جشن عید
شکیب جلالی
سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں
کسی نے پھول پروئے کسی نے خار چنے
بنام اذن تکلم بنام جبر سکوت
کسی نے ہونٹ چبائے کسی نے گیت بنے
بڑے غضب کا گلستاں میں جشن عید ہوا
کہیں تو بجلیاں کوندیں کہیں چنار جلے
کہیں کہیں کوئی فانوس بھی نظر آیا
بطور خاص مگر قلب داغ دار جلے
عجب تھی عید خمستاں عجب تھا رنگ نشاط
کسی نے بادہ و ساغر کسی نے اشک پئے
کسی نے اطلس و کمخواب کی قبا پہنی
کسی نے چاک گریباں کسی نے زخم سیے
ہمارے ذوق نظارہ کو عید کے دن بھی
کہیں پہ سایۂ ظلمت کہیں پہ نور ملا
کسی نے دیدہ و دل کے کنول کھلے پائے
کسی کو ساغر احساس چکنا چور ملا
بہ فیض عید بھی پیدا ہوئی نہ یک رنگی
کوئی ملول کوئی غم سے بے نیاز رہا
بڑا غضب ہے خدا وند کوثر و تسنیم
کہ روز عید بھی طبقوں کا امتیاز رہا
Asma Hassan - Professor
Writer, Poet, Story Teller, Artiste Take an appointment for voice calling via email:[email protected]
restricted to business-related calls only.
I can lead/ design any innovative project related to my field of expertise from scratch. I am also open to work remotely in any interesting & enterprising Private/ Governmental project.
"اظہار اور رسائی"
- ن م راشد
مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤں
بات کہنے کے بہانے ہیں بہت
آدمی کس سے مگر بات کرے؟
بات جب حیلۂ تقریب ملاقات نہ ہو
اور رسائی کہ ہمیشہ سے ہے کوتاہ کمند
بات کی غایت غایات نہ ہو!
ایک ذرہ کف خاکستر کا
شرر جستہ کے مانند کبھی
کسی انجانی تمنا کی خلش سے مسرور
اپنے سینے کے دہکتے ہوئے تنور کی لو سے مجبور
ایک ذرہ کہ ہمیشہ سے ہے خود سے مہجور
کبھی نیرنگ صدا بن کے جھلک اٹھتا ہے
آب و رنگ و خط و محراب کا پیوند کبھی
اور بنتا ہے معانی کا خداوند کبھی
وہ خداوند جو پابستۂ آنات نہ ہو!
اسی اک ذرے کی تابانی سے
کسی سوئے ہوئے رقاص کے دست و پا میں
کانپ اٹھتے ہیں مہ و سال کے نیلے گرداب
اسی اک ذرے کی حیرانی سے
شعر بن جاتے ہیں اک کوزہ گر پیر کے خواب
اسی اک ذرۂ لافانی سے
خشت بے مایہ کو ملتا ہے دوام
بام و در کو وہ سحر جس کی کبھی رات نہ ہو!
آدمی کس سے مگر بات کرے؟
مو قلم، ساز گل تازہ تھرکتے پاؤں
آدمی سوچتا رہ جاتا ہے،
اس قدر بار کہاں، کس کے لیے، کیسے اٹھاؤں
اور پھر کس کے لیے بات کروں؟
انسان سے محبت: #
انسان سے محبت وہی کر سکتا ہے جس پر خدا مہربان ہو ،خدا جب کسی پر بہت مہربان ہو تو اسے اپنے بہت پیارے محبوب کی محبت عطا کر دیتا ہے۔ اللہ کے احسانات میں سب سے بڑا احسان محبت ہے
واصف علی واصف #
اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
علامہ اقبال
( بال جبریل)
اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں
بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں
کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا
مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں
عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
کہہ گئیں راز محبت پردہ داری ہائے شوق
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں
تھی کسی درماندہ رہ رو کی صدائے دردناک
جس کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا میں
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے آبلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی نا خوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند"
- علامہ اقبال
“We need to move beyond the idea of 'environment' and fall back in love with Mother Earth.”
