Tarjma ul Quran

Tarjma ul Quran

Share

All about islam.

30/08/2025

*صدقہ سے متعلق۔*


اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت، لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی.

کیا آپ کو صدقہ کے فوائد معلوم ہیں؟
فوائد نمبر 17، 18، 19 کو خاص توجہ سے پڑهیے گآ :-

تو سن لیں !
صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!

1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ہے.
3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا
4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ہے
5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں
6. صدقہ مصفی ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ہے
7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ہے
8. صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا
9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے
10. صدقہ خوشخبری ہے حسن خاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے
11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہوں
12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے
13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے
14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے
15. صدقہ دعاوں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے
16. صدقہ بلاء(مصیبت) کو دور کرتا ہے، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے
17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے، کامیابی اور رزق کا سبب ہے
18. صدقہ علاج بهی ہے دوا بهی اور شفاء بهی
19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے
20. صدقہ کا اجرملتا ہے، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نہ ہو

*☆آخری بات :*
بہترین صدقہ اس وقت یہ ہے کہ آپ اس میسیج کو صدقہ کی نیت سے آگے شئیر کر دیں.

17/08/2025

کوئی ٹہرا نہیں حادثہ دیکھ کر۔۔۔

سینکڑوں لوگ جان سے گئے۔۔۔
گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔۔
ہزاروں لوگ ابھی لاپتہ ہیں۔۔۔
ایک نوحہ ہے ۔۔۔
ایسے موقع پر تو قومی سوک کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔۔
حکومتی سرگرمیاں منسوخ کر کے ساری توجہ ریلیف پر ہوتی۔۔۔
سانحہ پر پوری قوم فوکس ہوتی۔۔
"اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" امت جسد واحد ہے یہ کیسا جسد ہے کہ ایک حصے کو خبر ہی نہیں دوسرے حصے پر فالج گرا ہے یا درد سے کراہ رہا ہے۔۔
کتنے گروپس ہیں سوشل میڈیا پرجہاں اس حادثے کا کوئی ذکر ہی نہیں۔۔
ٹیلی ویژن پر کوئی فحش اشتہار بند نہیں ہوا۔۔
کہیں ہنگامی حالات نظر نہیں آرہے۔
ہم سے کہا جائے آپ کے بہن بھائیوں کو مدد کی ضرورت ہے۔۔
ہم کہیں گے فنڈ سب کھا جاتے ہیں یا بہت فنڈ ملتا ہے یا غیر ملکی فنڈنگ بہت آجاتی ہے۔۔
چاہے لاکھ فنڈنگ ہو اور مخیر حضرات کی ایک طویل فہرست ہو لیکن اپنے ایمان کے کا کوئی تو ثبوت دینا چاہیے
ہم کیسے نفی کر دیں کہ ہم جسد واحد ہیں۔۔
اگر وہ کفن اور دعاؤں کی اپیل کر رہے ہیں تو ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کریں کہ مزید اسمانی آفات کا شکار نہ ہوں اور جو عظیم نقصان ہوا ہے اللہ اس پر صبر عطا فرمائے۔۔
کیا واقعی وہ ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد ہیں جن کی بستیاں
بہ گئیں۔۔پیارے چھن گئے۔۔
ہمارے خاندان کا کوئی فرد ائی سی یو میں تو نہ کچن کا ہوش رہتا ہے نہ آنے والی تقریب کی تیاری کا۔۔۔
ملک کا ایک حصہ ڈوب گیا بہت کچھ ساتھ لے کر۔۔۔
ہم اس کا درد بھی محسوس نہ کریں۔۔۔
۔۔آسمانی افات اس لیے ہوتی ہیں کہ ہم اجتماعی رجوع کریں سچی توبہ۔۔۔ گھروں کی فضا ایسی بنائیں۔۔۔
اللہ نہ کرے جب عذاب بستیوں پر آتے ہیں تو بستیاں تلپٹ ہو جاتی ہیں۔۔
وقت نہیں یہ کہنے کا کہ اگر فلاں پارٹی کی حکومت ہوتی تو یہ سب نہ ہوتا۔۔ پنجاب میں بارشوں کی تباہی کی فلاں حکومت ذمہ دار۔۔ کے پی کے میں سیلاب کی فلاں حکومت ذمہ دار ہے۔۔۔
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں انہوں نے غزا کا درد محسوس نہیں کیا یہ اس کا خمیازہ ہے۔۔ اگر خدانخواستہ یہ اس کا خمیازہ ہے تو پھر تو ہم بھی محفوظ نہیں قدرت کی پکڑ سے
یہ وقت بلیم گیم کا نہیں ہے۔۔۔
اپنے بہن بھائیوں کی مدد اور ان کے لیے دعا کا ہے اور اپنے
اعمال پر نظر ثانی کا

