10/28/2024
@followers
Providing Quran Interactive Teaching Services worldwide.
*Any where /Any Time. * 24/7 days a week.
10/28/2024
@followers
10/23/2024
10/18/2024
10/17/2024
09/26/2024
https://www.youtube.com/shorts/Z9Neu-f8Oxk
The Quran Easy Tajweed Course Please Support us in fund raising for Palestine!By Joining us in The Quran Easy Tajweed Course. 👉Registration Link :-https://docs.google.com/.../1FAIpQLSe8...
09/24/2024
Please Support us in fund raising for Palestine!
By Registration in The Quran Tajweed Course.
👉Link:
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSe83KVStHEa8o_ob8GQ0dzxWXh4wvQBjTiUcP5YAD1k7Q-AWA/viewform
09/11/2024
کہانی اک شخص کی۔ ۔۔۔
کیا آپ بھی بنی اسرائیل ہیں ؟
کیا تمہارے پاس گاڑی ہے؟
میں نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور چند لمحے تک اسے حیرت سے دیکھتا چلا گیا۔ وہ دانت نکال رہا تھا اور بار بار اپنی داڑھی کھجا رہا تھا۔ پارک میں لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ہلکی ہلکی جاگنگ بھی کر رہے تھے۔ دوپہر مایوس ہو کر رخصت ہو رہی تھی اور شام دھیرے دھیرے مارگلہ کی پہاڑیوں سے نیچے سرک رہی تھی۔ گرم دوپہر کے بعد اسلام آباد کی شام کی اپنی ہی خوب صورتی ، اپنا ہی سکھ ہوتا ہے ۔
میری بچپن کی عادت ہے میں پریشانی یا ٹینشن میں کسی پارک میں چلا جاتا ہوں۔ ایک دو چکر لگاتا ہوں اور پھر کسی بینچ پر چپ چاپ بیٹھ جاتا ہوں۔ وہ بینچ میری ساری ٹینشن، میری ساری پریشانی چوس لیتا ہے اور میں ایک بار پھر تازہ دم ہو کر گھر واپس آ جاتا ہوں ۔ میں اس دن بھی شدید ٹینشن میں تھا۔ میں نے پارک کا چکر لگایا اور سر جھکا کر بینچ پر بیٹھ گیا۔
تھوڑی دیر بعد ایک نیم خواندہ پشتون کسی سائیڈ سے آیا اور بینچ پر میرے ساتھ بیٹھ گیا ۔ اسے شاید بڑبڑانے کی عادت تھی یا پھر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا چنانچہ اس نے مجھے بار بار انگیج کرنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی آٹے کی مہنگائی کا ذکر کرتا تھا، کبھی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا رونا روتا تھا اور کبھی لوگوں کے غیر اسلامی لباس پر تبصرے کرتا تھا۔ میں تھوڑی دیر اس کی لغویات سنتا رہا لیکن جب بات حد سے نکل گئی تو میں نے جیب سے تھوڑے سے روپے نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیے ۔
وہ تھوڑی دیر تک حیرت سے نوٹوں کو دیکھتا رہا، پھر اس نے قہقہہ لگایا۔ نوٹ واپس میرے ہاتھ پر رکھے اور بولا۔
"آپ لوگوں کا بڑا المیہ ہے ،آپ دوسروں کو بھکاری سمجھتے ہیں۔ آپ کا خیال ہوتا ہے آپ کے ساتھ اگر کوئی غریب شخص بات کر رہا ہے تو اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے وہ آپ سے بھیک لینا چاہتا ہے۔
بابو صاحب ! مجھ پر ﷲ کا بڑا کرم ہے۔ چوکی داری کرتا ہوں، روٹی مالک عزوجل دے دیتا ہے اور خرچے کے پیسے مالک عزوجل کے بندے سے مل جاتے ہیں۔ میں بس آپ کو پریشان دیکھ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا تھا۔
