خالص اور ملاوٹ شدہ دودھ کی جانچ کے طریقے
وطن عزیز میں دودھ عام استعمال کی غذا ہے۔ کروڑوں لوگ روزانہ اسے کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ملاوت شده دوده نه صرف مالی نقصان پہنچاتا بلکہ یہ مضر صحت بھی ہے۔ خوش قسمتی سے ملاوٹ شدہ دودھ میں کیمیکل اور دیگر ملاوٹی اشیا شناخت کرنے کی خاطر ٹیسٹ ایجاد ہو چکے ہیں۔ بعض ٹیسٹ گھر میں بھی کیےجا سکتے ہیں۔ ایسے ہی ٹیسٹوں کا بیان درج ذیل ہے۔
(1) پانی - - - یہ ملاولی شے انسانی صحت کے لیے تو خطرناک نہیں مگر جیب پر بار ضرور بنتی ہے۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ جاننے کے لیے اس کا ایک قطرہ کسی ڈھلواں چکنی سطح پر گرائیے۔ اگر قطرہ پیچھے سفید لکیر چھوڑنا بہہ جائے، تو یہ خالص دودھ کی نشانی ہے۔ اگر قطرہ کوئی سفید لکیر نہ چھوڑے، تو سمجھ جائیے، دودھ میں پانی ملا ہوا
(2) نشاستہ - - گوالے دودھ میں چکنائی کی مقدار بڑھانے کے لیے نشاستہ ملاتے ہیں۔ اس کی ملاوٹ جاننا آسان ہے۔ بس تھوڑے سے دودھ میں آئیوڈین محلول یا تنکچر کے چند قطرے ملائیے۔ تھوڑی دیر بعد دودھ نیلا ہوجائے، تواس میں نشاستے کی ملاوٹ ہے۔
(3) يوريا - - - یہ کھاد فصل کی پیداوار بڑھانی ہے، مگر لالچی گوالے اس سے دودھ گاڑھا کرنے کا کام انجام دیتے ہیں۔ یہ ملاوٹی دودھ کا عام جز ہے۔ اسے شناخت کرنے کی خاطر ایک چمچ دودھ کسی برتن میں ڈالیے۔ پھر اس برتن میں سویابین یا ارہر کی دال کا آدھی چمچی سفوف ڈال دیجیے۔ اب دونوں چیزوں کو اچھی طرح ملائیے۔ پانچ منٹ بعد اس آمیزے میں لتمس کاغذ ڈالیے۔ ڈیڑھ منٹ بعد کاغذ نکال لیجیے۔ اگر سرخ لٹمس پیپر نیلا ہو جائے، تو جان لیجیے،دودھ میں یوریا ملایا گیا ہے۔
(4) ڈیٹر جنت - - کپڑے دھونے کا پاؤڈر بھی ملاوٹی دودھ میں ملانا عام ہے۔ اس کی شناخت خاصی آسان ہے۔ بس ایک برتن میں دس ملی لیٹر دودھ لیجیے۔ پھر اس میں اتنا ہی پانی ملائیے۔ اب دونوں کو اچھی طرح ہلائیے۔ اگر دودھ
میں صابن سے بننے والی جھاگ پیدا ہو جائے تو اس میں ڈیٹرجنٹ ملایا گیا ہے۔
(5) مصنوعی دوده. غذا کے نام پر تیار ہونے والا یہ زہر پاکستان ہی نہیں بھارت بنگلہ دیش اور افغانستان میں بھی کروڑوں افراد کو پلایا جاتا ہے۔ اس دودھ کی خاص علامات یہ ہیں: چکھنے پر اس کا ذائقہ نہایت تلخ محسوس ہوتا ہے۔ جب اسے انگلیوں کے مابین مسلا جائے، تو صابن لگنے کی طرح چکناہٹ کا احساس ہوتا ہے۔ یہ دودھ گرم کیاجائے، تو ابلنے پر پیلا پڑجاتا ہے۔
نیل کے نیست عام طور پر لیبارٹری میں انجام دیے جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان ٹیسٹوں میں کیمیکل استعمال ہوتےہیں:
(1) بناسپتی گھی مصنوعی طور پر تیار کردہ یہ گھی مسلسل بڑی مقدار میں کھایا جائے تو انسان کو مختلف امراض کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ دودھ میں بناسپتی گھی کی ملاوٹ شناخت کرنے کے لیے 3 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالا جاتا ہے۔ پھر اس میں ہائیڈرو کلورک ایسڈ کے دس قطرے ملائے جاتے ہیں۔ بعد میں اس آمیزے میں چینی ملائی جاتی ہے۔ پانچ منٹ بعد آمیزے کا معائنہ ہوتا ہے۔ اگر آمیزہ سرخ رنگت اختیار کرلے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ دودھ میں بناسپتی گھی ملا ہوا ہے۔