۔۔ 17 اگست 2025ء

05/06/2025

🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺗﻘﺒﻞ ﻣﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﺃﻧﺖ ﺍﻟﺴﻤﻴﻊ ﺍﻟﻌﻠﻴﻢ، ﻭﺗﺐ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﺃﻧﺖ ﺍﻟﺘﻮﺍﺏ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺁﺗﻨﺎ ﻓﻲ ﺍﻟﺪﻧﻴﺎ ﺣﺴﻨﺔ ﻭﻓﻲ ﺍﻵﺧﺮﺓ ﺣﺴﻨﺔ ﻭﻗﻨﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟﻨﺎﺭ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺃﻓﺮﻍ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﺻﺒﺮﺍ ﻭﺛﺒﺖ ﺃﻗﺪﺍﻣﻨﺎ ﻭﺍﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻘﻮﻡ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻻ ﺗﺆﺍﺧﺬﻧﺎ ﺇﻥ ﻧﺴﻴﻨﺎ ﺃﻭ ﺃﺧﻄﺎﻧﺎ، ﺭﺑﻨﺎ ﻭﻻ ﺗﺤﻤﻞ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﺇﺻﺮﺍ ﻛﻤﺎ ﺣﻤﻠﺘﻪ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﺬﻳﻦ ﻣﻦ ﻗﺒﻠﻨﺎ، ﺭﺑﻨﺎ ﻭﻻ ﺗﺤﻤﻠﻨﺎ ﻣﺎ ﻻ ﻃﺎﻗﺔ ﻟﻨﺎ ﺑﻪ ﻭﺍﻋﻒ ﻋﻨﺎ ﻭﺍﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﻭﺍﺭﺣﻤﻨﺎ ﺃﻧﺖ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻘﻮﻡ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻻ ﺗﺰﻍ ﻗﻠﻮﺑﻨﺎ ﺑﻌﺪ ﺇﺫ ﻫﺪﻳﺘﻨﺎ ﻭﻫﺐ ﻟﻨﺎ ﻣﻦ ﻟﺪﻧﻚ ﺭﺣﻤﺔ ﺇﻧﻚ ﺃﻧﺖ ﺍﻟﻮﻫﺎﺏ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﺟﺎﻣﻊ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻟﻴﻮﻡ ﻻ ﺭﻳﺐ ﻓﻴﻪ ﺇﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﻻ ﻳﺨﻠﻒ ﺍﻟﻤﻴﻌﺎﺩ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺇﻧﻨﺎ ﺁﻣﻨﺎ ﻓﺎﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﺫﻧﻮﺑﻨﺎ ﻭﻗﻨﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟﻨﺎﺭ،
🌷رب ﻫﺐ ﻟﻲ ﻣﻦ ﻟﺪﻧﻚ ﺫﺭﻳﺔ ﻃﻴﺒﺔ ﺇﻧﻚ ﺳﻤﻴﻊ ﺍﻟﺪﻋﺎﺀ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﻤﺎ ﺃﻧﺰﻟﺖ ﻭﺍﺗﺒﻌﻨﺎ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻓﺎﻛﺘﺒﻨﺎ ﻣﻊ ﺍﻟﺸﺎﻫﺪﻳﻦ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺍﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﺫﻧﻮﺑﻨﺎ ﻭﺇﺳﺮﺍﻓﻨﺎ
ﻓﻲ ﺃﻣﺮﻧﺎ ﻭﺛﺒﺖ ﺃﻗﺪﺍﻣﻨﺎ ﻭﺍﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻘﻮﻡ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻣﺎ ﺧﻠﻘﺖ ﻫﺬﺍ ﺑﺎﻃﻼ ﺳﺒﺤﺎﻧﻚ ﻓﻘﻨﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟﻨﺎﺭ،
