Al Sana public school Kiri peer ashab paharpur d I Khan

Al Sana public school Kiri peer ashab paharpur d I Khan

Partager

Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Al Sana public school Kiri peer ashab paharpur d I Khan, École, Kiri peer ashab paharpur d I khan, Democratic Republic of the.

14/08/2026

فیملی میں ایک ٹیچر ضرور ہونا چاہئیے۔
کل رات قریبی تبلیغی مرکز میں شب جمعہ کے لئے گئے۔ تین دوست تھے۔ ایک نادرا میں دوسرا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں اور میں ٹیچر۔ کھانا کھانے بیٹھ گئے تو ایک نوجوان آیا۔ ہاتھ میں پلیٹیں تھی۔ قریب پہنچ کر سلام کیا اور پلیٹیں ہمارے سامنے رکھی۔ پرانا سٹوڈنٹ تھا۔ واپس گیا اور شربت کے تین گلاس لیکر آیا۔ میں نے بہت روکا لیکن اس نے سب کچھ ہمارے سامنے رکھا۔ دونوں دوست حیران تھے۔ میں نے کہا میرا سٹوڈنٹ ہے۔
چھوٹے بھائی کی شادی تھی تو والد صاحب اور بڑے بھائی، بھاگ دوڑ میں لگے تھے۔ مجھے روزانہ دو تین ٹاسک ملتے اور شام کو پوچھ گچھ ہوتی۔ شام کو میرا کام مکمل ہوتا۔ کارڈز چھپ کر آگئے۔ دعوتیں بڑے بھائی کے حصے میں آئیں۔ بڑے بھائی ہر شام حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتے تو کوئی نہ کوئی رہ گیا ہوتا۔ ایک دن میں نے لسٹ بنائی اور جو لوگ رہ گئے تھے ان کو الگ کرکے لسٹ بڑے بھائی کو تھمادی۔ والد صاحب ہمیشہ میرے ٹیچنگ کے خلاف رہے ہیں۔ کبھی میرے کام کو اچھا نہیں سمجھا۔ کہتا ہے اس فیلڈ میں پیسے ہیں نہ ہی طاقت۔ اس دن بے اختیار زبان سے نکلا۔ خاندان میں ایک ٹیچر ضرور ہونا چاہئیے۔
