ilyas_ashrafi_

ilyas_ashrafi_ Anyone who wants to learn something can join this page.

الجامعۃ الچشتیہ میران پور کٹرہ شریف شاہجہاں پور یوپی میں یوم رضا کا اہتمام
11/08/2026

الجامعۃ الچشتیہ میران پور کٹرہ شریف شاہجہاں پور یوپی میں یوم رضا کا اہتمام

10/08/2026

❤️💚

09/08/2026

❤️💚 ❤️

الجامعۃ الچشتیہ میں تزک و احتشام کے ساتھ یوم اعلیٰ حضرت کا انعقادمحرر: الیاس اشرفی جامعی صدر المدرسین الجامعۃ الچشتیہ می...
09/08/2026

الجامعۃ الچشتیہ میں تزک و احتشام کے ساتھ یوم اعلیٰ حضرت کا انعقاد

محرر: الیاس اشرفی جامعی
صدر المدرسین الجامعۃ الچشتیہ میران پور کٹرہ شریف شاہجہاں پور یوپی

8 اگست 2026ء، بروز ہفتہ بعد نمازِ عصر الجامعۃ الچشتیہ، میران پور کٹرہ شریف، شاہجہاں پور، یوپی میں عاشق رسول ﷺ، امام اہل سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں یوم اعلیٰ حضرت نہایت تزک و احتشام، عقیدت و محبت اور علمی و روحانی فضا میں منعقد ہوا جس میں ادارہ ہذا کے جملہ اساتذہ مفتی تصدق حسین جامعی صاحب، مفتی امیر حمزہ کلیمی ثقافی صاحب، مفتی سمیع الانصاری کلیمی جامعی صاحب، مفتی سمیع الحق اشرفی جامعی صاحب، مولانا قاسم کلیمی مدنی صاحب، حافظ و قاری شفیق الاسلام کلیمی صاحب اور تمام طلبہ بھی شریک رہے۔

محفل کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوئی، جس کے بعد ادارہ ہٰذا کے ایک ہونہار طالب علم سعید علی (جماعت ثالثہ) نے نہایت دل نشیں انداز میں کلام اعلیٰ حضرت پیش کیا۔ اس کے بعد ادارے کے دوسرے طالب علم ارقم کلیمی (جماعت خامسہ) نے بھی بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کرکے محفل کے روح پرور ماحول کو مزید معطر و منور کردیا۔ دونوں طلبہ نے اپنے خوب صورت انداز نعت خوانی سے حاضرین کے دلوں میں عشق رسول ﷺ کی شمعیں فروزاں کر دیں۔

بعد ازاں راقم الحروف کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی حیات علمی و دینی اور ان کی بے مثال خدمات کے مختلف گوشوں پر اظہار خیال کا موقع ملا۔ گفتگو کا مرکزی محور بالخصوص اعلیٰ حضرت کی فقہی بصیرت و ژرف نگاہی، علوم شریعت میں ان کا رسوخ و تبحر، تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے باب میں ان کی بـے مثال غیرت و حمیت، اور دین و سنیت کی حفاظت کے لیے ان کی لازوال علمی و قلمی جدوجہد رہا۔

اس موقع پر یہ بھی عرض کیا گیا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت محض ایک عظیم فقیہ، محدث، مفسر، ادیب یا صاحب قلم عالم کی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسی ہمہ جہت علمی شخصیت تھے جنہوں نے اپنے عہد کے علمی و فکری محاذوں پر پوری قوت کے ساتھ دین متین کی ترجمانی کی۔ بالخصوص تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے باب میں ان کی بیدار مغزی، عشق مصطفیٰ ﷺ کی حرارت اور شریعت مطہرہ کی پاسبانی ان کے علمی کارناموں کا نہایت روشن باب ہے۔