میرا والد کہتا تھا پریشان آدمی کو حوصلہ دینا بہت بڑی نیکی ہوتی ہے۔ چنانچہ میں جہاں کسی کو پریشان دیکھتا ہوں میں اس کے پاس بیٹھ جاتا ہوں مگر آپ نے مجھے بھکاری سمجھ لیا۔"
میری حیرت شرمندگی میں بدل گئی اور میں اس سے معافی مانگنے لگا۔ وہ ہنسا اور داڑھی کھجاتے کھجاتے مجھ سے پوچھا۔ "کیا تمہارے پاس گاڑی ہے؟"
میں نے چند لمحوں تک اس سوال پر غور کیا اور پھر جواب دیا۔ "ہاں تین چار ہیں۔
وہ بولا۔ " تم کو پتا ہے آج کل پٹرول کی کیا قیمت ہے؟"
میں نے ہنس کر جواب دیا۔ "مجھے نہیں پتا، ڈرائیور پٹرول ڈلواتا ہے۔"
اس نے قہقہہ لگا کر کہا۔ "اور تم پھر بھی پریشان بیٹھے ہو؟"
میں نے حیرت سے جواب دیا۔
"گاڑی کا پریشانی کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے خان؟"
وہ سنجیدہ ہو کر بولا۔ "بڑا گہرا تعلق ہے۔
کیا مکان تمہارا اپنا ہے۔؟" میں نے جواب دیا۔ "ہاں میرا اپنا ہے بلکہ تین چار ہیں۔"
وہ مسکرایا اور پوچھا "کیا بیوی بچے بھی ہیں؟"
میں نے فوراً ہاں میں جواب دیا۔
اس نے پوچھا۔ "بچہ لوگ کیا کرتے ہیں؟" میں نے جواب دیا "بیٹے اپنا کاروبار کرتے ہیں اور بیٹیاں پڑھ رہی ہیں۔"
اس نے پوچھا " اور کیا تمہاری بیگم صاحبہ کی صحت ٹھیک ہے؟"میں نے فوراً جواب دیا "ہاں الحمد للہ۔ ہم دونوں ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ہمیں اللہ نے مہلک بیماریوں سے بچا رکھا ہے۔"
وہ بولا "اور کیا خرچہ پورا ہو جاتا ہے؟" میں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور جواب دیا "الحمد للہ۔ خرچے کی کبھی تنگی نہیں ہوئی۔"
اس نے قہقہہ لگایا اور میرے بازو پر اپنا کھردرا ہاتھ رکھ کر بولا۔ "اور بابو صاحب آپ اس کے بعد بھی پریشان ہے؟
آپ نے پھر بھی منہ بنا رکھا ہے۔ آپ کو پتا ہے آپ بنی اسرائیل ہو چکے ہیں۔"
میں بے اختیار ہنس پڑا اور پہلی مرتبہ اس کی گفتگو میں دلچسپی لینے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا۔ "میں بنی اسرائیل کیسے ہوگیا اور بنی اسرائیل کیا ہوتا ہے؟"
وہ سنجیدگی سے بولا۔ "آپ اگر قرآن مجید پڑھیں تو اللہ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل سے کہتا ہے
میں نے تمہیں یہ بھی دیا، وہ بھی دیا، ملک بھی دیا، کھیت بھی دیے، دشمنوں سے بھی بچایا، تمہارے لیے آسمان سے کھانا بھی اتارا، باغ اور مکان بھی دیے، عورتیں اور بچے بھی دیے اور غلام اور کنیزیں بھی دیں مگر تم اس کے باوجود ناشکرے ہو گئے۔ تم نے اس کے باوجود میرا احسان نہیں مانا۔
ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں ساری نعمتوں کے بعد بھی جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اس کے احسان یاد نہیں کرتا تو وہ بنی اسرائیل ہو جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرح ذلیل کرتا ہے۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سکون اور امن سے محروم ہو جاتا ہے اور آپ بھی مجھے بنی اسرائیل محسوس ہو رہے ہیں۔ آپ کے پاس اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتیں موجود ہیں مگر آپ ان کے باوجود بینچ پر اداس بیٹھے ہیں۔ مجھے آپ پر ترس آ رہا ہے۔"