تایا زاد کو ہرٹ اٹیک ہوا اور جانبر نہ ہوسکے۔ پنڈی میں رہتے تھے۔ میرے علاؤہ سب گھر والے ان کے پاس ہسپتال میں تھے۔ جب ان کی فوتگی کی اطلاع ملی تو ان کی واپسی تک سب کو اطلاع مل چکی تھی۔ حجرہ تیار تھا۔ تدفین کا سارا انتظام ہوچکا تھا۔ والد صاحب کافی افسردہ تھے۔ ان کے لیے ڈاکٹر، والدہ کا چیک اپ، تدفین کے سارے کام، مہمانوں کے لئے انتظامات سب کچھ میرے ذمے تھا۔ چوتھے دن جب سب لوگ چلے گئے تو والد صاحب نے پاس بلایا اور کہا بھئی ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن تم نے سب کچھ سنبھال لیا۔
بڑے بھائی نے گاڑی لی تو بائیو میٹرک لاہور کے ایک فرد کے نام پر تھا۔ نادرا سے نمبر نکالا۔ بھائی نے کال کی تو کوئی خاتون تھی جن کے شوہر کے نام پر گاڑی رجسٹر تھی۔ انھوں نے اپنے شوہر کو میرے بھائی کا نمبر دیا اور موصوف نے 60 ہزار کی ڈیمانڈ کی۔ اگلے دن میں نے کال کی تو خاتون نے دوبارہ نمبر اٹھایا۔ خاتون اتفاق سے ٹیچر تھی اور میرا نام کہیں سنا تھا۔ میں نے اپنا تعارف کیا تو وہ مجھے جانتی تھی۔ احترام سے بات کی اور ان کے شوہر نے بغیر پیسے لئے بائیو میٹرک کروادی۔
اگلے دن بھائی نے بائیو میٹرک کروائی۔ شام کو سب گھر والے بیٹھے ہوئے تھے تو بھائی نے بے ساختہ کہا۔ یار ہر گھر میں ایک ٹیچر ضرور ہونا چاہئیے۔
پچھلے دنوں بیٹی ہسپتال میں تھی۔ 8 دن وہاں پر رہی۔ اس دوران دوست احباب آتے رہے۔ اسی ہسپتال میں ایک ڈاکٹر میرے سٹوڈنٹس نکلے۔ وی آئی پی پروٹوکول ملتا رہا۔ شام کا کھانا ڈاکٹر کی طرف سے تھا۔ میں نے کئی بار منع کیا لیکن ڈاکٹر صاحب بضد تھے کہ سر، کئی سال بعد تو آپ کی خدمت کا موقع ملا ہے۔ واپسی پر بل بنا تو میں ڈاکٹر سے چپ کر کاؤنٹر پر گیا۔ کاؤنٹر پر لڑکے نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے۔ میں نے ڈانٹ کر بل ادا کیا۔ ڈاکٹر کو پتہ چلا تو وہ ناراض تھا کہ سر ایک ہی بار تو آپ آئے ہو۔ ان کو بھی اسی طرح ڈانٹ پلادی جس طرح کلاس میں کرتا تھا۔ بیچارہ خاموش ہوگیا۔
اس دن مجھے احساس ہوا ٹیچر بننا کسی نعمت سے کم نہیں۔
ہر فیملی میں ایک ٹیچر ضرور ہونا چاہئیے۔

