Noor Ul Quraan Institute66

Noor Ul Quraan Institute66 اسلامی معلومات کا خزانہ۔۔۔جب تم قرآن پڑھو تو :*
☆*اسے خوبصورتی سے پڑھنے کی کوشش کرو۔* ☆*اس کے معنی میں غوروفکر کرو اور الله سے ڈرتے ہوئے خشوع میں ڈوب کر پڑھو۔*

20/08/2026

*✍ جنت کا سارا سفر صبر کا سفر ہے، جنت میں وہی پہنچے گا جو صبر کی تلخیوں کو سہنے کے لئے تیار ہو، جو جذبات کی پامالی پر بھی ہمت نہ ہارے، جو نفس کی ہر چوٹ کو اپنے سینے میں چھپا لے ـ ۔ ۔!!!🌴*

*☚ خـوش رہیں، خـوشیاں بانٹیں ۔🌱*

30/07/2026

کیا تم ہر وقت تھکے رہتے ہو؟
کچھ تھکن جسم کی ہوتی ہے۔۔
کچھ تھکن... "لوگ کیا کہیں گے؟" اٹھاتے اٹھاتے آجاتی ہیں۔
کچھ تھکن... ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش سے آتی ہیں۔
اور کچھ تھکن... اپنے اصل وجود کو چھپا کر جینے سے آتی ہیں۔
نفسیات کہتی ہے کہ Fake identity ذہن کو مسلسل کھاتی رہتی ہے۔ اسلئے قرآن بار بار انسان کو اخلاص کی دعوت دیتا ہے۔
جو انسان اللہ کے لیے جینا سیکھ لیتا ہے، وہ لوگوں کو خوش کرنے کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔
آج کا سوال... کیا میں واقعی اللہ کو راضی کرنے میں مصروف ہوں... یا لوگوں کو؟

28/07/2026

تجوید کورس | اپنے علمِ تجوید کو نکھاریں!
کیا آپ قرآنِ کریم کی تلاوت صحیح تجوید کے ساتھ کرتے ہیں؟
آئیے! علمِ تجوید سیکھیں ، نئی معلومات حاصل کریں اور اپنی تلاوت کو مزید خوبصورت بنائیں۔

اس کورس میں شرکت کرکے آپ:
اپنے علمِ تجوید کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
تلفظ اور تجوید کی غلطیوں کی اصلاح کر سکتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی درست تلاوت میں اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔
ہر سبق کے ذریعے ایک نئی بات سیکھ سکتے ہیں۔

💬

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔"
(صحیح بخاری)

🌸 Al Nas Online Quran Academy
صرف بچوں اور خواتین کے لیے آن لائن قرآن کلاسز

📚 ناظرہ قرآن • تجوید • حفظ القرآن • نماز • مسنون دعائیں • اسلامی تعلیمات

0346 5612232
📖 تجوید کوئز | اپنے علمِ تجوید کو آزمائیں!
کیا آپ قرآنِ کریم کی تلاوت صحیح تجوید کے ساتھ کرتے ہیں؟
آئیے! اپنے علمِ تجوید کو پرکھیں، نئی معلومات حاصل کریں اور اپنی تلاوت کو مزید خوبصورت بنائیں۔

اس کوئز میں شرکت کرکے آپ:
اپنے علمِ تجوید کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
تلفظ اور تجوید کی غلطیوں کی اصلاح کر سکتے ہیں۔
قرآنِ کریم کی درست تلاوت میں اعتماد حاصل کر سکتے ہیں۔
ہر سوال کے ذریعے ایک نئی بات سیکھ سکتے ہیں۔

💬 اپنا جواب کمنٹس میں ضرور لکھیں اور دیکھیں کہ آپ کا جواب درست ہے یا نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔"
(صحیح بخاری)

🌸 Al Nas Online Quran Academy
صرف بچوں اور خواتین کے لیے آن لائن قرآن کلاسز

📚 ناظرہ قرآن • تجوید • حفظ القرآن • نماز • مسنون دعائیں • اسلامی تعلیمات

03427668648

علمِ قرآن کو عام کریں، اس پوسٹ کو اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔












علمِ قرآن کو عام کریں، اس پوسٹ کو اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔









25/07/2026

کبھی کبھی ہم کوئی حرام کام کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہم پہلے سے ہی وہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور شیطان ہمیں قدم پر بہکا رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کہ ہم کچھ غلط کر رہے ہیں...

