31/03/2026
صحرا میں لوگ اپنے اردگرد دائرہ اس لیے بناتے ہیں تاکہ سوتے وقت سانپوں، بچھوؤں اور دوسرے خطرناک کیڑوں سے حفاظت ہو سکے۔ صحرائی روایات کے مطابق زیادہ تر کیڑے سیدھا چلتے ہیں اور ریت کی تازہ لکیروں یا اونچی ہوئی ریت کو کراس کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ دائرہ ایک قدرتی رکاوٹ کا کام کرتا ہے اور سوتے ہوئے انسان کے قریب آنے کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ مکمل سائنسی گارنٹی نہیں ہے، لیکن صحرائی قبائل صدیوں سے اس طریقے کو حفاظتی تدبیر کے طور پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔
27/01/2026
وہ اپنے ڈیتھ سیل میں تھا ، اس کی پھانسی سے چند گھنٹے قبل، اس سے پوچھا گیا کہ اس کی آخری خواہش کیا ہے۔ اس نے ایک قلم اور کاغذ مانگا، چند منٹ تک لکھا، اور پھر کہا کہ اس کا پیغام اس کی ماں کو دیا جائے۔ اس نے لکھا تھا:
امی، میں سوچتا ہوں کہ اگر دنیا میں تھوڑا بہت انصاف ہوتا، تو آپ بھی میرے ساتھ پھانسی پر چڑھتی... آپ بھی میری طرح اس زندگی کے لیے مجرم ہیں جو میں نے گزاری ہے!
امی، کیا آپ کو یاد ہے جب میں وہ سائیکل لایا تھا جو میں نے کسی اور بچے سے چرائی تھی؟ آپ نے مجھے اسے چھپانے میں مدد کی تاکہ میں پکڑا نہ جاؤں... اور جب میں پڑوسیوں کے بٹوے سے پیسے چراتا تھا؟ آپ اس سے خریداری کرتی تھیں، مجھے کبھی یہ نہیں بتایا کہ یہ غلط ہے...
جب ٹیچر نے مجھے کلاس سے نکال دیا تھا غفلت اور مشکلات کی وجہ سے، آپ نے کبھی مجھے سمجھنے یا مدد کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ آپ نے اسے ٹیچر کو ہی ڈانٹا، بغیر سوچے کہ میں غلط تھا...
جب میں دیر سے گھر آتا تھا اور اسکول جانا بند کر دیا تھا، آپ نے مجھ سے کبھی کوئی سوال نہیں پوچھا... میں ایک بچہ تھا، پھر نوجوان، اور اب ایک ٹوٹا ہوا آدم ہوں۔ مجھے باپ کی موت کے بعد صحیح راہ پر لانے کی ضرورت تھی، نہ کہ اندھی حمایت کی۔
امی، آپ کے پیارے بیٹے کو آپ نے یہ سکھانا تھا کہ اپنی غلطیوں کو درست کرے تاکہ وہ سیدھے راستے پر چل سکے، نہ کہ مجھے مجرم بننے کی ترغیب دیں۔ آپ نے ہمیشہ کہا، "جو چاہو کرو، تم میرے بیٹے ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔" ہاں، آپ میرے غلط کاموں میں ساتھ تھیں...۔
آج، میں آپ کو معاف کرتا ہوں... لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ پیغام دنیا کے تمام والدین تک پہنچائیں، تاکہ وہ جانتے ہوں کہ وہ ہی ذمہ دار ہیں ایک عزت دار انسان یا ایک مجرم پیدا کرنے کے لیے۔
شکریہ، امی، مجھے زندگی دینے کے لیے... اور شکریہ اس زندگی کو ضائع کرنے میں مدد دینے کے لیے بھی۔
آپ کا بیٹا، مجرم
23/01/2026
Usman ki kahani Us k Bhai ki zubani😭
اسلام علیکم!
میرا چھوٹا بھائی محمد عثمان جسکی عمر 16 سے 17 سال کی ہے۔ سکول جاتے ہوئے کوہستان لور بنکڈ کے مقام پر جمعے کے دن صبح 8 بجے موٹر سائیکل پہ آکسیڈنٹ ہوا تھا ، آکسیڈنٹ میں اسکا صرف بایاں بازو ٹوٹ گیا تھا ،اس کو میں اپنے ساتھ لے کہ بشام گیا تھا لیکن وہاں پہ ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے میں اسے اپنے ساتھ لے کہ الپوری میں ( منصورڈاکٹرز ہسپتال ) میں نورلاسلام کے پاس گیا اس نے مجھے میرے بھائی کے ہاتھ کے ایکسرے بنانے کا بولا میں نے ایکسرے بنا کہ ڈاکٹر نورلاسلام کو دیکھاے ایکسرے دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ اس کے بازو کی سرجری کرنی پڑھے گی آپ اس کو ہمارے پاس اڈمیڈ کریں ہم سرجری کریں گے میں نے (منصورڈاکٹرز ہسپتال) میں ڈاکٹر نورلاسلام کے پاس اپنے بھائی کو اڈمیڈ کیا۔ اس نے مجھے کہا کہ میں آپ کے بھائی کی بازو کی سرجری صحت کارڈ پہ کرونگا ، میں نے اپنے ابو کو بھی ہسپتال بلوایا وہ بھی آئے اس ڈاکٹر نے صرف ایک ٹیسٹ کیا بلڈ کا باقی کوئی ٹیسٹ نہیں کیئے ۔اور دن کو 5 بجے میرے بھائی کو آپریشن تھیٹر میں لینے آئے تو میرے بھائی خود اپنا کوٹ اور جوتے نکال کے مجھے دیا اور میرے ابو اور مجھے بولا کہ اپ لوگ پریشان نہ ہوں میرے بازو کی چھوٹی سی سرجری ہے میں بھی کچھ دیر میں اپ لوگوں کے پاس آؤنگا یہ کہنے کے بعد وہ خود چل کے آپریشن تھیٹر میں چلا گیا۔5 بجے آپریشن تھیٹر میں جانے کے بعد 2 گھنٹے اندر سے کوئی خبر نہیں آئی تو میں بہت پریشان ہوا اور میرا ابو بھی بہت پریشان ہوئے اور ہم آپریشن تھیٹر کے سامنے بیٹھ کر روتے رہے میرا بھائی محمد عثمان کو آپریشن تھیٹر میں لے جانے کے بعد 12 سے 15 اور مریض آپریشن تھیٹر میں سے فارغ ہو کہ آرہے تھے لیکن میرے بھائی محمد عثمان کو نہیں لایا گیا مسلسل 3 گھنٹے انتظار کے بعد مجھ سے برداشت نہیں ہوا اور میں خود چل کے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوا میں نے شیشے میں دیکھا میرا بھائی محمد عثمان بیڈ پہ پڑا ہوا تھا اور چار ڈاکٹر میرے بھائی کے پاس موجود تھے میں نے روتے ہوئے اپنے بھائی کے پاس جانے کی کوشیش کی لیکن دو نرس آئے اور مجھے پکڑ کر باہر نکالا ۔ مجھے باہر نکالنے کے بعد بھی 4 گھنٹے مزید انتظار کرایا ۔ رات کو 11 بجے ڈاکٹر نے مجھے اور میرے بھائی کو میٹنگ روم میں بلایا اور کہا گیا کہ ہم آپ کی بھائی کی سرجری کر رہے تھے اور اس کو اچانک (cardiac arrest) ہوا ہے ۔لیکن اپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ ڈاکٹر علاج کر رہے ہیں محمد عثمان بلکل ٹھیک ہو جائے گا اپ لوگ انتظار کریں ۔ لیکن وہاں پہ کوئی( ICU Ward) بھی نہیں تھا اس کے باوجود میرے بھائی کو وہاں روکا گیا ۔اپریشن سے پہلے ہوئی سی ٹی سکین ، یا چیسٹ ایکسرا بھی نہیں کیا گیا جو کہ کسی بھی طرح کے آکسیڈنٹ والے مریضوں کیلئے لازمی سے کیا جاتا ہے ، اور اس کے بعد میں نے کہا کہ میں اپنے بھائی سے ملنا چاہتا ہوں لیکن مجھے ملنے نہیں دیا گیا اور رات کو 1 بجے کے ٹائم ان لوگوں نے ایمبولینس منگوائی اور میرے بھائی محمد عثمان کو (لقمان ہسپتال سوات) شفٹ کیا ۔ وہاں پہ میرے بھائی محمد عثمان کو وینٹی لیٹر پہ رکھ کہ پھر ہمیں ملنے کی اجازت دی گئی ۔ (لقمان ہسپتال سوات) میں ہم نے 3 دن تک اپنے بھائی محمد عثمان کا انتظار کیا کہ ہمارا بھائی ٹھیک ہو جائے گا اور ہم اس کو لے کہ واپس جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ، وہاں کے ڈاکٹروں نے ہمیں بلایا اور کہا کہ اپ لوگ ہمیں اجازت دیں تاکہ ہم آپ لوگوں مریض فارغ کریں اور اپ لوگ اس کو گھر لے کہ جائیں ہم نے کہا کیا ہمارا مریض ٹھیک ہو گیا جو ہم گھر لے کہ جائیں تو ڈاکٹر نے کہا کہ مردہ کبھی ٹھیک نہیں ہوتا جس ٹائم آپ لوگ محمد عثمان کو لے کہ آئے تھے اس ٹائم یہ اس دُنیا سے رخصت ہو گیا تھا ۔ لیکن ہم نے صرف آپ لوگوں کیلئے وینٹی لیٹر پہ رکھا تھا ۔ آپ اسے اگر ایک سال تک بھی وینٹی لیٹر پہ رکھیں گے تو پھر بھی یہ اسی طرح آپ لوگوں کو ذندہ لگے گا کیوں کہ یہ اس مشین کی وجہ سے ایسا دکھتا ہے جیسے وہ سانس لے رہا ہو لیکن حقیقت میں محمد عثمان مر چکا ہے۔
تو میری التجاء یہ ہے کہ جب محمد عثمان کو الپوری میں (منصورڈاکٹرز ہسپتال) میں جب cardiac arrest ہوا تھا اسی وقت وہ مر چکا تھا پھر بھی ڈاکٹر نورلاسلام نے ہمارے مرے ہوے بھائی کی لاش کا مزاق اڑایا اس مردے کو 3 دن تک اور ہسپتال میں رکھا اس ڈاکٹر نورلاسلام نے ہمارے ساتھ بہت ظلم کیا جو قابل برداشت نہیں ہے ۔ 3 دن کے بعد ہم لاش لے کہ واپس آتے ہوے الپوری کے تھانے چلے گئے FIR کاٹنے تو وہاں کے SHO صاحب نے ہمیں پوسٹمارٹم کرنے کا کہا تو ہم الپوری کے سرکاری ہسپتال میں پوسٹمارٹم کیلئے گئے وہاں کے ڈاکٹروں نے ہمیں کہا کہ ابھی کرتے ہیں لیکن اسی دوران ڈاکٹر کو کسی کی کال آئی اور کال اٹھا کہ بات کیا کسی سے اور پھر ڈاکٹر نے ہمیں کہا کہ ہم اس کا پوسٹمارٹم نہیں کر سکتے یہاں پہ آپ اس کو کہیں اور لے کہ جائیں سخت سردی اور تیز بارش اور برفباری بھی ہو رہی تھی ہم نہیں وہاں پہ 8 گھنٹے اور انتظار گیا اور ان ڈاکٹروں نے پھر پوسٹمارٹم کیا ۔ میرے بھائی کی موت کی وجہ انستھیزیا زیادہ دینے کی وجہ سے اسے cardiac arrest ہوا اور اس کی وجہ سے میرے بھائی کا برین ڈیتھ ہو ۔ لیکن میرے بھائی کی لاش کو نورلاسلام ڈاکٹر نے 3 دن تک لقمان ہسپتال سوات میں رکھا ہمارے ساتھ دھوکہ کیا کہ یہ ذندہ ہے ۔
میری یہی خواہش ہے کہ ڈاکٹر نورلاسلام کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ کسی اور ماں کے لال کی زندگی سے نا کھیلا جائے
شکریہ
19/01/2026
ان موصوف کا نام وغیرہ پیر سید نوید الحسن شاہ کاظمی مشہدی المعروف بڑے پیر صاحب ہے ۔
یہ گدی نشین ہیں مزار حضرت بابا لعل شاہ قلندر کاظمی مشہدی بیابانی سرکار سوراسی سیداں گلہڑا گلی مری کے۔
ان موصوف کی کرامات اور کرتوت پر ہم پوسٹ کے آخر میں بات کریں گے پہلے بابا لعل شاہ قلندر سے آپ کو ملاتے ہیں۔
لعل شاہ قلندر عام اور ٹھیک ٹھاک انسان تھے،کھیتوں میں کام کرتے،جانور پالتے،کھیتی باڑی کرتے تھے 43 سال کی عمر میں انہیں لگا کہ وہ خاص ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے گاؤں کے جنوب میں واقع منگل نامی جنگل میں دو سال کا چلہ کاٹ لیا،منگل کے جنگل سے واپسی پر لعل شاہ منگل پانڈے بن چکے تھے ان میں ایسی طاقت آئی تھی کہ سردی گرمی کی شدت بھی ان پر اثر نہیں کرتی تھی،چنانچہ بابا لباس سے بھی بے نیاز ہوگئے،ننگے پنگے آلتی پالتی مارے پڑے رہتے،ملک کے دو صدر ایوب خان اور ضیاء الحق بھی انکی زندگی میں ان سے ملنے مری چلے گئے،لعل شاہ قلندر کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک چھڑی ہوتی تھی اور منہ میں گندی گالیاں جس نے بابا جی سے چھڑی یا گالی کھائی اس کا فیوچر بن گیا،یہ ماننا تھا مریدوں کا،مری میں لگے چیئر لفٹ بھی بابا جی کے مریدوں کی نظر میں بابا جی کی کرامات میں سے ہیں ،بابا جی کے دنیا سے جانے کے بعد ان کا مزار بنایا گیا،منفعت بخش مزار ،دنیا بھر سے زائرین یہاں آتے ہیں،مہینوں خیمے لگتے ہیں،چندے نذرانے جمع ہوتے ہیں۔
ان چندوں اور نذرانوں پر جو موصوف ہاتھ صاف کرتے ہیں ان کا نام نامی اسم گرامی حضرت پیر سید نوید الحسن شاہ کاظمی بیابانی میدانی سرکار ہے۔
یہ موصوف اپنے مریدوں کے چندوں پر ہی ڈاکہ نہیں ڈالتے بلکہ اپنی مریدنیوں کی عزتوں کو بھی تار تار کرنے کی شہرت رکھتے ہیں ۔
یہ جب دم والی شراب پی کر مست ہوتے ہیں مریدنیوں کے جلوے میں خوب ٹھمکے لگاتے ہیں اور گلچھڑے اڑاتے ہیں(ویڈیوز موجود ہیں)۔
جو مریدنی انہیں اچھی لگتی ہے موصوف انہیں اپنے ساتھ بیرون ممالک کے ٹرپ پر بھی لیکر جاتے ہیں ،ایسی ہی ایک مریدنی نے پیر صاحب کی ایک ویڈیو لیک کی تھی جس میں وہ دبئی کے ایک ہوٹل میں اپنی مریدنی کو اپنی “پیری “دکھا رہے تھے ۔
یہ ایک دربار کی کہانی نہیں،یہ ایک پیر کی کارستانی نہیں،میرے عزیز مسلمان بھائیو اپنی بہو بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کریں،اپنے عقیدے اور ایمان کی حفاظت کریں ۔
بقلم فردوس جمال !!!
