Mufti Syed Naveed Ullah

Mufti Syed Naveed Ullah

Partager

Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Mufti Syed Naveed Ullah, Site internet éducatif, jamia tur rasheed karachi, Democratic Republic of the.

19/09/2024
06/09/2024

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
’’ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا، فأحسنہ، وأجملہ إلاموضع لبنۃ من زاویۃ، فجعل الناس یطوفون بہ، ویتعجبون لہ، ویقولون: ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ؟ قال: فأنا: اللبنۃ، وأنا خاتم النّبیین۔ (رواہ جماعۃ و رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ: ۳۵۳۵،۱؍۵۰۱)

میری اورمجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل بنایا؛ مگراس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی ،لوگ اس کے اردگردگھومنے اوراس پر عش عش کرنے لگے اوریہ کہنے لگے کہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی ؟(اگرلگادی جائے توکیاہی بہترہوتا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں وہی کونے کی آخری اینٹ ہوں اورمیں نبیوں کے آخرمیں آنے والا ہوں ۔
#ختم نبوت گولڈن جوبلی کانفرنس۔
#ق ا د ی ا ن ی ت کی شکست کا تاریخی دن

15/06/2024

قربانی میں صاحب نصاب غریبوں کے لیے سہولت:
قربانی کے مسئلے میں بہت سے لوگوں کے لیے کافی مشکلات ہیں ،وہ اگر قربانی کریں تو ان کے پاس گھر کے ضروری اخراجات کے لیے رقم نہیں بچ پاتی، لہذاجوشخص چاندی کے حساب کی رو سے صاحب نصاب ہو اور اس کے پاس عیدالاضحی کے مہینے کے ضروری گھریلو اخراجات کے لیے درکار رقم کے علاوہ اتنی رقم ہو جس سے وہ قربانی(اگرچہ بڑے جانور میں حصہ لینے کی صورت میں ہو) کر سکے ،تو اس پر قربانی لازم ہے، اور جس کی آمدن اتنی ہو کہ وہ اگر قربانی کرے تو اس کے پاس ضروری اخراجات کی رقم بھی نہ بچے تو اس پر قربانی لازم نہیں۔

15/06/2024

تکبیرات تشریق:
کل 9 ذی الحجہ ، 16 جون کو فجر کی نماز کے بعد سے ابتداء ہوگی۔
اور 13 ذی الحجہ، 20 جون( عید کے چوتھے دن)عصرکی نماز کے بعد اختتام۔یہ کل 23 نمازیں بنتی ہیں۔

13/06/2024

جن جانوروں کی قربانی جائزنہیں:
(1)۔جس کا ایک یا دونوں سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں۔
(2)جس بھیڑ، بکری کی پیدائشی طور پر دم نہ ہو۔
(3)۔اندھا جانور۔
(4)۔ایسا کانا جانور جس کا کانا پن واضح نظر آتا ہو۔
(5)۔اس قدر لنگڑا جو چل کر قربان گاہ تک نہ پہنچ سکتا ہو، یعنی چلنے میں لنگڑا پاؤں زمین پر نہ ٹیکتا ہو۔
(6)۔ایسا بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو۔
(7)۔جس کے پیدائشی طور پر دونوں یا ایک کان نہ ہو۔
(8)۔جس کی چکتی، دم، کان یا ایک آنکھ کی بینائی کا نصف یا اس سے زیادہ حصہ جاتا رہا ہو۔
(9)۔جس کا ایک پاؤں کٹ گیا ہو۔
(10)۔ جس کے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر گر جانے یا گھس جانے کی وجہ سے چارہ نہ کھاسکتا ہو۔
(11)۔جسے مرض جنون اس حد تک لاحق ہوگیا ہو کہ چارہ بھی نہ کھاسکے۔
(12)۔ایسا خارشی جانور جو بہت دبلا اور کمزور ہو۔ اور خارش کا اثر گوشت تک پہنچ گیا ہو،
(13)۔جس کی ناک کاٹ دی گئی ہو۔
(14)۔ جس کے تھن کاٹ دیئے گئے ہوں۔
(15)۔جس کے تھن اتنے خشک ہوگئے ہوں کہ ان میں دودھ نہ اُترے۔
(16)۔جس گائے کے دو تھن کاٹ دیئے گئے ہوں۔
(17)۔جس بھیڑ، بکری کے ایک تھن کی گھنڈی (سر) جاتی رہی ہو۔
(18)۔جس اونٹنی یا گائے کے دو تھنوں کی گھنڈیاں جاتی رہی ہوں۔
(19)۔جس گائے کی پوری یا تہائی سے زیادہ زبان کاٹ دی گئی ہو۔
(20)۔جَلّالَہْ یعنی جس جانور کی غذا صرف نجاست اور گندگی ہو۔
(21)۔ایسا لاغر اور دبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔
(22)۔خنثیٰ جانور جس میں نر و مادہ دونوں کی علامات ہوں۔

