20/04/2023
Why Higgs Particle is important???
Online tution of Matric, Fsc and BS level Physics available. 1st and 2nd year sessions are starting
20/04/2023
Why Higgs Particle is important???
08/04/2023
Photons and Electrons are made of electromagnetic fields....
07/04/2023
Self Improvement tips
07/04/2023
Electrons and 2 Quarks are building blocks of nature...
05/04/2023
#brucelee #bewatermyfriend #bruceleemotivation #reels # fbreels #motivational reels #motivation
04/04/2023
Human's ready for Detection of Aliens
#aliens detection by #scientists #shorts #physics #bigbang #satellites #science #extraterrestrial
. ماس سپرنگ سسٹم Mass spring system
تحریر:گمنام مسافر
ماس سپرنگ سسٹم سپمل ہارمونک موشن پرفام کرتا ہے۔ماس سپرنگ سسٹم میں ایک سپرنگ کے ایک اینڈ کو ماس کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جبکہ سپرنگ کا دوسرا سرا فکسڈ ہوتا ہے۔پہلے تو یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سپمل ہارمونک موشن کیا ہوتی ہے۔کسی بھی جسم کی موشن کو ہم اس وقت سمپل ہارمونک موشن کہیں گے اگر وہ اپنی مین پوزیشن کے اردگرد حرکت کرے اور اس میں پید ہونے والا ایکسلریشن کی سمت ہمیشہ مین پوزیشن کی طرف ہو۔چونکہ ماس سپرنگ سسٹم بھی سمپل ہارمونک پرفام کرتا ہے تو اسکا مطلب ہوا کہ ایکسلریشن کی سمت مین پوزیشن کی طرف ہوگی یعنی جب بھی جسم مین پوزیشن کی طرف حرکت کرے گا تو اسکی ولاسٹی میں مسلسل اضافہ ہوگا اور جیسے ہی یہ مین پوزیشن سے دور جاٸے گا تو اسکی سپیڈ کم ہوتی جاۓ گی۔چلو اسکو تھوڑا ڈیپتھ میں سمجھتے ہیں۔سمپل ہارمونک موشن کے لیے چونکہ ڈسپلیسمنٹ اور ایکسلریشن ایک دوسرے کے ڈاٸریکٹلی پروپورشنل ہوتے ہیں اور ایکسلریشن کی سمت ہمیشہ مین پوزیشن کی طرف ہوتی ہے مگر کیسے؟ماس سپرنگ سسٹم کے بارے میں ہک لاء کہتا ہے کہ اگر آپ سپرنگ سسٹم میں جب ماس کو اسکی مین پوزیشن سے کیھینچ کر ایکسٹریم پوزیشن تک لاٸیں کہ اس میں ایکسلریشن پیدا نہ ہو تو ہر پواٸنٹ پر دونوں فورسز یعنی آپ کی لگاٸ گٸ فورس اور جو فورس سپرنگ لگاٸے گا برابرہوں گی۔لہذا ہم کہ سکتے ہیں کہ سپرنگ کی فورس اس سمت کے مخالف ہوگی جس میں آپ جسم کو کھینچیں گے لیکن مقدار میں ریسٹورنگ فورس یعنی جو فورس آپ لگاٸیں گے کے برابر ہوگی اور جتنا آپ اس کو دور تک کھینچ کر لے جاٸیں گے آپ کو زیادہ فورس لگانا پڑے گی۔یعنی یہ سمجھ لیں کہ جیسے ہی آپ جسم کو بہت آہستہ حرکت دیں گے تو ہر پواٸنٹ پر آپ کی فورس سپرنگ فورس کے برابر ہو گی اسی طرح ہر اگلے پواٸنٹ پر آپ کی فورس سپرنگ فورس کے برابرتو ہو گی لیکن وہاں پر وہ پہلے پواٸنٹ کی نسبت زیادہ ہو گی اور یہ تو ظاہر ہے کہ جتنا زیادہ دور کھینچ کر جسم کولیں جاٸیں گے اتنی فورس زیادہ لگانی پڑے گی یعنی فورس ڈسپیلمنٹ کے ڈاٸریکٹلی پروپورشنل ہوتی ہے(F=-kx).