Photos from Al Sana public school Kiri peer ashab paharpur d I Khan 's post 14/08/2026

A Message to My Dear Students on Pakistan’s 79th Independence Day 🇵🇰

As the Principal of this institution, I wish all my dear students a very Happy Independence Day.

Although Pakistan faces many challenges, I carry great hope in my heart because I see its future in you. I firmly believe that you are the generation that will replace hopelessness with courage, ignorance with education, injustice with fairness, and decline with progress.

My dear students, Pakistan does not merely need successful professionals; it needs honest, compassionate, responsible, and courageous citizens. Study with purpose, think critically, respect others, stand against injustice, and use your knowledge to serve humanity and your homeland.

May you become the doctors, engineers, teachers, scientists, entrepreneurs, and leaders who will make Pakistan peaceful, prosperous, and worthy of the dreams of its people.

You are not only the future of Pakistan—you are its hope.

May Allah guide you, protect our homeland, and bless Pakistan with peace, unity, justice, and prosperity. Ameen.

Happy 79th Independence Day! Pakistan Zindabad!
Principal
14 August 2026

06/08/2026

تمھارا وقت ضرور آئے گا
(
پہاڑوں کے دامن میں واقع اس خو ب صورت گاؤں میں ایک جوان رہتا تھا، جسے خدا نے بہت کچھ دے رکھا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ جاری رہتی، وہ جسے بھی دیکھتا تو یوں سمجھتا گویا اس کے پاس تو بہت کچھ ہے لیکن میرے پاس کچھ نہیں۔ آہستہ آہستہ یہ خیال اس کی زندگی پر چھا گیا جس نے اسے مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ وہ اداس اور غمگین رہنے لگا، ایک بار اپنی اس کیفیت سے تنگ آکر اس نے گاؤں چھوڑا اور پہاڑ کی دوسری جانب چلا گیا۔دریا کے کنارے چلتے چلتے اسے ایک جھونپڑی نظرآئی، تجسس کے مارے وہ جھونپڑی کے قریب چلا گیا تو وہاں ایک شخص کو بیٹھے پایا،حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جھونپڑی سامان سے خالی تھی، وہ شخص زمین پر بیٹھا تھا لیکن اس کے چہرے پر بے پناہ اطمینان اور سکون تھا۔ جوان اس کے قریب آیا اور بے اختیار رونے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھا کر آدمی سے کہا،”میری زندگی میں کچھ بھی نہیں ہے جب کہ باقی لوگ مجھ سے ہر چیز میں بہتر ہیں۔“دانا شخص سمجھ گیا کہ جوان کس مسئلے کا شکار ہے۔ اس نے جوان کے سامنے اپنی مٹھی کھولی، اس میں تین عدد بیج تھے۔آدمی نے جوان سے کہا، ”یہ لے جاؤ، انھیں بو دو اور ایک ماہ بعد میرے پاس آنا۔“جوان نے ایسا ہی کیا، وہ روز ان بیجوں کو پانی دیتا، مٹی نرم کرتا اور بے صبری سے ان کے اگنے کا انتظار کرتا۔ ایک مہینے بعد وہ دوبارہ دانا شخص کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ کنول کے بیج سے پھول نکلے ہیں، آم کا ننھا سا پودا بھی نکل آیا ہے... لیکن تیسرا بیج ابھی تک زمین میں ہے۔ دانا نے کہا، ”تیسرا بیج بانس کا ہے، وہ ابھی تک نکلا نہیں لیکن تم کیا سمجھتے ہو کہ وہ بیج بے کار ہے؟ نہیں، ایسا نہیں، بانس کا بیج طویل عرصے تک زمین کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتا رہتا ہے اور پھر اچانک سب سے لمبا ہو جاتا ہے۔ اب اگر آم کابیج کنول سے حسد کرے، یا بانس کا بیج آم سے حسد کرے کہ وہ مجھ سے جلدی نکل آئے ہیں تو یہ غلط ہے۔ انسان کی مثال بھی ایسی ہے۔ کچھ لوگ کنول کی طرح جلد کامیاب ہوجاتے ہیں، کچھ آم کی طرح وقت لیتے ہیں اور کچھ لوگ بانس کی طرح خاموشی سے اپنی بنیادیں مضبوط کرتے رہتے ہیں پھر انھیں ایسی بلندی ملتی ہے کہ لوگ ان پر رشک کرتے ہیں۔ اس لیے دوسروں سے اپنا موازنہ مت کرو، خود کو بہتر بنانے پر توجہ دو، ایک دن تمھارا وقت ضرور آئے گا۔“
