03/22/2026
جشن عید
شکیب جلالی
سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں
کسی نے پھول پروئے کسی نے خار چنے
بنام اذن تکلم بنام جبر سکوت
کسی نے ہونٹ چبائے کسی نے گیت بنے
بڑے غضب کا گلستاں میں جشن عید ہوا
کہیں تو بجلیاں کوندیں کہیں چنار جلے
کہیں کہیں کوئی فانوس بھی نظر آیا
بطور خاص مگر قلب داغ دار جلے
عجب تھی عید خمستاں عجب تھا رنگ نشاط
کسی نے بادہ و ساغر کسی نے اشک پئے
کسی نے اطلس و کمخواب کی قبا پہنی
کسی نے چاک گریباں کسی نے زخم سیے
ہمارے ذوق نظارہ کو عید کے دن بھی
کہیں پہ سایۂ ظلمت کہیں پہ نور ملا
کسی نے دیدہ و دل کے کنول کھلے پائے
کسی کو ساغر احساس چکنا چور ملا
بہ فیض عید بھی پیدا ہوئی نہ یک رنگی
کوئی ملول کوئی غم سے بے نیاز رہا
بڑا غضب ہے خدا وند کوثر و تسنیم
کہ روز عید بھی طبقوں کا امتیاز رہا