Mälïk Shöükät DK
Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Mälïk Shöükät DK, Formation, Democratic Republic of the.
One day inshallah 💐
18/08/2023
( ماں کی وصال اور میرا حال ٠٠٠(پہلی قسط) ٠٠٠)
تحریر: ( عمرفاروق شاہی)
معروف شاعر عباس تابش کا یہ شعر جب بھی پڑھتا ہوں تو واقعی ماں یاد آجاتی ہے۔ اس کے بقول :
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
ماں کی جدائی کا دکھ ایک ایسا دکھ ہے جو آج بھی میری زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ماں کا رشتہ ہی ایک ایسا عجیب و غریب رشتہ ہے جس میں سوائے محبت، احساس، درد، مددگار، خلوص، اپنائیت، جذبہ، قربانی، ایثار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اسے اولاد سے کچھ ملے نہ ملے لیکن اس کے اپنے خلوص اور محبت میں کوئی کمی نہیں دیکھی جاسکتی۔ 12اگست2022 کو والدہ محترمہ اس دنیا سے رخصت ہوئی تھیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے کل ہی کی بات ہے۔
ان کی وفات سے لے کر آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن والدہ کی محرومی کا احساس نہ ہوا ہو، بس ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ میرے ساتھ ہی کھڑی ہیں۔ والدہ کی خوبی یہ تھی کہ اس کے پاس سوائے محبت کے کچھ نہ تھا۔ اگر کبھی کبھی ڈانتی تھی تو اس میں بھی سوائے محبت کے احساس کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ بقول بونا پارٹ :
حسرتوں کے ہجوم میں اور خوشیوں کے تلاطم میں اپنی ماں کی عظمت کو دیکھو
والدہ کا رشتہ ہی ایسا ہے جو سب کے لیے اہم ہوتا ہے۔ جو لوگ والدین اور بالخصوص والدہ کی محرومی کا شکار ہیں و ہ ہی یہ دکھ وہی محسوس کرسکتے کہ ان کی جدائی کے بعد کی زندگی کیا ہے۔ اگرچہ موت تو برحق ہے اور ہر کسی نے دنیا سے جانا ہے لیکن بعض رشتوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں، مگر رہتے آپ کے ساتھ ہی ہیں۔ یہ میرا یقین ہے کہ جولوگ اپنے والدین سے حقیقی محبت کرتے ہیں وہ اگر دنیا میں بھی نہ ہو تو بچوں کے لیے دعائیں ہی کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہی وہ احساس ہے جو میرے اندر بھی موجود ہے اور محسوس کرتا ہوں کہ آج جو کچھ بھی ہوں اس میں والدین کا حصہ زیادہ ہے۔ آج بھی جب ہمت ہارتا ہوں تو والدہ کی تصویر کی طرف دیکھ کر ان سے ہی باتیں کرتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمت دلاتی ہے او ردعا دے کر حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا کرتی ہے۔۔
ماں کی وصال کے چند مہنے بعد ہی فیملی کا نظام تتر بتر ہوا چاہنے والے بھی دور دور ہونے لگے ایسے حالات میں ایک مشکل کشاں وقت آ پڑا
اپنی تعلیمی اخراجات خود اٹھانا پڑا یا تعلیم کو خیرآباد کرنا پڑا تو ایسے حالات میں فیصلہ کر لیا کہ اپنی تعلیمی اخراجات خود برداشت کر کے تعلیم سے منسلک ہو جاؤں تاکہ مجھے کم از کم یہ تو پتہ چل جائے کہ دنیا میں انسان کیوں ائے ہیں ؟
تعلیم کے سلسلے میں مجھے پردیش میں جانا پڑا کیونکہ ہمارے علاقے میں وہ سہولیات میسر نہ تھی کہ بندہ خود کما کر تعلیم سے منسلک ہو جائے میں گلگت سے سیدھا ٹکٹ کر کے پنڈی ایا جہاں ایک تعلیمی ادارے میں داخلے جاری تھے معلوم ہوا کہ ادارے نے ایڈمیشن لینے کے لے ٹیسٹ رکھی ہوئی ہے ادارے کے اندر قدم رکھتے ہی ایک داریلی لڑکے سے معلاقات ہوئی اس نے بتایا کہ ٹیسٹ کے لے فارام جمع کرنے کا اج آخری ڈیٹ ہے تو میں نے فورا اپنے ڈاکومنس ادارہ ھذا میں جمع کیا ادارہ والوں نے کہا کہ دو دن بعد ہی ٹیسٹ ہو گی دو دن بعد