موازنہ اور مقابلہ دو ایسے دھوکے ہیں جن میں ہر شخص کہیں نہ کہیں جانے، انجانے میں مبتلا ہو ہی جاتا ہے اور مصیبت یہ ہے کہ انسان کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ دراصل ہمارے ذہن کو ابتداء ہی سے ایسی تربیت ملی ہوتی ہے کہ ہم غیر محسوس طریقے سے ان ”بلاؤں“ کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اس ریس میں جیت گئے تو ہم کامیاب انسان شمار ہوں گے لیکن۔۔۔۔ منزل پر پہنچ کر بھی ہمیں پشیمانی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
”موازنہ“ کا مطلب ہے اپنے آپ کو اور اپنی حاصل شدہ نعمتوں کو ترازوکے ایک پلڑے میں رکھنااور دوسرے پلڑے میں کسی اور شخص کی ذات اور اس کی نعمتوں کو رکھ کر تولنا۔اور اس بات پر کڑھتے رہنا کہ یہ شخص مجھ سے زیادہ اہمیت کیوں رکھتا ہے۔اس کے پاس توفلاں فلاں چیزیں ہیں میرے پاس کیوں نہیں ہیں؟ یہ انسان پر نفس کا پہلا حملہ ہوتا ہے۔وہ جب اس کی زَد میں آجاتا ہے تو اس کے بعد اگلا راونڈ شروع ہوجاتا ہے، جس کو مقابلہ کہا جاتا ہے۔مقابلے کا مطلب ہے خود کو کسی بھی انسان کی سطح پر لاکر اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔نفس کا یہ وار اس قدر مہلک ہوتا ہے کہ مقابلے میں کامیاب ہونے کے لیے انسان خود کو نفسیاتی مریض بنالیتا ہے اور زندگی کے سارے اہم کام نظر انداز کرکے ایک ایسی ریس کا حصہ بن جاتا ہے، جس کا کوئی حاصل نہیں ہوتا۔
موازنہ کیوں کیا جاتا ہے؟
بظاہر ہم دنیا میں جی رہے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت خود سے زیادہ ہم دوسروں کے لیے زندگی گزاررہے ہوتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے۔آپ دیکھیں تو معاشرے میں شوآف کلچر پہلے سے بڑھ گیا ہے اور فیس بک، انسٹاگرام،ٹویٹر کی برکت سے تو اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب انسان کے معیارِ زندگی کا اندازہ اس کی پوسٹوں سے لگایا جاتا ہے۔آپ اگر سوشل میڈیا صارف ہیں تو اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آپ کے دوستوں میں سے سنجیدہ مواد اپ لوڈ کرنے والے افراد کی تعداد انگلیوں پر گننے کے برابر ہے،جبکہ ایک کثیر تعداد ایسی ہے جو صرف اور صرف دِکھاوے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کررہی ہے۔ظاہر بات ہے جب ایک انسان ڈیڑھ لاکھ کا موبائل خرید کر اس کی ان بوکسنگ (Unboxing) کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرے گا تونہ معلوم کتنے لوگوں کے دِلوں میں حسرت کے بیج بوئے گا۔یہاں سے موازنے کاکھیل شروع ہوجاتا ہے۔نفس با ر بار ذہن پر دستک دے کر کہتا ہے:”اپنا موبائل دیکھو،اور اپنے دوست کا، تم اس کے زیادہ حق دار ہو کہ تمہارے پاس ڈیڑھ لاکھ والاآئی فون ہو۔“یہ وار کامیاب ہوتوپھر وہی اگلے راونڈ والی کہانی شروع ہوجاتی ہے۔
شوآف کے کلچر سے ایک نئے ٹرینڈ نے جنم لیا اور یہ کہ کامیابی اور خوشی وہی ہے جسے دنیا مانے۔چنانچہ ہم اس دھوکے میں بھی پھنس گئے اور ہم نے اپنی زندگی کی ترجیحات وہی متعین کیں جو دنیا کو پسند ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہم خود سے دور ہونا شروع ہوگئے۔زندگی ہماری اپنی ہے۔اختیار ہمارے پاس ہے۔جذبات و احساسات ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم جی دنیا کے لیے رہے ہیں۔