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﻣﻦ ﺗﺪﺧﻞ ﺍﻟﻨﺎﺭ ﻓﻘﺪ ﺃﺧﺰﻳﺘﻪ ﻭﻣﺎ ﻟﻠﻈﺎﻟﻤﻴﻦ ﻣﻦ ﺃﻧﺼﺎﺭ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺇﻧﻨﺎ ﺳﻤﻌﻨﺎ ﻣﻨﺎﺩﻳﺎ ﻳﻨﺎﺩﻱ ﻟﻺﻳﻤﺎﻥ ﺃﻥ ﺍﻣﻨﻮﺍ ﺑﺮﺑﻜﻢ ﻓﺂﻣﻨﺎ، ﺭﺑﻨﺎ ﻓﺎﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﺫﻧﻮﺑﻨﺎ ﻭﻛﻔﺮ ﻋﻨﺎ ﺳﻴﺌﺎﺗﻨﺎ ﻭﺗﻮﻓﻨﺎ ﻣﻊ ﺍﻷﺑﺮﺍﺭ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺍﺗﻨﺎ ﻣﺎ ﻭﻋﺪﺗﻨﺎ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻠﻚ ﻭﻻ ﺗﺨﺰﻧﺎ ﻳﻮﻡ ﺍﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﺇﻧﻚ ﻻ ﺗﺨﻠﻒ ﺍﻟﻤﻴﻌﺎﺩ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺃﺧﺮﺟﻨﺎ ﻣﻦ ﻫﺬﻩ ﺍﻟﻘﺮﻳﺔ ﺍﻟﻈﺎﻟﻢ ﺃﻫﻠﻬﺎ ﻭﺍﺟﻌﻞ ﻟﻨﺎ ﻣﻦ ﻟﺪﻧﻚ ﻭﻟﻴﺎ ﻭﺍﺟﻌﻞ ﻟﻨﺎ ﻣﻦ ﻟﺪﻧﻚ ﻧﺼﻴﺮﺍ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻇﻠﻤﻨﺎ ﺃﻧﻔﺴﻨﺎ ﻭﺍﻥ ﻟﻢ ﺗﻐﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﻭﺗﺮﺣﻤﻨﺎ ﻟﻨﻜﻮﻧﻦ ﻣﻦ ﺍﻟﺨﺎﺳﺮﻳﻦ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺍﻓﺘﺢ ﺑﻴﻨﻨﺎ ﻭﺑﻴﻦ ﻗﻮﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﺤﻖ ﻭﺃﻧﺖ ﺧﻴﺮ ﺍﻟﻔﺎﺗﺤﻴﻦ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺍﻓﺮﻍ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﺻﺒﺮﺍ ﻭﺗﻮﻓﻨﺎ ﻣﺴﻠﻤﻴﻦ، ﺃﻧﺖ ﻭﻟﻴﻨﺎ ﻓﺎﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﻭﺍﺭﺣﻤﻨﺎ ﻭﺃﻧﺖ ﺧﻴﺮ ﺍﻟﻐﺎﻓﺮﻳﻦ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻻ ﺗﺠﻌﻠﻨﺎ ﻓﺘﻨﺔ ﻟﻠﻘﻮﻡ ﺍﻟﻈﺎﻟﻤﻴﻦ ﻭﻧﺠﻨﺎ ﺑﺮﺣﻤﺘﻚ ﻣﻦ ﺍﻟﻘﻮﻡ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ.
🌷ﺭﺏ ﺇﻧﻲ ﺃﻋﻮﺫ ﺑﻚ ﺃﻥ ﺃﺳﺎﻟﻚ ﻣﺎ ﻟﻴﺲ ﻟﻲ ﺑﻪ ﻋﻠﻢ ﻭﺇﻻ ﺗﻐﻔﺮ ﻟﻲ ﻭﺗﺮﺣﻤﻨﻲ ﺃﻛﻦ ﻣﻦ ﺍﻟﺨﺎﺳﺮﻳﻦ.
🌷ﺭﺏ ﺃﻧﺖ ﻭﻟﻴﻲ ﻓﻲ ﺍﻟﺪﻧﻴﺎ ﻭﺍﻵﺧﺮﺓ ﺗﻮﻓﻨﻲ ﻣﺴﻠﻤﺎ ﻭﺃﻟﺤﻘﻨﻲ ﺑﺎﻟﺼﺎﻟﺤﻴﻦ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﺗﻌﻠﻢ ﻣﺎ ﻧﺨﻔﻲ ﻭﻣﺎ ﻧﻌﻠﻦ ﻭﻣﺎ ﻳﺨفى ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﺷﻲﺀ ﻓﻲ ﺍﻷﺭﺽ ﻭﻻ ﻓﻲ ﺍﻟﺴﻤﺎﺀ.
🌷ﺭﺏ ﺍﺟﻌﻠﻨﻲ ﻣﻘﻴﻢ ﺍﻟﺼﻼﺓ
ﻭﻣﻦ ﺫﺭﻳﺘﻲ ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺗﻘﺒﻞ ﺩﻋﺎﺀ، ﺭﺑﻨﺎ ﺍﻏﻔﺮ ﻟﻲ ﻭﻟﻮﺍﻟﺪﻱ ﻭﻟﻠﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻳﻮﻡ ﻳﻘﻮﻡ ﺍﻟﺤﺴﺎﺏ.
