আমতল ছিদ্দিকীয়া আদর্শ পাঠাগার

আমতল ছিদ্দিকীয়া আদর্শ পাঠাগার

Share

আহলে সুন্নাত ওয়াল জামাত তথা নবী-অলীদের মতাদর্শে বিশ্বাসী ও সুন্দর জীবন ও সমাজ বিনির্মাণে প্রত্যয়ী একটি পরিবার।

09/12/2025

ذکرِ رحمت للعالمین (ﷺ)
بزبانِ سلطان العارفین (رحمتہ اللہ علیہ)

لئیق احمد

حضور نبی کریم (ﷺ)کی شانِ اقدس اور سیرتِ طیبہ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت کچھ لکھا جا رہا ہے- تاریخِ انسانی میں یہ خاصہ صرف حضور رسالتِ مآب (ﷺ) کی ذات پاک کو حاصل ہے کہ آپ (ﷺ)کی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ چاہے اس کا تعلق آپ (ﷺ) کی انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اہلِ ایمان کے لیے مینارہ نور کی صورت موجود ہے- انسانیت کے لیے رہنمائی کا سر چشمہ حضور نبی کریم (ﷺ)کی سیرتِ مبارکہ ہے- اسی لیے ہر دور میں علماء عاملین و فقراء کاملین نے اپنے اپنے انداز میں حضور علیہ السلام کی عظمت و حیاتِ طیبہ پر لکھنے کی سعادت حاصل کی ہے-
اسی تناظر میں اگر سلطان العارفین حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ) کی تصانیف خواہ اس کا تعلق نثر سے ہو یا نظم سے عشقِ رسول (ﷺ) میں ڈوبی نظر آتی ہیں- بلکہ آپؒ کا حضور علیہ السلام سے ایسا روحانی رشتہ ہے کہ آپؒ نے اپنی تمام تصانیف حضور علیہ السلام کے اذن سے لکھی ہیں- آپؒ کی تصانیف کا شاید ہی کوئی صفحہ ہو جس میں آپ علیہ الرحمہ نے حضور علیہ السلام کے فرامینِ مبارکہ، مجلسِ محمدی (ﷺ) کی حضوری، تصورِ اسم محمد (ﷺ) کے معارف یا حضور علیہ السلام کی عظمت کے کسی گوشے پر گفتگو نہ فرمائی ہو- اس لیے ابتداء میں ہی عرض کردوں کہ زیرِ نظر مضمون کا عنوان کئی جلدوں پر محیط کتب کا متقاضی ہے- چند صفحات کے مقالے میں اسے پیش کرنا ناممکن ہے- اسی لیے ناچیز نے موضوع کے تحت منتخب عنوانات کا انتخاب کیا ہے- جس پر مختصراً بحث کی ہے-
1. نعتِ رسولِ مقبول (ﷺ)از فارسی:
سلطان العارفین(قدس اللہ سرّہٗ) کا فارسی دیوان موسوم بہ دیوانِ باھوؒ 54 عارفانہ و عاشقانہ غزلوں پر مشتمل ہے اور متعدد فارسی اشعار آپؒ کی نثری تصانیف میں جابجا ملتے ہیں- دیوانِ باھو ہو یا آپؒ کی نثری تصانیف تمام اشعار میں ایک بہت بڑی تعداد نعتیہ اشعار کی ملتی ہے جسے اہلِ تحقیق کو ایک جگہ جمع کرکے شائع کرنے کی ضرورت ہے- زیرِ نظر مضمون میں راقم اختصار کے پیشِ نظر صرف آپ کی تصنیفِ لطیف محک الفقر (کلاں) کے چند اشعار پیش کر رہا ہے-
وہ لوگ جو مدحتِ رسول (ﷺ) میں اشعار لکھتے ہیں آپؒ ان کی شان کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’شعراء کی بھی دو اقسام ہیں- ایک وہ شاعر ہیں جو غیر ماسویٰ اللہ سے ہٹ کر محض واحد ذاتِ حق تعالیٰ کی توحید بیان کرتے ہیں اور حضور علیہ السلام کی مدح کے بغیر زبان نہیں کھولتے- ایسے شعراء ذاتِ حق سے واقف ہوتے ہیں- ان صاحبِ ہدایت شعراء کے بارے میں حضور نبی کریم (ﷺ) کا فرمان ہے بے شک عرشِ الٰہی کے نیچے ایک خزانہ ہے اس کی چابی شعراء کی زبان ہے‘‘-
حوالہ: (محک الفقر کلاں، ص: 195)
محک الفقر کلاں میں موجود چند منتخب نعتیہ اشعار پیشِ خدمت ہیں:
سرّ قرآن است رازش مصطفٰےؐ
سرّ نبودی کس نگفتن جز الہ

