17/09/2026
کیا بچے کو نورانی قاعدہ کے بغیر براہِ راست قرآن پڑھانا چاہیے؟
بیرونِ ملک رہنے والے بہت سے والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اسکول کی مصروفیات کے ساتھ قرآنِ مجید بھی باقاعدگی سے پڑھے۔ لیکن ایک سوال اکثر سامنے آتا ہے:
کیا بچے کو سیدھا قرآنِ مجید پڑھانا شروع کر دینا چاہیے؟
اگر بچہ ابھی قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہے تو پہلے اس کی بنیادی پڑھائی کو دیکھنا ضروری ہے۔
کیا وہ عربی حروف کو پہچانتا ہے؟
کیا حروف کی آواز اور ادائیگی درست ہے؟
کیا وہ حرکات کو سمجھ کر پڑھ سکتا ہے؟
کیا وہ حروف کو ملا کر لفظ بنا سکتا ہے؟
اور کیا وہ بغیر زیادہ رکے پڑھ سکتا ہے؟
اگر ان چیزوں میں ابھی کمزوری ہے تو نورانی قاعدہ سے آغاز کرنا زیادہ مناسب ہے۔
قاعدہ بچے کو قدم بہ قدم قرآن پڑھنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ اس میں وہ حروف، حرکات، جوڑ اور الفاظ پڑھنے کی مشق کرتا ہے، جس سے آگے قرآنِ مجید پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
لیکن ہر بچے کو ایک ہی جگہ سے شروع کروانا ضروری نہیں۔
اگر بچہ پہلے سے قاعدہ پڑھ چکا ہے تو اس کا مختصر جائزہ لے کر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کہاں تک صحیح پڑھ رہا ہے۔ پھر اسے اسی کے مطابق اگلے مرحلے کی طرف لے جایا جائے۔
اصل مقصد قاعدہ جلدی مکمل کروانا نہیں، بلکہ بچے کو صحیح پڑھنے کے قابل بنانا ہے۔
والدین خصوصاً ماؤں کے لیے میری ایک گزارش ہے:
اگر آپ بیرونِ ملک رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ قرآنِ مجید صحیح پڑھنا سیکھے، تو ابتدا میں یہ ضرور دیکھیں کہ اس کی بنیاد مضبوط ہے یا نہیں۔
صحیح بنیاد کے ساتھ قرآن کا سفر شروع ہو تو بچہ آگے بڑھتے ہوئے زیادہ اعتماد کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