(2) فارملین - - یہ کیمیکل دودھ کی عمر بڑھانے کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ مگر اس کا طویل استعمال انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ اس کیمیکل کی جانچ کی خاطر ٹیسٹ ٹیوب میں 10 ملی لیٹر دودھ ڈالا جاتا ہے۔ پھر اس میں 5 ملی لیتر گازها (Concentrated) گندھک کا تیزاب سلفیورک ایسڈ ملایا جاتا ہے۔ جس جگہ دودھ اور تیزاب کا ادغام ہوتا ہے،اگر وہاں جامنی یا نیلا حلقہ نمودار ہو جائے، تو یہ دودھ میں فارملین ملانے کی گواہی ہے۔
(3) ایمونیم سلفيت. دودھ میں یہ کیمیکل لیکلومیٹر ریڈنگ بڑھانے کے لیے ملاتے ہیں۔ اس کی شناخت کا طریق کار یہ ہے کہ 5 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں لیا جائے۔ پھر اس میں عموماً سڑک (Citric) ایسڈ ملایا جاتا ہے۔ کیمیائی رد عمل سے جھاگ جنم لیتا ہے جسے الگ کر لیا جاتا ہے۔ اس جھاگ کو نئی ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال کر اس میں 50 ملی لیٹر پانچ فیصد بيريم کلورائیڈ ملایا جاتا ہے۔ اگر جھاگ تلچھٹ میں بدل جائے تو یہ دودھ میں ایمونیم سلفیٹ موجود ہونے کی نشانی ہے۔
(4) نمک - - گوالوں کی اکثریت دودھ میں نمک بھی ملاتی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ لیکٹومیٹر ریڈنگ میں اضافہ ہوجائے۔ یاد رہے، لیکٹومیٹر دودھ کا خالص پن جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کم ریڈنگ دودھ کا ناخالص ہونا ظاہر کرتی ہے۔ دودھ میں نمک کی ملاوٹ جاننے کے لیے سلور نائٹریٹ کا 5 ملی لیٹر آمیزہ ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالا جاتا ہے۔ پھر اس میں پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ (Potassium dichromate) آمیزے کے دو تین قطرے ڈالے جاتے ہیں۔ پھر اس ٹیسٹ ٹیوب میں 7 ملی لیٹر دودھ ڈال کر سب چیزوں کو اچھی طرح ملایا جاتا ہے۔ اگر ٹیوب میں موجود آمیزہ پیلا ہوجائے تو مطلب یہ کہ اس میں نمک موجود ہے۔ اگر آمیزہ سرخی مائل گندمی یا چاکلیٹ جیسی رنگت اختیارکرے تو دودھ میں نمک شامل نہیں۔
(5) ہائیڈروجن پرآکسائیڈ یہ دودھ میں ملایا جانے والا عام کیمیکل ہے۔ یہ دودھ کی عمر بڑھانے میں مستعمل ہے۔ اسے دودھ میں دریافت کرنے کی خاطر 5 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں لیتے ہیں۔ پھر اس میں پیرا فینالینیڈائمین (paraphenylenediamine) کے تین قطرے ملاکر اچھی طرح ہلاتے ہیں تاکہ دونوں اشیا مل جائیں۔ اگر اس آمیزے کا
رنگ نیلا پڑجائے تو ثابت ہوجاتا ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ ملایا گیا ہے۔
اس کیمیکل کی جانچ کا ایک اور طریقہ بھی ہے۔ اسی طریقے میں ٹیوب میں 10 ملی لیٹر دودھ بھر کر اس میں و نادیم پینتو آکسائیڈ محلول کے دس پندرہ قطرے ڈال اچھی طرح مکس کیا جاتا ہے۔ اگر آمیزه سرخ یا گلابی رنگت کا ہو جائے
تو یہ دودھ میں ہائیڈروجن پر اکسائیڈ ڈالنے کی نشانی ہے۔