’’سرِ الٰہی قرآن ہے اور اس کے رازدان حضور علیہ السلام ہیں-اگر حضور (ﷺ) نہیں ہوتے تو اللہ سے کوئی واقف نہیں ہوتا‘‘-
حوالہ: (محک الفقر کلاں، ص: 129)
ہر کہ بر روئی محمد ؐ شد فدا
میرسد او در مراتب اولیاء

’’جو آدمی حضور نبی کریم (ﷺ) کے مکھڑے پر فدا ہوگیا وہ مراتبِ اولیاء پر پہنچ گیا‘‘-
حوالہ: (محک الفقر کلاں، ص:314)
ہر کہ بیند باطنی روئے مصطفیٰ ؐ
واقف اسرار گردد از الہ
اعتقاد و صدق باید بر نبیؐ
آن کریم و آن شفیع و آن سخی

’’جس نے باطن میں حضور علیہ السلام کی زیارت کی وہ تمام اسرار الٰہی سے واقف ہوگیا- صادق اعتقاد یہ ہونا چاہیے کہ حضور علیہ السلام بے حد کریم و سخی اور ہمارے شفیع ہیں-
حوالہ: (محک الفقر کلاں، ص: 597)
2. نعتِ رسول (ﷺ)از ابیاتِ باھُو:
سلطان العارفین کی تمام تصانیف فارسی میں ہیں لیکن انہوں نے چند اشعار لہندی زبان (جس سے پنجابی، سرائیکی اور ہندکو الگ ہوئی ہیں) میں لکھے ہیں جنہیں ابیاتِ باھو کا نام دیا گیا ہے- جو عوام میں بہت مشہور و مقبول ہیں- آپ کے متعدد ابیات نعتیہ اشعار پر مبنی ہیں- لیکن اختصار کے پیشِ نظر صرف ایک بیت مبارک ترجمے کے ساتھ پیشِ خدمت ہے-
ب: بسم اللہ اسم اللہ دا ایہہ بھی گہناں بھارا ھو
نال شفاعت سرور عالم چھٹسی عالم سارا ھو
حدوں بے حد درود نبی توں جیندا ایڈ پسارا ھو
میں قربان تنہاں توں باھو جنہاں ملیا نبی سوہارا ھو