13/06/2024

قربانی میں دودانت کا جانور:
قربانی کے جانور کے دو دانت ہونا ان کی قربانی کے لیے لازم عمر کی محض ایک علامت ہے، قربانی کے لیے لازمی شرط نہیں۔ اس لیے اگر جانورگھر کا پالتو ہو اور عمر پوری ہونے کا یقین ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔
اگر دو دانت نہ ہوں اور فروخت کرنے والا عمر پوری بتاتا ہو، اپنے تجربہ سے عمر پوری معلوم ہو رہی ہو یا فروخت کرنے والے کی بات پر دل مطمئن ہو تو اس کی بات پر اعتماد کر لینا اور اس جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔

12/06/2024

جانوروں کی عمروں کی تفصیل:
قربانی کے اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال، گائے، بھینس کی دو سال اور بھیڑ، بکری، دنبہ کی ایک سال ہونا ضروری ہے۔
البتہ بھیڑ یا دنبہ چھ ماہ کے ہوں مگر اس قدر فربہ( صحت مند اور موٹے) ہوں کہ دیکھنے میں پورے سال کے معلوم ہوتے ہوں، جس کی علامت یہ ہے کہ انہیں سال کی بھیڑوں، دنبوں میں چھوڑ دیا جائے تو دیکھنے والا ان میں فرق نہ کر سکے تو سال سے کم عمر ہونے کے باوجود ان کی قربانی جائز ہے۔ اگر چھ ماہ سے عمر کم ہو تو کسی صورت میں قربانی درست نہیں، خواہ بظاہر کتنے ہی بڑے لگتے ہوں۔

12/06/2024

کن جانوروں کی قربانی جائز ہے؟
قربانی مندرجہ ذیل جانوروں کی ہو سکتی ہے:
اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری، دنبہ، ان جانوروں میں سے ہر ایک کی قربانی درست ہے، خواہ نر ہو یا مادہ یا خصی۔
ان کے سوا کسی دوسرے جانور کی قربانی درست نہیں ،جیسے نیل گائے، ہرن وغیرہ

12/06/2024

قربانی کس پر لازم ہے؟
قربانی کے نصاب میں درجِ ذیل پانچ چیزوں کا حساب لگا یا جائے گا:
1 سونا
2 چاندی
3 نقدی
4 مالِ تجارت
5 ضرورت سے زائد سامان
ضرورت سے زائد لباس اور وہ تمام اشیاء جو محض زیب و زینت یا نمود و نمائش کے لیے گھروں میں رکھی رہتی ہیں یا بہت سے فالتو برتن، کپڑے، بستر یا اس طرح کے ضرورت سے زائد مکان، دوکان یا کوئی بھی پراپرٹی اور دوسری اشیاء جو سال بھر میں ایک مرتبہ بھی استعمال نہیں ہوتیں، زائد از ضرورت ہیں، اس لیے ان سب کی قیمت بھی حساب میں لگائی جائے گی۔
1۔جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے 52تولہ چاندی ہو اس پر قربانی واجب ہے۔
2۔ جس شخص کے پاس نقدی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد مکان، دوکان، پلاٹ یا سامان (تمام چیزوں میں سے کوئی ایک چیز)چاندی کے وزن مذکور کی قیمت کے برابر ہو اس پر بھی قربانی و صدقۂ فطر واجب ہے۔
3۔جس شخص کے پاس مندرجہ بالا پانچ چیزوں میں سے کوئی سی بھی دو یا دو سے زائد چیزوں کا مجموعہ چاندی کے وزن مذکور کی مالیت کے برابر ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔

12/06/2024

قربانی واجب ہونے کی شرائط:
قربانی چھ شرطوں سے واجب ہوتی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:
1۔مسلمان ہونا، غیرمسلم پر قربانی نہیں۔
2۔مقیم ہونا، مسافر پر قربانی واجب نہیں۔
3۔آزاد ہونا، غلام پر قربانی واجب نہیں۔
4۔صاحب نصاب ہونا، مسکین پر قربانی نہیں۔
5۔ بالغ ہونا، نابالغ پر قربانی واجب نہیں۔
6۔عاقل ہونا، مجنون پر قربانی واجب نہیں۔

Vous voulez que votre école soit école la plus cotée à Democratic Republic of the ?

Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.

Téléphone

Site Web

Adresse


Jamia Tur Rasheed Karachi
Democratic Republic Of The