23/12/2025
یہ پندرہ سالوں کے تجربے میں پہلی بار تھا کہ ایسا کیس میرے سامنے آیا — اور شاید اسی لیے یہ کہانی آج تک میرے دل پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔
وہ میاں بیوی رات کے وقت آفس آئے۔ پہلی ہی بات انہوں نے یہ کہی کہ وہ اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں، ہماری ٹیم کا کوئی رکن وہاں موجود نہ ہو۔ میں نے ان کی سنجیدگی محسوس کی تو بات مان لی۔
سامنے دو خوبصورت، باوقار میاں بیوی بیٹھے تھے۔ انداز ایسا تھا کہ کوئی بھی انہیں ایک خوش و خرم، کامیاب جوڑا کہتا۔ پہلے انہوں نے ہمارے کام کو سراہا، تعریف کی، پھر خاموشی چھا گئی۔
کچھ لمحوں بعد شوہر نے آہستہ آواز میں کہا:
“ہمیں آپ کی مدد چاہیے… یہ میری بیوی ہے، اور میں اس کے لیے رشتہ دیکھ رہا ہوں۔”
یہ سن کر میرے ہاتھ کانپ گئے۔ میں نے کپ میں موجود کافی سائیڈ پر رکھی۔ چند سیکنڈ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔ میں نے بے اختیار کہا:
“سر، یہ کیسا مذاق ہے؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”
تب انہوں نے جو کہانی سنائی، وہ سن کر شاید پتھر دل انسان بھی پگھل جائے۔
انہوں نے بتایا کہ سولہ سال پہلے انہوں نے محبت کی شادی کی تھی۔ ان کی جوڑی خاندان اور دوستوں میں مثال سمجھی جاتی تھی۔ ہنسی، زندہ دلی، ایک دوسرے کا خیال — سب کچھ تھا۔ اللہ نے انہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا عطا کیا۔ گھر ہنستا کھیلتا تھا۔
پھر ایک دن…
ایک معمولی سی غلط فہمی۔
ایک لمحاتی غصہ۔
اور جذبات میں آ کر شوہر کے منہ سے تین بار طلاق کے الفاظ نکل گئے۔
وہ لمحہ ان کی پوری زندگی بدل گیا۔
بیوی زمین پر بیٹھ کر روئی، گڑگڑائی، ہاتھ جوڑے — مگر الفاظ واپس نہیں آتے۔ اگلے دن جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو شوہر نے علماء سے رجوع کیا، دروازے کھٹکھٹائے، امید کی ہر کرن پکڑنے کی کوشش کی۔ مگر ہر جگہ یہی کہا گیا:
“اگر تین بار طلاق ہو گئی ہے تو اب رشتہ ختم ہو چکا ہے۔”
وہ ٹوٹ گئے۔
وہ گھر آیا، بیوی سے معافی مانگی، آنسوؤں کے ساتھ اسے گاڑی میں بٹھایا اور اس کی بہن کے گھر چھوڑ آیا۔ ایک ساتھ گزارے سولہ سال، ایک دن میں ختم ہو گئے۔
اب دو سال ہونے کو ہیں۔
بچوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔
کبھی ماں کو یاد کرتے ہیں، کبھی باپ کو۔
گھر تو ہیں، مگر گھر جیسا سکون نہیں۔
میاں بیوی دونوں ڈپریشن میں چلے گئے۔ نہ زندگی میں مزہ رہا، نہ جینے کی خواہش۔
کچھ لوگوں نے “حلالہ” کا مشورہ دیا — مگر یہ بات ان دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔
ایک عورت کے لیے یہ کتنا بڑا صدمہ ہوتا ہے، اور ایک مرد کے لیے یہ کیسی بے بسی ہوتی ہے — یہ وہی سمجھ سکتا ہے جو اس آگ سے گزرے۔
دو ماہ پہلے ان کی بیٹی کو ڈینگی ہو گیا۔ بخار میں تڑپتی ہوئی، کبھی “ماما” پکارتی، کبھی “بابا”۔
وہ لمحہ باپ برداشت نہ کر سکا۔
وہ بیٹی کو ماں کے پاس چھوڑ آیا۔
وہاں دوبارہ بات ہوئی۔
دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔
آخرکار انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر یہی سوچا کہ شاید “حلالہ” ہی آخری راستہ ہے۔
یہ سب سناتے ہوئے میاں بیوی دونوں رو رہے تھے۔ میں نے بھی پہلی بار خود کو بمشکل سنبھالا۔ میں نے بس اتنا کہا:
“اللہ بہت بڑا ہے، وہ بہتر راستہ نکالے گا۔”
بہت مشکل کے بعد انہوں نے اس کہانی کو شیئر کرنے کی اجازت دی — صرف اس لیے کہ لوگ غصے اور جذبات میں آ کر اپنے گھر برباد نہ کریں، خاص طور پر جب بچے آپ کے بغیر زندہ نہ رہ سکیں۔
یقین کریں، اس رات میں سو نہ سکی۔
جتنے لوگوں سے ملتی ہوں، ہر ایک کی اپنی الگ کہانی ہوتی ہے — مگر یہ کہانی ایسی تھی جس نے روح ہلا دی۔
اگر آپ بھی زندگی کے کسی ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ کو لگتا ہے کہ طلاق ہی آخری حل ہے — تو خدا کے لیے رُک جائیں۔
کچھ عرصے کے لیے علیحدگی اختیار کر لیں، غصہ ٹھنڈا ہونے دیں، دل اور دماغ کو وقت دیں۔
کیونکہ جذبات میں لیا گیا ایک فیصلہ، پوری زندگی کی قیمت مانگ لیتا ہے — اور اس قیمت کا سب سے بڑا خمیازہ بچے بھگتتے ہیں۔
⸻ ⸻ ⸻
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے:
نبی ﷺ نے فرمایا:
«لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ»
“بندش (اغلاق) کی حالت میں نہ طلاق ہوتی ہے اور نہ غلام آزاد ہوتا ہے۔”
(سنن ابی داؤد، ابن ماجہ)
اغلاق (إغلاق) کا مطلب علماء نے یہ بیان کیا:
• شدید غصہ
• جبر
• ایسی ذہنی کیفیت جس میں عقل بند ہو جائے
⸻
📜 دوسری اہم حدیث