یہاں پر نیگیٹو کی علامت یہ ظاہر کرتی ہے کہ جو فورس آپ لگاٸیں گے(ریسٹورنگ فورس) سپرنگ کی فورس کے مخالف ہے ہیں اور چونکہ سپرنگ کی فورس ڈسپلیسمنٹ کے مخالف ہے یعنی جس سمت میں آپ جسم کو حرکت دیں گے ۔اگر آپ نیگیٹو کا ساٸن ہٹا دیں تو یہ ظاہر ہوگا کہ آپ کو فورس زیادہ لگانا پڑے گی جیسے ہی آپ اسکو جسم کو زیادہ ڈسپلیس کرتے ہیں لیکن ہم کو چونکہ اس جسم کو اسطرح سے ڈسپلیس کریں کہ ہر جگہ پر سپرنگ کی فورس ہماری فورس کے برابر رہے یعنی بہت ہی آہستہ اس کو کھینچیں کہ اس میں ایکسلریشن پیدانہ ہو پاۓ تاکہ ہم اپنی فورس کو سپرنگ کی فورس کے ساتھ ریپلیس کرسکیں اور لازمی بات ہے کہ جیسے ہی ہم اس فورس کو سپرنگ فورس سے تبدیل کریں گے تو ہم کو نیگیوٹو کا نشان لگانا پڑے گا کیونکہ سپرنگ کیفورس مخالف سمت میں عمل کررہی ہے تو ظاہر ہے ریلیشن کچھ یوں ہوگاF=-kx۔۔اب چونکہ فورس اور ایکسلریشن ایک دوسرے کے ڈاٸریکٹلی پروپوشنل ہوتےہیں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈسپلیسمنٹ اور ایکسلریشن ایک دوسرےکے ڈاٸریکٹلی پروورشنل ہیں۔یعنی جتنا دور سے اس جسم کو چھوڑیں گےاتنا ہی اس میں ایسکسلریشن پیدا ہوگا یعنی ایک سیکنڈ میں اسکی ولاسٹی اتنی زیادہ بڑھے گی۔اب دوسرا پوانٹ یہ سمجھنے والاہےکہ ایکسلریشن کی سمت مین پوزیشن کی طرف کیوں ہوگی تو اسکا جواب یہ ہے کہ چونکہ ریسٹورنگ فورس یعنی جو فوس سپرنگ لگاتا ہے کی سمت مین پوزیشن کی طرف ہے نیوٹن کے دوسرے قانون کے مطابق۔مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟اس لیے کہ ہم ایکسریشن کی تعریف بھی تو اسی طرح کرتےہیں کہ ولاسٹی میں تبدیلی کی شرح۔آپ خود سوچیں کہ جیسے ہی جسم مین پوزیشن کی طرف اسکیولاسٹی بڑھے گی تو لازمی بات ہے کہ ولاسٹی میں تبدیلی پوزیٹوہوگی جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایکسلریشن کی سمت وہی ہے جس سمت میں جسم بلاک حرکت کررہا ہے۔چونکہ جسم کو جب چھوڑیں گے تو وہ مین پوزیشن کی طرف حرکت کرے گا تو ظاہر ہے کہ اسکی سمت مین پوزیشن کی طرف ہوگی۔اب جیسے ہی جسم مین پوزیشن کی طرف بڑھتا جاٸے گا تو اسکی ولاسٹی بڑھتی جاۓ گی۔اب جیسے ہی جسم مین پوزیشن پر پہنچے گا تو لازمی بات ہے کہ اسکی ولاسٹی زیادہ ہوگی تو اپنے مومینٹم کی وجہ سے وہ نہیں رکے گا۔کیونکہ سپرنگ کے پاس اتنی فورس نہیں ہوگی کہ اسکو روک سکےاس لیے کہ ڈسپلیسمنٹ ہی جب مین پوزیشن پر زیرو ہوگا تو فورس بھی تو زیرو ہوگی س لیے جسم مین پوزیشن کو کراس کر کے دوسری طرف حرکت کرنے لگ جاٸے گا لیکن جیسے ہی وہ دور جاتا جاٸے گا سپرنگ اس پر اتنی ہی زیادہ فورس لگاٸے گا اور آخر کار وہ رک جاٸے گا۔