بِسْم الله ميں ’’اِسم الله‘‘ذات پوشيده ہے اور يہ وه بھارى امانت ہے جس كواٹھانے ميں روزِ ازل انسان كے سوا ہرشے اور مخلوق نے عاجزى ظاہر كر دى تھى اور يہ امانت ہميں نبى كريم (ﷺ) كے وسيلہ سے نصيب ہوئی ہے- روزِ قيامت رسول كريم (ﷺ) كى شفاعت سے ہى تمام عالم كو نجات حاصل ہو گی اس ليےرسول كريم (ﷺ)پر بے حد و بے حساب درود سلام بھیجنا چاہيے كہ ہم ايسے صاحبِ بركت، صاحبِ عظمت اور صاحبِ رحمت نبى(ﷺ) كى امت سے ہيں اور آپ (ﷺ) ايسے عظيم المرتبت نبى ہيں كہ ’’فقر‘‘ كى عظيم نعمت آپ (ﷺ) كے وسيلہ سے ہى نصيب ہوئى ہے-
3. درود و سلام کا بیان:
آپؒ کی تمام تصانیف کا اسلوب یہ ہے کہ آپؒ اپنی تصانیف کی ابتداء اللہ رب العزت کی حمد و ثناء سے کرتے ہیں اور پھر حضور علیہ السلام کی نعت میں چند نثری کلمات فرماتے ہوئے خوبصورت الفاظ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے ہیں لیکن درود و سلام کا انداز و الفاظ کا انتخاب ہر تصنیف میں مختلف و منفرد ملتا ہے- صرف تین تصانیف کا ابتدائیہ پیشِ خدمت ہے-
1- محک الفقر کلاں:
’’ہزاراں ہزار بلکہ بے شمار درود و سلام ہو اس سید السادات ہستی پر کہ جس کی شان میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَا تَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ‘‘
’’اے نبی آپ(ﷺ) فرمادیں کہ اگر تم محبتِ الٰہی کے طلب گار ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا‘‘-
جن کی شان میں حدیث قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے:
’’لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلاَکَ وَ لَمَّا اَظْھَرْتُ الرَّبُوْبِیَّۃَ‘‘
’’محبوب اگر آپ نہ ہوتے تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا‘‘-
’’کُلُّھُمْ یَطْلُبُوْنَ رَضَآئِیْ وَ اَنَا اَطْلَبُ رَضَآئُکَ یَا مُحَمَّدٌ‘‘
’’ہر کوئی میری رضا چاہتا ہے لیکن اے محبوب (ﷺ) میں آپ کی رضا چاہتا ہوں‘‘-
2- اسرار القادری:
’’بے حد و بےحساب درود پاک ہو سید السادات حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) پر جو محمود ہیں سلطاناً نصیِرا کے خطاب سے جن کا مقام ہے قاب قوسین او ادنی، جو جامع ہیں اسرار المنتہیٰ کے، جن کی نعت میں فرمان حق تعالیٰ ہے: محبوب آپ نہ ہوتے تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا- جن کی صفات متبرکات ہیں- فنا فی ذاتِ ھو اور وہ ہے خاتم الانبیاء رسول رب العالمین ’’صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحبہ و اہل بیتہ اجمعین‘‘-
3- مجالستہ النبی (ﷺ)خورد:
’’درود ہو سید السادات رب العالمین خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ)پر جن کی شان میں اللہ نے فرمایا ہے اللہ وہ ہے جس نے اپنا رسولِ ہدایت و دینِ حق کے ساتھ بھیجا‘‘-
یہ ترتیب آپؒ کی ہر تصنیف میں موجود ہے اور ہر تصنیف میں مدحتِ رسول (ﷺ) کا انداز دل کو چھو لینے والا اور عشقِ رسول (ﷺ) میں ڈوبا نظر آتا ہے-
4- نور محمدی (ﷺ) کی تخلیق کا بیان:
حضور نبی کریم (ﷺ) بعثت کے اعتبار سے خاتم النبیین ہیں لیکن تخلیق کے اعتبار سے اول ہیں جیسا کہ حضرت جابر ( رضی اللہ عنہ ) کی روایت ہے:
’’یَا جَابِرُ اِنَّ اللہَ تَعَالٰی خَلَقَ قَبْلَ الْاَشْیَآئِ نُوْرَ نَبِیِّکَ مِنْ نُوْرہٖ‘‘
’’اے جابر بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا‘‘-
حوالہ: (قسطلانی المواھب الدنیہ، ج: 1 ص: 17)
اس حدیث مبارکہ کے علاوہ بھی کئی احادیث مبارکہ میں نور ِمحمدی (ﷺ) کی تخلیق کا بیان ہوا- ان احادیث مبارکہ کی تشریح و معارف کو سلطان العارفین (قدس اللہ سرّہٗ) نے اپنی تصانیف مبارکہ میں درجنوں مقامات پر بیان فرمایا ہے- صرف ایک مقام درج ذیل ہے:
1- جان لے! کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنا چاہا تو اپنے نور سے حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ)کی روحِ پر فنوح کے نور کو اپنے مقصود کے مطابق پیدا فرمایا اور روحِ محمد (ﷺ)کا خود ہی مشتاق و شیدا ہوا اور اسے حبیب اللہ کا خطاب دیا اور حضور علیہ السلام کی محبت میں سرشار ہوکر امر کن فرمایا- اللہ تعالیٰ کے اسی امر پر حضور علیہ السلام کے نور سے اٹھارہ ہزار عالم کی کل مخلوق کی ارواح مثلاً جن و انس و ملائکہ کی جملہ ارواح میدانِ ازل میں اپنے اپنے مراتب کے لحاظ سے صف بستہ ہو کر ظاہر و ایستادہ ہوگئیں اس کے بعد حق سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ (کیا میں تمہارا رب نہیں) تمام روحوں نے جوب دیا ’’بَلٰی‘‘ (ہاں کیوں نہیں) ‘‘-
حوالہ: (محک الفقر، ص :133)
5. معارفِ اسم محمد (ﷺ):
اللہ کے بےشمار صفاتی اسماء ہیں لیکن اسم اللہ اس کا ذاتی اسم ہے- حضور علیہ السلام کے بھی بے شمار صفاتی اسماء ہیں لیکن اسم محمد (ﷺ) حضور علیہ السلام کا ذاتی اسم ہے- سلطان العارفین کی تعلیمات کا کثیر حصہ اسم اللہ اور اسم محمد (ﷺ) کے معارف کی تفسیر و توضیح ہیں- آپ نے تصور اسم محمد (ﷺ) سے مجلس محمدی (ﷺ)کی حضوری پر شرح سے اپنی تصانیف میں گفتگو فرمائی ہے- آپ اسم محمد (ﷺ) کو مجلس محمدی (ﷺ) کا ذریعہ قرار دیتے ہیں جیسا کہ آپ اپنے فارسی اشعار میں فرماتے ہیں:
ز نام محمد ؐ شود دل صفا
ز نام محمد ؐ مشرف لقاء

