Islamic Valley

Islamic Valley

Islamic International is a non political organisation for awareness of the Islamic Ideology in Engl

Allah pak Give name Islam as religion,and the person who believe in Islam is called Muslim,,Islam is a complete religion with having no mistakes,Allah pak Himself Says in Qur'an pak
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
"This day have I perfected your religion for you and completed My favour upon you and have chosen for you Isl

Operating as usual

05/06/2023

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ💖
صبح بخیر زندگی 😊❣🌿

🍂 ہم خود سے زیادہ، دوسروں کی زندگیوں میں دلچسپی لیتے ہیں. ہمیں دوسروں کے عیب تلاشنے اور ان کو اچھالنے میں بہت مزا آتا ہے. اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم مضبوط کردار کے مالک ہوں تو لوگوں کے عیب تلاشنے چھوڑ دیں اور اگر ظاہر بھی ہوجائیں تو اسے بتائیں. آپ کا بتانا اسکے لیے نصیحت بن جائے گا. لیکن اگر وہی بات آپ کسی اور سے کہیں گے تو وہ غیبت میں شمار ہوگا.🍁🌿🍁

🍂 اسی طرح، ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ بھی کریں کہ کہیں یہ برائی آپ میں تو نہیں اور اگر موجود ہے تو خود کی بھی اصلاح کریں. ہمارا رویہ اتنا اچھا ہونا چاہیے کہ سامنے والا خود برا کام چھوڑ دے. 😊🍀🍁

🍂نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے، قیامت کے روز اللہ تعالی اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا۔" (ابن ماجہ)
اللہ تعالی کا ایک صفاتی نام "ستار" بھی ہے یعنی گناہوں پر پردہ ڈالنے والا. تو جب اللہ ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ اگر آج ہم کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالیں گے تو کل قیامت کے دن اللہ ہمارے گناہوں پر پردہ ڈال دیں گے. ❣🌿انشاءاللہ🌿❣️

❣ھمیشہ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹتے رہیں ❣

04/06/2023

یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
’’ صحت‘‘۔
میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت
اور
منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لئے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لئے نہیں کی۔
‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔
یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلاً
ًہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں
مگر
ہم جب تیز چلتے ہیں‘
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘
مثلاً
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘
مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں۔
‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘
مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔
‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے
‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘
آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں
‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔
ہم روزانہ سوتے ہیں‘
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘
ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘
صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی
مگر
جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘
ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے
‘ ہماری پلکوں میں چند مسلز ہوتے ہیں۔
یہ مسلز ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسلز جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا
‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں
‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لئے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لئے تیار ہیں‘
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں
‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لئے کروڑوں ڈالر دینے کے لئے تیار ہیں‘
لوگ صحت مند گردے کے لئے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لئے تیار ہیں‘
آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لئے لاکھوں روپے دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں‘
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔
گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘
انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے
‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے
شوگر
کولیسٹرول
اور
بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور
آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفاء نہیں ملے گی۔
منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔
ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے
ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے
ہم سیدھا چل سکتے ہیں
دوڑ لگا سکتے ہیں
جھک سکتے ہیں
اور
ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ
کانوں سے سن
ہاتھوں سے چھو
ناک سے سونگھ
اور منہ سے چکھ سکتے ہیں
تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل
اس کے کرم کے قرض دار ہیں
اور
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘
ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔

27/05/2023

﷽ ﺍﻟﺴَّـــــــﻼَﻡُ ﻋَﻠَﻴــْــﻜُﻢ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛـَـﺎﺗُﻪ

*** صبـــح بــخیـــر زنـــدگـــی ***

اللہ رب العزت نے ہمارا ضمیر بہت سچّا بنایا ہے. ہم جب بھی گُناہ کر بیٹھتے ہیں تو ہمارا ضمیر ہمیں ٹوکتا ہے۔۔ اور احساس دلاتا ہے کہ یہ تم نے غلط کیا ہے۔۔۔۔اور روکتا ہے۔۔اور نصیحت کرتا ھے کہ وقت رہتے گناہوں سے بچ جائیں۔۔۔۔ اور پلٹ آئیں اپنے رب کی طرف۔۔۔۔.