(6) چینی - - دودھ میں شکر کی ایک قسم لیکٹوز، قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔ ملاوٹ شدہ اور مصنوعی دوده کو میٹھا اور گاڑھا کرنے کی خاطر اس میں چینی ڈالی جاتی ہے۔ چینی ڈالنے سے لیکٹو میٹر کی ریڈنگ بھی بڑھ جاتیہے۔ دودھ میں چینی کی ملاوٹ پانے کے لیے ٹیسٹ ٹیوب میں 3 ملی لیٹر دودھ ڈالیے۔ اس میں 2 ملی لیٹر ہائیڈروکلورک ایسڈ ڈالیے۔ پھر ٹیوب میں 50 ملی گرام ریسورسينول (resorcinol) ڈال کر ٹیوب کو گرم کیجیے۔ اس کے اندر موجود آمیزه سرخ ہو جائے، تو دودھ میں چینی ملی ہے۔
(7) سوڈیم بائی کاربونیٹ یہ کیمیکل دودھ کو گاڑھا بناتا ہے۔ اس کی شناخت کے لیے 3 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالتے ہیں۔ پھر اس میں 5 ملی لیٹر ریکٹیفائڈ اسپرٹ (Rectified spirit) ملاتے ہیں۔ آخر میں روزلک ایسڈ کے چار قطرے ملائے جاتے ہیں۔ پھر یہ آمیزہ اچھی طرح ہلایا جاتا ہے۔ آمیزے کی رنگت سرخ ہو جائے، تو یہ دودھ میں سوڈیم بائی کاربونیٹ موجود ہونے کا سگنل ہے۔
(8) بورک ایسڈ یہ تیزاب بھی دودھ میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ تادیر محفوظ رہ سکے۔ اس کی تشخیص کا طریق کار یہ ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب میں 3 ملی لیٹر دودھ ملاتے ہیں۔ پھر اس میں ہائڈروکلورک ایسڈ کے 20 قطرے ملاتے اور اچھی طرح حل کرتے ہیں۔ پھر اس میں پیلے کاغذ کی پٹی (yellow paper strip) ڈبونے ہیں۔ اگر پیلا رنگ سرخ ہو جائے تو دودھ میں بورک ایسڈ ملا ہوا ہے۔
Greenistan
Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Greenistan, Centre de recherche en pédagogie, Paris.
سب سے زیادہ آکسیجن فراہم کرنے والے درختوں میں چند اہم درخت یہ ہیں:
1. **پیپل (Ficus religiosa):** پیپل کا درخت سب سے زیادہ آکسیجن فراہم کرتا ہے اور 24 گھنٹے آکسیجن پیدا کرتا ہے۔
2. **نیم (Azadirachta indica):** نیم کا درخت بھی بہت زیادہ آکسیجن فراہم کرتا ہے اور ہوا کو صاف کرنے میں مددگار ہے۔
3. **برگد (Ficus benghalensis):** برگد کا درخت بھی بڑی مقدار میں آکسیجن پیدا کرتا ہے اور بہت گھنا سایہ فراہم کرتا ہے۔
4. **شیشم (Dalbergia sissoo):** یہ درخت بھی آکسیجن کی پیداوار میں مؤثر ہے اور مٹی کی زرخیزی کو بہتر بناتا ہے۔
یہ درخت نہ صرف زیادہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں بلکہ ہوا کو صاف کرنے، ماحول کو بہتر بنانے اور سایہ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان درختوں کو لگانا اور محفوظ رکھنا ہمارے ماحول اور صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
تلاوت قرآن پاک ❤️💕
پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر رحمن انور سید بین الاقوامی شہرت رکھنے والے ماہر علم الحشرات تھے۔*
آپ اپنی مشہور تحقیق "آئل پام کی حیاتیاتی طریقہ سے پولینیشن" کے باعث دنیا میں جانے جاتے ہیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد کامن ویلتھ انسٹیٹیوٹ فار بایولاجیکل کنٹرول کی جانب سے آپ کو ملائشیا میں تعینات کیا گیا جہاں یونی لیور کے چیئرمین نے آپ کی خدمات مستعار لیں اور درخواست کی کہ آپ آئل پام کی پولینیشن کا کوئی حیاتیاتی طریقہ وضع کریں۔
آئل پام صنعتی اعتبار سے انتہائی اہم پودا ہے۔ اسی سے پام آئل حاصل کیا جاتا ہے. مگر اس وقت تک اس پودے کی پولینیشن قدرتی طور پر ہوا سے ہوتی تھی یا پھر ہاتھوں سے کی جاتی تھی جو کہ سست اور مہنگا عمل تھا۔