اسی طرح گفتگو میں تدریس و تعلیم اور نسل نو کی علمی و فکری تربیت کے پہلو کو بھی خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے صرف اپنے عہد کی علمی ضرورتوں کو پورا نہیں کیا، بلکہ ایسے رجال علم تیار کیے اور ایسی علمی میراث چھوڑی جس سے بعد کی نسلیں بھی مسلسل فیض یاب ہوتی رہی ہیں۔ ان کی تصانیف، فتاویٰ، تلامذہ اور علمی خدمات آج بھی اہلِ علم کے لیے سرمایۂ افتخار اور طالبان علوم دینیہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔

خطاب کے دوران اعلیٰ حضرت کی حیاتِ مبارکہ کے متعدد علمی، فقہی، ادبی، اصلاحی اور دعوتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی اور اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ یوم اعلیٰ حضرت منانے کا مقصد محض ایک عظیم شخصیت کی یاد تازہ کرنا نہیں، بلکہ ان کے علمی نقوش، عشق رسول ﷺ، دینی غیرت اور تعلیمی و تربیتی اسلوب کو اپنی زندگیوں میں جگہ دینا اور نئی نسل کو اس عظیم علمی ورثے سے روشناس کرانا ہے۔

آخر میں فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا اور بارگاہ رب العزت میں اعلی حضرت کے وسیلے سے خصوصی دعا کی گئی۔ دعا کے ساتھ یہ بابرکت، روح پرور اور یادگار محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کے علوم و افکار سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنے، عشق رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنانے، ناموس رسالت ﷺ کی پاسبانی کرنے اور ان کے علمی و روحانی ورثے کو نسل نو تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

شان سدھارتھ کا شکریہ
06/08/2026

شان سدھارتھ کا شکریہ

04/08/2026

ــــــــــــــــــــ وہ جو چراغِ جامع اشرف تھے ــــــــــــــــــــ

ممتازُ الفقہاء حضرت علامہ بھاگلپوری علیہ الرحمہ کے یومِ وصال پر خراج عقیدت

زمانہ کبھی کبھی ایسی ہستیوں کو جنم دیتا ہے جن کے وجود سے اداروں کو وقار، درسگاہوں کو اعتبار، علمی مجالس کو رونق اور طالبانِ علوم نبویہ کو سمت و رہنمائی نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے، جن کا علم محض کتابوں تک محدود نہیں بلکہ سینوں میں اترنے والا، کردار میں ڈھلنے والا اور نسلوں کو سنوارنے والا ہوتا ہے۔ ایسے ہی نفوسِ قدسیہ میں ایک درخشاں نام ممتاز الفقہاء، جامع معقول و منقول، استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی بھاگلپوری علیہ الرحمہ کا ہے، جن کی یاد آج بھی جامع اشرف کے در و دیوار سے جھانکتی اور ہزاروں شاگردوں کے قلوب کو گرما دیتی ہے۔

آج ٢٠ صفر المظفر ہے؛ وہی تاریخ جس نے تین برس قبل جامع اشرف کے افق سے علم و فضل کے ایک ایسے آفتاب کو غروب ہوتے دیکھا، جس کی شعاعوں سے ایک نہیں بلکہ کئی نسلیں منور ہوئیں۔ اگرچہ قدرت کا یہی اٹل فیصلہ ہے کہ ہر ذی روح نے ایک دن اس دار فانی سے کوچ کرنا ہے، لیکن بعض رحلتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بعد صرف ایک فرد نہیں جاتا، بلکہ علم کا ایک باب بند ہو جاتا ہے، ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور ایک خاموشی مدتوں تک اہل علم کے دلوں میں گونجتی رہتی ہے۔

حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ انہی نابغۂ عصر شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس، فقہ و افتاء، تربیت و اصلاح اور اشاعتِ علومِ اہلِ سنت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی ذات میں علم کی گہرائی بھی تھی اور عمل کی روشنی بھی، تحقیق کا وقار بھی تھا اور اخلاص کی خوشبو بھی، فقاہت کی متانت بھی تھی اور تصوف کی لطافت بھی۔ آپ کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ اکابرینِ اہلِ سنت کی علمی و روحانی روایت آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔

سے آپ کا تعلق صرف ایک مدرس یا صدر شعبۂ افتاء کا نہ تھا، بلکہ آپ اس ادارے کی علمی روایت کے امین، اس کی تدریسی عظمت کے محافظ اور اس کے امتیازی تشخص کے معماروں میں سے تھے۔ جامع اشرف کی علمی فضا میں آپ کی شبانہ روز محنت، خاموش خدمت اور مخلصانہ کاوشوں کی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس ادارے کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی تو حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کا نام نہایت احترام، عقیدت اور امتیاز کے ساتھ لیا جائے گا۔

دورۂ حدیث کی تدریس آپ کا ایسا میدان تھا جس میں آپ کو امتیازی ملکہ حاصل تھا۔ آپ کا درس محض عبارت خوانی نہیں بلکہ فکر و نظر کی تربیت، استنباط احکام کی مشق اور فہم حدیث کی ایک زندہ درسگاہ ہوتا تھا۔ حدیث کے دقیق مباحث ہوں یا فقہی جزئیات، ائمۂ مجتہدین کے اختلافات ہوں یا محدثین کے مناہج، آپ ہر موضوع پر ایسی محققانہ، متوازن اور دلنشیں گفتگو فرماتے کہ طلبہ نہ صرف مسئلہ سمجھتے بلکہ اس کے پس منظر اور اس کے علمی اسرار سے بھی آشنا ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے بے شمار تلامذہ آج بھی اعتراف کرتے ہیں کہ علمِ حدیث کا ذوق، فقہ کی بصیرت اور تحقیق کا سلیقہ انہیں اپنے اسی عظیم استاذ کے زانوئے تلمذ میں نصیب ہوا۔

فقہ و افتاء کے میدان میں بھی آپ کا مقام اہلِ علم سے مخفی نہیں۔ آپ کے قلم سے صادر ہونے والے فتاویٰ محض جوابات نہیں ہوتے تھے بلکہ تحقیق، احتیاط، اصولِ فقہ کی پاسداری اور نصوصِ شرعیہ کے عمیق فہم کا حسین امتزاج ہوتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ افتاء کے منصب کی نزاکت کو ملحوظ رکھا اور ہر مسئلے میں عجلت کے بجائے تدبر، تحقیق اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اہلِ علم آپ کی فقہی بصیرت پر اعتماد کرتے اور آپ کی رائے کو وقعت و اعتبار کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی قوتِ حافظہ، وسعتِ مطالعہ اور حاضر دماغی سے بھی نوازا تھا۔ شاید ہی کوئی علمی موضوع ایسا ہوتا جس پر آپ فی البدیہہ گفتگو نہ فرما سکتے ہوں۔ فقہ، حدیث، تفسیر، عقائد، سیرت، تاریخ، ادب یا دیگر علوم ہر موضوع پر آپ کی خطابت سننے والوں کو اس بات کا احساس دلاتی تھی کہ یہ شخص صرف کتابوں کا قاری نہیں بلکہ علوم اسلامیہ کا ایک زندہ امین ہے۔ آپ کی گفتگو میں علم کی پختگی، استدلال کی قوت اور بیان کی شیرینی اس طرح جمع ہو جاتی کہ سامعین بے اختیار محوِ سماعت رہ جاتے۔

جامع اشرف کی ان علمی روایات میں جن پر آج بھی اہلِ علم بجا طور پر فخر کرتے ہیں، مسابقۂ حفظ احادیث کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس مبارک علمی تحریک کی آبیاری اور اس کے استحکام میں حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ اس مبارک سلسلے کے اہم ارکان اور سرگرم متحرکین میں شمار ہوتے تھے۔ طلبہ کے سینوں کو احادیثِ نبویہ کے انوار سے منور دیکھنا آپ کی قلبی آرزو تھی۔ اسی لیے آپ نہ صرف اس مسابقے کی نگرانی فرماتے بلکہ طلبہ کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور علمی تربیت میں بھی غیر معمولی دلچسپی لیتے تھے۔ آج اس مسابقے کی جو عظمت اور مقبولیت دکھائی دیتی ہے، اس میں حضرت کی خاموش مگر مخلصانہ جدوجہد کا بھی ایک روشن حصہ شامل ہے۔

حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کی شخصیت کا ایک نہایت حسین پہلو ان کی بے نفسی، تواضع اور صوفیانہ مزاج تھا۔ علم و فضل کی اس بلندی پر فائز ہونے کے باوجود ان کی طبیعت میں نہ تکلف تھا، نہ خودنمائی اور نہ منصب کا احساس۔ سادگی ان کا شعار، خاموشی ان کا زیور، اخلاص ان کی پہچان اور خدمتِ دین ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص یہی محسوس کرتا تھا کہ وہ ایک ایسے مرد خدا کی صحبت میں ہے جس کے دل میں علم کے ساتھ خوفِ خدا بھی موجزن ہے۔

جامع اشرف کی علمی اور تدریسی تاریخ کا تذکرہ حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کے بغیر ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ اس ادارے کی ترقی، اس کی علمی وقعت، اس کے تدریسی نظم اور اس کے فقہی ذوق کی آبیاری میں آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جامع اشرف کو صرف اپنا وقت نہیں دیا بلکہ اپنی پوری زندگی، اپنی صلاحیتیں، اپنی فکر اور اپنا اخلاص اس ادارے کے نام کر دیا۔ اسی لیے جامع اشرف کا ہر درد مند طالب علم، ہر فاضل اور ہر وابستہ شخص آپ کو صرف ایک استاذ نہیں بلکہ اس ادارے کے محسنین میں شمار کرتا ہے۔

آج حضرت کے یومِ وصال پر جب ماضی کے دریچے کھلتے ہیں تو درسِ حدیث کی وہ نورانی مجلسیں، افتاء کی وہ باوقار نشستیں، طلبہ کی اصلاح و تربیت کے وہ دل نشیں مناظر اور آپ کی متبسم و باوقار شخصیت نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتی ہے۔ بظاہر چند برس گزر گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی شخصیات وقت کے گزرنے سے فراموش نہیں ہوتیں وہ اپنے شاگردوں کے علم میں، اپنے اخلاق میں، اپنی تربیت میں اور اپنی چھوڑی ہوئی علمی روایت میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

حضرت کی علمی، روحانی اور اخلاقی عظمت کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں، نہ ہی چند اشعار ان کے مقام و مرتبہ کا احاطہ کر سکتے ہیں۔ یہ سطور دراصل ایک ادنیٰ شاگرد کے قلبِ گداز کی وہ کیفیات ہیں جو اپنے عظیم محسن کی یاد میں بے ساختہ صفحۂ قرطاس پر اتر آئیں۔ اگر ان میں کہیں حسنِ بیان یا تاثیر کی کوئی جھلک محسوس ہو تو وہ بھی حضرت ہی کے فیضانِ تربیت کا صدقہ ہے، ورنہ مجھ بندۂ ہیچ مداں کی بساط اس سے کہیں کم ہے۔

اسی احساسِ عقیدت کے ساتھ اپنے استاذ محترم کی شان میں یہ دو اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں:

علمِ حق کے پاسباں مفتی شہاب الدین تھے
فضل کے کوہِ گراں مفتی شہاب الدین تھے

جامعِ اشرف تا دمِ آخر کرے گا جس پہ نـاز
ایسے مـرد بـاصفـا مفتی شـہاب الدیـن تھے

اللہ تعالیٰ حضرت ممتاز الفقہاء، استاذُ العلماء علامہ مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی بھاگلپوری علیہ الرحمہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی قبرِ انور کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، جنت الفردوس میں اپنے مقرب بندوں کا ساتھ عطا فرمائے، ان کے علمی فیضان کو تا قیامت جاری و ساری رکھے اور ہمیں بھی ان کے اخلاص، للّٰہیت، علم اور عمل سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

نتیجۂ فکر: (جموئی، بہار)
صدر المدرسین الجامعۃ الچشتیہ میران پور کٹرا شریف شاہجہاں پور یوپی
٢٠ صفر ١٩٤٨ھ مطابق 4 اگست 2026ء