تو وہ جن کے دلوں میں اپنے رب کا خوف ہوتا ہے فورا پلٹ آتے ہیں اور توبہ کر لیتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ کیا ہوا، یہ تو سبھی کرتے ہیں یہ تو عام بات ہے. ایسے لوگوں کا ضمیر بھی دستک دینا بند کر دیتا ہے۔ کیونکہ ضمیر کو بھی اللہ نے باضمیر بنایا ہے جو بے ضمیر لوگوں کے پاس نہیں رکتا۔۔۔۔

انسان اُمیدوں سے بندھا ایک ضدّی پرندہ ہے جو گھائل بھی امیدوں سے ہے اور زندہ بھی امیدوں پر ہے ۔۔۔شطرنج کا وزیر اور انسان کا ضمیر مر جائے تو کھیل ختم۔۔۔۔بقول شاعر----
پوچھا حال شہر کا تو سر جُھکا کر بولے
لوگ تو زندہ ہیں پر ضمیروں کا پتہ نہیں

پیدائشی طور پر انسان نہ تو فرشتہ ہے اور نہ ہی شیطان ۔۔ لیکن اپنے اعمال کی بدولت فرشتے سے بہتر بھی ہو سکتا ہے اور شیطان سے بدتر بھی۔۔۔

اگر آپ کا ضمیر اور نیّت صاف ہے تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی آپ کو اچھا کہے یا بُرا۔۔۔ آپ اپنی نیت پر جانچے جائیں گے، دوسروں کی سوچ پر نہیں۔۔اس لئے غلطی ماننے اور گناہ چھوڑنے میں کبھی دیر مت کرنا، کیونکہ سفر جتنا طویل ہوتا جائے گا، واپسی اتنی ہی دشوار ہوگی۔۔۔

اے اللّٰہ : ہمارے ضمیروں کو ہمیشہ زندہ اور با ضمیر رکھ۔۔۔ ہم سب پر اپنی عنایات کا در کھلا فرما ، ایمان و اعمال صالحہ کی دولت میں اضافه فرما۔۔ گُناہوں سے بچنے برے فعل اور ہر بُرائی سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔۔ اے اللّٰہ ہم انسان ہیں ہم سے غلطیاں خطائیں نافرمانیاں ہو ہی جاتی ہیں ہم اپنے ضمیر کے خلاف جاکر بھی گُناہ کر بیٹھتے ہیں ، جبکہ ضمیر ملامت کرتا ہے پر اسکی نہیں سُنتے ہمارے اس جرم عظیم کو معاف فرما۔۔۔اے اللّٰہ ہم شرمندگی کے ساتھ توبہ استغفار کرتے ہیں ہماری ندامت کو قبول فرما۔۔ بیماروں کو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرما اور مرحومین کی مغفرت فرما

*** آمیـــن ثم آمیــــن یا رب العالمیــن ***

دعا گو اویس رضا

26/05/2023

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دُنیا میں ظہورسے ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع خمیری تھا، ایک مرتبہ وہ اپنی سلطنت کے دورے کو نکلا، بارہ ہزار عالم ،حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوق خدا چاروں طرف نظارہ کو جمع ہو جاتی، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہل مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔

بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے تحقیق کے بعد بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں، اس کی اور اس کے خادموں کی جو یہاں کے باشندے ہیں تمام لوگ بے حد تعظیم کرتے ہیں اور جتنا آپ کا لشکر ہے اس سے کہیں زیادہ دور اور نزدیک کے لوگ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کی خدمت کر کے چلے جاتے ہیں، پھر آپ کا لشکر ان کے خیال میں کیوں آئے۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں اس گھر کو کھدوا دوں گا اور یہاں کے باشندوں کو قتل کروا دوں گا
یہ کہنا تھا کہ بادشاہ کے ناک منہ اور آنکھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ایسا بدبودار مادہ بہنے لگا کہ اس کے پاس کسی کو بیٹھنے کی بھی ہمت نہ رہی اس مرض کا علاج کیا گیا مگر افاقہ نہ ہوا، شام کے وقت بادشاھی علماء میں سے ایک عالم ربانی تشریف لائے اور نبض دیکھ کر فرمایا ، مرض آسمانی ہے اور علاج زمین کا ہو رہا ہے، اے بادشاہ! آپ نے اگر کوئی بری نیت کی ہے تو فوراً اس سے توبہ کریں، بادشاہ نے دل ہی دل میں بیت اللہ شریف اور خدام کعبہ کے متعلق اپنے ارادے سے توبہ کی ، توبہ کرتے ہی اس کا وہ خون اور مادہ بہنا بند ہو گیا، اور ساتھ ھی اللہ نے اُسے ایمان کی دولت سے مالا مال کردیا۔پھر صحت کی خوشی میں اس نے بیت اللہ شریف کو ریشمی غلاف چڑھایا اور شہر کے ہر باشندے کو سات سات اشرفی اور سات سات ریشمی جوڑے نذر کئے۔
پھر یہاں سے چل کر مدینہ منورہ پہنچا تو ہمراھی علماء نے جو کتب سماویہ کے عالم تھے وہاں کی مٹی کو سونگھا اور کنکریوں کو دیکھا اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ کی جو علامتیں انھوں نے پڑھی تھیں ، ان کے مطابق اس سر زمین کو پایا تو باہم عہد کر لیا کہ ہم یہاں ہی مر جائیں گے مگر اس سر زمین کو نہ چھوڑیں گے، اگر ہماری قسمت نے یاوری کی تو کبھی نہ کبھی جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم تشریف لائیں گے تو ہمیں بھی زیارت کا شرف حاصل ہو جائے گا ورنہ ہماری قبروں پر تو ضرور کبھی نہ کبھی ان کی جوتیوں کی خاک اڑ کر پڑ جائے گی جو ہماری نجات کے لئے کافی ہے۔
یہ سن کر تُبّع خمیری نے ان عالموں کے واسطے چار سو مکان بنوائے اور اس بڑے عالم ربانی کے مکان کے پاس حضورؐ کی خاطر ایک دو منزلہ عمدہ مکان تعمیر کروایا اور وصیت کر دی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو یہ مکان آپؐ کی آرام گاہ ہو اور ان چار سو علماء کی کافی مالی امداد بھی کی اور کہا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو اور پھر اس بڑے عالم ربانی کو ایک خط لکھ دیا اور کہا کہ میرا یہ خط اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دینا اور اگر زندگی بھر تمھیں حضورؐ کی زیارت کا موقع نہ ملے تو اپنی اولاد کو وصیت کر دینا کہ نسلاً بہ نسلاً میرا یہ خط محفوظ رکھیں حتٰی کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جائے یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے چل دیا۔ وہ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس مین ایک ہزار سال بعد پیش ہوا کیسے ہوا اور خط میں کیا لکھا تھا ؟سنئیے اور عظمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دیکھئے:

”کمترین مخلوق تبع اول خمیری کی طرف سے شفیع المزنبین سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اما بعد: اے اللہ کے حبیب! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور جو کتاب اپ پر نازل ہو گی اس پر بھی ایمان لاتا ہوں اور میں آپ کے دین پر ہوں، پس اگر مجھے آپ کی زیارت کا موقع مل گیا تو بہت اچھا و غنیمت اور اگر میں آپ کی زیارت نہ کر سکا تو میری شفاعت فرمانا اور قیامت کے روز مجھے فراموش نہ کرنا، میں آپ کی پہلی امت میں سے ہوں اور آپ کے ساتھ آپ کی آمد سے پہلے ہی بیعت کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور آپ اس کے سچے رسولؐ ہیں۔“

شاہ یمن کا یہ خط نسلاً بہ نسلاً ان چار سو علماء کے اندر حرزِ جان کی حثیت سے محفوظ چلا آیا یہاں تک کہ ایک ہزار سال کا عرصہ گزر گیا، ان علماء کی اولاد اس کثرت سے بڑھی کہ مدینہ کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور یہ خط دست بدست مع وصیت کے اس بڑے عالم ربانی کی اولاد میں سے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور آپ نے وہ خط اپنے غلام خاص ابو لیلٰی کی تحویل میں رکھا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی اور مدینہ کی الوداعی گھاٹی مثنیات کی گھاٹیوں سے آپ کی اونٹنی نمودار ہوئی اور مدینہ کے خوش نصیب لوگ محبوب خدا کا استقبال کرنے کو جوق در جوق آ رہے تھے اور کوئی اپنے مکانوں کو سجا رہا تھا تو کوئی گلیوں اور سڑکوں کو صاف کر رہا تھا اور کوئی دعوت کا انتظام کر رہا تھا اور سب یہی اصرار کر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو جس گھر میں یہ ٹھہرے گی اور بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہو گی، چنانچہ جو دو منزلہ مکان شاہ یمن تُبّع خمیری نے حضورؐ کی خاطر بنوایا تھا وہ اس وقت حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی تحویل میں تھا ، اسی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جا کر ٹھہر گئی۔

