07/08/2023
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز قارئین کرام! آپ حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اہل سنت شرعی کونسل کا ہر معاملے میں حتمی اور راجح موقف امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ہی کا موقف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں جو بحث ومباحثہ کا ماحول مولانا ارشاد حیدری اور محترم ناصر فردوس کے درمیاں گرم ہوا تھا تو شرعی کونسل کے ذمہ دار ممبران نے دونوں کو ایک میز پر لاکر امام اہلسنت محدث بریلی علیہ الرحمہ کے ارشادات کے مطابق اتفاق کرایا تھا۔اور ساتھ میں تلقین کی تھی کہ اب اس مسئلے کو پھر سے ہوا نہ دی جائے کہ امت پہلے سے ہی گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں مگر شومئی قسمت مولانا ارشاد حیدری صاحب کو یہ مصالحت پیٹھ پیچھے راس نہ آئی اپنی ہٹ دھرمی، ضد اور انا میں سوشل میڈیا پر بدتمیزی کی آگ کو صلح پر ترجیح دی۔ایک طرف جب امام اہلسنت کے زریں اقوال کی روشنی میں مصالحت ہوئی تو پھر روافض کی طرح اہلبیت پاک رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام پر سیاست کرکے یکسر اس مصالحت کو ٹھکرایا اور اپنی پرانی روش ضد اور ہٹ دھرمی پر برقرار رہے۔ جب کونسل نے جواب طلبی کی تو جواب دہی کے بجائے استعفی کا ڈھونگ رچا کر کونسل سے ہی فرار ہوئے۔
واضح رہے ناصر فردوس کے رد کے دوران جناب جوش غضب میں سواد اعظم اہل سنت بریلوی کی تقسیم کر کے نصف پر ناصبیت کا الزام بد لگایا جس پر رجوع کا کہا گیا تو جناب نے کہا کہ آپ پہلے کونسل کے ذریعے مصالحت شدہ ویڈیو کو نشر کریں، پھر ہم اس سے رجوع کریں گے
کونسل نے ویڈیو شئر کی، لیکن حیدری صاحب اگلے روز سواد اعظم پر ناصبیت کے اعلان سے رجوع کے بجائے ایک چھوٹی سے کلپ وائرل کرتے ہیں جس سے مزید فتنہ و انتشار ہوتا ہے
جب ان سے اس ویڈیو کے بارے میں پوچھا گیا تو جناب نے اول کہا کہ یہ دیوبندی وہابی کے رد میں کہا جب پوری کلپ کی مانگ کی تو جناب نے کونسل کے مطالبے کو بغیر ڈکار لئے ہضم کر گئے۔
نظریاتی اختلافات پر کونسل کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت حیدری صاحب سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
لہذا عوام اہلسنت سے پرخلوص گزارش ہے کہ ارشاد حیدری صاحب کے ان فتنہ انگیز پوسٹس سے باخبر رہیں ۔ فقط والسلام