اب یہاں غورکرنے والی بات یہ ہے کہ یہاں اگرچہ سپرنگ سے دور جارہا ہے پھر بھی ایکسلریشن کی سمت مین پوزیشن کی طرف ہے۔کیونکہ نیٹ فورس کی سمت مین پوزیشن کی طرف ہے۔کیونکہ جیسے ہی جسم مین پوزیشن کو کراس کر گا تو اسکی ولاسٹی کم ہوتی چلی جاٸے گی اور چونکہ اب فاٸنل ولاسٹی کم ہوگی تو ظاہر ہے ولاسٹی میں تبدیلی کی شرح نیگیٹو ہوگی جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ایکسلریشن کی سمت موشن کے مخالف ہے اور چونکہ جسم کی سمت مین پوزیشن کے مخالف یے اس لیے وہ مین پوزیشن سے دور جارہاہے اس لیے ایکسلریشن کی سمت مین پوزیشن کی سمت میں ہوگی۔یعنی چاہے جسم مین پوزیشن کی طرف حرکت کرے یا اس سے دور جانے کی کوشش کرے ایکسلریشن ہمشہ مین پوزیشن کی طرف ہی ہوگا۔یاد رہے کہ جسم جس سرفس پر سپمل ہارونک موشن پرفام کرے گا وہ فرکشنل لیس ہونا چاہے تب ہی یہ ریلیشن ممکن ہے۔
نیوکلیٸر فورس.
قدرت میں چار بنیادی فورسز پاٸ جاتی ہیں جن میں الیکٹرومیگنیٹک فورس،گریوی ٹیشنل فورس،کمزور نیوکلیاٸ فورس اور مضبوط نیوکلیاٸ فورس شامل ہیں۔ایسی فورس پروٹانز اور نیوٹرانز کو نیوکلیس میں باندھ کر رکھتی ہے مضبوط نیوکلیاٸ فورس کہلاتی ہے۔آج ہم اسی فورس کو تفصیل سے جاننے کی کوشش کریں گے۔
زیادہ تر طلباء شاید یہ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیس الیکٹرونز پر جو قوت لگاتا ہے اس کو نیوکلیئر قوت کہتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔یعنی طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیئر فورس الیکٹروسٹیٹک فورس ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ الیکٹروسٹیٹک فورس چارجز کے درمیان لگنے والی فورس ہے جبکہ نیوکلیئر فورس چارج پر منحصر نہیں۔ایسی فورس ہے جو نیوکلیانز(پروٹانز اور نیوٹرانز) ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔یعنی نیوکلیانز کے درمیان کشش کی فورس نیوکلیئر فورس کہلاتی ہے۔یہی قوت نیوکلیانز کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے جس کی وجہ سے پروٹان نیوکلیئس میں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے چپکے ہوتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہوگا کہ نیوکلیئس میں پروٹون کیسے ایگسٹ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ تو ایک دوسرے پر الیکٹروسٹیٹک ریپلسو فورس لگاتے ہیں اور اس فورس کی وجہ سے تو ان کو ایک دوسرے سے دور جانا چاہیے اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھنے سے ایٹم کو کو لیپس کر جانا چاہیے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایٹم کو کلیپس کر جانا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایٹم تو سٹیبل ہوتا ہے۔