08/01/2021
ارمغان حجاز (اردو) سے انتخاب
علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ
ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض
چھٹی نظم
رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات
ہر چند کہ مشہور نہیں ان کے کرامات
The dissolute know the Sufi's accomplishments,
Though their miracles are not so well known.
شخصیت کے کمالات کا کرامت کے روپ میں دکھانا صرف صوفیوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات پر عمل نہ کرنے والے آزاد مشرب افراد بھی ایسے کمالات دکھا سکتے ہیں۔ یعنی صوفی جن امور کا کرامت کے ذریعہ سے اظہار کرتا ہے وہ رندوں کے قلب میں پوشیدہ ہوتے ہیں لیکن وہ ان کی تشہیر نہیں کرتے ہیں۔ با الفاظ دیگر اگر کسی فرد میں کوئی روحانی خصوصیت ہے تو ایک تو اس کا اظہار نہ کیا جائے اور دوسرے ایسے کمالات صرف ان ہی افراد میں نہیں ہوتے جو بظاہر نیک اور پرہیز گار نظر آتے ہیں بلکہ ان کے برعکس دوسرے لوگ بھی ان خصوصیات کے حامل ہو سکتے ہیں۔
خود گیری و خودداری و گلبانگ انا الحق
آزاد ہو سالک تو ہیں یہ اس کے مقامات
Self enrichment, self respect and the cry of Ana-ul-Haq,
These are the states of the wayfarer if he be free.
راہ حق پر چلنے والے سالک کے لیے روح کی آزادی بہت ضروری ہے۔ اس آزادی کی بنا پر وہ تربیت ذات کے مراحل طے کرتے ہوئے خودداری کا سبق پڑھتا ہے۔ یہ دو مراحل طے کرنے کے بعد منصور حلاج کی طرح وہ سالک "انا الحق" کا نعرہ مستانہ لگا سکتا ہے۔
محکوم ہو سالک تو یہی اس کا ہمہ اوست
خود مردہ و خود مرقد و خود مرگ مفاجات
But if slave then it all becomes his all is He,
He is dead body, grave and sudden death, all in one.
اگر سالک غلامی کی زندگی بسر کر رہا ہے تو پھر وہ کسی قسم کی روحانی ترقی نہیں کر سکتا۔
غلامی کی بدولت سالک کی خودی مر جاتی ہے بلکہ یہ بیماری اس کے حق میں ہمہ اوست کا مصداق بن جاتی ہے یعنی اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود مر جاتا ہے اور مر کر خود ہی اپنی قبر بن جاتا ہے اور خود ہی اپنی ناگہانی موت کا سبب ہو جاتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سالک اگر آزاد ہے تو اس کا ہمہ اوست یہ ہے کہ میں حق ہوں اور اگر وہ غلام ہے تو اس کا ہمہ اوست یہ ہے کہ میں مردہ ہوں۔ دونوں مسلک ہمہ اوست کے قائل ہوتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ آزاد کا مسلک اسے زندگی سے ہمکنار کر دیتا ہے اور محکوم کا مسلک اس پر موت وارد کر دیتا ہے۔