی نظام، وہاں جہاں کبھی صرف ریت تھی۔

ایک شخص۔ نہ پیسہ۔ نہ ادارہ جاتی مدد۔ نہ رسمی تربیت۔

صرف عزم۔ صرف ہر روز واپس آنے کی عادت۔ صرف یہ انکار کہ ایک ویران ریتلا ٹاپو ہمیشہ ویران ہی رہے گا۔

محکمہ جنگلات کے ماہرین نے کہا تھا یہ ناممکن ہے۔ فطرت نے جادھو کی مدد سے انہیں غلط ثابت کر دیا۔

تیس برس تک اس نے یہ جنگل اکیلے بنایا، بغیر کسی پہچان، بغیر فنڈنگ، بغیر مدد کے۔ وہ حکومت، جسے مسکن بچانے اور درخت لگانے چاہییں تھے، کچھ نہ کر سکی۔

ایک غریب آدمی، ایک محروم برادری سے تعلق رکھنے والا شخص، اکیلا وہ کام کر گیا جو پورا محکمہ جنگلات نہ کر سکا۔

اور جب ہاتھی “بہت زیادہ” ہونے لگے، کیونکہ اس نے ان کے لیے اتنا اچھا مسکن بنا دیا تھا، تو حکام نے انہیں وہاں سے ہٹانے کا ارادہ کیا، جس سے وہ پورا نظام تباہ ہو سکتا تھا جسے اس نے اپنی زندگی دے کر بنایا تھا۔

جادھو ڈٹ گیا۔ اس نے کہا:
“یہ میرے خاندان کی طرح ہیں۔ انہیں ہٹانا ہے تو پہلے مجھے گولی مارنی ہوگی۔”

ہاتھی وہیں رہے۔

آج جادھو اپنی ساٹھ کی دہائی میں ہے۔ وہ آج بھی درخت لگاتا ہے۔ آج بھی جنگل سنبھالتا ہے۔ آج بھی جانوروں کے درمیان سادہ زندگی گزارتا ہے۔

اس کے پاس تقریباً کچھ بھی نہیں۔ یہ جنگل قانونی طور پر اس کی ملکیت بھی نہیں، کیونکہ یہ سرکاری زمین پر ہے۔ اس نے کبھی اس سے منافع نہیں کمایا۔

وہ تو صرف ایک ایسی جگہ چاہتا تھا جہاں سانپ دھوپ میں نہ مریں، جہاں جانور زندہ رہ سکیں، جہاں زندگی پھل پھول سکے۔

اور آج 1,360 ایکڑ پر پھیلا ہوا ایک گھنا جنگل، جو ہزار سے زیادہ فٹبال میدانوں کے برابر ہے، صرف اس لیے موجود ہے کہ ایک سولہ سالہ لڑکے نے مردہ سانپ دیکھے اور یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

اگلی بار جب کوئی آپ سے کہے کہ ایک انسان فرق نہیں ڈال سکتا، تو جادھو پائینگ کو یاد کیجیے۔

جب کوئی کہے کہ مسئلہ بہت بڑا ہے، کام بہت مشکل ہے، دنیا بہت خراب ہو چکی ہے، تو اس کہانی کو یاد رکھیے۔

جادھو پائینگ نے ہر روز درخت لگائے۔ چالیس سال تک۔

اور آج وہ ایسے جنگل میں رہتا ہے جہاں ہاتھی اور شیر بستے ہیں، وہاں جہاں سائنس دانوں نے کہا تھا کہ کبھی کچھ نہیں ہو سکتا۔

ایک شخص۔ ایک پودا ایک وقت میں۔ چالیس سال۔

اسی طرح پہاڑ ہلتے ہیں۔ اسی طرح ریت سے جنگل بنتے ہیں۔ اسی طرح “ناممکن” ثابت ہوتا ہے کہ دراصل اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ کسی نے پوری کوشش نہیں کی۔

جادھو پائینگ نے حکومت کا انتظار نہیں کیا۔ فنڈنگ کا انتظار نہیں کیا۔ اجازت، منظوری یا تعریف کا انتظار نہیں کیا۔

اس نے ایک مسئلہ دیکھا، اور اپنی زندگی کے چار عشرے اسے حل کرنے میں لگا دیے۔

بھارت کا فاریسٹ مین، جس نے ایک ناممکن جنگل پیدا کر دیا کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکا کہ سانپ دھوپ میں مرتے رہیں۔

اور آج وہ 1,360 ایکڑ اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ ایک پختہ ارادے والا انسان واقعی زمین کا منظر بدل سکتا ہے۔

17/03/2026

ابسالیوٹلی ناٹ!!