☘️🍁🌿🌹🌱🌹🌴🪻🍃🥀🌺
"اپنے محسن کو نقصان پہنچانے والا کبھی ترقی نہیں کرسکتا."
(ش،س،ح کیلیے)
لوگ خاموش کو اندھا بھی سمجھ لیتے ہیں.
“The World Can’t Ignore Kashmir. We Are All in Danger."
بھر دو جھولی میری یا محمدﷺ
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
- پُرنم الہٰ آبادی:
==============
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو در پہ آیا ہوں بن کر سوالی
حق سے پائی وہ شان کریمی مرحبا دونوں عالم کے والی
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ جس پہ نظر کرم تو نے ڈالی
زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دین حق کی بچا لی
وہ محمد کا پیارا نواسا جس نے سجدے میں گردن کٹا لی
حشر میں ان کو دیکھیں گے جس دم امتی یہ کہیں گے خوشی سے
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد جن کے کندھے پہ ہے کملی کالی
عاشق مصطفیٰ کی اذاں میں اللہ اللہ کتنا اثر تھا
عرش والے بھی سنتے تھے جس کو کیا اذاں تھی اذان بلالی
کاش پرنمؔ دیار نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن
حال غم مصطفیٰ کو سناؤں تھام کر ان کے روضے کی جالی
=====
قوالی
===
بھر دو جھولی… بھر دو جھولی… میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
بھر دو جھولی… ہم سب کی
بھر دو جھولی محمد… بھر دو جھولی آقا جی
بھر دو جھولی، بھر دو جھولی، بھر دو جھولی
تمہارے آستانے سے زمانہ کیا نہیں پاتا
تمہارے آستانے سے زمانہ کیا نہیں پاتا
کوئی بھی در سے خالی مانگنے والا نہیں جاتا
بھر دو جھولی تاجدارِ مدینہ
تم زمانے کے مختار ہو یا نبی
بے کسوں کے مددگار ہو یا نبی
سب کی سنتے ہو اپنے ہوں یا غیر ہوں
سب کی سنتے ہو اپنے ہوں یا غیر ہوں
تم غریبوں کے غم خوار ہو یا نبی
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
ہم ہیں رنج و مصیبت کے مارے ہوئے
سخت مشکل میں ہیں غم سے ہارے ہوئے
یا نبی کچھ خدارا ہمیں بھیک دو
یا نبی کچھ خدارا ہمیں بھیک دو
در پہ آئے ہیں جھولی پسارے ہوئے
بھردو جھولی میری سرکارِ مدینہ
بھردو جھولی میری تاجدارِ مدینہ
ہے مخالف زمانہ کدھر جائیں ہم
حالتِ بے کسی کس کو دکھلائیں ہم
ہم تمہارے بھکاری ہیں یا مصطفی
ہم تمہارے بھکاری ہیں یا مصطفی
کس کے آگے بھلا ہاتھ پھیلائیں ہم
بھردو جھولی میری سرکارِ مدینہ
بھردو جھولی میری تاجدارِ مدینہ
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی (Pauseکے ساتھ)
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو
در پہ آیا ہوں بن کر سوالی
(اٹھانا ہے)
حق سے پائی وہ شانِ کریمی
مرحبا دونوں عالم کے والی… (کئی بار)
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ
جس پہ نظرِ کرم تم نے ڈالی
زندگی بخش دی بندگی کو آبرو دینِ حق کی بچا لی (آبرو دین حق کی بچا لی )Repeat
وہ محمد کا پیارا نواسہ جس نے سجدے میں گردن کٹا لی
زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دینِ حق کی بچا لی
جو ابنِ مرتضیٰ نے کہا خوب ہے
قربانیٔ حسین کا انجام خوب ہے
قربان ہو کے فاطمہ زہرا کے چین نے