ہم اتنے زیادہ خوداعتماد ہو جاتے ہیں کہ جو بھی کر رہے ہیں وہ ہمیں صحیح ہی لگتا ہے۔ اس لیے اتنا overconfident نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کے پاس علم ہے، آپ کے پاس عقل ہے جو آپ کو بتا سکتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط...

لیکن ہم اس بات پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ ہم سمجھتے ہیں جو سب کر رہے ہیں وہی صحیح ہے...
مطلب اگر کوئی آپ سے کہے کہ کسی کا قتل کر دو تو ظاہر ہے آپ نہیں کریں گے، کیونکہ آپ کو پتا ہے یہ غیر قانونی ہے۔ لیکن اسی جگہ اگر آپ کوئی حرام کام کر رہے ہیں، مثلاً _relationships_، تو آپ کو یہ بات کیوں محسوس نہیں ہوتی کہ یہ حرام ہے؟

*اور حرام کا مطلب حرام ہی ہے...❗*
*آپ کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں...🪶*
*آپ اسے بدل نہیں سکتے...🔖*

📖 Learn the Holy Qur'an at Home!
With highly qualified and experienced tutors (Online Classes)

📚 Courses we Offered:

✨Nazra Qur'an

✨ Memorization

✨ Translation & Tafseer

✨ Tajweed

📞 Contact:
+92 342 7668648

📖 گھر بیٹھے قرآن پاک سیکھیں!
ماہر اور تجربہ کار اساتذہ کے ساتھ (آن لائن کلاسز)

📚 کورسز جو ہم آپ کو پیش کر رہے ہیں:

⚡حفظ و ناظرہ قرآن پاک

⚡ ترجمہ و تفسیر

⚡ تجوید

📞 رابطہ نمبر:
+92 342 7668648

🌐 Join Our WhatsApp Group:
Click Here to Join

https://chat.whatsapp.com/LZs3Yqreymt0ngjhuZIorw?mode=r_c

25/07/2026

_: *ضرورت سے زیادہ سوچنا ایک روحانی بیماری ہے۔*_
اسلام میں اس کا ایک نام ہے۔ اور اس کا ایک خاص علاج بھی ہے۔
اسلام میں حد سے زیادہ سوچتے رہنے کا ایک نام ہے:
وسوسہ ۔
وہ خاموش، بار بار آنے والی سرگوشی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے واضح طور پر بیان فرمایا ، وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو پیچھے ہٹ جاتا ہے“ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
( سورة الناس 114-4)
وہ مسلسل چلنے والا ذہنی چکر ... اسلام نے اسے نظر انداز نہیں کیا۔ بلکہ اس کا نام رکھا۔
تو پھر حقیقت میں یہ کیا ہے؟
وسوسہ شور مچاتا ہوا نہیں آتا۔ یہ آپ کے اپنے ہی خیالات میں گھل مل جاتا ہے۔
یہ آپ کو ہر چیز پر شک میں ڈال دیتا ہے
، آپ کی نیت
، آپ کی قدر
حتی کہ آپ کے ایمان تک پر ۔
، ابن القیم نے اسے دل کی ایک بیماری قرار دیا
ایسی بیماری جو اعمال بننے سے پہلے ہی خیالات کو بگاڑ دیتی ہے۔
اور پھر اس کا علاج آتا ہے۔
: حضرت محمد ﷺ نے اسے مبہم نہیں چھوڑا۔ بلکہ ایک سادہ مگر طاقتور علاج عطا فرمایا
: جب تم میں سے کسی کو وسوسہ آئے، تو وہ کہے“
آمَنْتُبِاللّهِ وَرُسُلِهِ
(صحیح مسلم)
میں اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ “
یہ اُس ذہنی چکر کو توڑ دیتا ہے۔
اور انسان کو دوبارہ یقین کی طرف واپس لے آتا ہے۔
دوسرا علاج : ذکر الہی۔
کبھی کبھار نہیں۔ صرف اُس وقت نہیں جب دل بہت بوجھل ہو ۔
بلکہ مسلسل اللہ کو یاد کرنا۔
: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ “
(سورة الرعد 13:28)
جو لفظ استعمال ہوا ہے “ تطمئن ” ۔
اس کا مطلب ہے گہرا، مضبوط اور ٹھہرا ہوا سکون۔
صرف وقتی اطمینان نہیں۔
بلکہ ایسا دل جو واقعی پرسکون اور ثابت قدم ہو جائے۔
اور یہی ایک بے چین، حد سے زیادہ سوچنے والے ذہن کی ضد ہے۔
سمجھ لو بات بالکل واضح ہے :
تمہاری شناخت نہیں ہے۔ (Overthinking) زیادہ سوچنا یہ صرف ایک کیفیت ہے جو تم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اسلام نے صرف اس کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ اس کا واضح حل بھی بتایا ہے۔
نہ کوئی شارٹ کٹ طریقے۔
نہ وقتی "ہیکس"۔
بلکہ اصل حل _ تعلق کے ذریعے
اللہ سے تعلق، ذکر، دعا، اور رجوع۔
اور جب حل "Connection "ہو جائے، تو پھر سب کچھ بدل جاتا ہے۔

24/07/2026

_*🌴انســــان کو ہر راستے پر چلنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر یــــہ بھی بتا دیا گیا ہے کــــہ کس راستے پر چلنے کا انجام کیا ہو گا اگر انســــان یا در کھ سکے کــــہ ہر راستے کا اختتام میدان حشر پر ہوتا ہے اور میں جس طرف سے بھی گزر کر جاؤں کا سامنے اللــــہ کی عدالتــــ برپا ہوگی وہ ہزاروں گنا ہوں سے بچ سکتا ہے اور ہزاروں نیکیوں کی سعادتــــ بھی حاصل کــــر سکتا ہے*_

21/07/2026

اذان کے ہر لفظ کا جواب دیا جاتا ہے، لیکن "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" کے جواب میں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کیوں کہا جاتا ہے؟
اذان اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک ہے۔ جب مؤذن اذان دیتا ہے تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بھی اذان کے الفاظ کا جواب دیں۔ چنانچہ جب مؤذن "الله أكبر" کہتا ہے تو ہم بھی "الله أكبر" کہتے ہیں، اور جب وہ "أشهد أن لا إله إلا الله" اور "أشهد أن محمدًا رسول الله" کہتا ہے تو ہم بھی یہی الفاظ دہراتے ہیں۔
لیکن جب مؤذن "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" (نماز کی طرف آؤ) اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" (کامیابی کی طرف آؤ) کہتا ہے تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ الفاظ دہرانے کے بجائے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کہنے کی تعلیم دی ہے۔
اس کی وجہ کیا ہے؟
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" اذان کے وہ الفاظ ہیں جو لوگوں کو نماز اور کامیابی کی طرف بلانے کے لیے کہے جاتے ہیں۔ یہ ایک دعوت اور پکار ہے۔
مؤذن اس وقت لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوتا ہے، جبکہ اذان سننے والا اس دعوت کو قبول کرنے والا ہوتا ہے، دعوت دینے والا نہیں۔ اسی لیے اسے یہی الفاظ دہرانے کا حکم نہیں دیا گیا۔
اس کے بجائے وہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کہتا ہے، جس کا مطلب ہے:
"اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت۔"
گویا بندہ یہ اقرار کرتا ہے:
"اے اللہ! میں تیری مدد کے بغیر نماز کی طرف نہیں آ سکتا اور نہ ہی حقیقی کامیابی حاصل کر سکتا ہوں۔ مجھے اپنی عبادت کی توفیق عطا فرما۔"
حدیث کی روشنی میں
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب مؤذن "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" کہے تو تم "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" کہو۔
اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
یہ تعلیم ہمیں عاجزی، اللہ پر بھروسہ اور اس کی مدد طلب کرنے کا سبق دیتی ہے۔ بندہ یہ اعتراف کرتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مدد نہ فرمائے تو وہ نماز پڑھنے، نیکی کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے قابل نہیں۔
لہٰذا جب بھی اذان سنیں تو پوری توجہ سے اس کا جواب دیں، اور "حَيَّ عَلَى الصَّلَاة" اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاح" کے جواب میں "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" پڑھیں۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، اور اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اذان کا احترام کرنے، اس کا صحیح جواب دینے اور نماز کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔

❤️ آمین‎ ‎یا ربّ العالمين ❤️

02/07/2026

*[📜واقعہ کربلا...✍︎]*

*|قسط1|*

*موضوع:"حبیب خدا ﷺ کی بارگاہ میں فضل شہادت کی حاضری// فضائل امام حسن و حسین رضی اللہ تعالی عنہا"*

*═✧⁦تاریخ اسلام✧⁦═*
• ہمارے حضور پرنو سرور عالم ﷺ کو اللّٰہ تعالی نے تمام کمالات وصفات کا مجمع خلق فرمایا۔ حضور ﷺ کے سے اوصاف حمیدہ و خصائل پسندیدہ کسی ملک کسی بشر کسی رسول کسی پیغمبر میں ممکن نہیں بنظرِ ظاہر ، صرف فضل شہادت ، اس بارگاہ عرش اشتباہ کی حاضری سے محروم رہا۔ اس کی نسبت علمائے کرام کا خیال ہے اور کتنا نفیس خیال ہے کہ جنگ اُحُد شریف میں اس روح مصور، جان مجسم ﷺ کا دندان مبارک شہید ہونا سب شہیدوں کی شہادت سے افضل ۔ اور جس وقت حضور پر ﷺ کا تعلق خاطر شہزادوں کے ساتھ خیال میں آتا ہے تو اس امر کے اظہار میں کچھ بھی تامل نہیں رہتا کہ ان حضرات کی شہادت حضور ﷺ ہی کی شہادت ہے اور انہوں نے نیابتًہ اس شرف کو سرسبزی وسرخروئی عطا فرمائی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🔸فضائل امام حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما:*

• ایک بار حضرتِ امامِ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ حاضرِ خدمتِ اقدس ہو کر حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے شانۂ مبارک پر سوار ہوگئے،ایک صاحب نے عرض کی :صاحبزادے آپکی سواری کیسی اچھی سواری ہے۔حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:’’اور سوار کیسا اچھا سوار ہے۔
(📖 سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ، الحدیث ۳۸۰۹، ج۵،ص۴۳۲)

• حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم سجدے میں تھے کہ امامِ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ پشت مبارک سے لپٹ گئے ،حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے سجدے کوطول دیا کہ سراٹھانے سے کہیں گرنہ جائیں۔
(📖 مسند ابی یعلی، مسند انس بن مالک، الحدیث۳۴۱۵، ج۳، ص۲۱)

• امامِ حسن اور امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما کی نسبت ارشاد ہوتا ہے: ’’ہمارے یہ دونوں بیٹے جوانانِ جنت کے سردار ہیں۔‘‘
(📖 سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،الحدیث ۳۷۹۳، ج۵، ص۴۲۶)

• اور فرمایا جاتا ہے : ’’ان کا دوست ہمارا دوست ، ان کا دشمن ہمارا دشمن ہے ۔ ‘‘
(📖 سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ، باب فضل الحسن والحسین، الحدیث ۱۴۳، ج۱، ص۹۶)

