Poetry the voice of soul شاعری روح کی آواز

Poetry the voice of soul  شاعری روح کی آواز

Share

خوبصورت شاعرى كا انتخاب

12/11/2025

شاعر حیدر قریشی
انتخاب
غزل
جب تیر چل گیا، تو کماں بھی نہیں رہی
لگتا تھا جیسے جسم میں جاں بھی نہیں رہی

سارے حسِین بیچتے پِھرتے ہیں شہر میں
جنسِ وفا، اب ایسی گراں بھی نہیں رہی

وہ مسکرا کے پوچھتے تھے مدعائے دل
اور اپنے منہ میں جیسے زباں بھی نہیں رہی

خواہش، وصالِ یار کی، زندہ ہے آج بھی
لیکن، یہ پہلے جیسی جواں بھی نہیں رہی

اس سے بچھڑ کے آئینہ دیکھا تو یوں لگا
ہاتھوں میں اپنے عمرِ رواں بھی نہیں رہی

شہرِ ستمگراں میں، پناہ ڈھونڈئیے کہیں
شہرِ اماں میں، جائے اماں بھی نہیں رہی

اس کے لبوں پہ، میری محبت کے واسطے
انکار بھی نہیں تھا، تو ہاں بھی نہیں رہی

رسمِ وفا تو اگلے زمانوں کی بات ہے
اب اپنے بیچ، رسمِ جہاں بھی نہیں رہی

حیدر! اب اپنی عادتیں، اَطوار، ٹھیک کر
ابا بھی چل بسے، تِری ماں بھی نہیں رہی
حیدر قریشی

12/11/2025

#غالب

12/04/2025
12/04/2025

12/01/2025

ایسی نہیں ہے پیاس کہ پانی سے جل بجھے
آتش اسے دکھا کہ قلندر کی پیاس ہے
Summan Tariq

12/01/2025

تیری جنت سے نکالے ہوئے انسان ہیں ہم
خُلد میں پھر سے بلاؤ تو کوئی بات بنے
شاہد پرویز

12/01/2025

کہیں ادراک گر ہونے لگے اس فانی دنیا کا
تو آنا تم کسی کی زندگی میں کہکشاں ہو کر
Lubna Shahid

12/01/2025

آپ کے ساتھ چلنا مشکل ہے
آپ کے پاس کچھ بھی بھار نہیں
Abdul Basit Tahir

12/01/2025

آگ کا کام تو جلانا ہے
آگ دونوں طرف لگی ہو گی
Iqbal Mohsin

12/01/2025

یہ بھی نہیں کہ یاد ہی آئی نہیں تری
یہ بھی نہیں کہ یاد ہی سے میں جُڑا رہا
ق ر م احمد

Want your school to be the top-listed School/college in Edmonton?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Calgary Trail
Edmonton, AB