دینِ خدا کی شان بڑھائی حسین نے
بخشی ہے جس نے مذہبِ اسلام کو حیا
کتنی عظیم حضرتِ شبیر کی ہے ذات
میدانِِ کربلا میں شہہ خوش خِصال نے
میدانِ کربلا میں شہہ خوش خِصال نے
اور سجدے میں سر کٹا کے محمد کے لعل نے
تو زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دینِ حق کی بچالی
وہ محمد کا پیارا نواسہ
جس نے سجدے میں گردن کٹالی
(اٹھانا)
حشر میں اُن کو دیکھیں گے جس دم
امتی یہ کہیں گے خوشی سے
آرہے ہیں وہ دیکھو محمد
جن کے کاندھے پہ کملی ہے کالی
محشر کے روز پیش خدا ہوں گے جس گھڑی
ہوگی گناہ گاروں میں کس درجہ بے کلی
آتے ہوئے نبی کو جو دیکھیں گے امتی
ایک دوسرے سے سب یہ کہیں گے خوشی خوشی
آرہے ہیں وہ دیکھو محمد (کئی مرتبہ)
جن کے کاندھے پہ کملی ہے کالی
سرِ محشر گنہگاروں سے پرسش جس گھڑی ہوگی
یقیناً ہر بشر کو اپنی بخشش کی پڑی ہوگی
سبھی کو آس اُس دن کملی والے سے لگی ہوگی
کہ ایسے میں محمد کی سواری آرہی ہوگی
کہ ایسے میں محمد کی سواری آرہی ہوگی
پکارے گا زمانہ اُس گھڑی دکھ درد کے مارو
نہ گھبراؤ گنہگارو، نہ گھبراؤ گنہگارو
آرہے ہیں وہ دیکھو محمد
جن کے کاندھے پہ کملی ہے کالی
عاشقِ مصطفی کی اذانیں اللہ اللہ کتنا اثر تھا
سچا یہ واقعہ ہے اذانِ بلال کا
اک دن رسولِ پاک سے لوگوں نے یوں کہا
یا مصطفی اذان غلط دیتے ہیں بلال
کہیے حضور آپ کا اس میں ہے کیا خیال
فرمایا مصطفی نے یہ سچ ہے تو دیکھیے
وقتِ سحر کی آج اذاں اور کوئی دے
حضرت بلال نے جو اذانِ سحر نہ دی
حضرت بلال نے جو اذان سحر نہ دی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
حضرت بلال نے جو اذان سحر نہ دی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
آئے نبی کے پاس پھر اصحاب با صفا
کی عرض مصطفی سے کہ یا شہہ انبیائ
ہے کیا سب سحر نہ ہوئی آج مصطفی
جبریل لائے ایسے میں پیغام کبریا
پہلے تو مصطفی کو ادب سے کیا سلام
بعد از سلام ان کو خدا کا دیا پیام
یوں جبریل نے کہا خیر الانام سے
یوں جبریل نے کہا خیر الانام سے
کہ اللہ کو ہے پیار تمہارے غلام سے
یوں جبریل نے کہا خیر الانام سے
فرما رہا ہے آپ سے یہ رب ذوالجلال
فرما رہا ہے آپ سے یہ رب ذوالجلال
فرما رہا ہے آپ سے یہ رب ذوالجلال
کہ ہوگی نہ صبح دیں گے جب تک نہ اذان بلالی
کہ ہوگی نہ صبح دیں گے جب تک نہ اذان بلالی
عاشق مصطفی کی اذانیں اللہ اللہ کتنا اثر تھا
عرش والے بھی سکتے تھے جس کو کیا اذان تھی اذانِ بلالی
کاش پرنم دیار نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن
کاش پرنم دیار نبی میں جیتے جی ہو بلاوا کسی دن
حالِ غم مصطفی کو سناؤں تھام کر اُن کے روضے کی جالی
حالِ غم مصطفی کو سناؤں تھام کر اُن کے روضے کی جالی
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
بھر دو جھولی میری یا محمد لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
“An age is called Dark not because the light fails to shine, but because people refuse to see it.”
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Address
Mississauga, ON