• اورفرماتے ہیں : ’’ یہ دونوں عرش کی تلواریں ہیں‘‘۔

• اور فرماتے ہیں : ’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ،اللہ دوست رکھے اسے جو حسین کو دوست رکھے، حسین سبط ہے اسباط سے ۔‘‘
(📖 سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،الحدیث ۳۸۰۰، ج۵،ص۴۲۹)

• ایک روز حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے دہنے زانو پر امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ اور بائیں پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے صاحبزادے حضرتِ ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ بیٹھے تھے،حضرت جبریل علیہ السلام نے حاضر ہو کر عرض کی کہ’’ان دونوں کو خدا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمکے پاس نہ رکھے گاایک کواختیارفرمالیجئے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے امامِ حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی جدائی گوارا نہ فرمائی ،تین دن کے بعد حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتقال ہو گیا۔اس واقعے کے بعد جب حاضر ہوتے،آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم بوسے لیتے اور فرماتے: ’’مَرْحَبًا بِمَنْ فَدَیْتُہٗ بِاِبْنِیْ۔ ایسے کو مرحبا جس پر میں نے اپنا بیٹا قربان کیا۔
(📖 تاریخ بغداد، ج۲، ص۲۰۰، بلفظ’’فدیت من‘‘)
• اور فرماتے ہیں : ’’یہ دونوں میرے بیٹے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ،الٰہی!میں ان کو دوست رکھتا ہوں تو بھی انہیں دوست رکھ اور اسے دوست رکھ جو انہیں دوست رکھے ۔ ‘‘
(📖 سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ، الحدیث۳۷۹۴، ج۵، ص۴۲۷)

• بتول زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتے: ’’میرے دونوں بیٹوں کو لاؤ پھر دونوں کو سونگھتے اور سینۂ انور سے لگالیتے ۔ ‘‘
(📖 سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی محمد الحسن...الخ،الحدیث۳۷۹۷، ج۵، ص۴۲۸ )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*▫️محبوبانِ بارگاہِ الٰہی عزوجل اور قانونِ قدرت:*
• جب حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کے یہ ارشاد اور شہزادوں کی ایسی پاسداریاں ، ناز برداریاں یاد آتی ہیں اور واقعاتِ شہادت پر نظر جاتی ہے تو حسرت کی آنکھوں سے آنسو نہیں ،لہو کی بوندیں ٹپکتی ہیں اورخدا عزوجل کی بے نیازی کا عالم آنکھوں کے سامنے چھا جاتا ہے، یہ مقدس صورتیں خدا عزوجل کی دوست ہیں اور اللہ جل جلالہ کی عادتِ کریمہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں اپنے دوستوں کو بلاؤں میں گھرا رکھتا ہے ۔

• ایک صاحب نے عرض کی کہ’’ میں حضور سے محبت رکھتا ہوں۔ فرمایا: ’’فقر کے لئے مستعد ہوجا۔‘‘ عرض کی: ’’ اللّٰہ تعالٰی کو دوست رکھتا ہوں۔‘‘ ارشاد ہوا: ’’بلا کے لئے آمادہ ہو۔ ‘‘اور فرماتے ہیں : ’’سخت ترین بلا انبیاء علیہم الصلاۃ والثنا پر ہے، پھر جو بہتر ہیں پھر جو بہتر ہیں۔‘‘
(📖 المسند للامام أحمد، الحدیث:۲۷۱۴۷، ج۱۰، ص۳۰۶)