ڈاکٹر رحمن انور نے دریافت کیا کہ کیمرون(افریقہ) میں ایک طرح کا وی ول (بیٹل) ہے جو وہاں موجود آئل پام پودوں کی قدرتی طور پر پولینیشن کرتا ہے۔ اس سے پہلے دنیا آئل پام کی اس طریقہ سے پولینیشن کے متعلق نہیں جانتی تھی۔
1979 میں آپ نے اپنی تحقیق بین الاقوامی جریدے بلیٹن آف اینٹامالیجیکل ریسرچ میں شائع کروائی۔
آپ کے مشورہ پر افریقہ سے آئل پام وی ول ملائشیا درآمد کیے گئے اور وی ول کے ذریعے سے آئل پام پودوں کی پولینیشن کروائی گئی۔ پہلے ہی سال ملائشیا میں آئل پام کی پیداوار میں 370 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ملائشیا کی معیشت کو بہتر بنانے کے صلہ میں ملائشیا کی حکومت نے آپ کو اپنے اعلی ترین خطاب "داتوک" سے نوازا۔
آج پوری دنیا میں آئل پام پودوں کی پولینیشن اسی طریقہ سے کی جاتی ہے۔
1cm = 10mm
1mitre = 100cm
1Km = 1000mitres
1kg = 1000grams
1gram= 1000milligram(mg)
1Quintal = 100Kg
1Metric ton = 1000Kg
1Pound = 454gm
1litre = 1000ml
1kilo litre=1000litres
1Gallon = 3.79litres
1Barrel oil= 163.65litres
1cusec = 1 cubic feet of water flows through a point in one second( this measure used only for flowing water)
1TMC = 100 crore cubic feet water(this measure used only for reserved water)
1 inch = 2.54cm
1 feet =12 inch= 30.48cm
1Yard(????)= 3feet
1mile = 1.609 km
1Natical mile=1.852km
1 cent= 435.6 sq feet
1acre = 100 cents
1Hectare = 2.471 acres
1kilo byte(KB)=1024bytes
1Megabyte(MB)=1024KB
1Gigabyte(GB)=1024MB
1Terabyte(TB)=1024GB
1Million=10 Lakhs
1Billion=1000 Million= 100 crore
1 Trillion= 1000 Billion=1Lakh crore
1 Karat = 4.16 '/. gold
24 karat gold=99.5 '/. gold(pure gold)
22 karat gold= 91.6 '/. gold + 8.4 '/. other metal Normally this 22 Karat gold is called as 916, KDM, HALL MARK
18 Karat gold=75 '/. gold+25 '/. other metal
12 karat gold = 50 '/. gold+ 50 '/. other metal
1 Ream = 500 papers
1gross = 12 dozens = 144 articles
# Important # Information # to # be # kept
# for # Record .:
1 Gunta = 121 Sq yards.
1 Gunta = 101.171 Sq Meter.
1 Gaj = 1 Yard
1 Yard = 36 inch
1 Yard = 3 feet
1 Yard = 0.9144 meter =
1 mtr.
1 sq Yard = 0.83612 Sq meter.
1 sq Yard = 9 sq feet.
1 Sq yard = 1296 Sq inch.
1 Meter = 1.0936 Yards.
1 Meter = 39.370 inch.
1 Meter = 3.280 feet.
1 Sq meter = 1.1959 Sq yard.
1 Sq meter = 1550 Sq inch.
1 Sq Meter = 10.763 Sq feet.
1 feet = 0.304 meter.
1 feet = 0.333 yards.
1 feet =12 inch
1 Sq feet = 0.111 Sq Yard.
1 Sq feet = 0.09290 Sq Meter.
1 Sq feet = 144 Sq inch.
1 inch = 2.54 vv
1 Inch = 0.0254 meter.
1 Inch = 0.0277 yards.
1 Inch = 0.0833 feet.
1 Sq Inch = 0.00064516 Sq Meter.
1 Sq Inch = 0.00077160 Sq Yards.
1 Sq Inch = 0.00694444 Sq feet.
1 Acre = 4046.86 Sq Meter.
1 Acre = 4840 Sq yards.
1 Acre = 43560 Sq feet
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.
Emplacement
équipe culinaire
Tenue
Site Web
Adresse
Paris