سولہ مارچ دو ہزار چھبیس۔ آج کا دن تاریخ یاد رکھے گی۔ آج وہ دن ہے جب امریکی صدی کا جنازہ نکلا۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی اعلان کے۔ نہ کوئی معاہدہ ٹوٹا۔ نہ کوئی اعلانِ جنگ ہوا۔ بس ایک ایک کر کے سب نے کہا: نہیں۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کے لیے بحری جہاز بھیجیں۔ "بہت سے ممالک بحری جہاز بھیج رہے ہیں،" اس نے دعویٰ کیا۔

کسی نے نہیں بھیجے۔

برطانیہ نے کہا نہیں۔ فرانس نے کہا نہیں۔ جرمنی نے کہا نہیں۔ جنوبی کوریا نے کہا نہیں۔ یونان نے کہا نہیں۔ اٹلی نے کہا نہیں۔ ہالینڈ نے کہا نہیں۔

اور چین؟ چین نے فون ہی نہیں اٹھایا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: "تمام فریقین فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں۔" یعنی اے ٹرمپ، یہ تمھاری جنگ ہے، خود نمٹو۔

ایک ایک کر کے سب نے منہ موڑ لیا۔ اور دنیا بدل گئی۔

کیئر اسٹارمر۔ آج ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس۔ صاف الفاظ میں: "برطانیہ وسیع تر جنگ میں نہیں گھسے گا۔" پھر ایک جملہ جو سیدھا ٹرمپ کے منہ پر مارا ہے: "اگر ہم اپنی افواج کو خطرے میں ڈال رہے ہیں تو ان کا کم از کم حق ہے کہ انھیں معلوم ہو کہ قانونی بنیاد ہے اور ایک واضح منصوبہ ہے۔" پھر مرچ مزید تیز کردی: "کچھ لوگ بغیر پوری تصویر دیکھے جنگ میں کود پڑتے ہیں۔ یہ قیادت نہیں ہے۔ یہ گھسیٹا جانا ہے۔"

یہ جملے سنیے۔ برطانیہ کا وزیرِ اعظم امریکی صدر سے کہہ رہا ہے: تمھیں قیادت نہیں آتی۔ تم گھسیٹے گئے ہو۔ اور ہم تمھارے ساتھ نہیں گھسیٹے جائیں گے۔

ٹرمپ نے جواب دیا: "اسٹارمر کوئی چرچل نہیں ہے۔" ایئر فورس ون پر بیٹھ کر صحافیوں سے کہا: "ہمیں ان کی یوکرین میں مدد کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یوکرین ہم سے ہزاروں میل دور ہے۔ لیکن ہم نے مدد کی۔ اب دیکھیں گے وہ ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں۔" پھر دھمکی: "مدد ملے یا نہ ملے، ایک بات کہہ سکتا ہوں: ہم یاد رکھیں گے۔"

یاد رکھیں گے۔ یہ جملہ اتحادیوں کو نہیں، دنیا کو دھمکی ہے۔ اور دنیا نے اس دھمکی کا جواب خاموشی سے دیا ہے۔ سب سے طاقتور جواب: خاموشی۔

فرانس کے وزیرِ دفاع نے کہا کہ فرانس اپنی "دفاعی اور حفاظتی" پوزیشن برقرار رکھے گا۔ یعنی ہم دیکھیں گے، لیکن تمھاری جنگ نہیں لڑیں گے۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے اے آر ڈی ٹیلی ویژن پر کہا: "کیا ہم جلد اس تنازعے کا فعال حصہ بن جائیں گے؟ میں شکوک کا شکار ہوں۔" ہالینڈ کے وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ نیٹو کے بحری جہاز بھیجنا "مسئلہ راتوں رات حل نہیں کرے گا اور خطرناک بڑھوتری کا سبب بن سکتا ہے۔" یونان نے اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا۔ اٹلی کے وزیرِ خارجہ نے کہا: "سفارت کاری واحد راستہ ہے۔"

