تہجد: زندگی کو ٹریک پر لے آئے گی
جب سے ہم نے آنکھ کھولی تھی، اپنی اماں (دادی) کو تہجد پڑھتے دیکھا تھا۔ اور جب تک وہ حیات رہیں، ان کی یہ عادت برقرار رہی۔ وہ بتاتی تھیں کہ ان کو خود بھی یاد نہیں کہ انہوں نے کب تہجد پڑھنا شروع کی تھی۔ غالبا، جوانی میں ہی تہجد ان کی زندگی کا حصہ بن گئی ہو گی۔ جب وہ ہمارے ساتھ کسی اسٹیشن پر رہنے آتیں تو ان کو تہجد کے لیے جگانے کی ذمہ داری ہمارے ابو پر ہوتی تھی۔ ویسے اماں خود بھی پرانے وقتوں کے مطابق خود ہی وقت کا حساب لگا کر اٹھ جاتی تھیں اور ہمارے والد صاحب بھی بلا ناغہ انہیں جگا دیا کرتے تھے لیکن اگر کبھی کبھار والد صاحب کی اپنی آنکھ نہ کھلتی اور اماں تہجد کے لیے نہ اٹھتیں تو وہ سارا دن ابو سے ناراض رہتیں۔ ان سے بات نہ کرتیں کہ اس نے جان بوجھ کر مجھے نہیں جگایا۔
ہمیں بیٹھے بٹھائے اماں اور اماں کی تہجد کیوں یاد آگئی؟ در اصل، پرسوں ہم keystone habit کے بارے میں ایک مقالہ پڑھ رہے تھے۔ کی اسٹون عادت ایسی عادت ہوتی ہے جسے اپنانے سے آپ کی زندگی سنور جاتی ہے۔ یعنی آپ کی بکھری زندگی سمٹ کر ایک ترتیب میں آ جاتی ہے۔ انگریزی میں بولے تو،
Everything will fall into its place.
اس مقالے کی مصنفہ ڈاکٹر تمارا گرے کہتی ہیں کہ ایک مومن کی زندگی میں تہجد اسی کی اسٹون عادت کی حیثیت رکھتی ہے۔
جو شخص تہجد پڑھے گا، اس کا مثبت اثر اس کے پورے دن پر پڑے گا۔ اس کے کام ٹھیک ہوتے چلے جائیں گے۔ شادی نہیں ہو رہی، بچے نہیں ہیں، امتحانات میں کامیابی چاہئیے، نمازیں نہیں پڑھ پا رہے، قرآن سیکھنے میں سستی آڑے آ رہی ہے، رشتوں میں غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں، بچے بات نہیں سنتے، آپ سست محسوس کرتے ہیں، آپ کا کچھ کرنے کو دل نہیں چاہتا، آپ کا دل بے چین ہے، سکون نیں ہے۔۔۔غرض آپ زندگی میں جہاں بھی کھڑے ہیں، جیسی بھی الٹی سیدھی پٹری سے نیچے اتری ہوئی زندگی ہے۔ آپ تہجد پڑھنا شروع کر دیں۔ تہجد پڑھنے کو اپنی عادت بنا لیں۔ ہر چیز اپنی جگہ چلی جائے گی۔ آپ کی زندگی پٹری پر چڑھ جائے گی۔ ہر کام اپنے وقت پر ہوتا چلا جائے گا۔
اٹھنا مشکل لگتا ہے تو ایک پارٹنر ڈھونڈ لیں جو آپ کا ساتھ دے۔ فجر کی اذان سے پندرہ منٹ پہلے اٹھ جائیں۔ دو رکعت نفل پڑھیں۔ لمبے سجدے کریں۔ قیام بے شک فی الحال چھوٹا کریں۔ پانچ منٹ میں دو نفل پڑھے جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ آپ اپنی یاد کی ہوئی سورتیں تہجد میں قیام کے دوران دہرا سکتے ہیں۔
رسول ص نے ایک رکعت میں سورہ بقرہ، سورہ آل عمران اور سورہ نساء پڑھی اور پھر اتنا ہی لمبا رکوع، اتنا ہی لمبا سجدہ کیا۔ تبھی عائشہ ر کہتی ہیں کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ ہم اتنا نہیں پڑھ سکتے لیکن پانچ منٹ کا قیام تو کر سکتے ہیں نا؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں ہر شے اپنی جگہ پر چلی جائے اور زندگی ٹریک پر آجائے تو تہجد کو اپنی عادت بنا لیں۔
اگر کوئی فرض نمازیں نہیں بھی پڑھتا تو وہ بھی تہجد کی عادت اپنا لے، غرض آپ اپنے آپ کا کتنا ہی گناہ گار سمجھتے ہوں آپ بس تہجد اپنا لیں۔ جو صبح تین ساڑھے تین اٹھ کر اپنے رب کے سامنے بیٹھے گا نا، تو وہ فجر بھی پڑھ لے گا، دن بھر نمازوں کا خیال بھی رکھے گا اور کسی بھی گناہ کو کرنے سے پہلے دس بار ضرور سوچے گا۔
سورہ فرقان کی آیت 63 اور 64 میں الله کے بہترین بندوں (عباد الرحمن: عبد مخلوقات میں سب سے اونچا درجہ ہے اور یہ ہی درجہ الله کے رسول محمد ص کو دیا گیا ہے۔) کی خصوصیات کچھ ایسے بیان کی گئی ہیں:
وَ عِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِیۡنَ یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾
اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل اُن سے بات کریں تو کہہ دیتے ہیں سلام ہو۔
اور کیا کرتے ہیں عباد الرحمن؟
وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا
اور جو اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں رات گزارتے ہیں۔
اگر ہم رات کا ایک پہر رب کے سامنے سر بسجود گزاریں تو ہم میں عباد الرحمن والی باقی خصوصیات بھی پیدا ہونے لگیں گی۔ ہم میں نرمی آئے گی۔ ہم بد تمیزی کا جواب تحمل اور حکمت سے دیں گے۔ اس طرح تہجد نہ صرف آپ کی ذات بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایندھن کا کام کرے گی۔
-فاخرہ وحید
Quran Life
In this world full of fitna..... lets move towards Allah subhan let's move towards quran....
22/06/2023
The one and only cure❤️
21/06/2023
Vous voulez que votre école soit école la plus cotée à Democratic Republic of the ?
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.
Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.
Emplacement
Type
Contacter l'école
Téléphone
Site Web
Adresse
Democratic Republic Of The