اب مجھے جھٹکا سا لگا اور میں شرمندگی اور خوف سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
میں اپنے آپ کو پڑھا لکھا اورتجربہ کار سمجھتا تھا۔ بچپن سے اسلامی کتابیں بھی پڑھ رہا ہوں اور عالموں کی صحبت سے بھی لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں لیکن آپ یقین کریں بنی اسرائیل کی یہ تھیوری میرے لیے بالکل نئی تھی۔ میں نے قرآن مجید میں جب بھی بنی اسرائیل کے الفاظ پڑھے مجھے محسوس ہوا اللہ تعالیٰ ناشکرے اور نافرمان یہودیوں سے مخاطب ہے۔ یہ انھیں اپنے احسانات یاد کرا رہا ہے لیکن کیا ﷲ تعالیٰ کی نظر میں ہر احسان فراموش بنی اسرائیل ہو سکتا ہے اور کیا قدرت اس کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ وادی سینا اور اسرائیل میں کیا تھا۔؟
یہ بات میرے لیے نئی تھی۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا، اس ان پڑھ پشتون کے ہاتھ کو بوسا دیا اور پارک سے چپ چاپ باہر آ گیا۔
میں پورے راستے ﷲ کی ایک ایک نعمت یاد کرتا رہا، اس کا شکر ادا کرتا رہا اور اپنی آستینوں سے اپنے آنسو صاف کرتا رہا۔ میں کیا تھا اور میرے رب نے مجھے کیا بنا دیا مگر میں اس کے بعد بھی..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناشکرا رہا،،
ہہت عُمدہ۔ غافلوں کے لئے ایک سبق آموز تحریر۔ اللّه تعالیٰ ہمیں ہمیشہ شکر کی توفیق عطاء فرماۓ۔ آمین
09/07/2024
09/06/2024
"ہمیں کوئی بھی خوبصورت لفظ کہا جائے تو ہم بیس سال چھوٹے ہو جاتے ہیں،
اور جب کوئی تکلیف دہ بات کہی جائے تو ہم ہزار سال کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔
غلط ہے وہ جو سمجھتا ہے کہ باتیں بس یونہی کہی اور سنی جاتی ہیں۔
باتیں گولی کی مانند ہیں، جو مار ڈالتی ہیں لیکن قانون انہیں سزا نہیں دیتا۔
حقیقت میں دلوں کو زندہ رکھنے والی چیزیں خوبصورت باتیں ہیں،
مہربان الفاظ، نرمی اور محبت، شکر گزاری کا اظہار اور اچانک کی گئی تعریفیں۔
انسان ایک نازک مخلوق ہے،
ایک مہربان بات اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جا سکتی ہے،
اور ایک تکلیف دہ بات اسے زمین پر گرا کر دل کو زندگی میں ہی مار سکتی ہے۔"
جس طرح ایک خوشحال ملک وہ ہوتا ہے جو درآمدات پر انحصار نہ کرے، اسی طرح خوشحال انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات میں مکمل ہو اور اس کے اندرونی وسائل اس کی پوری زندگی کو بھرپور بنائیں۔ وہ دوسروں سے صرف اتنی ہی توقع رکھتا ہے جو اس کی دلجوئی کے لئیے کافی ہو۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ بیرونی ذرائع سے کچھ حاصل کرنے کے لیے ایک بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، اور وہ قیمت ہوتی ہے انحصار اور غلامی۔ ایسے ذرائع عموماً پریشانی اور غم کا باعث بنتے ہیں، اور آخر کار وہ کبھی بھی اس معیار کے نہیں ہوتے جو ہمارے اندرونی وسائل اور صلاحیتیں ہمیں فراہم کرتی ہیں۔
کسی کا دن خراب کر کے اپنا دن اچھا کرنے کی کوشش نہ کریں
کسی سے ایسا سوال نہ کریں جس سے وہ ڈسٹرب ہو جائے۔
کسی کی بھی دکھتی رگ نہ چھیڑیں ایسا کرنا کم ظرفی ہے
طنز نہ کریں