ٹیسٹ ہوئی الحمداللہ ٹیسٹ بھی پاس ہوئی اب مسلہ رہا روز گار کا ٫ ادھر ادھر کمپنیوں میں رروزگار کا پوچھا لکین بہرحال پنڈی میں مجھے کوئی روزگار نہیں ملا اب آخری راستہ میرے لے کراچی تھا کہا جاتا ہے کہ "کراچی غریبوں کی ماں ہے " پھر میں نے اپنے پھوپی زاد کزن مولوی ریاض سے رابطہ کر کے کراچی کے لے سفر عزم باندھ لیا کراچی میں ایک مہینہ مولوی ریاض کے پاس رہا لکین میرے لے کوئی روزگار کا سراخ نہ ملا اسی آشنا میں٫ فیڈرل اردو یونیورسٹی میں داخلے کے لے اپنے فارام جمع کرایا اور مجھے ایک کمپنی میں جاب بھی مل گیئ مجھے جاب کرتے ہوئے اکیس دن گزرے تھے کہ یونیورسٹی والوں کی طرف سے پیغام ایا کہ مبارک ہو اپ کو فیڈرل یونیورسٹی میں اوپن میڑٹ پر داخلہ مل چکی ہے لہذا 22000 فیس کے ساتھ اپنے تحقیق شدہ فارام ادارہ ھذا میں جمع کرائے ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی کیونکہ مجھے سلری بھی نہیں ملی تھی کہ یونیورسٹی کی طرف سے پیغام ایا ۔
پریشان حال رہا بالاآخر یہ سوچ لیا کہ اگلے سال میں فیس سب کچھ برابر کر کے ایڈمیشن لوں گا اللہ جانے اس بات کا علم چاچا زاد کزن اسرافیل کو ہوا اس نے مجھے کال کر کے بتایا کہ میں اپ کی فی ادا کروں گا جب اپ کے حالات ٹھیک ہوئے تو مجھے کم کم کر کے لوٹا دو یہ یہ جملہ سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی الحمداللہ اب فیڈرل اردو یونیورسٹی میں تعلیم سے منسلک ہوں اور کزن اسرافیل کی دی ہوئی فیس دو ماہ بعد اس کو لوٹا دی۔
کمپنی میں جاب کرتے ہوئے تین مہنے گزر چکے تھے کہ کمپنی کے اونر کی سخت مزاجی کی وجہ سے مجھے کمپنی چھوڑنا پڑا ۔
ڈیوٹی چھوڑتے ہوئے دو دن گزر چکے تھے کہ ایک دوست کی طرف سے کال آئی کہ بہادر اباد میں ایک کمپنی میں جگہ خالی ہے کال کاٹتے ہی اس کمپنی کا راستہ پکڑ لیا کمپنی کے دروازے میں پہنچتے ہی ایک گلگتی لڑکے( مزاج سے معلاقات ہوئی وہ بھی خود کما کر تعلیم سے منسلک ہے) وہ بھی اس کمپنی میں کام کر رہا تھا اس نے مجھے کمپنی کے منیجر اشفاق سے ملاوایا جس کا تعلق کشمیر سے ہے اور اعلی درجے کا مالک ہے اور کافی گشت وشنید کے بعد اس نے نرم مزاجی سے بولا کہ کل اکر ڈیوٹی جوئن کر لو۔ وقت گزرتا گیا مذید غموں نے اکر گھیر لیا۔
ایک دن فیملی ممبر کے چشم و چراغ دادا بقدر خان سے فون میں معلاقات ہوئی اس نے سلام کا جواب دیتے ہی فوراً بولا محترم جی کل آپ کا والد صاحب کی عقد ثانی ہے ( یعنی دوسری شادی) کیا اپ نہیں آ رہے ہو میں نے کہا کہ عقد ثانی میں شرکت کرنے کے لے سفر جاری ہے یعنی اس وقت سفر میں ہوں فون کاٹتے ہی اسکا یہ جملہ عقد ثانی میرے دماغ میں گونج رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ امی جان کا انتقال ہوتے سات ماہ ابھی گزرے ہیں اتنی جلدی والد صاحب کی عقد ثانی کیسے ہو سکتی ہے؟
بہرحال یہ جلمہ بار بار میرے دماغ میں گونج رہا تھا اخر مجھے سے رہا نہیں گیا تو اپنے چچا زاد بھائی توصیف احمد کو کال کر کے پوچھا تو اس نے کنفرم کردی تو مجھے ایسے لگا کہ میری ماں ابھی مری ہے اور میرے سامنے ہی اسکی لاش پڑی ہوئیی ہے اب اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ امی جان کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور چھوٹی امی کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔
ابو جان کی عقد ثانی کے دس دن بعد ایک دوست نے مجھے ووٹ سپ کر دی جس میں بڑے بھائی نے اپنی عقد ثانی کی خبر سوشل میڈیا میں شعر کی تھی اس نے لکھا تھا " الحمداللہ عقد ثانی بھی ہوا اور آج دونوں وائف کی معلاقات بھی کرا دی یہ ہوتا ہے اقدام وژن۔