لوگوں نے ابو لیلٰی کو بھیجا کہ جاؤ حضور کو
شاہ یمن تُبّع خمیری کا خط دے آو جب ابو لیلٰی حاضر ہوا تو حضورؐ نے اسے دیکھتے ہی فرمایا تو ابو لیلٰی ہے؟ یہ سن کر ابو لیلٰی حیران ہو گیا۔ حضورؐ نے فرمایا میں محمد رسول اللہ ہوں، شاہ یمن کا جو خط تمھارے پاس ہے لاؤ وہ مجھے دو چنانچہ ابو لیلٰی نے وہ خط دیا، حضور نے پڑھ کر فرمایا، صالح بھائی تُبّع خمیری کو آفرین و شاباش ہے –

بحوالہ کُتب:
میزان الادیان
کتاب المُستظرف
حجتہ اللہ علے العالمین
تاریخ ابن عساکر

دعاؤں کا طالب اویس رضا

26/05/2023

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ 💖🌿
صبح بخیر زندگی 😊💕

🍂🍂🍂 ہم خود سے زیادہ، دوسروں کی زندگیوں میں دلچسپی لیتے ہیں. ہمیں دوسروں کے عیب تلاشنے اور ان کو اچھالنے میں بہت مزا آتا ہے. اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم مضبوط کردار کے مالک ہوں تو لوگوں کے عیب تلاشنے چھوڑ دیں اور اگر ظاہر بھی ہوجائیں تو اسے بتائیں. آپ کا بتانا اسکے لیے نصیحت بن جائے گا. لیکن اگر وہی بات آپ کسی اور سے کہیں گے تو وہ غیبت میں شمار ہوگا. اسی طرح، ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ بھی کریں کہ کہیں یہ برائی آپ میں تو نہیں اور اگر موجود ہے تو خود کی بھی اصلاح کریں. ہمارا رویہ اتنا اچھا ہونا چاہیے کہ سامنے والا خود برا کام چھوڑ دے❣🌿

🍂نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے، قیامت کے روز اللہ تعالی اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا۔" (ابن ماجہ)
اللہ تعالی کا ایک صفاتی نام "ستار" بھی ہے یعنی گناہوں پر پردہ ڈالنے والا. تو جب اللہ ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ اگر آج ہم کسی کے عیبوں پر پردہ ڈالیں گے تو کل قیامت کے دن اللہ ہمارے گناہوں پر پردہ ڈال دیں گے❣🌿. انشاءاللہ❣️🌿

🌷 ھمیشہ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹتے رہیں🌷

23/05/2023

ماحول اور زندگی کی ڈسٹربنس:
ہمارے یہاں ہر ایک سے وہ سوال پوچھے جاتے ہیں جو ڈسٹرب کر دیتے ہیں۔ یہ سوال شادی، جاب، گھر، بچے، طلاق، بیوگی، عزیزوں کے رویے، یا پھر خاندان میں ہوچکے کسی ناخوشگوار واقعہ سے متعلق ہوتے ہیں۔زیادہ سوال شادی، اولاد، جاب وغیرہ سے متعلق ہوتے ہیں جو خاص طور پر والدین کو ڈسٹرب رکھتے ہیں۔ ہماری مائیں ان سوالات کی وجہ سے اپنا بی پی ہائی رکھتی ہیں، دل کی مریضہ بن جاتی ہیں۔ لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں، لڑکے بھی بوکھلائے پھرتے ہیں۔ ایک اور مسلہ ہے کہ جیسے جیسے انسان ترقی کر رہا ہے یہ مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہے ہیں۔ جن کی شادیاں ختم ہو چکی ہیں وہ ذہنی اذیت کا شکار ہیں، اور چونکہ شادی چل نہیں سکی تو انہیں ناکام ہو جانے کے طعنے دیے جاتے ہیں۔ انہیں یہ احساس دلا دیا جاتا ہے کہ وہ ناکام لوگ ہیں جو اپنی شادی کامیاب نہیں کر سکے۔ بے شک وہ اپنی فلیڈ میں کامیاب ہوں۔
بہتر ہے کہ وہ تمام لوگ جو ایسی کسی صورتحال سے گزر رہے ہیں وہ خود کو ذہنی طور پر اسٹرونگ رکھیں۔ اپنی زندگی پر دھیان دیں،پڑھیں، ہنر سیکھیں، آگے بڑھیں۔ کسی کام کو معمولی نہ سمجھیں، اچھی جاب نہیں ملتی تب بھی پرسکون رہیں، ورنہ جو بھی کام ملتا ہے وہ کر لیں۔ کوئی بھی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے کام بڑے تجربات سکھاتے ہیں۔ پرافٹ نہ دیکھا کریں، یہ دیکھا کریں کہ آپ کا ٹائم اچھی جگہ انویسٹ ہو رہا ہو۔ انسان کا دماغ مصروف رہنا چاہیے، ایسے انسان انتشار سے بچتا ہے۔ معاشرے کے تلخ رویے سے خود کو تلخ نہ کریں، خود کو مصروف رکھیں۔ مصروف لوگ اپنی زندگی سنوار رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کی زندگی پر زیادہ دھیان نہیں دیتے۔
زندگی کو انتظار بنائیں گے تو انتظار بن جائے گی، اس لیے اس زندگی کو تعمیر کرنے میں مصروف ہو جائیں، جو چیزیں طے ہیں وہ ہونی ہی ہیں، ان کے لیے کوشش ضرور کریں لیکن اسٹریس نہ لیں۔ واقعات ہوتے رہتے ہیں، باتیں، سوال، تنقید، طنز، تلخ رویے، یہ سب چلتا رہتا ہے، آپ خود کو ہلکان نہ کریں، زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے لیکن یہ مکمل طور پر کانٹا بھی نہیں ہے۔
ایک چیز طے ہے کہ اگر آپ کوشش کریں تو پھول بن سکتے ہیں، اس لیے خود کو پھول بنائیں کانٹا نہیں۔ ایسے سوال پوچھنے سے باز رہیں جو کسی کو ڈسٹرب کر دے۔ طنز سے بچیں، اللہ کو طنز کرنے والے ناپسند ہیں۔ دوسروں کا بی پی ہائی نہ کریں بلکہ انہیں ہلکا پھلکا کریں۔ انسانیت کی خدمت صرف پیسے سے نہیں ہوتی یہ تسلی دلاسے، اور اچھے الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ فی زمانہ صرف ایک کام کرنا سیکھ جائیں، ”اپنے کام سے کام رکھنے کا“۔ آپ بھی سکھی رہیں گے اور دوسرے بھی۔