🌷ﺭﺏ ﺃﺩﺧﻠﻨﻲ ﻣﺪﺧﻞ ﺻﺪﻕ ﻭﺃﺧﺮﺟﻨﻲ ﻣﺨﺮﺝ ﺻﺪﻕ ﻭﺍﺟﻌﻞ ﻟﻲ ﻣﻦ ﻟﺪﻧﻚﺳﻠﻄﺎﻧﺎ ﻧﺼﻴﺮﺍ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺁﺗﻨﺎ ﻣﻦ ﻟﺪﻧﻚ ﺭﺣﻤﺔ ﻭﻫﻴﺊ ﻟﻨﺎ ﻣﻦ ﺃﻣﺮﻧﺎ ﺭﺷﺪﺍ، ﺭﺏ ﺇﻧﻲ ﻭﻫﻦ ﺍﻟﻌﻈﻢ ﻣﻨﻰ ﻭﺍﺷﺘﻌﻞ ﺍﻟﺮﺃﺱ ﺷﻴﺒﺎ ﻭﻟﻢ ﺃﻛﻦ ﺑﺪﻋﺎﺋﻚ ﺭﺏ ﺷﻘﻴﺎ.
🌷ﺭﺏ ﺍﺷﺮﺡ ﻟﻲ ﺻﺪﺭﻱ ﻭﻳﺴﺮ ﻟﻲ ﺃﻣﺮﻱ ﻭﺍﺣﻠﻞ ﻋﻘﺪﺓ ﻣﻦ ﻟﺴﺎﻧﻲ ﻳﻔﻘﻬﻮﺍ ﻗﻮﻟﻲ، ﺭﺏ ﺯﺩﻧﻲ ﻋﻠﻤﺎ.
🌷ﻻ ﺍﻟﻪ ﺇﻻ ﺃﻧﺖ ﺳﺒﺤﺎﻧﻚ ﺇﻧﻲ ﻛﻨﺖ ﻣﻦ ﺍﻟﻈﺎﻟﻤﻴﻦ.
🌷ﺭﺏ ﻻ ﺗﺬﺭﻧﻲ ﻓﺮﺩﺍ ﻭﺃﻧﺖ ﺧﻴﺮ ﺍﻟﻮﺍﺭﺛﻴﻦ .
🌷ﺃﻧﻲ ﻣﺴﻨﻲ ﺍﻟﻀﺮ ﻭﺃﻧﺖ ﺍﺭﺣﻢ ﺍﻟﺮﺍﺣﻤﻴﻦ.
🌷ﺭﺏ ﺃﻧﺰﻟﻨﻲ ﻣﻨﺰﻻ ﻣﺒﺎﺭﻛﺎ ﻭﺃﻧﺖ ﺧﻴﺮ ﺍﻟﻤﻨﺰﻟﻴﻦ.
🌷ﺭﺏ ﺃﻋﻮﺫ ﺑﻚ ﻣﻦ ﻫﻤﺰﺍﺕ ﺍﻟﺸﻴﺎﻃﻴﻦ ﻭﺃﻋﻮﺫ ﺑﻚ ﺭﺏ ﺃﻥ ﻳﺤﻀﺮﻭﻥ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺁﻣﻨﺎ ﻓﺎﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﻭﺍﺭﺣﻤﻨﺎ ﻭﺃﻧﺖ ﺧﻴﺮ ﺍﻟﺮﺍﺣﻤﻴﻦ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺍﺻﺮﻑ ﻋﻨﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﺟﻬﻨﻢ ﺇﻥ ﻋﺬﺍﺑﻬﺎ ﻛﺎﻥ ﻏﺮﺍﻣﺎ ﺇﻧﻬﺎ ﺳﺎﺀﺕ ﻣﺴﺘﻘﺮﺍ ﻭﻣﻘﺎﻣﺎ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻫﺐ ﻟﻨﺎ ﻣﻦ ﺃﺯﻭﺍﺟﻨﺎ ﻭﺫﺭﻳﺎﺗﻨﺎ ﻗﺮﺓ ﺃﻋﻴﻦ ﻭﺍﺟﻌﻠﻨﺎ ﻟﻠﻤﺘﻘﻴﻦ ﺇﻣﺎﻣﺎ.
🌷ﺭﺏ ﻫﺐ ﻟﻲ ﺣﻜﻤﺎ ﻭﺍﻟﺤﻘﻨﻰ ﺑﺎﻟﺼﺎﻟﺤﻴﻦ ﻭﺍﺟﻌﻞ ﻟﻲ ﻟﺴﺎﻥ ﺻﺪﻕ ﻓﻲ ﺍﻵﺧﺮﻳﻦ ﻭﺍﺟﻌﻠﻨﻲ ﻣﻦ ﻭﺭﺛﺔ ﺟﻨﺔ ﺍﻟﻨﻌﻴﻢ ﻭﻻ ﺗﺨﺰﻧﻲ ﻳﻮﻡ ﻳﺒﻌﺜﻮﻥ ﻳﻮﻡ ﻻ ﻳﻨﻔﻊ ﻣﺎﻝ ﻭﻻ ﺑﻨﻮﻥ ﺇﻻ ﻣﻦ ﺃﺗﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻘﻠﺐ ﺳﻠﻴﻢ.
🌷ﺭﺏ ﻧﺠﻨﻲ ﻭﺃﻫﻠﻲ ﻣﻤﺎ ﻳﻌﻤﻠﻮﻥ.
🌷ﺭﺏ ﺃﻭﺯﻋﻨﻲ ﺃﻥ ﺍﺷﻜﺮ ﻧﻌﻤﺘﻚ ﺍﻟﺘﻲ ﺃﻧﻌﻤﺖ ﻋﻠﻰ ﻭﻋﻠﻰ ﻭﺍﻟﺪﻱ ﻭﺍﻥ ﺍﻋﻤﻞ ﺻﺎﻟﺤﺎ ﺗﺮﺿﺎﻩ ﻭﺍﺩﺧﻠﻨﻰ ﺑﺮﺣﻤﺘﻚ ﻓﻲ ﻋﺒﺎﺩﻙ ﺍﻟﺼﺎﻟﺤﻴﻦ.
🌷ﺭﺏ ﺇﻧﻲ ﻇﻠﻤﺖ ﻧﻔﺴﻲ ﻓﺎﻏﻔﺮ ﻟﻲ، ﺭﺏ ﺍﻧﺼﺮﻧﻲ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻘﻮﻡ ﺍﻟﻤﻔﺴﺪﻳﻦ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺳﻌﺖ ﻛﻞ ﺷﻲﺀ ﺭﺣﻤﺔ ﻭﻋﻠﻤﺎ ﻓﺎﻏﻔﺮ ﻟﻠﺬﻳﻦ ﺗﺎﺑﻮﺍ ﻭﺍﺗﺒﻌﻮﺍ ﺳﺒﻴﻠﻚ ﻭﻗﻬﻢ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟﺠﺤﻴﻢ،ﺭﺑﻨﺎ ﻭﺃﺩﺧﻠﻬﻢ ﺟﻨﺎﺕ ﻋﺪﻥ ﺍﻟﺘﻲ ﻭﻋﺪﺗﻬﻢ ﻭﻣﻦ ﺻﻠﺢ ﻣﻦ ﺁﺑﺎﺋﻬﻢ ﻭﺃﺯﻭﺍﺟﻬﻢ ﻭﺫﺭﻳﺎﺗﻬﻢ ﺇﻧﻚ ﺃﻧﺖ ﺍﻟﻌﺰﻳﺰ ﺍﻟﺤﻜﻴﻢ ﻭﻗﻬﻢ ﺍﻟﺴﻴﺌﺎﺕ ﻭﻣﻦ ﺗﻖ ﺍﻟﺴﻴﺌﺎﺕ ﻳﻮﻣﺌﺬ ﻓﻘﺪ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﻭﺫﻟﻚ ﻫﻮ ﺍﻟﻔﻮﺯ ﺍﻟﻌﻈﻴﻢ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺍﻛﺸﻒ ﻋﻨﺎ ﺍﻟﻌﺬﺍﺏ ﺇﻧﺎ ﻣﺆﻣﻨﻮﻥ.
🌹🌷ﺭﺏ ﺃﻭﺯﻋﻨﻲ ﺃﻥ ﺍﺷﻜﺮ ﻧﻌﻤﺘﻚ التی أنعمت ﻋﻠﻰ ﻭﻋﻠﻰ ﻭﺍﻟﺪﻱ ﻭﺍﻥ ﺍﻋﻤﻞ ﺻﺎﻟﺤﺎ ﺗﺮﺿﺎﻩ ﻭﺃﺻﻠﺢ ﻟﻲ ﻓﻲ ﺫﺭﻳﺘﻲ ﺇﻧﻲ ﺗﺒﺖ ﺇﻟﻴﻚ ﻭﺍﻧﻲ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ.

🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﺭﺀﻭﻑ ﺭﺣﻴﻢ، ﺭﺑﻨﺎ ﻋﻠﻴﻚ ﺗﻮﻛﻠﻨﺎ ﻭﺍﻟﻴﻚ ﺃﻧﺒﻨﺎ ﻭﺍﻟﻴﻚ ﺍﻟﻤﺼﻴﺮ، ﺭﺑﻨﺎ ﻻ ﺗﺠﻌﻠﻨﺎ ﻓﺘﻨﺔ ﻟﻠﺬﻳﻦ ﻛﻔﺮﻭﺍ ﻭﺍﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﺭﺑﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﺃﻧﺖ ﺍﻟﻌﺰﻳﺰ ﺍﻟﺤﻜﻴﻢ.
🌷ﺭﺑﻨﺎ ﺍﺗﻤﻢ ﻟﻨﺎ ﻧﻮﺭﻧﺎ ﻭﺍﻏﻔﺮ ﻟﻨﺎ ﺇﻧﻚ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﺷﻲﺀ ﻗﺪﻳﺮ، ﺭﺏ ﺍﺑﻦ ﻟﻲ ﻋﻨﺪﻙ ﺑﻴﺘﺎ ﻓﻲ ﺍﻟﺠﻨﺔ ﻭﻧﺠﻨﻲ ﻣﻦ ﺍﻟﻘﻮﻡ ﺍﻟﻈﺎﻟﻤﻴﻦ.
🌷ﺭﺏ ﻻ ﺗﺬﺭ ﻋﻠﻰ ﺍﻷﺭﺽ ﻣﻦ ﺍﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ ﺩﻳﺎﺭﺍ ﺇﻧﻚ ﺇﻥ ﺗﺬﺭﻫﻢ ﻳﻀﻠﻮﺍ ﻋﺒﺎﺩﻙ ﻭﻻ ﻳﻠﺪﻭﺍ ﺇﻻ ﻓﺎﺟﺮﺍ ﻛﻔﺎﺭﺍ.
🌷ﺭﺏ ﺍﻏﻔﺮ ﻟﻲ ﻭﻟﻮﺍﻟﺪﻱ ﻭﻟﻤﻦ ﺩﺧﻞ بﻴﺘﻲ ﻣﺆﻣﻨﺎ ﻭﻟﻠﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻭﺍﻟﻤﺆﻣﻨﺎﺕ ﻭﻻ ﺗﺰﺩ ﺍﻟﻈﺎﻟﻤﻴﻦ
ﺇﻻ ﺗﺒﺎﺭﺍ.