یعنی اس کے نیوکلیئس میں موجود پروٹانز نے ایک دوسرے کو جکڑے رکھا ہوتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ضرور کوئی ایسی فورس ہوگی جو ان کو آپس میں مضبوطی کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔انیس سو اکتیس میں نیوٹرانز کی دریافت کے بعد ہمیں یہ پتہ چلا کہ ایسی فورس واقعتاً ہے جو پروٹان اور نیوٹرون کو آپس میں جوڑ کر رکھتی ہے اور اس فورس کو نیوکلیئر فورس کہتے ہیں۔چونکہ نیوکلیس کا سائز ایٹم کے سائز کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے یعنی یوں سمجھیں کہ اگر ہم ایٹم کے ساٸز کو ایک کرکٹ سٹیڈیم مانیں تو اس کے مقابلے میں نیوکلیس کا ساٸز سٹیڈیم میں رکھی ایک کرکٹ بال کے برابر ہوگا یعنی ایک لاکھ گنا چھوٹا۔اگرچہ نیوکلیس کا ساٸز بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ایٹم کا نناوے فیصد ماس اسکے نیوکلیس میں موجود ہوتا۔تھوڑا تصور کیجیے کہ پروٹانز ایک دوسرے کے کتنے قریب ہوں گے اور اس قدر قریب ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان الیکٹروسٹیٹک ریپلسوو فورس کتنی مضبوط ہوگی اور چونکہ پروٹانز نے اسکے باوجود ایک دوسرے کو جکڑا ہوتا ہے اسکا مطلب ہے کہ الیکٹروسٹیٹک فورس کی نسبت نیوکلیر فورس کتنی زیادہ طاقتور ہوگی۔لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ اس فورس کے متعلق معلومات یعنی دو نیوکلیاٸنز یعنی پروٹانز اور پروٹانز کے درمیان نیوٹرونز اور نیوٹرونز کے درمیان یا پروٹانز اور نیوٹرانز کے درمیان نیوکلیر فورس کی مقدار کتنی ہے،کے لیے ہمارے پاس کوٸ لاء موجود نہیں ہے جسطرح ہم دو ماسز کے درمیان عمل کرنے والی گریوی ٹیشنل فورس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس گریوی ٹیشنل لاء(F=Gm1m2/r²) اور دو چارجز کے درمیان موجود الیکٹروسٹیٹک فورس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے کولمب لاء(F=kq1q2/r²) لاء موجود ہے۔
نیوکلیر فورس اگرچہ کششی فورس ہے لیکن یہ گریوی ٹیشنل فورس یا الیکٹروسٹیٹک فورس کی طرح اتنی سادہ نہیں ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ گریوی ٹیشنل فورس اور الیکٹروسٹیک فورس کی نسبت بہت ہی شارٹ رینج فورس ہے۔اگرچہ یہ بہت ہی شارٹ رینج فورس ہے یعنی اگر دو نیوکلیانز کے درمیان فاصلہ فیمٹو میٹر کے آرڈر میں ہو تب یہ فورس برقرار رہ پاۓ گی۔فیمٹو میٹر کا اندازہ لگانے کے لیے کہ یہ کتنا چھوٹا فاصلہ ہے اس کے لیے اگر آپ ایک میٹر کو کھرب برابر حصوں میں تقسیم کریں تو ان حصوں کی لمباٸ شاید فیمٹو میٹر(femto=10^-15) میں آۓ۔