Online Master Quran Academy

Online Master Quran Academy

Share

Online Quran Teaching male and female Tutors Available Free Trile for 3 days skype id [email protected] and Gmail: [email protected]

08/23/2026
07/14/2026

السلام علیکم!

آج کل کرپٹو کرنسی، خاص طور پر بٹ کوائن، کے بارے میں ایک سوال بہت زیادہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ حلال ہے یا حرام؟ اس حوالے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں معروف اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی رائے پیش کی ہے۔ آج ہم انہی کے دلائل کو آسان اردو میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

سب سے پہلے ایک بہت اہم غلط فہمی دور کر لیتے ہیں۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے کرپٹو کو صرف اس لیے ناجائز کہا کیونکہ اس کے پیچھے سونا یا کوئی دوسرا اثاثہ موجود نہیں، جبکہ کاغذی کرنسی کے پیچھے سونا ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا کی تقریباً تمام کرنسیاں، جیسے پاکستانی روپیہ، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ یا یورو، سونے سے بیک نہیں ہوتیں۔ انہیں Fiat Currency کہا جاتا ہے۔ ان کی قدر اس لیے ہے کیونکہ حکومت انہیں قانونی کرنسی قرار دیتی ہے اور پورا معاشرہ انہیں قبول کرتا ہے۔

تو پھر مفتی تقی عثمانی صاحب کے اصل دلائل کیا ہیں؟

پہلا نکتہ:
اسلامی فقہ میں ہر چیز پیسہ نہیں بن جاتی۔ کسی چیز کو کرنسی بننے کے لیے ایسی خصوصیات درکار ہوتی ہیں جو اسے ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد ذریعۂ تبادلہ بنائیں۔

دوسرا نکتہ:
ان کے مطابق بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں نہ تو سونے یا چاندی جیسی حقیقی اشیاء ہیں، نہ ہی کسی حکومت یا مرکزی ادارے کی ضمانت کے تحت جاری کی گئی کرنسی ہیں۔ ان کی قیمت صرف اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ لوگ انہیں کتنے میں خریدنے پر تیار ہیں۔

تیسرا نکتہ:
کرپٹو کی قیمت میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ ایک ہی دن میں اس کی قیمت دس، بیس یا تیس فیصد تک بڑھ یا کم ہو سکتی ہے۔ اسلامی شریعت میں ایسی شدید غیر یقینی کیفیت کو غرر کہا جاتا ہے، اور مالی معاملات میں اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔

چوتھا نکتہ:
مفتی صاحب کے مطابق آج کرپٹو استعمال کرنے والوں کی اکثریت اسے خرید کر چیزیں خریدنے کے لیے نہیں بلکہ صرف اس امید پر خریدتی ہے کہ کل اس کی قیمت بڑھ جائے گی اور وہ منافع کما لیں گے۔ یعنی اصل مقصد تجارت نہیں بلکہ قیمت کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانا ہے، جو انہیں سٹے بازی سے مشابہ محسوس ہوتا ہے۔

پانچواں نکتہ:
ان کے مطابق کرپٹو ابھی تک دنیا میں اس حد تک عام اور مستحکم ذریعۂ ادائیگی نہیں بنی کہ اسے اسلامی فقہ میں مکمل کرنسی کا درجہ دیا جا سکے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔

مفتی تقی عثمانی صاحب کی یہ رائے ضرور ہے، لیکن تمام علماء اس سے متفق نہیں ہیں۔ دنیا کے کئی معروف اسلامی اسکالرز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کرپٹو کرنسی حقیقی استعمال رکھتی ہو، لوگوں میں وسیع پیمانے پر قبول کی جاتی ہو، اور اس میں ناجائز یا سٹے بازی والے معاملات نہ ہوں، تو بعض صورتوں میں اسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

یعنی یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں اہلِ علم کے درمیان اختلافِ رائے موجود ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ کس رائے پر عمل کریں؟

اگر آپ مفتی تقی عثمانی صاحب یا ان جیسے علماء کی تقلید کرتے ہیں تو ان کے فتوے کے مطابق کرپٹو سے اجتناب کرنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔

لیکن اگر آپ اس موضوع کو مزید سمجھنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب کے علماء کے دلائل بھی ضرور پڑھیں تاکہ آپ کو دونوں نقطۂ نظر کا مکمل علم ہو۔

آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا کرپٹو مستقبل کی کرنسی ہے یا اس میں واقعی شرعی مسائل موجود ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