احباب کیا کہتے ہیں"
میں نے سوچا کہ جھوٹ ہے ویسا وہ کئی سالوں سے عقد ثانی کے بارے میں سٹیٹس لگاتا رہتا ہے دو دن کے بعد سٹیٹس کے الفاظ سچ ثابت ہوئے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ بڑے بھائی نے بھی وادی جگلوٹ سے دوسرا پلہ باندھ لیا ہے
اسی آشنا میں ایک اور وردات رونما ہوئی جو بظاہر معمولی سی تھی لکین میری سات ماہ کی محنت اس میں چھپی ہوئی تھی رومیٹ والے سب شب کو دروازہ کھول کر سوئے ہوئے تھے کہ رات کو ڈاکو نے سب کی موبائلز چوری کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے بظاہر یہ چھوٹی سی وردات ہے لکین میری موبائلز کے اندر میرے سارے ڈاکومنس موجود تھے وہ بھی ہاتھ سے دھو بیٹھا انگلش اردو اور اسلامیات کے اسائنمنٹ میں نے موبائل میں لیکھ کر تیار کیا تھا جو صبح پرنٹ آؤوٹ نکال کر یونیورسٹی میں جمع کروانا تھا اور جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی لکین اب کرے تو کیا کرے اخر کار غریبوں کے ساتھ پاکستان میں ظلم ہونا ہی ہے تو۔۔۔۔۔۔۔
پھر اپنے اساتذہ کو وردات کی ساری کہانی سنائی اور انہوں میرے ساتھ بہت کمپرومائس کیا اور کہا کہ کہ ہم اپ کو ڈیٹ دے دیتے ہیں اسی ڈیٹ پر جمع کروا لینا کہا جاتا ہے کہ " اللہ ایک دروازہ بند کر دیتا ہے تو سو اور دروازے کھول دیتا ہے " آخر میں اپنے ایک شعر سے اختتام کر لیتا ہوں۔۔۔
حال دل برباد پہ ہنسنا کون کرے گا۔
یہ کام بھی اپنوں کے سوا اور کون کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری
میرا طریق ہر کسی سے محبت ہے 4472
22/01/2023
پاکستان میں غریب کیلئے تعلیمی نظام
اور کامیابی کی سیڑھی
*دیہاتوں میں ایک کیڑا پایا جاتا ہے جسے گوبر کا کیڑا (گونگٹ) کہا جاتا ہے*
*اسے گائے بھینسوں کے گوبر کی بو بہت پسند ہوتی ہے*
*وہ صبح اٹھ کر گوبر کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور سارا دن جہاں گوبر ملے اس کا گولا بناتا رہتا ہے*
*شام تک اچھا خاصا گولا بن جاتا ہے ﭘﮭﺮ اس گولے کو دھکا دیتے ہوئے اپنی بل تک لے جاتا ہے*
*لیکن بل پر پہنچ کر اسے* *احساس ہوتا ہے کہ گولا تو بڑا بنا اور بل کا سوراخ چھوٹا ہے*
*بہت کوشش کے باوجود بھی گولا بل کے اندر نہیں جا سکتا اور اسے وہیں پر چھوڑ کر اندر چلا جاتا ہے*
*یہی حال ہمارا ہے ساری زندگی حلال حرام کی تمیز کیے بغیردنیا کا مال و متاع جمع کرنے میں ﻟﮕﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ اور جب آخری وقت قریب آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب تو*
*"ﻗﺒﺮ" میں ساتھ نہیں لے جا سکتے ﺍﻭﺭ ﮨﻢ زندگی بھر کی*
*کمائی ﮐو حسرت سے دیکھتے ﮨﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﮯ ہیں.......*
23/07/2022
امام صاحب ابھی نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ کسی نے کہا کہ امام صاحب دعا فرمائیں کہ ملک معاشی حالات ٹھیک ہو جائیں،
امام صاحب نے جیب سے 5000 کا نوٹ نکال کر سب کو دکھایا۔
کہا کہ یہ مجھے گرا ہوا ملا ہے اگر کسی کا ہو تو بتا دے۔ یہ سننا تھا کہ 10,12 بندوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔
امام صاحب نوٹ واپس جیب میں ڈالتے ہوئے بولے یہ میرا ہی نوٹ ہے جو میری بیوی نے آج مجھے سودا،سلف لانے کیلئے دیا تھا۔
پہلے اپنی حرکتیں ٹھیک کریں ملک کے معاشی حالات خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے #
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.
Emplacement
Type
Contacter l'école
Téléphone
Site Web
Adresse
Democratic Republic Of The