پرسنل زندگی کو کریدنے اور معلومات لینے کی کوشش نہ کریں۔
حال چال پوچھیں، ہنسیں مسکرائیں
اور لوگوں کو بھی مسکراتا ہوا چھوڑیں
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں
رب کریم کی رحمتوں کے سائے میں رہیں۔
09/06/2024
ایک دن موبائل گیلری سے کچھ تصاویر ڈیلیٹ کر رہا تھا۔ اس دوران ایک کال لی اور دوبارہ گیلری اوپن کی تو بے دھیانی میں ایک ٹچ میں تمام تصاویر ویڈیوز ڈیلیٹ ہو گئیں۔
پریشانی میں فیس بک پہ اسٹیٹس دے کر پریشانی کا ذکر کِیا۔ کمنٹس میں کچھ نے اظہار افسوس کِیا اور کچھ نے دوبارہ ڈیٹا ری کور کرنے کا طریقہ بتایا۔
ایک دو نے انباکس مکمل گائیڈینس دی۔ ایک دو ایبز ڈاون لوڈ کی، جن کی مدد سے تمام تصاویر ری کور ہو گئیں۔
میں جیسے جیسے تصاویر دیکھ رہا تھا، آنکھوں کی پتلیاں پھیل رہی تھیں۔ موجودہ تصاویر نہیں، بلکہ اس کے علاوہ بہت پرانی تصاویر بھی لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ جگمگا رہی تھیں۔
میرے ماتھے پہ پسینہ آ گیا، انسان کیا ہے؟
اس کی اوقات کیا ہے؟
ایک پانی کا قطرہ اور اس کے ذہن کی وسعت یہ کہ وہ مِٹا دیا گیا۔ مواد بھی دوبارہ آنکھوں کے سامنے لا کر رکھ دینے کے گُر سکھاتا ہے۔
تو وہ! وہ جس کے قبضہ قدرت میں اس انسان کا ذہن ہے، جو اگر ایک "کُن" کہے تو اس انسان کے ذہن کی تمام صلاحیتوں کو سلب کر لے،پ وہ کتنا طاقتور ہے۔
میری زندگی کے گُزرتے ہر پَل، ہر سیکنڈز کو وہ "ری کور" کر کے یوم حَشر ساری دنیا کے سامنے سینما سے بھی بڑی سکرین پہ لا کر چلوا دینے کی قدرت کیوں نا رکھتا ہو گا۔ وہ دن جب انسان اپنا کِیا دیکھ کر شرم سے اپنے ہی پسینے میں ڈوب جائے گا۔
کفار مذاق اُڑاتے تھے نا کہ کیسی آخرت۔۔۔ کہاں کی آخرت۔ مرنے کے بعد یہ مردہ ہڈیاں دوبارہ کھڑی ہوں گی، حساب کتاب ہو گا۔
آج کا ملحد بھی کہتا ہے، واٹ ربش دیکھو اس مولوی کو۔۔۔ جنت کی خواہش اور آخرت کے ڈر سے اس دنیا کے مزے بھی گنوا رہا ہے۔ اس احمق کو لگتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کی گلی سڑی ہڈیوں کو پھر سے زندہ کِیا جائے اور اس کو اس کا کیا دکھایا جائے گا اور اس کے اچھے اعمال پہ انعام میں جنت اور حور اور سزا پہ جہنم ملے گی۔ دیکھو اس کو۔۔۔!
قرآن پاک کی مختلف آیات تراجم اور مفہوم کے ساتھ دماغ کی اسکرین پہ یکے بعد دیگرے تسلسل سے آنے لگی۔
ایسا کون ہے! جو ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب وہ بالکل گل گئ ہوں۔
(القرآن)
فرما دو کہ انہیں دوبارہ وہی زندہ کرے گا، جس نے پہلی بار پیدا کیا۔
(القرآن)
سوچو تو سہی کہ یہ انسان جو خود سے چاہ بھی نہیں سکتا، جو اس اللّٰه کی چاہ کا محتاج ہے۔ اس کا ذہن ایسی طاقت رکھتا ہے تو جس کا وہ محتاج ہے، اس کی طاقت کا کیا اندازا۔
افلا تتدبرون؟
ابھی بھی وقت ہے، تدبر تو کرو۔ سوچو تو سہی، اس کی طرف لوٹ آؤ، جس کا کوئی شریک نہیں۔ جو قادر ہے، جس کے تابع تمہارے جسم کا ایک ایک عضو ہے۔ اس لامحدود طاقت والے کی طرف لوٹ آؤ۔
وہ کافر تو چودہ سو برس پہلے کہتا تھا کہ جو مِٹ چکا، وہ دوباہ کیسے زندہ ہو سکتا۔ تیری آنکھ تو آج دیکھ سکتی ہے کہ جو مِٹ چکا، وہ کیسے "ری کور" ہوتا ہے۔