21/08/2024
خالص اور ملاوٹ شدہ دودھ کی جانچ کے طریقے
وطن عزیز میں دودھ عام استعمال کی غذا ہے۔ کروڑوں لوگ روزانہ اسے کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ملاوت شده دوده نه صرف مالی نقصان پہنچاتا بلکہ یہ مضر صحت بھی ہے۔ خوش قسمتی سے ملاوٹ شدہ دودھ میں کیمیکل اور دیگر ملاوٹی اشیا شناخت کرنے کی خاطر ٹیسٹ ایجاد ہو چکے ہیں۔ بعض ٹیسٹ گھر میں بھی کیےجا سکتے ہیں۔ ایسے ہی ٹیسٹوں کا بیان درج ذیل ہے۔
(1) پانی - - - یہ ملاولی شے انسانی صحت کے لیے تو خطرناک نہیں مگر جیب پر بار ضرور بنتی ہے۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ جاننے کے لیے اس کا ایک قطرہ کسی ڈھلواں چکنی سطح پر گرائیے۔ اگر قطرہ پیچھے سفید لکیر چھوڑنا بہہ جائے، تو یہ خالص دودھ کی نشانی ہے۔ اگر قطرہ کوئی سفید لکیر نہ چھوڑے، تو سمجھ جائیے، دودھ میں پانی ملا ہوا
(2) نشاستہ - - گوالے دودھ میں چکنائی کی مقدار بڑھانے کے لیے نشاستہ ملاتے ہیں۔ اس کی ملاوٹ جاننا آسان ہے۔ بس تھوڑے سے دودھ میں آئیوڈین محلول یا تنکچر کے چند قطرے ملائیے۔ تھوڑی دیر بعد دودھ نیلا ہوجائے، تواس میں نشاستے کی ملاوٹ ہے۔
(3) يوريا - - - یہ کھاد فصل کی پیداوار بڑھانی ہے، مگر لالچی گوالے اس سے دودھ گاڑھا کرنے کا کام انجام دیتے ہیں۔ یہ ملاوٹی دودھ کا عام جز ہے۔ اسے شناخت کرنے کی خاطر ایک چمچ دودھ کسی برتن میں ڈالیے۔ پھر اس برتن میں سویابین یا ارہر کی دال کا آدھی چمچی سفوف ڈال دیجیے۔ اب دونوں چیزوں کو اچھی طرح ملائیے۔ پانچ منٹ بعد اس آمیزے میں لتمس کاغذ ڈالیے۔ ڈیڑھ منٹ بعد کاغذ نکال لیجیے۔ اگر سرخ لٹمس پیپر نیلا ہو جائے، تو جان لیجیے،دودھ میں یوریا ملایا گیا ہے۔
(4) ڈیٹر جنت - - کپڑے دھونے کا پاؤڈر بھی ملاوٹی دودھ میں ملانا عام ہے۔ اس کی شناخت خاصی آسان ہے۔ بس ایک برتن میں دس ملی لیٹر دودھ لیجیے۔ پھر اس میں اتنا ہی پانی ملائیے۔ اب دونوں کو اچھی طرح ہلائیے۔ اگر دودھ
میں صابن سے بننے والی جھاگ پیدا ہو جائے تو اس میں ڈیٹرجنٹ ملایا گیا ہے۔
(5) مصنوعی دوده. غذا کے نام پر تیار ہونے والا یہ زہر پاکستان ہی نہیں بھارت بنگلہ دیش اور افغانستان میں بھی کروڑوں افراد کو پلایا جاتا ہے۔ اس دودھ کی خاص علامات یہ ہیں: چکھنے پر اس کا ذائقہ نہایت تلخ محسوس ہوتا ہے۔ جب اسے انگلیوں کے مابین مسلا جائے، تو صابن لگنے کی طرح چکناہٹ کا احساس ہوتا ہے۔ یہ دودھ گرم کیاجائے، تو ابلنے پر پیلا پڑجاتا ہے۔
نیل کے نیست عام طور پر لیبارٹری میں انجام دیے جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان ٹیسٹوں میں کیمیکل استعمال ہوتےہیں:
(1) بناسپتی گھی مصنوعی طور پر تیار کردہ یہ گھی مسلسل بڑی مقدار میں کھایا جائے تو انسان کو مختلف امراض کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ دودھ میں بناسپتی گھی کی ملاوٹ شناخت کرنے کے لیے 3 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالا جاتا ہے۔ پھر اس میں ہائیڈرو کلورک ایسڈ کے دس قطرے ملائے جاتے ہیں۔ بعد میں اس آمیزے میں چینی ملائی جاتی ہے۔ پانچ منٹ بعد آمیزے کا معائنہ ہوتا ہے۔ اگر آمیزہ سرخ رنگت اختیار کرلے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ دودھ میں بناسپتی گھی ملا ہوا ہے۔
(2) فارملین - - یہ کیمیکل دودھ کی عمر بڑھانے کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ مگر اس کا طویل استعمال انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ اس کیمیکل کی جانچ کی خاطر ٹیسٹ ٹیوب میں 10 ملی لیٹر دودھ ڈالا جاتا ہے۔ پھر اس میں 5 ملی لیتر گازها (Concentrated) گندھک کا تیزاب سلفیورک ایسڈ ملایا جاتا ہے۔ جس جگہ دودھ اور تیزاب کا ادغام ہوتا ہے،اگر وہاں جامنی یا نیلا حلقہ نمودار ہو جائے، تو یہ دودھ میں فارملین ملانے کی گواہی ہے۔