موازنے/مقابلے کے نقصانات
ہم اپنی انا کی خاطر جس لاحاصل دوڑ کے کھلاڑی بن جاتے ہیں، وہ ہماری حقیقی زندگی کو کس قدر متاثر کرتی ہے۔ملاحظہ کیجیے:
حقیقی لطف سے محرومی
جب ہم کسی کے ساتھ اپنا موازنہ کرکے مقابلے میں لگ جاتے ہیں تو سب سے پہلی چیز جو ہم سے چھن جاتی ہے وہ ہے:زندگی کا حقیقی لطف و سرور۔ہمارے پاس کھانے پینے، سہولیات،تازہ ہوا، موسم اور رشتوں کی مٹھاس کی صورت میں اللہ کی بے شمار نعمتیں ہوتی ہیں، لیکن ہم ان سے لطف نہیں اٹھاسکتے۔
ترجیحات کا بدلاؤ
اس مرض میں مبتلا انسان اپنی زندگی کی اہم ترجیحات کا تعین نہیں کرسکتا۔اگر اس نے پہلے سے کچھ متعین کی بھی ہیں تو وہ سب اس غلط عادت کی نذر ہوجاتی ہیں اور نتیجے میں اس کے پاس خسارہ ہی ہوتا ہے۔
ناشکراپن
موازنے کی دوڑ میں بھاگنے والا درحقیقت ناشکرے پن کا اظہار کررہا ہوتا ہے۔وہ اس چیز کو حاصل کرنا تو چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے لیکن جو اس کو حاصل ہے،اس پر شکر کرنا بھول جاتا ہے اور ناشکرے انسان سے رب کی رحمت بھی روٹھ جاتی ہے۔
خودغرضی
ایسا انسان خودغرض بن جاتا ہے۔ظاہر ہے وہ صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے اور اس کو اس بات سے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ میرے دوست احباب، میرے بچے اورمیرے اپنوں کو میری کس قدر ضرورت ہے۔
بے سکونی
ایسا شخص اگر اس خودساختہ منزل کو پابھی لے، پھر بھی اس کو سکون نہیں ملتا۔کیونکہ اس ساری تگ و دو میں خودغرضی شامل تھی۔وہ ایک ایسے ہدف کو پالیتا ہے جس کا زندگی کے مقصد سے دو ر دور تک بھی کوئی تعلق نہیں ہوتااور یہ چیز اس کو پچھتاوے میں مبتلا کردیتی ہے۔
موازنہ اور دین اسلام
موازنے اور مقابلے کو سمجھنے کے لیے اگر ہم دین اسلام کے ضابطہ حیات پرنظر دوڑائیں تو ہمیں ایک بہترین حدیث مل جاتی ہے، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا:ان لوگوں کی طرف دیکھو جو دنیاوی اعتبار سے تم سے کم ہوں اور ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہوں۔(سنن الترمذی:2513)
اس سے واضح ہوتاہے کہ اسلام نے موازنے کا معیاردنیا کو نہیں رکھا بلکہ یہ پیغام دیا ہے کہ دنیا کے بجائے دین میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کی جائے۔اس بات کا نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ جب بھی انسان دنیاوی اعتبار سے خود سے برتر لوگوں کو دیکھتا ہے تو اگرچہ اس کے پاس بے تحاشا نعمتیں اور سہولیات ہوں، وہ پھر بھی احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔یہ احساس اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا ہے اور پھر اس کو اپنے پاس موجود نعمتیں بھی نظر نہیں آتیں۔اس کے برعکس اگر اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھا جائے تو پھر انسان کو محسوس ہوجاتا ہے کہ مجھ پر اللہ کی کس قدر عنایات ہیں اور یہ احساس اس کے دِل کو شکر سے لبریز کردیتا ہے۔
اگر آپ نے واقعی اپنی زندگی کو خوبصورت بنانا ہے، اگر اپنے اردگرد موجود نعمتوں سے لطف اندوز ہونا ہے، اگر دِل کو خوشی اورسکون سے بھرنا ہے اور ایک خوشحال انسان بننا ہے تو پھر اس لاحاصل جنگ سے نکل آئیے۔ موازنہ، دوسرے لوگوں سے نہیں بلکہ اپنے ماضی سے کیجیے۔ اپنے آج کو، گزشتہ کل سے بہتر بنائیے۔ یقین جانیے یہ احساس آپ کو ان تمام پریشانیوں سے نجات دلا دے گا جس میں نفس اور خواہش نے آپ کو پھنسائے رکھا ہے۔