’’حضور علیہ السلام کا نام لینے سے دل کی صفائی ہوجاتی ہے- سرور کائنات (ﷺ) کے نام سے دیدار کا شرف حاصل ہوتا ہے‘‘-
حوالہ: (دیدار بخش کلاں، ص: 13)
اہل ایمان اسم اللہ اور اسم محمد (ﷺ)کے ذکر و تصور سے فرحت پاتے ہیں جبکہ اہل کفار و منافقین کے لیے یہ اسماء قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں- جیسا کہ آپؒ فرماتے ہیں:
’’شیطان ہدایت و اسم اللہ و اسم محمد (ﷺ)سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح قاتل کفار کلمہ طیبہ سے ڈرتا ہے‘‘-
حوالہ: (محک الفقر کلاں، ص: 587)
ایک اور مقام پر اسی حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں:
’’جسے اسم اللہ و اسم محمد (ﷺ)پر یقین نہیں وہ منافق ہے اگرچہ وہ رسم و رواج کے طور پر کلمہ طیب کو پڑھتا ہے مگر کلمہ طیب کی قدر و تصدیق سے محروم ہے- اسم اللہُ میں اسم اعظم ہے اور اسم محمد (ﷺ) میں صراط مستقیم ہے‘‘-
حوالہ: (محک الفقر کلاں، ص: 403)
6- حلیہ مبارک:
سلطان العارفین (قدس اللہ سرّہٗ) نے اپنی دو تصانیف کلید التوحید کلاں اور محک الفقر کلاں میں شمائلِ نبوی (ﷺ) کے مطابق حلیہ مبارک کو بیان کیا ہے جیسا کہ آپؒ بیان فرماتے ہیں:
’’شمائلِ نبوی (ﷺ) میں درج حضور علیہ السلام کا حلیہ مبارک یوں ہے:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!- آپ(ﷺ) کا رنگ گندم گوں تھا، آپ کی پیشانی کشادہ تھی، آپ (ﷺ) کے دندان مبارک بھی کشادہ تھے، آپ (ﷺ)کی بینی بلند تھی، آپ کی آنکھیں سیاہ تھیں آپ (ﷺ) کا چہرہ مبارک ملح و سلونا تھا، آپ کی داڑھی گھنی تھی، آپ (ﷺ)کے ہاتھ لمبے تھے، آپ کی انگلیاں باریک تھیں، آپ (ﷺ) کا قد درمیانہ تھا، آپ کے وجود مبارک پر بال نہیں تھے، فقط ایک خط سے سینے سے ناف تک کھنچا ہوا اور آپ (ﷺ) کی پیٹھ پر مہر نبوت ثبت تھی‘‘-
حوالہ: (محک الفقر کلاں، ص: 589)
7. خلقِ محمدی (ﷺ):
خلق کے لغوی معنی عادت و خصلت کے ہیں- اخلاق حسنہ میں عفو و درگزر، صبر وتحمل، قناعت و توکل، خوش خلقی و مہمان نوازی، تواضع و انکساری، خلوص و محبت جیسے اوصاف قابلِ ذکر ہیں اور اخلاق حسنہ کے جملہ اوصاف و کلمات کا کامل عملی نمونہ حضور علیہ السلام کی ذات اقدس ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ‘‘
’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)‘‘-
حوالہ: (القلم:4)
سلطان العارفین اپنی تصانیف میں جابجا خلقِ محمدی (ﷺ) کو اپنانے کی بات کرتے ہیں اور حضور علیہ السلام کے اسوہ حسنہ ہی کو نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں- جیسا کہ آپؒ اپنے فارسی اشعار میں فرماتے ہیں:
خلق با خلق است بہ خالق تمام
نیک خصلت ہم چون بودی و السلام