05/06/2025

,*’’عرفہ (9 ذوالحجہ) کے دن کے اعمال‘‘*

عرفہ کے دن کی فضیلت دو طرح سے ہے، زمانی اور مکانی ۔
زمانی اس لحاظ سے کہ عرفہ کا دن باقی دنوں کی طرح عام دن نہیں بلکہ ایک نہایت اہمیت کا حامل دن ہے، دنیا میں جہاں بھی عرفہ کا دن ہو گا، فضیلت والا ہو گا۔
اور مکانی اس اعتبار سے ہے کہ عرفہ کے دن میدان عرفات میں حجاج جمع ہوتے ہیں، تو اس جگہ کے بابرکت ہونے کی وجہ سے عرفہ کے دن کی فضیلت مزید بڑھ جاتی ہے ۔
لہذا حجاج بیک وقت دو فضیلتوں سے مستفید ہوتے ہیں، زمانی بھی اور مکانی بھی جبکہ دیگر علاقوں کے باشندوں کے لیے ایک فضیلت یعنی زمانی موجود ہوتی ہے ۔
اس تمہید کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اعمال جن کا عرفہ کے دن کرنا فضیلت قرار دیا گیا ہے اور وہ حجاج کے ساتھ خاص نہیں، ان اعمال کو کسی بھی علاقے میں موجود مسلمان بجا لائے تو وہ ان کی فضیلت پا لے گا، ذیل میں اس دن کے چند اعمال درج کیے جاتے ہیں :

*1. غسل کرنا :*
⇚ زاذان بیان کرتے ہیں :
" سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے غسل کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : چاہے ہر روز غسل کرو ، سائل نے پوچھا : نہیں، کونسا غسل مستحب ہے؟ فرمایا : ہر جمعہ، عید الفطر، عید الاضحٰی اور عرفہ کے دن غسل کرو . "
( مسند مسدد کما فی المطالب لابن حجر : 693 و سندہ صحیح ووثق رجاله البوصیری في إتحاف الخيرة المهره : 265/2 )
*2. روزہ رکھنا :*
⇚ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرفہ کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :
يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ، وَالْبَاقِيَةَ.
"یہ گزشتہ اور آئندہ دونوں سالوں کے گناہوں کا کفارہ ہے."
( صحيح مسلم : 1162، سنن ابو داود : 2425)
⇚ ام المؤمنين سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
"مجھے پورے سال کے دنوں میں سے عرفہ کے دن روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند ہے."
(مسند ابن الجعد : 512 وسندہ صحیح)
*3. نو ذوالحجہ کی فجر سے بالخصوص تکبیرات کا آغاز :*
⇚ ابو وائل شقیق بن سلمہ الأسدی رحمہ اللہ (تابعی) بیان کرتے ہیں :
"سیدنا علی رضی اللہ عنہ عرفہ کی صبح ، فجر کی نماز کے بعد تکبیرات کہتے، پھر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ کو) امام کے نماز عصر پڑھانے تک مسلسل کہتے رہتے اور عصر کی نماز کے بعد بھی تکبیرات کہتے."
( المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح: ١١١٣ ، السنن الكبرى للبيهقي : ٤٣٩/٣ ح : ٦٢٧٥ وسنده حسن)
⇚ عکرمہ مولی ابن عباس رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کرتے ہیں :
"سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ عرفہ کی نماز فجر سے لیکر ایام تشريق کے آخری دن (١٣ ذوالحجہ) تک تکبیرات کہتے."
( مصنف ابن أبي شيبة : ٤٨٩/١ ح: ٥٦٤٦ وسنده صحیح)
⇚ امام عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي رحمہ اللہ سے تکبیرات کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :
"عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشريق کے آخر تک تکبیرات کہے جیسا کہ سیدنا علی اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے."
(المستدرك للحاكم : ٤٤٠/١ ح : ١١١٦ وسنده صحیح)
4. *کثرت سے دعائیں کرنا* :
⇚ حافظ نووی رحمہ اللہ (٦٧٦ھ) فرماتے ہیں :
'"عرفہ (٩ ذو الحجہ) کا دن سال کے تمام دنوں میں سے دعا کے لیے افضل ترین دن ہے، انسان کو چاہیے کہ اپنی توانائی ذکر و دعا اور…تلاوتِ قرآن میں صرف کرے، مختلف دعائیں اور اذکار کرے، اپنے لیے، اپنے والدین، عزیز و اقارب، مشائخ، دوست و احباب، محسنین اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائیں کرے، اور اس میں کوتاہی سے بچے کیوں کہ اس دن کا تدارک پھر کبھی ممکن نہیں."
[الأذكار ، ص : ١٩٨، دار الفكر للطباعة والنشر بيروت لبنان]
اس مفہوم کی ایک مرفوع روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
خير الدعاء دعاء يوم عرفة.
"سب سے بہتر دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے."
(رواه الترمذي : ٣٥٨٥ وضعفه وحسنه الألباني بالشواهد)
*5. جہنم سے آزادی کی دعا کرنا:*
⇚ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ.
"کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو."
(صحیح مسلم : ١٣٤٨)
⇚ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (٧٩٥ھ) فرماتے ہیں :
"عرفہ کا دن جہنم سے آزادی کا دن ہے، اللہ تعالی اس دن میدانِ عرفات میں وقوف کرنے والے اور اپنے ملکوں میں موجود مسلمانوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہیں."
[

05/06/2025
05/06/2025

💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜
❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄

⛲ *بسم الله الرحمن الرحيم* ⛲

🇵🇰 *آج کا کیلنڈر* 🌤

🔖 *08 ذوالحجہ 1446ھ* 💎
🔖 *05 جون 2025ء* 💎
🔖 *23 جیٹھ 2082ب* 💎

🌄 *بروز جمعرات Thursday* 🌄

☘️ *عرفہ کے دن کا روزہ !*
🔹 *رسولﷺ نے فرمایا عرفہ کے دن کا روزہ ، میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی.*🔹
📗«صحیح مسلم -1162»

❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄
💜💙💜💙💜💙💜💙💜💙

29/03/2025

شوال المکرم 1446ھ کے چاند کی پیدائش پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق آج 28 رمضان المبارک 29مارچ بروز ہفتہ 4:00pm پر ہوگی اور آج انتہائی کم عمر کے ساتھ دنیا میں کہیں بھی چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔۔

اتوار 29 رمضان المبارک 1446ھ مطابق 30مارچ 2025 کی شام کو پاکستان، افغانستان، ایران، انڈیا، بنگلہ دیش، امریکہ، سعودی عربیہ اور دنیا کے اکثر ممالک میں کھلی آنکھ سے چاند نظر آنے کا واضح امکان ہے کیونکہ چاند کی عمر ایک دن سے زائد ہوچکی ہوگی اور 31 مارچ بروز پیر ان شاء اللہ اکثر دنیا میں متفقہ طور پر عید الفطر کا پہلا دن ہوگا۔

29/03/2025

💦 *نیکی کی طرف بلانے کا اجر!*
🔹 *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی ہدایت کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جس نے اس کی اتباع کی، اور اس سے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔*🔹
📗«سنــن ابــن ماجہ -206»

29/03/2025

خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں ؟جانئے مقدس ترین مقام کی چابیوں کے پیچھے چھپی وہ معجزاتی تاریخ جو آپ کا بھی ایمان تازہ کر دے گی..
اگرچہ سعودی فرماں روا کو خادمین حرمین شریفین کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت خانہ کعبہ کی چابیاں
ان کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے شیبی خاندان کے پاس ہیں اور اس کے پیچھے ایسی کہانی ہے کہ سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا۔
بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ سبحان تعالیٰ نے اس کام کے لیے اس خاندان کا انتخاب کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے چابیاں ان کے حوالے کی تھیں۔
جب 8ہجری میں مسلمان مکہ پر غالب آئے اور اسے فتح کیا تو نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس کا دروازہ مقفل تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہیں۔ عثمان ابن طلحہٰ مسلمانوں کے مکہ مکرمہ فتح کر لینے پر خوفزدہ ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چھپے ہوئے تھے۔ لوگوں کے بتانے پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان سے چابیاں لے کر دروازہ کھولو۔
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عثمان سے چابیاں طلب کیں تو اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا انکار نظرانداز کر دیا اور اس سے چابیاں چھین لیں اور دروازہ کھول دیا اور رسول اللہﷺ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ بیت اللہ کے اندر رسول اللہ ﷺ نماز ادا کر رہے تھے کہ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آ گئے۔ اس وقت قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی، جس کا ترجمہ ہے ”بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچا دو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، بے شک اللہ آپ کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کو جیسے ہی جبریل ؑ نے اللہ کا یہ پیغام پہنچایا انہوں نے فوری طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ عثمان کے پاس واپس جاﺅ اور چابیاں اس کے حوالے کر دو اور اس سے اپنے روئیے پر معذرت کرو۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جا کر عثمان ابن طلحہٰ کو چابیاں واپس کیں اور ان سے معذرت چاہی تو عثمان ششدر رہ گئے کہ ایک عظیم فاتح نے انہیں چابیاں واپس بھجوا دی ہیں۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آیت کریمہ کے نزول کا واقعہ اسے سنایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ چابیاں عثمان کو واپس کر دو۔ یہ سن کر عثمان ابن طلحہٰ نے فوراً کہا ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں“ اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔حضرت عثمان ابن طلحہٰ کے اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت جبریل ؑ واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور چابیوں کے متعلق اللہ کا حکم سنایا کہ ”آج کے بعد تاقیامت خانہ کعبہ کی چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے خاندان کے پاس رہیں گی۔“ اس دن کے بعد سے آج تک خانہ کعبہ کی چابیاں اسی خاندان کے پاس ہیں۔

28/03/2025

سلیمان الراجحی چیئرمین الراجحی گروپ انتقال کرگئے
بہت اعلی ساعتیں نصیب ہوئیں۔
انکا شمار دنیا کے 20 سخی / فیاض ترین افراد میں شمار ہوتا ہے۔۔۔