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:
“نبی ﷺ کے زمانے میں، ابو بکرؓ کے دور میں، اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دو سال تک، ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔”
(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس بات کی بنیاد بنتی ہے کہ:
• غصے میں ایک ساتھ تین طلاقیں
• بعض حالات میں ایک شمار کی جا سکتی ہیں
سنت کے مطابق ایک وقت میں ایک طلاق
• جمہور علماء کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاقیں نہیں دی جاتیں (بعض معاصر علماء میں اختلاف ہے)
⸻
عدت
طلاق کے بعد بیوی عدت کی مدت پوری کرے (تقریباً تین حیض یا تین مہینے)
• عدت کے دوران رجوع ممکن ہے
• شوہر خرچ دیتا ہے
📌 عدت کا مقصد:
• بچے کی پتا لگانا
• اصلاح کا وقت
• رشتے کی ذمہ داریوں کی ادائیگی
⸻
غیر شرعی طریقے (جو درست نہیں)
• حیض یا نفاس میں طلاق
• بے قابو غصے میں یا نشے میں کہنا
• غیر واضح یا کنایہ والے الفاظ
19/12/2025
ایک فرانسیسی عورت اپنے چودہ سالہ بیٹے کو لے کر فرانس کے اسلامک سینٹر میں آئی تاکہ اس کا بیٹا مسلمان ہوجائے، وہ دونوں اسلامک سینٹر پہنچ گئے ، اسلامک سینٹر کے ناظم (مدرسہ کی نظامت سنبھالنے والے) کے آفس میں جاکر بچے نے ملاقات کی ، بچے نے کہا میری امی چاہتی ہیں میں مسلمان ہوجاؤں ، مرکز اسلامی کے ناظم نے بچے سے پوچھا کیا تم اسلام قبول کرنا چاہتے ہو؟ بچے نے جواب دیا ، میں نے ابھی تک اس پر غور نہیں کیا ہے لیکن میری ماں کی خواہش ہے میں اسلام قبول کرلوں۔
ناظم کو بچے کے اس جواب پر بڑی حیرت ہوئی، اس نے بچے سے پوچھا کیا تمھاری ماں مسلمان ہے؟ بچے نے کہا کہ نہیں اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ وہ مجھے اسلام قبول کرنے کے لئے کیوں کہتی ہیں ؟
ناظم نے پوچھا ، تمھاری ماں کہاں ہے؟
بچے نے کہا وہ مرکز اسلامی کے باہر کے حصہ میں کھڑی ہیں ۔
ناظم نے کہا اپنی ماں کو بلا لاؤ، تاکہ میں ان سے گفتگو کرکے صورتحال جان سکوں .
بچہ اپنی ماں کو لے کر ناظم کے پاس آیا، ناظم نے ماں سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے، کہ آپ مسلمان نہیں ہیں ؟ اور چاہتی ہیں کہ آپ کا بیٹا مسلمان ہوجائے؟
ماں نے کہا کہ یہ بات بالکل صحیح ہے.
ناظم کو اس جواب پر بڑی حیرانی ہوئی اُنھوں نے ماں سے پوچھا
آپ ایسا کیوں چاہتی ہیں ؟ کے آپ کا بیٹا اسلام قبول کرلے ۔
ماں نے جو جواب دیا وہ حیرت زدہ کرنے والا تھا ماں نے بتایا
میں پیرس کے جس فلیٹ میں رہتی ہوں ، میرے فلیٹ کے بالمقابل ایک مسلم فیملی کا فلیٹ ہے ان کے دو بچے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
صبح و شام وہ دونوں بچے گھر سے نکلتے یا گھر میں داخل ہوتے وقت اپنی والدہ کو بلند آواز میں سلام کرتے ہوئے ماں کی پیشانی چومتے ہیں اور ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں اور بڑے احترام اور ادب سے اپنی ماں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
گویا وہ ماں کسی ملک کی پرائمنسٹر *(ملکہ)* ہو ، میں نے جب سے یہ منظر دیکھا ہے میری دلی تمنّا ہے کہ میرا بیٹا بھی مسلمان ہوجائے ورنہ مجھے ڈر ہے کے میں جب بوڑھی ہوجاؤں گی وہ کہیں مجھے اولڈ ایج ہوم (old age home) میں نہ ڈال دے ، میں چاہتی ہوں
وہ میرے ساتھ بھی ایسا سلوک کرے ، جیسے وہ مسلم ماں کے بچے اپنی والدہ کے ساتھ کرتے ہیں۔
اسلام ایک بہترین مذہب ہے علم سے زیادہ عمل دیکھ کر لوگوں نے اسلام کو قبول کیا ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں ہدایتوں سے نوازیں اور نیک عمل کی توفیق دیں۔
آمین۔۔
06/12/2025
میں ریمنڈ ہوں۔ میری عمر پچھتر برس ہے۔ میں سینٹ جوزف ہاسپٹل کی پارکنگ لاٹ میں کام کرتا ہوں۔ تھوڑا سا معاوضہ، اورنج ویسٹ، اور ایک سیٹی جو کبھی کبھار ہی استعمال ہوتی ہے، یہ میرا کل سامان ہے۔ عموماً لوگ میری طرف دیکھتے تک نہیں۔ میں بس ایک بوڑھا انسان ہوں جو خالی جگہ پر گاڑی لگواتا ہوں۔
لیکن وہ چاہے مجھے نہ بھی دیکھیں، میں تو دیکھتا ہوں نا۔
جیسے وہ کالی سیڈان جو تین ہفتے روز صبح چھے بجے پارکنگ لاٹ میں چکر لگاتی دکھائی دیتی تھی۔ ایک نوجوان لڑکا، ساتھ والی سیٹ پر اس کی نحیف دادی۔ کیموتھیراپی، شاید؟ وہ اپنی دادی کو ہسپتال کے دروازے پر اتارتا اور پھر اگلے بیس منٹ اسے پارکنگ ڈھونڈتے گزر جاتے۔
ایک صبح اسے روک کر پوچھا، "کل کس وقت آنا ہے؟"
حیران ہو کے مجھے دیکھتا، بولا: سوا چھے بجے۔
ٹھیک ہے۔ میں اے سیون والی پارکنگ سپیس تمہارے لئے سنبھال رکھوں گا۔