ایک ایک کر کے۔ سب نے۔ نہیں کہا۔

اب اس "نہیں" کی گہرائی سمجھیے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز کے ایڈورڈ فشمین نے سی این بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر فوجی کارروائی سے پہلے یورپ یا ایشیا کے کسی بھی اتحادی سے مشاورت نہیں کی۔ وہی اتحادی جو خلیجی تیل کی درآمدات پر امریکہ سے کہیں زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ پوچھے بغیر جنگ شروع کی۔ اب قیمت بانٹنے کو کہہ رہے ہیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سی بی ایس کو بتایا: "آبنائے ہرمز ہماری نظر میں کھلی ہے۔ بند صرف ان دشمنوں کے لیے ہے جنھوں نے ہمارے ملک پر ناجائز جارحیت کی ہے اور ان کے اتحادیوں کے لیے۔" ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے اسٹارمر کو براہِ راست پیغام بھیجا: "ہم برطانیہ سے جنگ میں نہیں ہیں۔ لیکن اس جنگ میں کوئی بھی شرکت امریکی اسرائیلی جارحیت میں شرکت سمجھی جائے گی۔"

اور ہندوستان؟ ہندوستان نے وہ کیا جو ہندوستان ہمیشہ کرتا ہے: اپنا راستہ نکال لیا۔ وزیرِ خارجہ جے شنکر نے فائنینشل ٹائمز کو بتایا کہ نئی دہلی اور تہران کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں دو بھارتی گیس ٹینکر ہفتے کو آبنائے ہرمز سے گزرے۔ بغیر کسی بحری جہاز کے۔ بغیر کسی فوجی قافلے کے۔ بات کر کے۔

یعنی ہندوستان نے بات کر کے نکال لیا۔ امریکہ بم گرا کر نہیں نکال سکا۔

اب ذرا اس منظر کو پیچھے ہٹ کر دیکھیے۔

دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت نے اکیلے، بغیر کسی سے پوچھے، بغیر کسی منصوبے کے، ایک خودمختار ملک پر حملہ کیا۔ اس ملک نے دنیا کا سب سے اہم تیل کا راستہ بند کر دیا۔ تیل سو ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ امریکی بحریہ جو دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ ہے، شپنگ انڈسٹری کی "تقریباً روزانہ" درخواستوں کے باوجود تجارتی جہازوں کو محفوظ قافلے میں لے جانے سے قاصر ہے۔ دس سے زائد تیل کے ٹینکروں پر حملے ہو چکے ہیں۔ اور اب امریکی صدر دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ آؤ مدد کرو۔

اور دنیا نے کہا: نہیں۔

یہ "نہیں" صرف بحری جہازوں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ "نہیں" امریکی یک قطبی دنیا کے خاتمے کا اعلان ہے۔

انیس سو پینتالیس سے دو ہزار چھبیس تک، اکیاسی سال، امریکہ نے دنیا چلائی۔ ڈالر عالمی کرنسی تھا۔ امریکی بحریہ سمندروں کی ضامن تھی۔ نیٹو مغرب کی ڈھال تھا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک امریکی مفادات کے آلات تھے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی ویٹو حتمی فیصلہ تھا۔ اور جب بھی امریکہ نے کہا "چلو" تو سب چلے۔ خلیجی جنگ میں چلے۔ افغانستان میں چلے۔ عراق میں چلے۔

اب نہیں چلتے۔

کیونکہ ٹرمپ نے وہ کام کیا جو تاریخ کا کوئی طاقتور حکمران نہیں کرتا: اتحادیوں کو ذلیل کیا اور پھر مدد مانگی۔ تین سال نیٹو کا مذاق اڑایا۔ یورپ پر ٹیرف لگائے۔ جرمنی کو دھمکایا۔ فرانس کو نظرانداز کیا۔ برطانیہ کو کہا "چرچل نہیں ہے۔" جاپان اور جنوبی کوریا پر ٹیرف لگائے۔ چین کو "تہذیب کا دشمن" کہا۔ اور اب انھی سب سے کہہ رہا ہے: بحری جہاز بھیجو، ہرمز کھولو، میری جنگ میں شامل ہو جاؤ۔