10/10/2025

قاری سید جواد حسینی

04/05/2025

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

🌷سورت توبہ بتاتی ہے کہ جب ایمان والوں پر کفر کی طرف سے مشکل گھڑی آتی ہے تو ان میں تین گروہ بن جاتے ہیں۔ پہلا گروہ اُن لوگوں کا ہے جو :
یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ
اپنے مال اور جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور اللہ (ایسے ) متقی لوگوں کو خوب جانتا ہے۔ (سورت توبہ: 44)

دوسرا گروہ اُن لوگوں کا ہے جو جہاد کرنا چاہتے ہیں لیکن اسباب نہیں ہیں، اپنے مسلمان بھائیوں سے کندھے ملا کر کفر کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں لیکن مجبور ہیں کہ لڑ نہیں سکتے، یہ وہ گروہ ہے جس کے جذبے جوان اور بلند ہیں، ہمت مضبوط ہے ، نیت صاف ہے ، دل اپنے مسلمانوں بھائیوں کی محبت سے کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، ان کے بارے میں فرمایا:

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ۪ - تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ
ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ (اے نبی ﷺ !) تمہارے پاس اس غرض سے آئے کہ تم انہیں کوئی سواری مہیا کر دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کر سکوں۔ تو وہ اس حالت میں واپس گئے کہ ان کی آنکھیں اس غم میں آنسوؤں سے بہہ رہی تھیں کہ ان کے پاس خرچ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ (سورت توبہ: 92)

تیسرا گروہ وہ ہے جو مسلمانوں میں رہتا ہے ، لیکن ایمان و کفر کی جنگ میں اپنے آپ کو نیوٹرل سمجھتا ہے، اس کے دل اور ضمیر پر ہوا میں بچوں کی بکھرتی لاشیں، چیختی ماؤں کی صدائیں، آزردہ و زخمی نوجوان، ملبے میں بکھرے قرآن کے اوراق، خون میں لتھڑی زمین، نشانہ بنتی ہسپتالیں اور آگ کے شعلوں سے جلتی گلیاں کچھ بھی اثر نہیں کرتیں، اسے کٹتے مسلمانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ گروہ مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی مسلمانوں کو ہی موردِ الزام ٹھہراتا ہے، اِس کے پاس حق بات نہ کہنے کے ہزار عذر ہیں، یہ زمین کے ساتھ لگ کر زندہ رہنے کو ترجیح دیتا ہے، یہ گلی کے کتے کے مر جانے پر افسوس کرتا ہے لیکن مسلمانوں کو خون میں نہلا دینے کا افسوس نہیں کرتا، یہ بلیوں کے حق پر تو بولتا ہے لیکن معصوم بچوں کے اُدھڑتے جسموں پر زبان گنگ ہو جاتی ہے، یہ اس لیے کہ اس گروہ کے دل پر مہر لگ چکی ہے:

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُۚ-رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِۙ-وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ
الزام تو اُن لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود تم سے اجازت مانگتے ہیں ، وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے انہیں حقیقت کا پتہ نہیں ہے۔ (سورت توبہ: 93)

یہ گروہ ائیر کنڈیشن روم میں بیٹھ کر دیوار پر لگی ایل سی ڈی سے نیوز سن کر کہتا ہے کہ ہم نے تو کہا تھا کہ جنگ کے میدان میں نہ جاؤ، اگر ہماری بات مانتے تو آج یہ حشر نہ ہوتا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْاۚ
اے ایمان والو! ان کافروں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا جب وہ سفر میں یا جہادمیں گئے کہ اگریہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کئے جاتے ۔ (سورت آل عمران: 156)

لیکن اصل بات یہ ہے کہ :

كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ
اللہ نے ان کا اٹھنا پسند ہی نہیں کیا، اس لیے انہیں سست پڑا رہنے دیا اور کہہ دیا گیا کہ جو (اپاہج ہونے کی وجہ سے) بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔ (سورت توبہ: 46)

خدا ہمیں ایسی بے عقل "دانشمندی" سے بچائے اور جب تک جسم میں جان ہے، اہل حق کے ساتھ کھڑا ہونے، ان کی مدد کرنے، ان کےلیے آواز بننے اور (بوقت مجبوری ) ان کے غم میں رونے کی توفیق بخشے ۔ آمین

03/01/2025

سورة الم نشرح۔۔۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Oshawa?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Oshawa, ON