اگلی صبح میں اے سیون کی پارکنگ سپیس پر کھڑا رہا۔ گاڑیاں آتیں، مجھے خالی جگہ کھڑا پا کر ڈرائیور مجھے گھورتے۔ اتنی دیر میں وہ کالی سیڈان آئی اور میں نے اسے جگہ دے دی۔ اس نوجوان نے شیشہ نیچے کر کے مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"تمہیں اس وقت وہاں ہونا چاہیے، یہاں پارکنگ ڈھونڈنے پر خوار نہیں ہونا چاہیے۔" میں اس کی نظروں میں چھپا سوال سمجھ گیا تھا۔
اس کی آنکھیں برسنے لگیں۔ وہیں۔۔ پارکنگ لاٹ میں کھڑے کھڑے۔۔
بات پھیلنے لگی۔ ایک باپ اپنے بیمار بچے کے ساتھ تھا۔ پوچھنے لگا اگر میں کوئی مدد کر سکوں۔ ایک عورت اپنے شوہر سے ملنے آیا کرتی جو آخری دموں پر تھا۔ میں صبح پانچ بجے کام پر آنے لگا۔ ہاتھوں میں نوٹ بک کہ جس پر میں لکھ رکھتا کس کو کیا درکار ہے۔ یوں کسی کے لئے سنبھال کے رکھی گئی جگہ مقدس محسوس ہونے لگی۔ لوگوں نے مجھ سے غصہ ہو کر ہارن دینا بند کر دیا۔ اب وہ انتظار کرتے۔ وہ جان گئے تھے کہ کوئی اور ہے جو پارکنگ سپاٹ سے بڑھ کر کسی مشکل سے نبرد آزما ہے۔۔
لیکن ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
ایک بزنس مین مجھ پر چلا اٹھا: میں بیمار نہیں ہوں۔ لیکن مجھے یہ جگہ چاہیے۔ میری اہم میٹنگ ہے۔
میں نے پرسکون لہجے میں جواب دیا: تو واک کر لو! یہ جگہ کسی ایسے انسان کے لئے ہے جس کے ہاتھ سٹیئرنگ وہیل کے لئے بے حد کانپتے ہیں۔
وہ تلملا کر گاڑی لے گیا۔ لیکن ایک عورت جو اس کے بالکل پیچھے تھی، گاڑی سے نکل کر میرے ہاتھ تھام کر بولی: میرے بیٹے کو لوکیمیا ہے۔ بہت شکریہ کہ تم ایسے لوگوں کو نگاہ میں رکھتے ہو۔
بات ہسپتال کی مینجمنٹ تک جا پہنچی۔ مجھے روکنے کی کوشش کی گئی۔ اور خاندانوں کے خاندان خطوط بھیجنے لگے۔ درجنوں کے حساب سے۔۔
"ریمنڈ کی وجہ سے بدترین دن سہنا آسان ہو گیا۔"،
"اس نے پریشانیوں میں سے ایک کی کمی کر دی۔"
پچھلے مہینے یہ فیصلہ آفیشل ہو گیا: "پریشان فیملیز کے لئے ریزو پارکنگ"
دس جگہیں جن پر نیلا نشان لگا دیا گیا اور اس کی ذمہ داری مجھے شونپ دی گئی۔
لیکن سب سے کمال کی بات بتاؤں کیا ہوئی؟ ایک بندہ جس کی مدد میں نے دو سال پہلے کی تھی، اس کی ماں موت سے بچ گئی ، وہ واپس آیا۔ وہ لکڑی کا کام کرتا تھا۔ اس نے لکڑی کا ایک ڈبہ بنایا اور ریزروڈ پارکنگ لاٹس کے اوپر نصب کر دیا۔ اور جانتے ہیں اس کے اندر کیا تھا؟ دعائیہ کارڈز، ٹشوز، منٹ چیوئنگ گم، اور ایک نوٹ:
جو بھی چاہیے، لے لیں۔ آپ اکیلے نہیں!
منجانب: ریمنڈ اور احباب
لوگ اس میں سے ضرورت کی اشیا لینے لگے، اور ضرورت سے زائد چیزیں وہاں رکھ دینے لگے۔ گرینولہ بارز، فون چارجرز۔ کل کسی نے ہاتھ کا بُنا ہوا کمبل رکھا۔
میں ریمنڈ ہوں۔ میری عمر پچھتر برس ہے۔ میں سینٹ جوزف ہاسپٹل کی پارکنگ لاٹ میں کام کرتا ہوں۔ میں نے سیکھا ہے کہ شفا فقط ہاسپٹل کے کمروں میں ہی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اس کی ابتدا پارکنگ لاٹ سے بھی ہوتی ہے جہاں کوئی خاموشی کی زبان میں کہتا ہے کہ میں تمہاری پریشانی سمجھتا ہوں۔ مجھے اجازت دو کہ تمہاری پریشانیوں میں سے ایک کی کمی کر سکوں۔
توجہ دیا کیجیے۔ گروسری سٹور پر چیک آؤٹ کرتے وقت، کافی لائن میں، جہاں بھی آپ ہوں۔ ممکن ہے کوئی بڑے مسائل کا مقابلہ کرتے چھوٹی چھوٹی الجھنوں میں تھک رہا ہو۔
کبھی دروازہ کھول دیا کیجیے۔ کسی کے لئے جگہ خالی کر دیا کیجیے۔ سردی میں سکڑتے ہاتھوں کو اپنے دستانے دے دیا کیجیے۔ وہ وزن اٹھا لیجیے جو کوئی اور نہ دیکھ پاتا ہو۔
اس میں بہت گلیمر تو نہیں، لیکن اس میں کسی کی چھوٹی سی آسانی چھپی ہے۔
تحریر: میری نیلسن
ترجمہ: نیر تاباں
11/11/2025
*آپ نے کبھی قرآن مجید کی آخری دو سورتوں پر غور فرمایا ہے ؟*
*سورہ فلق* میں چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے
اور وہ چاروں بڑی خطرناک، خوفناک اور ہلاکت خیز چیزیں ہیں
جبکہ *سورۃ الناس* میں صرف ایک چیز سے پناہ مانگی گئی ہے
مگر وہ ایک چیز اپنی تباہی اور ہلاکت میں سورہ فلق والی چار چیزوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے
اب غور کریں *سورہ فلق* میں چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی
مگر اس کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی صرف ایک ”صفت“ کا وسیلہ پکڑا گیا
*”اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“* میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے ربّ کی…ان چار چیزوں سے
*(١)* تمام مخلوق کے شر سے
*(٢)* چھا جانے والے اندھیرے کے شر سے
*(٣)* جادوگر عورتوں کے شر سے
*(٤)* حسد کرنے والوں کے شر سے جب وہ اپنے حسد پر چل پڑیں
اب *سورۃ الناس* کو دیکھیں