05/08/2026

۔
جاپان میں کردار سازی کا ایک سسٹم ہے جس میں وہ نوجوانوں کے اندر 7 خوبیاں پیدا کرتے ہیں۔ اس کو بشیڈو (Bushido) کہا جاتا ہے۔
سب سے پہلی صفت راست بازی اور استقامت کی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اپنی بات پر ڈٹ جانا سکھاتے ہیں۔
دوسری صفت ہمت کی ہے۔ وہ بچوں کو جسمانی اور اخلاقی ہمت کا درس دیتے ہیں۔
تیسری صفت مہربانی کی ہے۔ یہاں وہ بچوں کے اندر رحمدلی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چوتھی صفت احترام کی ہے لیکن ان کے احترام کا کونسپٹ باہمی ہے۔ ہم نے احترام کو یکطرفہ بنا دیا ہے۔
پانچویں صفت سچائی ہے۔
چھٹی صفت عزت نفس کی ہے۔ اس میں دو چیزیں شامل ہیں۔ دوسروں کی عزت کرنا اور اپنی عزت کروانا۔ ہم بچوں کو دوسروں کی عزت کروانا سکھا دیتے ہیں لیکن یہ نہیں سکھاتے کہ اپنی عزت نفس کا خیال رکھنا ذیادہ اہم ہے۔
ساتویں اور آخری صفت وفاداری کی ہے۔
ان سب میں اطاعت شامل نہیں۔
اس کے مقابلے میں ہم اپنے بچوں کو دس باتیں سکھاتے ہیں جن کا کردار سازی اور شخصیت سازی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
ہم اپنے بچوں کو خوف سکھاتے ہیں۔ اساتذہ کا خوف، والدین کا خوف اور اللہ کا خوف۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئیے کہ اساتذہ، والدین اور اللہ سے محبت کی جاتی ہے۔
ہم بچوں کو سوال کرنے کی تربیت نہیں دیتے۔ ہم فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ ہم حرف آخر بتا دیتے ہیں۔ ہم نے جو کہا وہ حق اور سچ کا معیار ہوتا ہے۔ بچہ آگے سے سوچنا ہی بند کردیتا ہے۔
ہم بچے کو علم سے نفرت سکھاتے ہیں۔ میں نے نہیں کیا تو تم کیسے کرلوگے۔ اس کے برعکس ہمیں کہنا چاہئیے کہ میں نہیں کرسکا لیکن تم کرلوگے۔
ہم بچوں کو اطاعت سکھاتے ہیں۔ اطاعت سے علم کا دروازہ بند کرلیتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو بتانا چاہئیے کہ یہاں تک میرا علم تھا لیکن یہ نامکمل ہے۔ آپ جاکے خود دیکھ لو کیونکہ میں غلط ہوسکتا ہوں۔
ہم بچوں کو ناکامی سے ڈراتے ہیں۔ ہمیں بچوں کو بتانا پڑے گا کہ ناکامی ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔
ہم بچوں کی رائے اس وقت قبول کرتے ہیں جب ان کی رائے ہماری رائے کے مطابق ہو۔
ہم بچوں کو مقابلہ سکھاتے ہیں لیکن یہ نہیں سکھاتے کہ سب کو کیسے ساتھ لیکر چلنا ہے۔
ہم نے بہادری کو شجر ممنوعہ قرار دیا ہے۔ ہم ہیلی کاپٹر بن کر سارا وقت بچوں کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں۔
ہم نے جستجو کو دفن کردیا ہے۔ ہم کتاب اور نوٹس سے آگے ہی نہیں بڑھ پائے۔
یہ 10 کام ہم بڑے خشوع و خضوع سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ایسے میں ہمارا بچہ بزدل، کم ہمت، ڈرپوک، سہما ہوا، خائف اور کم حوصلہ نہیں بنے گا تو اور کیا بنے گا؟

20/07/2026

"سمر ویکیشن کا صحیح استعمال" ☀️📝*

السلام علیکم میرے پیارے بچو! 👋

سمر ویکیشن آ گئی ہیں نا؟ بہت مزہ آ رہا ہو گا 😄
لیکن بیٹا یاد رکھو! *چھٹیاں کھیلنے کے لیے نہیں، سیکھنے کے لیے بھی ہوتی ہیں*۔

اسکول نے آپ کو جو *task دیا ہے* 📚 اسے آخری دن پر مت چھوڑنا۔

کیا کرنا ہے؟ بہت آسان 👇
*روز تھوڑا تھوڑا کرو* 👣
آج 2 صفحے یاد کرو، کل 2 صفحے۔
روز کا کام روز کر لو ✍️

اگر آپ پورا دن کھیل کود 🏏 میں لگا دو گے تو بعد میں مشکل ہو گی۔
لیکن اگر تھوڑا تھوڑا کام کر لو گے تو:

1. *سمر ویکیشن کا task ٹائم پر مکمل* ہو جائے گا ✅
2. *سیکنڈ ٹرم آسانی سے شروع* ہو گی 📖
3. *فرسٹ ٹرم کے پیپر میں بھی آسانی* ہو گی 💯

دیکھو! *بوند بوند سے دریا بنتا ہے* 💧
روز 30 منٹ پڑھائی، اور باقی وقت کھیل۔ یہی کامیابی کا راز ہے 💪🌟

تو وعدہ کرو! آج سے روز تھوڑا تھوڑا کام کرو گے۔
اللہ آپ سب کو کامیاب کرے 🤲

شاباش میرے بچو! 👏

-

18/07/2026

*سننا 👂، سوچنا 🧠، پڑھنا 📖 اور لکھنا ✍️* — یہ 4 چیزیں ایک زنجیر کی طرح جڑی ہیں۔

بچہ پہلے لفظ *سنتا* ہے تو آواز یاد ہوتی ہے۔
پھر *دیکھتا* 👀 ہے تو شکل سمجھ آتی ہے۔
*پڑھتا* ہے تو آواز + شکل مل جاتی ہیں۔
اور جب *لکھتا* ہے تو وہ لفظ ہمیشہ کے لیے پکا ہو جاتا ہے۔

بس یہی مضبوط بنیاد ہے ریڈنگ اور رائٹنگ کی 🏗️

اس لیے بچوں کو جلدی مشکل میں نہ ڈالیں۔
*چھوٹے قدم 👣* سے چلائیں۔ ہر قدم آسان اور خوشگوار ہو 😊
یہی بنیاد آگے جا کر بچے کا *اعتماد 💪 اور کامیابی 🌟* بنے

16/07/2026

الفاظ سے جملے، اور جملوں سے تصویر کے بارے میں لکھنا…
سیکھنے کا ایک خوبصورت سفر ۔
ہر نیا قدم اعتماد میں اضافہ

جب بچے کوئی نئی مہارت حاصل کرتے ہیں تو انہیں اپنے آپ پر پہلے سے زیادہ یقین ہونے لگتا ہے۔ یہی چھوٹی کامیابیاں بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہیں۔

اس سفر میں ان والدین کی محنت قابلِ تعریف ہے جو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں، انہیں وقت دیتے ہیں، ان کی رہنمائی کرتے ہیں اور ہر مشکل مرحلے پر ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ اس محنت کی اصل قدر وہی والدین جانتے ہیں جو خود اپنے بچوں کے ساتھ یہ سفر طے کرتے ہیں۔

اسکول اور ٹیوشن اپنی جگہ بہت اہم ہیں، لیکن والدین کی محبت، توجہ اور ذاتی رہنمائی کا کوئی متبادل نہیں۔ جو بات ایک ماں یا باپ اپنے بچے کی ضرورت، مزاج اور صلاحیت کو سمجھتے ہوئے سمجھا سکتا ہے، وہ کوئی اور نہیں سمجھا سکتا۔

اس لیے اپنے بچوں کے لیے روزانہ کچھ وقت ضرور نکالیں۔ چاہے وہ بہترین اسکول میں پڑھتے ہوں یا بہترین ٹیوشن جاتے ہوں، آپ کا ساتھ، آپ کی حوصلہ افزائی اور آپ کی توجہ ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

Vous voulez que votre école soit école la plus cotée à Democratic Republic of the ?

Cliquez ici pour réclamer votre Listage Commercial.

Type

Téléphone

Site Web

Adresse


Kiri Peer Ashab Paharpur D I Khan
Democratic Republic Of The

Heures d'ouverture

Lundi 09:00 - 17:00
Mardi 09:00 - 17:00
Mercredi 09:00 - 17:00
Jeudi 09:00 - 17:00
Vendredi 09:00 - 17:00
Samedi 09:00 - 17:00