06/06/2026
کوفہ کی ایک عورت عمر بن عبدالعزیز کے پاس اپنی حالت بیان کرنے آئی اور عرض کیا:
“اے امیرالمؤمنین! میں اور میری بیٹیاں اُن اموال میں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں جو لوگوں میں تقسیم کیے گئے، نہ تھوڑا نہ زیادہ۔”
عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس سے وجہ پوچھی کہ اسے اس کے حق سے کیوں محروم رکھا گیا۔ عورت نے بتایا کہ مقامی ذمہ داران اور اہلِ انتظامیہ نے اس کا معاملہ آگے نہیں بڑھایا اور نہ ہی اسے اُن لوگوں میں شامل کیا گیا جو امداد یا وظیفے کے مستحق تھے۔
اس پر عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا:
“شام کے وقت دوبارہ میرے پاس آنا، میں تمہارے لیے ایک خط لکھ دوں گا تاکہ تمہیں انصاف ملے اور تمہارا حق تم تک پہنچ جائے۔”
پھر کچھ لمحے خاموش رہے اور فرمایا:
“نہیں، تم ابھی ٹھہرو… کیا معلوم میں شام تک زندہ رہوں یا نہ رہوں۔”
یہ کہہ کر انہوں نے عورت کو اپنی زوجہ فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس بھیج دیا تاکہ اس کے معاملے کو فوراً دیکھا جائے اور اسے مؤخر نہ کیا جائے، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ کہیں موت آ جائے اور وہ اس عورت کی ضرورت پوری نہ کر سکیں۔
جب عورت فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس پہنچی تو اس کی نظر عمر بن عبدالعزیزؒ پر پڑی۔ اس نے دیکھا کہ وہ خود اپنے وضو کے لیے پانی انڈیل رہے ہیں اور اپنی ضرورت اپنے ہاتھ سے پوری کر رہے ہیں، کوئی خادم اس کام پر مامور نہیں۔
فاطمہ بنت عبدالملک گھر میں تھیں اور سر کھلا ہوا تھا۔ عورت نے حیرت سے کہا:
“کیا آپ پردہ نہیں کرتیں؟ یہ شخص آپ کو اس حالت میں دیکھ رہا ہے!”
فاطمہؓ نے مسکرا کر کہا:
“کیا تم جانتی نہیں یہ کون ہیں؟
یہ میرے شوہر، امیرالمؤمنین عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے کام خود کرتے ہیں، وضو کا پانی خود انڈیلتے ہیں۔ نہ خلافت نے انہیں غرور دیا اور نہ حکومت نے انہیں عاجزانہ زندگی سے روکا۔”
اس کے بعد عمر بن عبدالعزیزؒ نے عورت کو بلایا اور اس کے حق میں ایک خط لکھ دیا، جس میں حکم دیا گیا کہ اسے انصاف دیا جائے اور اس کا وہ حق واپس کیا جائے جس سے اسے محروم رکھا گیا تھا۔
نوٹ: مآخذ کمنٹس میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔ شکریہ
یوم السبت :6/6/26.. اسلام آباد ۔