اس میں پناہ صرف ایک چیز سے مانگی گئی مگر آغاز میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا وسیلہ پکڑا گیا
*اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، اِلٰهِ النَّاسِ……*
میں پناہ مانگتا ہوں
*تمام انسانوں کے ربّ کی*
*تمام انسانوں کے بادشاہ اور مالک کی*
*تمام انسانوں کے حقیقی معبود کی*
صرف ایک چیز سے…اور وہ چیز ہے
*خنّاس کا وسوسہ*
اے تمام انسانوں کے ربّ!…اے تمام انسانوں کے شہنشاہ!…اے تمام انسانوں کے معبود برحق!…مجھے خنّاس کے وسوسے کے شر سے بچالے… یہ ”خنّاس“ یعنی چھپا ہوا دشمن انسان ہو یا کوئی جن یا شیطان……
”خنّاس“ اسے کہتے ہیں جو سیدھا آپ کے دل پر وار کرے…اور آپ کو پتا ہی نہ چلے…اور وہ یہ وار کرکے چھپ جائے…چھپ جانے کا مطلب یہ ہے کہ… یا تو نظر ہی نہ آئے… یا بظاہر دوست اور خیر خواہ نظر آئے…مگر حقیقت میں وہ آپ کے دل میں کوئی برائی اُتار دے
بڑا خطرناک معاملہ ہے… بہت ہی خطرناک…دل میں وسوسہ اُتر گیا تو پھر تباہی ہی تباہی ہے……
خاوند بیوی محبت سے رہ رہے ہوتے ہیں…کوئی آتا ہے ہنستے کھیلتے دو لفظ بول کر…اُن میں سے کسی کے دل میں وسوسے کا بیج بوتا ہے…اور چلا جاتا ہے… بس اس کے دو لفظ کا وسوسہ…اتنے حسین اور قریبی رشتے کو برباد کر دیتا ہے…اور محبت فنا ہوجاتی ہے…دکھ، غم اور شکوے جنم لے لیتے ہیں……
آپ کسی اچھے انسان سے محبت کرتے ہیں…اس کی محبت سے آپ کو دینی فائدہ ہوتا ہے…ایک چغل خور آتا ہے… باتوں باتوں میں غیر محسوس طریقے سے آپ کے کان میں وہ ڈال جاتا ہے کہ…آپ کی محبت…نفرت اور شک میں تبدیل ہوجاتی ہے…اور سالہا سال کی محنت اور محبت کا منٹوں میں جنازہ نکل جاتا ہے……
اسی طرح…شیاطین جو جنات ہیں…نظر نہیں آتے آپ کو کسی ایسی بدگمانی میں ڈال دیتے ہیں کہ…پھر آپ خود کو روک نہیں سکتے…اور اس بدگمانی کے طوفان میں…آپ کے کتنے رشتے، نعمتیں اور محبتیں تنکوں کی طرح بہہ جاتی ہیں……
*اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے خنّاس کے شر سے محفوظ فرمائیں الہی آمین* ۔
14/10/2025
ان سے ملئے۔۔!!
ان کا نام عثمان علی ہے۔اور انکا تعلق خیبرپختون خواہ کے شہر مردان سے ہے۔
عثمان مردان کا خوبصورت اور پڑھا لکھا نوجوان تھا۔تعلیم مکمل کرکے اچھی جگہ نوکری کے خواب آنکھوں میں سجائے زیر تعلیم تھا۔لیکن معاشی حالات نے عثمان کے تعلیمی سفر کو مکمل ہونے نہیں دیا۔
سال 1962میں عثمان علی مردان سے روزگار کے سلسلے میں کراچی آتا ہے اور کسی کنٹرکشن کمپنی میں بطور مزدور کام شروع کرتا ہے۔
جو ہاتھ اب تک قلم کی سیاہی سے رنگے تھے،جس کمر پر کتابوں کا بوجھ ہوتا تھا وہ ہاتھ اب سیمنٹ سے رنگ گئے اور کمر پر بستے کی جگہ ریتی اور سیمنٹ کی بوریوں نے لی تھی۔
منشی نے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس لڑکے میں کچھ خاص محسوس کیا اسے بلاکر بٹھایا اور پس منظر جاننا چاہا۔
عثمان میٹرک سائنس اور ادھورے انٹر کا بتاتا ہے اور پھر حالات نے یہ موڑ دکھانے کا بتایا۔
منشی اگلی صبح کمپنی کے مالک عبدالجلیل انصاری کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ یہ بچہ پڑھا لکھا ہے اور یہاں ہمارے ساتھ وزن اٹھاتا ہے مشقت کا کام کرتا ہے اس کا کچھ خیال رکھیں کسی مناسب کام پر لگائیں۔
مالک عثمان کو بلاتا ہے انٹرویو کرتا ہے اور اپنے آفس میں کوئی ذمہ داری دےدیتا ہے۔
عثمان کی دیانت داری،امانت داری،خوش اخلاقی اور ایمانداری سے مالکان اور تمام عملہ بہت خوش تھا اور رفتہ رفتہ عثمان مالک کے گھر کے ایک فرد کی طرح بن گیا۔
کچھ عرصہ بعد مالک اپنی شہزادی بیٹی سلمی کا رشتہ عثمان کے ساتھ طے کرتا ہے اور بہت خوشی دھوم دھام کے ساتھ شادی ہوجاتی ہے۔
اللہ نے عثمان کو بیٹا عطا کیا۔بیٹے کا نام مراد علی رکھا گیا۔بیٹےمراد علی کی عمر ایک سے ڈیڑھ سال تھی کہ عثمان کی بیوی سلمی اللہ کو پیاری ہوگئی۔
مالک عبدالجلیل انصاری اور اسکی بیوی (سسر اور ساس) نے عثمان کو بٹھاکر سمجھایا کہ تم نے کل کو اپنے گاوں چلے جانا ہے۔اس بچے کو ہم نے رکھنا ہے اسکی اچھی پرورش کرنی ہے ،تم ہمارے ساتھ معاہدہ کرلو کہ یہ بچہ اپنے نانا نانی کے ساتھ رہےگا۔اور اس بچے کو ہم نے تعلیم دلانی ہے ہم اس کے ماں باپ بنیں گے۔حلف لےکر لکھوایا کہ عثمان علی اپنے بیٹے مراد علی سے کبھی ملنے نہیں آئےگا۔
سال 1964/65 میں عثمان علی اپنے گاوں آتا ہے اور بیٹے کی محبت دل میں لئے اپنی زندگی کے نئے باب کا آغاز کرتا ہے۔
مردان میں دوسری شادی کرتا ہے
اپنی پہلی شادی کا دوسری بیوی اور اس سے ہونے والے بچوں کو لاعلم رکھتا ہے۔ ایک طرف اپنے حلف کی پاسداری اور دوسری طرف کہیں بیوی اور بچوں کو کو برا محسوس نا ہو کہ پہلی شادی کیوں چھپائی جدائی کی تکلیف برداشت کرکے وقت گزارتا ہے۔