’’خلق کے ساتھ اچھے خُلق سے معیت خالق حاصل ہوتی ہے اس لیے حضور علیہ السلام کی طرح نیک خصلت ہوجا کہ اس میں سلامتی ہے‘‘-
حوالہ:(امیر الکونین، ص: 317)
فقیری کا دعویٰ کرنا آسان ہے مگر خلق محمدی (ﷺ) کی عملی تصویر بننا نہایت مشکل و دشوار ہے- جیسا کہ آپؒ فرماتے ہیں:
’’نبی کریم حضرت محمد (ﷺ) کی مجلس کی حضوری حاصل کر لینا آسان کام ہے لیکن خلق محمدی (ﷺ)، رضائے محمدی (ﷺ) اور باطن صفائے محمدی (ﷺ) حاصل کرنا بہت مشکل و دشوار کام ہے‘‘-
راہِ تصوف و راہِ سلوک کا پہلا سبق ہی تکبر کا وجود سے خاتمہ اور سالک کا عجز و انکساری کی مجسم تصویر بننا ہے جیسا کہ سلطان العارفین ’’طالبانِ مولیٰ‘‘ کو تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اے باھو! فقیر ہوجا اور اپنے ظاہر کو اچھے اخلاق سے سنوار- حضور علیہ السلام کا فرمان ہے اپنے اندر اخلاقِ الٰہیہ پیدا کرو اگر پنہاں رہو تو اپنے اندر خضر علیہ السلام کی مانند رہو اور اگر عوام میں ظاہر ہو تو حضور علیہ السلام کی مانند رہو- جب حضور علیہ السلام یوں عاجزی کریں کہ ’’اے محمد (ﷺ) کے رب کاش تو محمد (ﷺ) کو پیدا نہ کرتا‘‘تو کسی اور کی کیا مجال کہ اونچے سروں میں بولے‘‘؟
’’پس معلوم ہوا خود پرست ابلیس ہوتا ہے اور یقین چاہیے کہ فقر کا دعویٰ کرنے والا اہل دوکان شیطان کا ساتھی ہے‘‘-
حوالہ:(عین الفقر، ص :217)
8. معراج النبی (ﷺ):
سلطان العارفین (قدس اللہ سرّہٗ) نے طالبان مولیٰ کو تلقین فرماتے ہوئے اپنی تصانیف میں سینکڑوں مقامات پر معراج النبی کے واقعات کے مختلف گوشوں کو بیان فرمایا ہے- چند مقامات پیشِ خدمت ہیں:
1. رویتِ باری تعالیٰ پر سلطان العارفین کا مؤقف:
’’جب پیغمبر (ﷺ) معراج سے مشرف ہوکر واپس تشریف لائے تو پہلے عاشقوں نے آپ (ﷺ) سے پوچھا یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ نے خدا کو دیکھا؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا ہاں دیکھا‘‘-
حوالہ:(محبت الاسرار، ص: 47)
2. معراج کی رات علوم کا عطا ہونا:
’’پس سرور کائنات حضرت محمد (ﷺ) کو حکم ہوا کہ اے محمد (ﷺ) تیس ہزار باتیں جو امور شریعت اور آداب کے بارے میں ہیں مخلوق خدا کو بتادینا اور تیس ہزار باقی کو محفوظ کرلینا کیونکہ وہ راز کی باتیں ہیں اور باقی تیس ہزار باتوں کو خواہ کہو خواہ محفوظ رکھ لو یہ تیرا اختیار ہے‘‘-
حوالہ:(محبت الاسرار، ص: 53)
3. حضور علیہ السلام کا فقط ذات حق کو طلب کرنا:
’’معراج کی رات حضور علیہ السلام براق پر سوار ہوئے، جبرائیل آپ (ﷺ) کے آگے آگے پاپیادہ دوڑے عرش سے فرش تک دونوں جہاں آراستہ کیے گئے اس سارے اہتمام کے باوجود حضور علیہ السلام نے اپنی نگاہ ذات حق تعالیٰ سے نہیں ہٹائی- چنانچہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے ’’بہکی نہیں آپ(ﷺ) کی نگاہ نہ حد سے بڑھی‘‘-
حوالہ:( محک الفقر کلاں، ص :519)
9. عقیدہ ختمِ نبوت:
سلطان العارفین (قدس اللہ سرّہٗ) نے اپنی تصانیف میں متعدد مقامات پر عقیدہ ختم نبوت کو واضح فرمایا ہے اور حضور کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کو برملا کافر لکھا ہے- جیسا کہ آپ فرماتے ہیں :
’’پانچ مراتب ایسے ہیں جن پر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور اگر کوئی ان پر پہنچنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دینِ محمدی (ﷺ) سے برگشتہ و کافر ہے میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘-
1. قرآن مجید حضور (ﷺ) کے بعد کسی پر نازل نہیں ہو سکتا-
2. مراتبِ معراج پر حضور علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی نہیں پہنچ سکتا-
3. مراتبِ نبوت پر انبیاء کے علاوہ اور کوئی نہیں پہنچ سکتا-
4. سوائے پیغمبروں کے اور کسی پر وحی نازل نہیں ہوسکتی-
5. اصحاب کبار اور دیگر صحابہ کرام کے مراتب تک اور کوئی نہیں پہنچ سکتا-
حوالہ:(محک الفقر کلاں، ص: 35)
آپ(قدس اللہ سرّہٗ) نے اپنی تصانیف میں حضور علیہ السلام کا ذکرِ خیر فرماتے ہوئے کثرت کے ساتھ خاتم النبیین کے لقب کو درج فرمایا ہے- آپ قدس اللہ سرّہٗ کی ختم نبوت کی سب سے بڑی دلیل حضور علیہ السلام کی مہر نبوت ہے جس کا نقش آپ علیہ السلام نے اپنی تصانیف محک الفقر کلاں اور کلید التوحید کلاں میں درج فرمایا ہے-
آپؒ مہر نبوت کا ذکر اپنے دلنشین انداز میں یوں فرماتے ہیں:
ہر کہ بیند مہر را بر پشت ماہ
بہ ز ماہی مہر نبوی مصطفےٰؐ