23/05/2023

یہ مالِ غنیمت نہیں توفیقِ رب العالمین ہے

ھر ایک کو
گھر اہل بیتِ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ واٰلہٖ وسلّم
دَرِ صحابہؓ نہیں ملتا
سلام قولا من رب الرحیم
سلام علیک یا سیدی یا حبیب اللہﷺ️یا نبی سلام علیک صلوٰۃ اللہ علیہ وآلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحابہ وبارک وسلَّم

سلام صحابہؓ کرام💕
رضوان اللّٰه علیہم اجمعین

23/05/2023

محبت محض دعا ہے....
اور دعا سب سے گہری محبت ہے۔۔...
جسے مانگنا آ گیا وہ سنبھال ہی نہیں سکتا....

کیا آپ کو معلوم ہے میری روز کی posts کا مقصد کیا ہے...

مقصد یہ ہے کہ اللہ کے اتنے قریب چلے جاؤ کہ اس کی موجودگی کا احساس ہونا شروع ہو جائے...

یہ کام حیران ہوئے بغیر نہیں ہوسکتا...

اس سے بات تو کرکے دیکھو بندہ حیران ہو جاتا ہے ۔۔۔

آپ کو کیا کیا بتاؤں کن کن حیرتوں سے گزر ہوتا ہے..... ۔۔

ہائے اس چار گرہ کپڑے کی قیمت غالب ۔۔
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا ۔۔۔۔۔

کہاں لکھا ہے وہ صرف اوپر ہے.. اندر نہیں ہے ۔۔۔

آنکھیں، سانس اور دل اس کی گواہیاں ہیں ۔۔۔۔

بار بار بتانے کا دل کرتا ہے ۔۔ کیونکہ دل میں بیٹھ کر دل کے علاوہ کسی اور کی بات کرنا دل کو اچھا نہیں لگتا ۔۔۔

دل تک پہنچنا ایسا ہی ہے جیسے رب تک پہنچ جانا کیونکہ پھر رب مل جاتا ہے.... جس کو رب مل جائے وہ امتحان پاس کرلیتا ہے ۔۔۔♥️

10/08/2022

Surah Fatiha


Musharib Malik Umair Raza Ghulam Muhammed Quader MP

09/08/2022
Want your school to be the top-listed School/college in Jinzhou?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Videos (show all)

Surah Fatiha #muslims #islam #muslim #allah #quran #muslimah #islamicquotes#islamic #sunnah #hijab #deen #allahuakbar #l...
Surah Rehman

Location

Telephone

Address


1 Bohai University
Jinzhou
1210000
Other Colleges & Universities in Jinzhou (show all)
Medical student of LMU Medical student of LMU
Jinzhou, 12100

student can share there useful knowledge and discussion about medical and other important events..