(3) ایمونیم سلفيت. دودھ میں یہ کیمیکل لیکلومیٹر ریڈنگ بڑھانے کے لیے ملاتے ہیں۔ اس کی شناخت کا طریق کار یہ ہے کہ 5 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں لیا جائے۔ پھر اس میں عموماً سڑک (Citric) ایسڈ ملایا جاتا ہے۔ کیمیائی رد عمل سے جھاگ جنم لیتا ہے جسے الگ کر لیا جاتا ہے۔ اس جھاگ کو نئی ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال کر اس میں 50 ملی لیٹر پانچ فیصد بيريم کلورائیڈ ملایا جاتا ہے۔ اگر جھاگ تلچھٹ میں بدل جائے تو یہ دودھ میں ایمونیم سلفیٹ موجود ہونے کی نشانی ہے۔
(4) نمک - - گوالوں کی اکثریت دودھ میں نمک بھی ملاتی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ لیکٹومیٹر ریڈنگ میں اضافہ ہوجائے۔ یاد رہے، لیکٹومیٹر دودھ کا خالص پن جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کم ریڈنگ دودھ کا ناخالص ہونا ظاہر کرتی ہے۔ دودھ میں نمک کی ملاوٹ جاننے کے لیے سلور نائٹریٹ کا 5 ملی لیٹر آمیزہ ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالا جاتا ہے۔ پھر اس میں پوٹاشیم ڈائی کرومیٹ (Potassium dichromate) آمیزے کے دو تین قطرے ڈالے جاتے ہیں۔ پھر اس ٹیسٹ ٹیوب میں 7 ملی لیٹر دودھ ڈال کر سب چیزوں کو اچھی طرح ملایا جاتا ہے۔ اگر ٹیوب میں موجود آمیزہ پیلا ہوجائے تو مطلب یہ کہ اس میں نمک موجود ہے۔ اگر آمیزہ سرخی مائل گندمی یا چاکلیٹ جیسی رنگت اختیارکرے تو دودھ میں نمک شامل نہیں۔
(5) ہائیڈروجن پرآکسائیڈ یہ دودھ میں ملایا جانے والا عام کیمیکل ہے۔ یہ دودھ کی عمر بڑھانے میں مستعمل ہے۔ اسے دودھ میں دریافت کرنے کی خاطر 5 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں لیتے ہیں۔ پھر اس میں پیرا فینالینیڈائمین (paraphenylenediamine) کے تین قطرے ملاکر اچھی طرح ہلاتے ہیں تاکہ دونوں اشیا مل جائیں۔ اگر اس آمیزے کا
رنگ نیلا پڑجائے تو ثابت ہوجاتا ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ ملایا گیا ہے۔
اس کیمیکل کی جانچ کا ایک اور طریقہ بھی ہے۔ اسی طریقے میں ٹیوب میں 10 ملی لیٹر دودھ بھر کر اس میں و نادیم پینتو آکسائیڈ محلول کے دس پندرہ قطرے ڈال اچھی طرح مکس کیا جاتا ہے۔ اگر آمیزه سرخ یا گلابی رنگت کا ہو جائے
تو یہ دودھ میں ہائیڈروجن پر اکسائیڈ ڈالنے کی نشانی ہے۔
(6) چینی - - دودھ میں شکر کی ایک قسم لیکٹوز، قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔ ملاوٹ شدہ اور مصنوعی دوده کو میٹھا اور گاڑھا کرنے کی خاطر اس میں چینی ڈالی جاتی ہے۔ چینی ڈالنے سے لیکٹو میٹر کی ریڈنگ بھی بڑھ جاتیہے۔ دودھ میں چینی کی ملاوٹ پانے کے لیے ٹیسٹ ٹیوب میں 3 ملی لیٹر دودھ ڈالیے۔ اس میں 2 ملی لیٹر ہائیڈروکلورک ایسڈ ڈالیے۔ پھر ٹیوب میں 50 ملی گرام ریسورسينول (resorcinol) ڈال کر ٹیوب کو گرم کیجیے۔ اس کے اندر موجود آمیزه سرخ ہو جائے، تو دودھ میں چینی ملی ہے۔
(7) سوڈیم بائی کاربونیٹ یہ کیمیکل دودھ کو گاڑھا بناتا ہے۔ اس کی شناخت کے لیے 3 ملی لیٹر دودھ ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالتے ہیں۔ پھر اس میں 5 ملی لیٹر ریکٹیفائڈ اسپرٹ (Rectified spirit) ملاتے ہیں۔ آخر میں روزلک ایسڈ کے چار قطرے ملائے جاتے ہیں۔ پھر یہ آمیزہ اچھی طرح ہلایا جاتا ہے۔ آمیزے کی رنگت سرخ ہو جائے، تو یہ دودھ میں سوڈیم بائی کاربونیٹ موجود ہونے کا سگنل ہے۔
(8) بورک ایسڈ یہ تیزاب بھی دودھ میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ تادیر محفوظ رہ سکے۔ اس کی تشخیص کا طریق کار یہ ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب میں 3 ملی لیٹر دودھ ملاتے ہیں۔ پھر اس میں ہائڈروکلورک ایسڈ کے 20 قطرے ملاتے اور اچھی طرح حل کرتے ہیں۔ پھر اس میں پیلے کاغذ کی پٹی (yellow paper strip) ڈبونے ہیں۔ اگر پیلا رنگ سرخ ہو جائے تو دودھ میں بورک ایسڈ ملا ہوا ہے۔