’’ہر کسی کو خال چاند پر نظر آتا ہے اس سے کہیں زیادہ خوبصورت نقش حضور علیہ السلام کی پشت مبارک پر مہر نبوت کا ہے‘‘-
حوالہ:(محک لفقر، ص: 591)
10. عقیدہ حیات النبی (ﷺ):
سلطان العارفین (قدس اللہ سرّہٗ)کے نزدیک عقیدہ حیات النبی (ﷺ) ایمان کا حصہ ہے اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ بے دین لعین منافق و بے یقین ہے- جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:
’’پس جو شخص حیات النبی (ﷺ) کا منکر ہے وہ کس طرح حضور علیہ السلام کی امت کا مومن مسلمان ہوسکتا ہے؟ وہ جو بھی ہے جھوٹا و بے دین و منافق ہے اور حضور علیہ السلام کا فرمان ہے:جھوٹا آدمی میرا امتی نہیں ہے‘‘-
حوالہ:(کلید التوحید کلاں، ص: 97)
ایک جگہ آپؒ مزید ارشاد فرماتے ہیں:
’’سن اگر کوئی شخص حضور (ﷺ) کی حیات کو مردہ سمجھتا ہے تو اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے‘‘-
حوالہ:(عین الفقر، ص: 207)
11. عقیدہ علمِ غیب:
آقائے دو جہاں (ﷺ)کی وسعت علم اور اطلاع علی الغیب کا اظہار اللہ رب العزت کے فرمان ’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘ سے ہوتا ہے- قرآن مجید میں جس علم غیب کی نفی ہے وہ ذاتی علم غیب کی ہے جبکہ حضور علیہ السلام کو غیب کا علم اللہ کی عطا سے ہے اور حضور سلطان العارفین کے مطابق جو حضور کے علم میں شک کریں وہ زندیق ہے جیسا کہ آپ فرماتے ہیں :
’’تو علم محمدی (ﷺ) پر تعجب نہ کر اور نہ اس پر تنقید کر کہ یہ طریق تحقیق سے ثابت ہے جو اس میں شک کرے وہ زندیق ہے‘‘-
حوالہ:(امیر الکونین، ص: 121)
حضور علیہ السلام امّی نبی ہیں- آپ(ﷺ) کے معلم صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے اسی نکتہ کی وضاحت آپؒ نے اپنی تصنیف لطیف محک الفقر کلاں میں اس خوبصورت انداز میں یوں پیش کی:
’’اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کو تین مرتبہ معرفتِ فقر کی تعلیم و تلقین فرمائی- پہلی مرتبہ نورِ محمدی (ﷺ)کو تعلیم و تلقین فرمائی دوسری مرتبہ روحِ محمدی (ﷺ)کو اس وقت تعلیم و تلقین فرمائی جب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی چیز کا وجود نہیں تھا اور تیسری مرتبہ حضور علیہ السلام کے جسم و جسد کو قاب و قوسین کے مقام پر تعلیم و تلقین فرمائی‘‘-
حوالہ:(محک الفقر کلاں، ص: 465)
حرفِ آخر:
ناچیز نے ابتداء میں ہی عرض کردی تھی کہ زیرِ نظر مضمون اپنی ذات میں بہت وسعت رکھتا ہے جسے ایک مقالے میں شرح سے بیان کرنا ناممکن ہے- اس لیے ناچیز نے چند منتخب عنوانات کے تحت موضوع کے پیش نظر مختصر بحث کی ہے- ناچیز توفیقِ ربانی کا طالب ہے اور ارادہ رکھتا ہے کہ اس موضوع پر باقاعدہ کتاب لکھوں جس میں حضور علیہ السلام کی ذات پاک کی عظمت کے جتنے گوشوں پر سلطان العارفین قدس اللہ سرّہٗ نے طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی فرمائی ہے وہ ایک جگہ جمع ہوجائیں جو باھو شناسی میں انشاءاللہ ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہوگا-
٭٭٭

Photos from আমতল ছিদ্দিকীয়া আদর্শ পাঠাগার's post 08/12/2025

আল হামিদুল্লাহ ওয়াশ শুকরুলিল্লাহ ওয়ামা তাওফীকি ইল্লা বিল্লাহ
সমাজের দেশ ও প্রবাসের সকলের সার্বিক সহযোগিতায় আমতল ছিদ্দিকে আকবর রাঃ জামে মসজিদের টাইলস এর কাজ সুসম্পন্ন হয়েছে।
টাকা দিয়ে, বুদ্ধি দিয়ে ও শ্রম দিয়ে যারা যেভাবে সহযোগিতা করেছেন প্রত্যেকের সহযোগিতা আল্লাহ তাআলা কবুল ও মঞ্জুর করে নিন।
আমীন ইয়া রাব্বাল আলামিন বহুরমতে নবিয়্যীল আমীন সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম।