اگر ہم دو نیوکلیانز کے درمیان تقریبا 3fm فاصلہ کردیں تو نیوکلیر فورس نہیں عمل کرے گی۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی شارٹ رینج فورس ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دو ماسز کے درمیان ہمیشہ اٹریکٹو فورس ہی لگتی ہے یعنی ماسز ہمیشہ ایک دوسرے کو اپنی جانب کھنچتے ہیں۔کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اگر دو ماسز کے درمیان فاصلہ تبدیل کرنے سے وہ ایک دوسرے پر repulsive فورس لگانا شروع کردیں۔یعنی گریوی ٹیشنل فورس کی نوعیت فاصلے پر منحصر نہیں ہے۔اگرچہ گریوی ٹیشنل فورس کی مقدار فاصلہ تبدیل کرنے سے تبدیل ہوجاتی ہے لیکن اسکی نیچر تو سیم ہی رہی گی یعنی وہ ہمیشہ اٹریکٹو فورس ہی رہے گی۔اسی طرح اگر دو ایک جیسے چارجز کے درمیان ہمیشہ ریپلشن کی فورس عمل کرے گی چاہے فاصلہ کم ہو یا زیادہ ہو۔لیکن حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اگر دو نیوکلیاٸنز کے درمیان فاصلہ 0.7fm سے جیسے ہی کم ہوگا تو ان کے درمیان موجود نیوکلیر فورس ریپلسو فورس بن جاۓ گی۔یعنی نیچر نے ایک لمٹ لگاٸ ہوٸ ہے کہ دو نیوکلیاٸ اس فاصلے سے کم فاصلے پر نہیں آسکتے۔جیسے ہی وہ قریب آنے کی کوشش کریں گے نیوکلیر ریپلسو فورس لگنا شروع ہوجاۓ گی۔اگرچہ یہ فورس بہت ہی مضبوط ہے لیکن جیسے ہی دو نیوکلیاٸنز کے درمیان تھوڑے ہی فاصلہ بڑھنے کے ساتھ یہ فورس تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔جس طرح اگر دو چارچز یا ماسز کے درمیان اگر فاصلہ دو گنا زیادہ کردیا جاۓ تو ان کے درمیان فورس کی مقدار چار گنا کم ہوجاتی ہے۔جبکہ اس کے برعکس اگر دو نیوکلیاٸنز کے درمیان فاصلہ دو گنا زیادہ کردیا جاۓ تو یہ نیوکلیر فورس کٸ ہزار گنا کم ہوجاتی ہے یعنی اسکا ریٹ آف چینچ بہت زیادہ ہے۔اگر دو نیوکلیاٸنز مطلب دو پروٹانز کے درمیان یا پروٹانز اور نیوٹرانز کے درمیان یا دو نیوٹرانز کے درمیان فاصلہ 1fm ہو تو نیوکلیر فورس کی مقدار سب سے زیادہ ہوگی ایک اندازے کے مطابق 25000N فورس لگے گی جوکہ بہت ہی بڑی فورس ہے ۔اور جیسے ہی نیوکلیانز کے درمیان فاصلہ تقریبا 3fm سے بڑھتا ہے تو یہ اتنی کم ہوجاتی ہے کہ الیکٹروسٹیک فورس غالب آجاتی ہے۔
ہاٸیڈروجن گیس کا تفصیلی تعارف
ہاٸیڈروجن ایک ایسا ایلیمنٹ ہے جو کاٸنات میں سب سے زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔رات کو آسمان پر ٹمٹماتے ستارے ہوں یا ہماری زمین کو اپنی روشنی سے منور کرنے والا سورج ہو,ان سبھی کا زیادہ تر حصہ(95 فیصد) ہاٸیڈروجن پر مشتمل ہوتا ہے۔ہاٸیڈروجن زمین پر پاٸ جانے والی سب سے ہلکی گیس ہے۔یہ ایک بے رنگ,بے بو اور بے ذاٸقہ گیس ہے۔