اسٹارمر نے ٹھیک کہا: "یہ قیادت نہیں ہے۔ یہ گھسیٹا جانا ہے۔"

ٹرمپ نے ایران پر حملہ اس طرح کیا جیسے کوئی سانڈ چینی دکان میں گھس جائے۔ نہ مشاورت کی۔ نہ منصوبہ بنایا۔ نہ اخراج کی حکمتِ عملی بنائی۔ نیتن یاہو نے اکسایا اور ٹرمپ بغیر سوچے کود پڑا۔ خامنہ ای مارا۔ تہران پر بم گرائے۔ "آپریشن ایپک فیوری" کا نام رکھا۔ سوچا کہ چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ سولہ دن ہو گئے۔ ختم ہونے کا نام نہیں۔ ایران لڑ رہا ہے۔ ہرمز بند ہے۔ تیل آسمان پر ہے۔ اور اتحادی بھاگ رہے ہیں۔

یہ دو ہزار تین کا عراق نہیں ہے۔ عراق میں بھی جھوٹ بولے گئے تھے لیکن کم از کم ایک "اتحاد" بنایا گیا تھا۔ برطانیہ نے بلیئر کی قیادت میں ساتھ دیا تھا۔ آسٹریلیا شامل ہوا تھا۔ اقوامِ متحدہ میں پاول نے جھوٹی بریفنگ دی تھی لیکن وہاں بیٹھ کر بات تو کی تھی۔ اس بار کچھ نہیں ہوا۔ نہ مشاورت، نہ اتحاد، نہ اقوامِ متحدہ کی منظوری، نہ قانونی بنیاد۔ صرف ایک اسّی سالہ بوڑھے کا فیصلہ جو ایک چھہتّر سالہ جنگجو نے اکسایا۔

اور اب جب آگ لگ چکی ہے تو ٹرمپ دنیا سے کہہ رہا ہے: آؤ بجھاؤ۔ اور دنیا کہہ رہی ہے: تم نے لگائی، تم بجھاؤ۔

ایران اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عراقچی نے کہا ہے کہ "کئی ممالک نے محفوظ گزرگاہ کے لیے رابطہ کیا ہے۔" ایران فیصلہ کر رہا ہے کہ کسے گزرنے دینا ہے اور کسے نہیں۔ ہندوستان کے ٹینکر گزر گئے۔ چین کا تیل بذریعہ زمین روس سے آ رہا ہے، اسے ہرمز کی ضرورت ہی نہیں۔ یعنی ایران نے آبنائے ہرمز کو جنگی ہتھیار سے بدل کر سفارتی ہتھیار بنا لیا ہے۔ جو ہمارا دوست ہے اسے گزرنے دیں گے۔ جو دشمن ہے اسے نہیں۔

اور امریکہ؟ امریکہ وہ ملک ہے جس نے جنگ شروع کی اور اب اسے اپنے بحری جہاز بھی محفوظ نہیں گزار سکتا۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ امریکی بحریہ شپنگ انڈسٹری کی تقریباً روزانہ کی درخواستوں کے باوجود تجارتی جہازوں کو محفوظ قافلے میں لے جانے سے انکار کر رہی ہے۔ دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ ایک تنگ سی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز نہیں گزار سکتی۔

اب اسے دوبارہ پڑھیے: دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ ایک تنگ سی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز نہیں گزار سکتی۔

یہ جملہ امریکی یک قطبی دنیا کا مرثیہ ہے۔

انیس سو پینتالیس میں امریکہ نے دنیا کو نظام دیا۔ قواعد بنائے۔ ادارے بنائے۔ اتحاد بنائے۔ اور اتحادیوں کو بتایا: تم ہمارے قواعد مانو، ہم تمھاری حفاظت کریں گے۔ اکیاسی سال یہ سودا چلتا رہا۔ ٹرمپ نے سودا توڑ دیا۔ قواعد خود توڑے۔ ادارے خود کمزور کیے۔ اتحادی خود ذلیل کیے۔ اور اب جب حفاظت کی ضرورت پڑی تو اتحادیوں نے کہا: سودا ختم ہو چکا ہے۔