وقتا فوقتا کراچی آتا اور اپنے بچے کے بارے میں خفیہ معلومات لیتا۔اسکے اسکول کے باہر چھٹی کے وقت جاکر کھڑا ہوجاتا ایک جھلک بیٹے کو دیکھتا اپنی آنکھوں کی پیاس بجھاتا اور مردان کی طرف رخت سفر باندھ دیتا۔
اپنے مالک (سسر) کی کمپنی کے چوکیدار سے پرانی دوستی تھی وہ چوکیدار عثمان کو اسکے بیٹے کے احوال چھپ چھپ پر دیتا رہتا تھا۔ فون تو نہیں ہوتے تھے۔ ایک خبر لینے کے لئے مردان سے کراچی آتا اور چوکیدار سے ملتا۔
سال 1992 میں عثمان کراچی آکر اپنے اس چوکیدار کے ہاں ملنے جاتا ہے۔چوکیدار پارپائی پر بیمار لیٹا تھا اور کافی ضعیف ہوچکا ہوتا ہے۔
عثمان چوکیدار سے اپنے بیٹے مراد علی کےتعلق پوچھتا ہے تو چوکیدار کہتا ہے کہ "ایک دن تمہارا بیٹا میرے پاس ہنستا کھیلتا آیا کہنے لگا میں بھی تمہارے پھٹان کا بیٹا ہوں میرا باپ یوسفزئی تھا۔ میں نے بچے سے کہا کہ کیا آپکو معلوم ہے آپکے بابا کہاں ہیں؟ بچے نے کہا صبر میں جاکر بابا سے پوچھتا ہوں کہ میرے ابو کہاں ہیں؟ پھر کچھ دیر بعد آکر کہا کہ بابا نے بتایا میرے امی ابو دونوں ایک ساتھ ٹریفک حادثے میں فوت ہوگئے ہیں۔ والدہ کی قبر کے ساتھ ایک الگ مصنوعی قبر بناکر بچے کو یہ ذہن نشین کرادیا تھا کہ یہ والد کی قبر ہے۔بچے نے جب نانا سے پوچھا تھا کہ مجھ سے "چوکیدار نے" پوچھا تمہارا ابو کہاں ہے؟ اس کے بعد سے مالک نے چوکیدار سمیت اپنے تمام عملے کو نکال دیا۔ اور ایسے لوگوں کو بھرتی کیا جو عثمان کے بارے میں جانتے نہیں تھے۔تمہارے بیٹے نے ایم بی بی ایس مکمل کرلیا ہے اب وہ ڈاکٹر مراد علی بن چکا ہے"۔
یہ آخری بار تھا جب عثمان کو چوکیدار نے مراد علی کے احوال سے آگاہ کیا تھا۔
چوکیدار کے فوت ہوجانے کے بعد عثمان کو بیٹے کے احوال بتانے والا کوئی نہیں بچا تھا۔
بالآخر سال 2016 میں وفات سے کچھ عرصہ قبل عثمان علی آدھی رات کو اچانک اٹھ کر زور زور سے رونے لگا۔
بیوی بچے سب اکھٹا ہوئے پریشان ہوکر رونے کی وجہ جاننے لگے۔
عثمان کی اہلیہ نے یہ بھی بتایا کہ عثمان ہمیشہ اچانک رونا شروع کرتا۔کسی کے بیٹے کی وفات یا کوئی بری خبر سنتا تو بہت روتا لیکن ہمیں آج تک نہیں بتایا تھا۔
سال 2016 میں جس رات چلاکر روتا ہوا اٹھا تھا اس رات بالآخر اپنے بیوی بچوں سے کہا کہ یہ میرے دل کا وہ راز ہے جو زندگی بھر میں نے تم لوگوں سے چھپائے رکھا تھا۔
بات یہ ہے کہ: تم لوگوں سے پہلے کراچی میں ایسے ایسے میری شادی ہوئی تھی۔میرا ایک بیٹا تھا ایسے ایسے مجھ سے جدا ہوا۔ میں ہمیشہ اسکو یاد کرکے روتا ہوں۔ابھی میں نے اسے خواب میں دیکھا اس لئے چلاکر اٹھا۔
اور عثمان نے وصیت کی کہ میرے اس بیٹے سے ضرور تم لوگ ملنا اور میری طرف سے محبت کا اظہار کرنا۔
اس خواب کے چند روز بعد عثمان علی اپنے بیٹے مراد علی کے یکطرفہ عشق کو دل میں لئے رضائے الہی سے انتقال فرماگئے۔
عثمان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔ مراد علی کی پرورش اسکے نانا عبدالجلیل انصاری نے کی تھی۔ جلیل انصاری کے ایک بیٹے یعنی مراد علی کے ماموں کا نام عبد الباسط انصاری ہے۔مراد علی کی والدہ کا نام سلمی تھا۔انکی کنسٹرکشن کمپنی تھی اور ریشم کے دو کارخانے بھی تھے۔سرکاری ٹھیکے لیتے تھے۔بڑا کاروباری گھرانہ تھا۔ 1960 میں بھی انکی گاڑیاں تھیں۔
کراچی کے علاقے لال کوٹھی دہلی ہاوسنگ سوسائٹی میں انکی رہائش تھی۔
عثمان کے بیٹوں کو اپنےبھائی مراد علی کی تلاش ہے۔ ڈاکٹر مراد علی کو شاید یہ سبق ذہن نشین کرایا گیا ہو کہ اس دنیا میں اسکا کوئی نہیں ہے۔ لیکن اس کے بھائی اس سے مل کر اپنے شجرہ نسب سے ملانا چاہتے ہیں۔
کراچی کے دوست اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں مراد علی کی اولاد تک یا اسکے خاندان کے کسی بھی فرد تک یہ پیغام پہنچے تو ضرور نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
15 Oct 2025
15/09/2025
ایک بوڑھا عقاب ایک چھوٹے سے شہر کے اوپر سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک نوجوان عقاب پر پڑی۔۔۔۔
نوجوان ایک چھت پر بیٹھا بڑی دلچسپی سے نیچے ہونے والے شور ہنگامے کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔۔
بوڑھا عقاب کچھ دیر ٹھہرنا چاہتا تھا۔۔۔
اس نے ہوا میں ایک غوطہ لگایا اور نوجوان کے پاس اُتر گیا۔۔۔
" کیا چل رہا ہے؟"
"دیکھیں کتنا دلچسپ منظر ہے۔۔۔
سب لوگ کتنے مصروف ہیں۔۔
مسلسل بھاگ رہے ہیں، کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے ہیں، کبھی رکتے ہی نہیں۔"
"تو تم یہاں رہتے ہو؟
ذرا یہاں کی زندگی کے بارے میں بتاؤ۔"