سعودی عرب کے شہر "القصیم" میں واقع کھجوروں کے ایک باغ میں کم و بیش کھجور کے 2 لاکھ درخت ھیں اور یہ باغ راہِ اللہ میں وقف ھے..
اِس باغ میں 45 قِسم کی کھجوریں ھوتی ھیں ، یہاں کی سالانہ پیداوار 10 ھزار ٹن کھجور ھے..
یہ باغ روئے زمین میں پایا جانے والا سب سے بڑا وقف ھے..
اِس باغ کی آمدنی سے دُنیا کے مختلف ممالک میں مساجد کی تعمیر ، خیراتی کام اور حرمین شریفین میں افطاری کے
دسترخوان لگائے جاتے ھیں..
یہ باغ سعودی عرب کے امیر ترین شخص "سلیمان الراجحي" نے اللہ کی راہ میں وقف کِیا ھے..
سلیمان الراجحي نے غُربت میں آنکھ کھولی ، وہ اسکول میں پڑھ رھے تھے کہ ایک دن اسکول اِنتظامیہ نے تفریحی ٹُوور تشکیل دِیا اور ھر طالب علم سے ایک ایک ریال جمع کروانے کو کہا ، یہ گھر میں جاتے ھیں مگر والدین کے پاس ایک ریال تک نہیں ھوتا ، یہ بہت روتا ھے ، ٹُوور کے لِئے جانے کی تاریخ قریب آتی ھے ، اِدھر اِن کے سہ ماھی اِمتحانات کا رزلٹ آتا ھے ، یہ کلاس میں پوزیشن لیتے ھیں اور ایک فلسطینی اُستاد بطورِ اِنعام اِنہیں 1 ریال دیتا ھے..
یہ دوڑتے ھوئے تفریحی پروگرام کے مسئول کے پاس جاتے ھیں اور 1 ریال جمع کراتے ھیں..
وقت کو جیسے پر لگ جاتے ھیں ، یہ اپنی تعلیم مکمل کر کے جدہ شہر میں ایک کمرے کو بنک کا نام دے کر کام شروع کرتے ھیں ، مختصر عرصے میں الراجحي کے نام سے بنکوں کا ایک جال پورے سعودی عرب میں پھیل جاتا ھے..
سلیمان الراجحي اپنے اِس فلسطینی اُستاد کی تلاش میں نِکلتے ھیں ، اُستاد سے ملاقات ھوتی ھے ، وہ ریٹائرڈ ھو چُکے ھیں ، معاشی حالات ایسے کہ گھر کا چولہا جلانا مُشکل ھوا پڑا ھے ، راجحی اپنے فلسطینی اُستاد کو گاڑی میں بِٹھاتے ھیں اور اُن سے کہتے ھیں کہ میرے اُوپر آپ کا قرض ھے..
اُستاد آگے سے کہتا ھے کہ مجھ مسکین کا کِس پر قرض ھو سکتا ھے ، راجحی اپنے اُستاد کو یاد کراتے ھیں کہ سالوں پہلے آپ نے مجھے 1 ریال اِنعام دِیا تھا ، اُستاد مُسکراتا ھے کہ آپ اب وہ ایک ریال مجھے واپس کرنا چاھتے ھیں؟..
راجحی ایک بنگلے کے سامنے گاڑی کھڑی کرتا ھے جِس کے سامنے ایک بیش قیمت گاڑی بھی کھڑی ھے ، راجحی اپنے اُستاد سے کہتا ھے یہ بنگلہ اور گاڑی اب سے آپ کے ھیں ، مزید آپ کے تمام اخراجات ھمارے ذِمہ ھوں گے..
فلسطینی اُستاد کی آنکھوں میں آنسو آتے ھیں اور کہتا ھے کہ یہ عالی شان بنگلہ یہ مہنگی گاڑی یہ تو بہت زیادہ ھے..
راجحی کہتا ھے اِس وقت آپ کی جو خوشی ھے اِس سے بڑھ کر میری خوشی کا عالم تھا جب آپ نے مجھے 1 ریال اِنعام دِیا تھا..
ایسے محسن شناس اِنسان کو اللہ ضائع نہیں کرتا..
سلیمان الراجحی نے 2010 میں اپنے بچوں ، بیگمات اور عزیز و اقارب کو بُلا کر اپنی دولت اُن سب میں تقسیم کر دی اور اپنے حِصے میں جو کچھ آیا وہ سب وقف کر دِیا..
اِس وقت سلیمان الراجحي کے وقف کی مالیت 60 ارب ریال سے زیادہ ھے..
یہ سعودی الوطنیہ کمپنی اور الراجحی بینک کے مالک ہیں، جنہوں نے کورونا وائرس کیلئے 170/ ملین ریال امداد کے طور پر دیا ہے، اور مکہ مکرمہ کے اندر دو ہوٹل وزارت صحت کے حوالے کردیا ہے۔
گنیز بک میں اب تک سب سے بڑے وقف کے طور پر یہ باغ ریکارڈ کے طور پر درج ہے۔۔
فوربس میگزین نے انہیں دنیا کے بیس عظیم فیاض لوگوں میں شمار کیا ہے۔ ان کی سوانح حیات پڑھنے کے لائق ہے۔ شاید سعودی عرب کا کوئی شہر ایسا نہیں ملے گا، جہاں الراجحی فیملی کی طرف سے مسجدیں نہ تعمیر کی گئی ہو، نیز دعوتی سینٹرز، مقراۃ قرانيۃ خیراتی جمعیت وغیرہ میں آپ کا بھر پور تعاون رہتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اپنے ملازمین کو ماہ ختم ہونے سے پہلے ان کی اجرت دے دیتے ہیں جن ملازمین کی تعداد ۱۵۰,۰۰۰ ڈیڑہ لاکھ سے ذیادہ ہے۔

اس عظیم ہستی کا انتقال ہوگیا ہے۔
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

Want your school to be the top-listed School/college in Birmingham?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Birmingham
B42IDE