ٹرمپ نے دھمکی دی: "ہم یاد رکھیں گے۔"

یورپ نے خاموشی سے جواب دیا: ہم بھی یاد رکھیں گے۔ یوکرین یاد ہے۔ ٹیرف یاد ہیں۔ نیٹو کی تذلیل یاد ہے۔ گرین لینڈ کی دھمکی یاد ہے۔ سب یاد ہے۔

یہ نئی دنیا ہے۔ اس دنیا میں امریکہ اب بھی سب سے طاقتور ہے لیکن اکیلا ہے۔ طاقت اور تنہائی ایک ساتھ ہوں تو طاقت بے معنی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ طاقت کا مطلب صرف بم گرانے کی صلاحیت نہیں ہوتا۔ طاقت کا مطلب ہوتا ہے کہ جب آپ بلائیں تو لوگ آئیں۔ آج ٹرمپ نے بلایا۔ کوئی نہیں آیا۔

اسٹارمر نے پچاس ملین پاؤنڈ کا ایمرجنسی پیکج دیا اپنے شہریوں کو توانائی بحران سے بچانے کے لیے۔ اس نے صاف کہا: "جنگ بندی ہی مہنگائی کے بحران کا سب سے تیز حل ہے۔" یعنی برطانیہ کا وزیرِ اعظم کہہ رہا ہے کہ اصل مسئلہ ہرمز نہیں، اصل مسئلہ ٹرمپ کی جنگ ہے۔ جنگ بند کرو تو ہرمز خود کھل جائے گی۔

اور یہ بالکل سچ ہے۔ ایران نے ہرمز اس لیے بند کی کیونکہ اس پر بم گرائے گئے۔ بمباری بند ہو تو ہرمز کھلے۔ لیکن ٹرمپ بمباری بند نہیں کرنا چاہتا۔ فاکس نیوز پر کہا: "ایران سودا کرنا چاہتا ہے اور میں نہیں چاہتا کیونکہ شرائط ابھی کافی اچھی نہیں ہیں۔" ایران نے فوری تردید کی کہ اس نے کوئی سودے کی درخواست نہیں کی۔

تو صورتحال یہ ہے: ٹرمپ جنگ بند نہیں کرنا چاہتا۔ ہرمز بند ہے۔ تیل آسمان پر ہے۔ دنیا تکلیف میں ہے۔ اور اتحادی کہہ رہے ہیں: یہ تمھاری جنگ ہے، تم لڑو۔

یک قطبی دنیا اس وقت ختم نہیں ہوتی جب کوئی نئی طاقت ابھرتی ہے۔ یک قطبی دنیا اس وقت ختم ہوتی ہے جب پرانی طاقت کو لوگ ماننا بند کر دیں۔ آج سولہ مارچ دو ہزار چھبیس ہے اور دنیا نے ماننا بند کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران میں سانڈ کی طرح گھس کر چینی دکان توڑی۔ اب ٹوٹے ہوئے برتنوں کا ڈھیر لگا ہے اور سانڈ دنیا سے کہہ رہا ہے: آؤ صفائی کرو۔

دنیا نے جھاڑو رکھ دیا ہے اور کہا ہے: تمھاری دکان، تمھارا سانڈ، تمھارا ملبہ۔ ہم نے نہیں توڑا، ہم نہیں اٹھائیں گے۔

اور یہ "نہیں" دنیا کی نئی زبان ہے۔ امریکہ کو یہ زبان سمجھنی پڑے گی۔ کیونکہ اب تک امریکہ نے صرف ایک زبان سنی ہے: جی ہاں۔ آج سے "نہیں" کا دور شروع ہوا ہے۔

اور "نہیں" کا دور جب شروع ہوتا ہے تو سلطنتیں بدلتی ہیں۔ ہمیشہ بدلی ہیں۔

Address

Boughton Monchelsea
31816

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Silent Billionaire posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share