• ہمارے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم کو خدا عزوجل نے اشرف تریں مخلوق بنایا اور محبوبیتِ خاص کا خلعتِ فاخرہ عطا فرمایا ۔اسی وجہ سے دنیا کی جو بلائیں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے اٹھائیں اور جو مصیبتیں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم نے برداشت کیں کسی سے ان کا تحمل ممکن نہیں۔ اللّٰہ اللّٰہ! محبوبیت کی تو وہ ادائیں کہ فرمایا جاتا ہے:’’ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الدُّنْیَا‘‘ اے محبوب! میں اگر تم کو نہ پیدا کرتا تو دنیا ہی کو نہ بناتا ۔
(📖 فردوس الأخبار، الحدیث: ۸۰۹۵، ج۲، ص۴۵۸ ’’بلفظ ماخلقت‘‘)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🔹نوٹ||* صدیاں گزر جانے کے بعد بھی واقعۂ کربلا کا بیان سننے سے دلوں کو جِلا (تازگی)ملتی اور دین پر مَرمٹنے کا جذبہ اُجاگر ہوتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے اس عظیم قربانی کے متعلق بہت سی جھوٹی باتیں گھڑلیں اس وجہ سے علمائے اُمّت نے صحیح اور غلط کو الگ کرنے کے لئے اس واقعہ کے متعلق کتابیں لکھیں،اِن میں سے ایک”آئینہ قیامت“ بھی ہے، یہ مستند کتاب شہنشاہِ سخن، استاذِ زَمَن، برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن کی تصنیف ہے۔
• الحمد للّہ اس کتاب سے ہی واقعہ کربلا کی تحریریں تیار کی جارہی ہے بہت مختصر کتاب کے بارے میں جانیے:
*• کتاب کا نام:* "آئینہ قیامت".
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*• مصنف:* حضرت علامہ مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*• پیش کش:* شعبه تخريج (مجلس المدينة العلمية)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*• ناشر:* مكتبة المدینه فیضان مدینہ محلّہ سودا گران پرانی سبزی منڈی باب المدینہ کراچی
*༻•••═🤲🏻═•••༺*
"واقعہ کربلا کو اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر بیان کرنا درست نہیں ۔
ہر سال نئی کربلا بیان کرنے والے خطیبوں کو نہ سنا جائے۔
بلکہ *ذمہ دار، مستند، معزز، معتبر، صحیح العقیدہ سنی علمائے کرام* سے ہی سنا جائے، بیان کرایا جائے اور علماء حق ہی کی کتابیں ، تحریروں کو ہی پڑھا جائے۔۔۔
*علم دین حاصل کیجیئے*

30/06/2026

مفتی صاحب
گلی محلوں میں بال خریدنے والے آتے ہیں انکو عورتوں کے بال بیچنا کیسا ہے
کیونکہ گھر میں جگہ جگہ ایسے ہی پڑے رہتے ہیں۔
🌼🌼🌼🌹🌹🌹🌹🌼🌼

مرد یا عورت کے بالوں کی خرید وفروخت ناجائز و حرام ہے اورعورتوں کے بالوں میں خرید وفروخت کے علاوہ دوسری برائی یہ بھی ہے کہ عورت کے بال سَر سے جدا ہونے کے بعد بھی شرعاً چھپانا واجب اور ضروری ہوتا ہے، کہ اُن پر نامحرم کی نظر نہ پڑے ، لہٰذا جب بال بیچے جائیں گے تو خریدار اور بعد کے مراحل میں جتنے نامحرم اُن بالوں کو دیکھیں اور چھوئیں گے، اُن سب کا وَبال اور گناہ بھی بیچنے والے پر آئے گا، لہٰذا خریدنے اور بیچنے والے، دونوں کو چاہیے کہ معمولی نفع کے لیے اپنی آخرت برباد اورخدا کو ناراض نہ کریں۔

Adresse

Democratic Republic Of The
63100

Heures d'ouverture

Lundi 06:00 - 22:00
Mardi 06:00 - 22:00
Mercredi 09:00 - 22:00
Jeudi 06:00 - 22:00
Samedi 06:00 - 22:00

Téléphone

+923125922882

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Noor Ul Quraan Institute66 publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Contacter L'école

Envoyer un message à Noor Ul Quraan Institute66:

Raccourcis

Partager