........ *عجائب عالم ( 18 )**کیا آپ واقعی اس ملک کے شہری ہیں؟*ایک ایسا ملک جہاں درجنوں سرکاری کاغذات رکھنے کے باوجود بھی...
28/07/2026

........ *عجائب عالم ( 18 )*

*کیا آپ واقعی اس ملک کے شہری ہیں؟*

ایک ایسا ملک جہاں درجنوں سرکاری کاغذات رکھنے کے باوجود بھی آپ اپنی شہریت یقینی طور پر ثابت نہیں کر سکتے۔

دنیا میں عجائب عالم کی کوئی کمی نہیں۔ کہیں آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہیں تو کہیں قدرت کے شاہکار مگر آج میں آپ کو پتھروں یا پہاڑوں کا نہیں بلکہ ایک ایسے قانونی اور ریاستی عجوبے سے متعارف کرانا چاہتا ہوں جس نے کروڑوں ہندوستانیوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

ذرا تصور کیجیے... ملک میں این آر سی ( NRC ) سی اے اے ( CAA ) اور ایس آئی آر ( SIR ) جیسی کارروائیوں کا شور ہے
ہر طرف ایک خوف اور بے یقینی کا عالم ہے اس وقت حالات یہ ہیں کہ حکومت جسے چاہے کٹہرے میں کھڑا کر دے اور کہے: ثابت کرو کہ تم ہندوستانی ہو۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر حکومت ثبوت مانگے تو بھارت کا کوئی بھی شہری مکمل یقین کے ساتھ یہ ثابت نہیں کر پائے گا کہ وہ اس مٹی کا بیٹا ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے آج تک کوئی واضح حکم ہے ہی نہیں کہ آخر وہ کون سا کاغذ ہے جسے شہریت کا حتمی ثبوت مانا جائے۔

ذرا تاریخ کے اوراق پلٹیے 1955 تک اس ملک میں شہریت کا کوئی واضح قانون ہی نہیں تھا۔
برطانوی دور کو یاد کیجیے... جب انگریزوں کے زیر تسلط ممالک میں آزادانہ آمد و رفت تھی۔ کوئی ویزا کوئی پاسپورٹ کوئی سرٹیفکیٹ نہیں مانگا جاتا تھا انگریزوں نے اسی دور میں ہمارے لوگوں کو 5 یا 10 سال کے ایگریمنٹ ( معاہدے ) پر مزدور بنا کر باہر بھیجا۔
انگریزی لفظ 'Agreement' عوامی تلفظ میں 'گِرمِٹ' بن گیا اور ان معاہداتی مزدوروں کو 'گرمٹیا' کہا جانے لگا۔
( "پہلا گرمٹیا" کے نام سے ایک مشہور ناول موجود ہے، جسے ہندی کے معروف ادیب گریراج کشور نے لکھا )
یہ گرمٹیا مزدور ملیشیا٬ برما، سنگاپور، ماریشس اور جنوبی افریقہ گئے۔ وہیں خون پسینہ بہایا اور وہیں بس گئے آج بھی ان کے دلوں میں ہندوستانی ثقافت اور زبانیں دھڑکتی ہیں لیکن وہ شہری اب وہیں کے ہو چکے ہیں۔

پھر 1955 میں بھارت سرکار نے پہلی بار قانون بنایا قاعدہ بڑا سادہ تھا جس نے ہندوستان کی مٹی پر جنم لیا وہ ہندوستانی ہے ( چاہے اس کے والدین کوئی بھی ہوں )
مگر پھر اس میں تبدیلیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اب صرف جنم لینا کافی نہیں رہا ماں یا باپ میں سے کسی ایک کا ہندوستانی ہونا بھی شرط ٹھہرا ( اس سے پہلے کوئی غیر ملکی جوڑا بھی یہاں رہتا اور ان کا بچہ پیدا ہوتا تو وہ ہندوستانی کہلاتا تھا )
پھر 2003 میں ایک اور حیران کن تبدیلی آئی اب شرط یہ رکھی گئی کہ ماں باپ دونوں ہندوستانی ہوں یا ایک ہندوستانی ہو اور دوسرا قانونی تارک وطن ہو ( یعنی پاسپورٹ پر یا اجازت لے کر آیا ہو غیر قانونی ہرگز نہ ہو )

