13/06/2026
Fawad and Imad vlogs
Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Fawad and Imad vlogs, Conseiller pédagogique, sarkol 3, Democratic Republic of the.
13/06/2026
اس بجٹ گراف کو دیکھ کر جو سب سے پہلی اور تشویشناک بات سامنے آتی ہے، وہ ملک کی پیداواری، سماجی اور انسانی ترقی کے شعبوں (Human Capital) اور غیر پیداواری اخراجات کے درمیان شدید عدم توازن ہے۔
کل 18,771 ارب روپے کے بجٹ میں سے 8,054 ارب روپے صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی (Debt Servicing) میں جا رہے ہیں۔ یہ کل بجٹ کا تقریباً 43 فیصد بنتا ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ملک کا آدھے سے زیادہ ریونیو پرانے قرضے اتارنے میں چلا جاتا ہے، جس سے عوام پر براہِ راست سرمایہ کاری کے لیے گنجائش بہت کم بچتی ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں کو نظر انداز کرنا
اگر ہم تصویر میں موجود سماجی شعبوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کریں تو صورتحال کافی مایوس کن نظر آتی ہے:
اعلیٰ تعلیم (Higher Education): 46 ارب روپے
سکول اور کالج تعلیم: 26.3 ارب روپے
صحت (Healthcare): 25.1 ارب روپے
سائنس و ٹیکنالوجی: 3.6 ارب روپے
ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، وہاں سکول و کالج کی تعلیم کے لیے صرف 26.3 ارب اور صحت کے لیے 25.1 ارب روپے رکھنا اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ دفاع (3,000 ارب) اور سول انتظامیہ (1,071 ارب) کے مقابلے میں تعلیم اور صحت کا مجموعی بجٹ بھی ان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے صرف 3.6 ارب روپے رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم مستقبل کی ڈیجیٹل دوڑ میں کتنے پیچھے رہ سکتے ہیں۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ بمقابلہ مہنگائی
کم از کم ماہانہ تنخواہ 40,700 روپے مقرر کی گئی ہے اور تنخواہوں و پنشن میں 7 فیصد اضافہ دکھایا گیا ہے۔ موجودہ معاشی حالات اور مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے 7 فیصد کا یہ اضافہ سرکاری ملازمین اور غریب طبقے کی قوتِ خرید کو برقرار رکھنے کے لیے بالکل نا کافی ہے۔دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے کا الگ بجٹ مختص کیا جانا ہے، جو کہ ملک کے تمام عام سکولوں اور کالجوں کے مجموعی بجٹ (26.3 ارب) کے تقریباً برابر ہے۔ دانش اسکول کیا ہیں؟
دانش سکول بنیادی طور پر پنجاب حکومت کا ایک فلیگ شپ تعلیمی منصوبہ ہے، جس کا آغاز میاں شہباز شریف کے دورِ وزارتِ اعلیٰ (پنجاب) میں ہوا تھا۔ اب اسے وفاقی سطح پر بھی پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ سکول بورڈنگ (رہائشی) اداروں کے طرز پر بنائے گئے ہیں، جہاں پسماندہ اضلاع کے غریب، یتیم اور مستحق بچوں کو مفت رہائش، کھانا، کپڑے اور اعلیٰ معیار کی جدید تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
دانش سکولوں کے لیے علیحدہ سے اتنا خطیر بجٹ رکھنے پر ہمیشہ سے شدید بحث اور تنقید ہوتی رہی ہے، جس کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
اشرافیہ طرز کا ماڈل (Elite Model for the Poor): دانش سکول کا ماڈل عام سرکاری سکولوں سے بالکل مختلف ہے۔ ایک دانش سکول کے بچے پر ماہانہ اور سالانہ اخراجات عام سرکاری سکول کے بچے کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ وہاں پبلک سکولوں جیسا ماحول نہیں بلکہ کیڈٹ کالجوں جیسی سہولیات دی جاتی ہیں۔
سیاسی ترجیح اور وفاق کا دائرہ اختیار: چونکہ یہ موجودہ حکمران جماعت (مسلم لیگ ن) اور بالخصوص وزیرِ اعظم کا ایک پسندیدہ (Pet Project) منصوبہ ہے، اس لیے وفاقی بجٹ میں اس کے لیے خصوصی حصہ رکھا گیا ہے۔ اب وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں (جیسے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع) میں بھی دانش اسکولز قائم کیے جا رہے ہیں۔
ایک ماہرِ تعلیم اور عام شہری کے نقطہ نظر سے اس ماڈل پر سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ:
ہزاروں تباہ حال سکولوں کو سدھارنے کے بجائے، چند گنتی کے سکولوں پر اربوں روپے لگانا کہاں کی دانشمندی ہے؟
ملک بھر کے تمام وفاقی اسکولوں اور کالجوں کے لیے مجموعی طور پر 26.3 ارب روپے ہیں (جس سے ہزاروں سکولوں کی چھتیں، چاردیواری، پینے کا پانی اور اساتذہ کی تنخواہیں پوری ہونی ہیں)، تو دوسری طرف صرف چند دانش سکولوں کے لیے 22 ارب روپے الگ سے رکھ دیے گئے ہیں۔
یہ پالیسی تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم سے ملک بھر کے سینکڑوں موجودہ سرکاری سکولوں کا بنیادی ڈھانچہ اور وہاں سائنس لیبارٹریز کو بہتر بنایا جا سکتا تھا، جس سے لاکھوں بچوں کو فائدہ ہوتا، بجائے اس کے کہ چند مخصوص اسکولوں پر بجٹ کا بڑا حصہ نچھاور کر دیا جائے۔
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.
Emplacement
Contacter l'école
Téléphone
Site Web
Adresse
Sarkol 3
Democratic Republic Of The
CHAKISAR1