"یہاں بڑی توجہ سے اڑنا پڑتا ہے۔
آپ کا دھیان ہٹا اور آپ کسی تار میں الجھ گئے۔
کسی عمارت سے ٹکرا گئے۔۔
یہاں کوے بہت تنگ کرتے ہیں، بلا وجہ الجھ جاتے ہیں۔
پیچھا کرتے ہیں۔۔
ٹھونگیں مارتے ہیں۔۔۔
مینا مذاق اڑاتی ہیں۔۔۔
آوازیں کستی ہیں۔
اکثر لوگ مجھے چیل سمجھتے ہیں۔۔
ایک طرح سے یہ سچ بھی ہے۔
کوئی خاص فرق تو نہیں ہے؟
یہاں بہت شور اور دھواں ہے، لیکن میں اس کا عادی ہو گیا ہوں۔"
بوڑھےعقاب نے اسے غور سے دیکھا۔۔۔۔
" یہ نیچی پرواز، جس میں رکاوٹوں کی بھرمار ہے، دھواں اور ہر وقت کا ہنگامہ ہے۔۔۔یہ تمہیں اچھے لگتے ہیں؟
تم نے کبھی اونچا اڑ کر دیکھا ہے؟
نوجوان عقاب نے نہ میں سر ہلایا۔
" اگر میں اونچا اُڑوں، تو مجھے کیسے پتہ چلے گا یہاں کیا ہو رہا ہے؟
بوڑھے عقاب نے گہری سانس لی۔
"اس شور شرابے اور شب و روز کے ہنگامے نے تمہاری توجہ کو جکڑ لیا ہے۔۔۔
تم جتنا اونچا اُڑو گے، اتنے ہی وسیع اور خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔
آسمان میں اڑو گے تو یہ چھوٹے لڑائی جھگڑے، کوّے، تاریں، یہ سب بہت دور رہ جائیں گے۔۔
سب کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔
تمہیں ان میں الجھے رہنے کے لیے تو نہیں بنے ہو؟
تمہیں تو بلند پرواز کے لیے بنایا گیا یے۔۔۔
تمہارے لیے تو شاعروں نے شعر لکھے ہیں؟ "
نوجوان عقاب کے دل میں خوف کی ایک ہلکی سی لہر اٹھی۔
"مگر ابھی تو میں تیار نہیں ہوں؟ اگر میں آپ کی طرح اونچا اُڑ نہیں سکا تو؟"
بوڑھے عقاب نے محبت سے مسکرا کر کہا۔۔
"کبھی کبھی پہلا قدم ہی تیاری ہوتا ہے۔۔ ۔
آو میرے ساتھ اڑو۔۔۔
تم جب اونچائی کو اپنی منزل بنا لو گے تو چھوٹے موٹے مسئلے یہیں نیچے رہ جائیں گے۔۔۔۔۔
کوے، مینا، شور، دھواں سب کچھ۔۔
نوجوان نے کچھ سوچا۔۔۔
اور پھر اپنے پر پھیلا لیے۔۔
وہ اپنی پہلی اڑان بھرنے کو تیار تھا۔۔
کیا آپ بھی تیار ہیں؟
نمود شاید آپ کی مدد کر سکے۔۔۔
محمد یحیی'نوری
14/09/2025
*مہران یونیورسٹی جامشورو کے سابق وائس چانسلر سید مظفر علی شاہ کی بیوی یتیم خانے میں وفات پا گئیں۔*
```ایک بیٹا فخر علی شاہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہے ایک بیٹی ڈاکٹر ہے اور دوسری بیٹی فرح ناز فیصل بینک کی وائس پریذیڈنٹ ہے دوسرا بیٹا قلندر علی شاہ کاروبار زمینیں اور باغات سنبھالتا ہے۔```
بھانجے طلحہ پٹھان نے علاج کے بہانے انہیں ٹنڈو جام لے جا کر یتیم خانے میں چھوڑ دیا جہاں وہ سات مہینے اپنی اولاد کے انتظار میں راہیں تکتے تکتے وفات پا گئیں ہیں۔
اتنی پڑھی لکھی اور بڑے عہدوں پر فائز اولاد ہو اور ماں لا وارثی میں یتیم خانے میں مرے تو ایسی اولاد کو "ڈوب کر مر جانا چاہیے۔"
*ایسی دنیا کی پڑھائی، ایسی دولت, ایسی مصروفیت, ایسی زندگی اور ایسی اولا پر لعنت کہ جس کے حاصل ہونے کے باوجود انسان انسانیت سے گر جائے۔*
یہ ان ماں باپ کے لیے سبق ہے جو بچوں کو دنیا کی پڑھائی کے لیے امریکا ، یورپ اسٹریلیا دنیا کے کونے کونے میں کہاں کہاں نہیں بھیجتے اور دین کی تعلیمات سے دور اور محروم رکھتے ہیں تو آخری میں پیرنٹس کا یہ انجام ہوتا ہے
😭😭
14/09/2025
مسجد الحرام میں کئی میتوں کا ایک ساتھ جنازہ ہوا اور عجیب بات یہ ہوئی کہ ان میں سے ایک میت کا چہرہ ڈھکا ہوا نہیں تھا۔
ایسا کیوں ہوا؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص حالتِ احرام میں انتقال کر جائے تو اسے جب کفن دیا جائے گا تو اس کا سر اور چہرہ ظاہر کیا جائے گا۔ یعنی کپڑے سے ڈھکا ہوا نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے گا اور اسے خوشبو بھی نہیں لگائی جائے گی۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا۔ تفصیل کے لیے صحیح بخاری کی حدیث دیکھتے ہیں:
أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ، وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا..
ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ اونٹنی نے ایک شخص کی گردن توڑ دی جبکہ وہ حالتِ احرام میں تھا۔ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " اسے بیری کے پتوں اور پانی سے غسل دو اور دو کپڑوں کا کفن پہناؤ اور اسے خوشبو نہ لگانا اور نہ ہی اس کا سر ڈھانپنا بیشک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ پڑھ رہا ہو گا۔
(حدیث نمبر:1267)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص حالتِ احرام میں انتقال کر جائے (چاہے اس نے عمرے کا احرام باندھا ہو یا حج کا ) تو پھر اس کا سر نہیں ڈھانپا جائے گا۔ چونکہ یہ شخص احرام کی حالت میں انتقال کر گیا تھا تو اس لیے اس کا سر نہیں ڈھانپا گیا ۔