Photos from আমতল ছিদ্দিকীয়া আদর্শ পাঠাগার's post 15/09/2025

১৯/০৯/২০২৫ ইং রোজ শুক্রবার ঈদে মিলাদুন্নাবী উপলক্ষে ওয়াজ ও মিলাদ মাহফিল।
সকলের প্রতি দাওয়াত রইল।

21/07/2025

আহতদের জন্য ব্লাড লাগলে উক্ত নাম্বারগুলোতে যোগাযোগ করুন IUBAT এর শিক্ষার্থীরা এবং ঢাকা বিশ্ববিদ্যালয় এলাকায় ইমার্জেন্সি এই লিস্ট তৈরি করেছেন তারা ব্লাড দিতে প্রস্তুত।

❗Only For Dhaka❗
(রক্তের গ্রুপ)-(ফোন নাম্বার)
A- Negative 01933892321
A- Negative 01844464155
A- Negative 01676335830
A- Negative 01883586717

A+ 01706926694
A+ 01689223789
A+ 01703268335
A+ 01875024194
A+ 01710376348
A+ 01928275633

AB- Negative 01913545498
AB+ 01626804795
AB+ 01925582350
AB+ 01790059606
AB+ 01558448484
AB+ 01919888277
AB+ 01770412286
AB+ 01925582350
B- Negative 01870435259
B- Negative 01722414689
B+ 01967507147
B+ 0130479265
B+ 01748446523

Emergency Blood Help:

(A+ve) Blood:
রবিউল (A+) 01711319138
আব্দুল্লাহ (A+)01815903415
লোপা (A+) : 01623950085
তাহের (A+) : 01815349565
সোহান (A+) : 01670379248
মুনতাসির ১ (A+) :01673011499
মুনতাসির ২ (A+) : 01674030293
জুবায়ের (A+) : 01815385353
জিকু (A+) : 01839454294
জাবির (A+) : 01813676931
ফয়সাল (A+) : 01191251313
আশরাফুল (A+) : 01830030578
আকিদ (A+) : 01828581201
ইমরান (A+) : 01821838338
আকতার (A+) : 01829586388
নুরুল আবছার (A+) : 01835394574
মনির (A+) : 01839087337
আহসান (A+) : 01827056150
শিহাব (A+) : 01670885700
জাবেদ (A+) : 01857531053
ইমরান (A+) : 01876364078
Nasima (A+) : 01773891190
Monirul (A+) : 01989811958
Maruf (A+) : 01402322130
Rasel (A+) : 01810422195
Durjoy (A+) : 01730200012
Harun (A+) : 01724963572
Nishat (A+) : 01784083948
Mahedi (A+) : 01765474697
Nasir (A+) : 01747122655
Suhan (A+) : 01625563719
Mansura (A+) : 01955345261
Enaf (A+) : 01315176137

(B+ve) Blood:
Yousuf (B+) : 01830659678
Shuvo (B+) :01671616761
Sabbir (B+) :01744476296
Muzakkir (B+) :01819358942
Masum ( B+) :01825374848
Mamun ( B+) :01674366351
Jiku ( B+) :01670373650
Jahangir (B+) :01729926444
Imon (B+) :01814240929
Faravi (B+) :01919417084
Delwar (B+) :01815535258
Babu (B+) :01814292525
Arman (B+) :01815545440
Rasel (B+) :01817700810
Jafori (B+) :01917663876
Sonjoy (B+) :01827285095
Arfin (B+) :01763817336
Milton (B+) :01674809396
Opu (B+) :01827770122
Atahar (B+) : 01815137420
আনোয়ার হোসেন (B+) : 01865001942
Monira Akter (B+) : 01701045389
Lobna (B+) : 01629798542
Fahima (B+) :01748102610
Rumi (B+) : 01911349631
Maruf (B+) : 01643849454
Sagor (B+) : 01866238063
Jafrul (B+) : 01923918552
Juboraj (B+) : 01717212502
Rishikash (B+) : 01726236379
Rayhan (B+) : 01844680254
Maruf (B+) :01608076152
Kawsar (B+) : 01752146224
Nipa (B+) : 01321994325
Polash (B+) :01317614536
Fahim (B+) : 01704738728
Forhad (B+) : 01646298208
Mahabub (B+) : 01861366822
Anwar (B+) : 01790042650
Sakil (B+) : 01764155065
Sohid (B+) : 01782420939
Ratul (B+) : 01810879530
Riyad (B+) : 01639342451