اور آج صورتحال کیا ہے؟ ایک ایسا ملک جہاں آپ کے پاس برسوں سے یہ کاغذات موجود ہوں

1: آدھار کارڈ — حکومت کہتی ہے کہ یہ صرف ذاتی شناخت کا ثبوت ہے۔
2: پین کارڈ — یہ تو صرف ٹیکس دہندہ ہونے کا ثبوت ہے۔
3: ووٹر آئی ڈی — یہ صرف ووٹ دینے کے حق کا ثبوت ہے۔
4: راشن کارڈ — یہ تو صرف راشن اور فلاحی سرکاری سہولیات کے لیے ہے۔

اور اب تو حد ہی ہو گئی حال ہی میں بہار میں ایس آئی آر ( SIR ) کے دوران الیکشن کمیشن نے کئی دستاویزات کو ثبوت ماننے سے انکار کر دیا۔ اور اس کے بعد وزارت خارجہ کا وہ فرمان آیا جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا۔

پاسپورٹ صرف سفری دستاویز ہے شہریت کا ثبوت نہیں۔

کیا یہ کسی ناول کی کہانی ہے؟ ذرا سوچیے۔ وہ پاسپورٹ جس کے بننے سے پہلے پولیس آپ کے گھر آتی ہے ایل آئی یو ( LIU ) کی کڑی جانچ ہوتی ہے ہر دستاویز کی باریک بینی سے تصدیق ہوتی ہے جسے کوئی غیر ملکی بنوا ہی نہیں سکتا۔

اگر وہ پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں... تو آخر ثبوت ہے کیا؟

کسی بھی مضبوط جمہوریت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ایک اچھی حکومت اپنے شہریوں کے درمیان کم سے کم الجھن پیدا کرے انہیں مصیبتوں سے نکالے نہ کہ ان کی الجھنوں میں اضافہ کرے وزارت خارجہ کے اس بیان نے کروڑوں شہریوں کی پریشانی بڑھا دی ہے کل کو اگر واقعی کوئی شہریت کا رجسٹر بننے لگا تو ہم کیسے ثابت کریں گے کہ ہم اسی ملک کے باسی ہیں؟

اگر کبھی "عجائب عالم" کی ایک نئی فہرست مرتب کی جائے تو شاید اس میں ایک عجوبہ یہ بھی شامل کیا جائے۔ "دنیا میں ایک ایسا بھی ملک ہے جہاں پاسپورٹ جیسی کڑی جانچ والی دستاویز رکھنے کے باوجود بھی آپ کی شہریت مشکوک ہو سکتی ہے"۔

یہ صرف ایک سوال نہیں بلکہ وقت کی پکار ہے حکومت ہند کو چاہیے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے یا تو ان تمام موجودہ دستاویزات کو شہریت کے ثبوت کے طور پر قبول کیا جائے یا پھر عوامی اور قومی مفاد میں کوئی ایسا نیا ہندوستانی شہریت کارڈ ( Citizenship Certificate ) جاری کیا جائے جو ہر شک و شبہے سے بالاتر ہو۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

✍️ تحریر: سید رضا حنفی
متعلم: جامعہ ہمدرد یونیورسٹی، دہلی

اگر آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:
[email protected]

15/07/2026

آج سے تین سال قبل، یعنی 2023 کا ایک یادگار لمحہ۔
دستارِ فضیلت کی وہ بابرکت تقریب، جس کی حسین یادیں آج بھی دلوں کو تازگی بخشتی ہیں۔

15/06/2026

مَنْ هَابَ خَابَ
جو ڈرا، وہ ناکام ہوا۔
He who , .

Adresse

Badahi
Democratic Republic Of The

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque ilyas_ashrafi_ publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Contacter L'école

Envoyer un message à ilyas_ashrafi_:

Raccourcis

Partager