(AB+ve) Blood:
Irfan (AB+) : 01858397470
Absar (AB+) : 01913613816
Fahmida (AB+) : 01927247199
Jihadi (AB+) : 01859362299
Tanvir : (AB+) : 01616203020
Kaysar (AB+) : 01840670762
Amjad (AB+) : 01825122615
Shuvo (AB+) : 01811840540
Munna ( AB+) : 01813540950
Jishu Barua (AB+): 01620259977
Raha Moni (AB+) : 01705251942
Samiul (AB+) : 01775542396
Ridoy (AB+) : 01638004992
Roky (AB+) : 01999011224
Sobuj (AB+) : 01711186330
Halal (AB+) : 01305883021

(O+ve) Blood:
আসিফ (o+ve) : 01682872300
Shahariar (O+) : 01817770203
Sajid (O+) : 01812747444
Ovi (O+) : 01819106078
Morshed (O+) : 01813802789
Hashib (O+) : 01675247756
Faysal (O+) : 01814181625
Enam (O+) : 01814432072
Emad (O+) : 01674946131
Elias (O+) : 01818827368
Ehsan (O+) : 01817205540
Shuvo (O+) : 01670536856
Amit (O+) : 01675922154
Alamgir (O+) : 01919960925
Yasir (O+) : 01814274974
Asif (O+) : 01818055061
Arshad (O+) : 01922595331
Akram (O+) : 01818100074
Sharif (O+) : 01836418360
Rishat (O+) : 01670259170
Rakib (O+) : 01830093251
Rafiq (O+) : 01917476946
Shaikat (O+) : 01620467425
Nasif (O+) : 01821589858
Elias (O+) : 01835274866
জীবন (O+) :01319528037
মার্জিয়া (O+) : 01749715107
Masud (O+) : 01913268568
Khairul (O+) : 01957372711
Alamin (O+) : 01907288671
Shehap (O+) : 01718543451
Saif (O+) : 01934377887
Fahim (O+) 01791845079
Lipi (O+) : 01745594510
Selina (O+) : 01985271004
Sujon (O+) : 01926268816
Maksedul (O+) : 01620773736
Sadikul (O+) : 01752386853
Sojib (O+) : 01797769753
Rifat (O+) : 01821654169
Hasibur (O+) : 01724963572
Mollika (O+) : 01725727050
Arif (O+) : 01791947388
Sabbir (O+) : 01989749793
Setu (O+) : 01794285261
Konika (O+) : 01630146756
Shoriful (O+) : 01798673821
Suchona (O+) : 01631951738
Rabbi (O+) : 01766028918
Tahofid (O+) : 01641739314
Sreya (O+) : 01792530768
Orthi (O+) : 01712997449
Asadul (O+) : 01736075760
Sumon (O+) : 01971298239
Popi (O+) : 01307214270
Asma (O+) : 01829498104
Borno(O+):01833348091

(A-ve) Blood:
Sourav (A-) : 01753961657
Faysal (A-) :01830361562
Niloy (A-) : 01822116436

(B-ve) Blood:
Emon (B -) : 01814287904
Mojammal (B -) :01818028020 , 01717887030
Shishir (B -) :01845807021

(O-ve) Blood:
Showrav (O-) : 01816441130
Asif (O-) : 01861257845
Nabab (O-) : 01682506914
Tareq (O-) : 018222686
Sakil (O-) 01764155065
আসিফ (o+ve) : 01682872300
Shahariar (O+) : 01817770203
Sajid (O+) : 01812747444
Ovi (O+) : 01819106078
Morshed (O+) : 01813802789
Hashib (O+) : 01675247756
Faysal (O+) : 01814181625
Enam (O+) : 01814432072
Emad (O+) : 01674946131
Elias (O+) : 01818827368
Ehsan (O+) : 01817205540
Shuvo (O+) : 01670536856
Amit (O+) : 01675922154
Alamgir (O+) : 01919960925
Yasir (O+) : 01814274974
Asif (O+) : 01818055061
Arshad (O+) : 01922595331
Akram (O+) : 01818100074
Sharif (O+) : 01836418360
Rishat (O+) : 01670259170
Rakib (O+) : 01830093251
Rafiq (O+) : 01917476946
Shaikat (O+) : 01620467425
Nasif (O+) : 01821589858
Elias (O+) : 01835274866
জীবন (O+) :01319528037
মার্জিয়া (O+) : 01749715107
Masud (O+) : 01913268568

দয়া করে বিভিন্ন গ্রুপে পোস্ট করেন, হতেও তো পারে আপনার উছিলায় কারো জীবন বাঁচলো।

Want your school to be the top-listed School/college in Chittagong?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


আমতল, উত্তর পাইন্দং, ফটিকছড়ি, চট্টগ্রাম, বাংলাদেশ।
Chittagong
4350