رابرٹ بواٸل ہاٸیڈروجن گیس کی تیاری کرنے والا پہلا ساٸنسدان ہے جس نے 1677 میں دھات(لوہا) کو تیزاب میں ڈال کر ہاٸیڈروجن گیس تیاری کی تھی۔کیونکہ آج ہم جانتے ہیں کہ دھاتوں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں تیزاب(ایسڈز) میں رکھا جاتا ہے تو یہ ہاٸیڈروجن گیس پیدا کرتی ہیں۔ہاٸیڈروجن کو اس زمانے میں ایک عنصر(ایلیمنٹ) کی حیثیت سے نہیں جانا جاتا تھا۔اس کے ایک سو سال بعد(1766) ایک برطانوی ساٸنسدان ہنیری کیونڈش نے یہ ثابت کیا کہ ہاٸیڈروجن ایک ایلیمنٹ ہے اور یوں ہاٸیڈروجن کی دریافت کا سہرا انہی کو دیا جاتا ہے۔اس کے کچھ سالوں بعد ایک فرانسیسی ساٸنسدان انٹونی لاواٸیسر نے اس گیس پر مزید تحققیق کی اور ثابت کیا کہ اس گیس کو ہوا(آکسیجن) کی موجودگی میں جلانے سے پانی اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔اس بنا پر اس نے اس گیس کا نام ہاٸیڈروجن رکھا۔ہاٸیڈرو کا مطلب ہے”پانی“ اور جن کا مطلب ہے”پیدا کرنے والا“۔یعنی اسکو جلانے کے نتیجہ میں پانی پیدا ہوتا ہے۔
زمین سے نکالی جانے والے زیادہ تر دھاتیں اپنی اصلی حالت میں نہیں ہوتی اسکی بجاۓ یہ آکساٸیڈ حالت میں ہوتی ہیں جیسے آٸرن آکساٸیڈ,نکل آکساٸیڈ اور ٹنگسٹن آکساٸیڈ وغیرہ۔ان کو خالص حالت میں لانے کے لیے انمیں سے آکسیجن کو الگ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔آکسیجن کو کمپاٶنڈ میں سے جو میٹریل الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسے ریڈیوسنگ ایجنٹ کہتے ہیں۔ہاٸیڈروجن چونکہ ایک اچھا ریڈیوسنگ ایجنٹ ہے اس لیے اسکو میٹلز یعنی دھاتوں میں سے آکسیجن کو الگ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ انہیں اصلی حالت میں لایا جاسکے۔عام طور پر ہاٸیڈروجن کم درجہ حرارت پر ایک اچھا ریڈیوسنگ ایجنٹ ہے۔اگرچہ زیادہ تر دھاتوں میں سے آکسیجن کو الگ کرنے کے لیے کاربن کا استعمال کیا جاتا جو کہ 700 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت پر ایک اچھا ریڈیوسنگ ایجنٹ ہے۔تاہم کچھ دھاتوں جیسے ٹنگسٹن,مولیبڈینم اور نکل جیسی دھاتوں کو خالص بنانے یعنی انمیں سے آکسیجن کو الگ کرنے کے لیےہاٸیڈروجن کو بطور ریڈیوسنگ ایجنٹ استعمال کیا جاتا ہے۔چونکہ ہاٸیڈروجن ان دھاتوں کی نسبت آکسیجن سے زیادہ رغبت رکھتا(یعنی کمیکل بانڈ بنا سکتا ہے) لہذا یہ دھاتوں سے آکسیجن کو الگ کردیتا ہے۔
ہاٸیڈروجن کا ایک اہم صنعتی استعمال امونیا گیس(NH3) کی تیاری ہے۔امونیا گیس اس وقت بنتی ہے جب نائیٹروجن اور ہائیڈروجن کو آپس میں ملایا جاتا ہے اس پراسس کو ہائبر پراسس کہتے ہیں.امونیا کی تیاری ایک بہت بڑا سائنسی انقلاب سمجھا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہے نائیٹروجن اور ہائیڈروجن اتنی آسانی سے آپس میں نہیں ملتے یعنی کیمیائ تعامل نہیں کرتے.بیسویں صدی میں ہمیں نائیٹروجن اور ہائیڈروجن کو آپس میں ملانے کا ایک طریقہ ملا اور جس سائنسدان نے یہ طریقہ بتایا اس کا نام فریٹذ ہیبر تھا.اس نے ہمیں بتایا کہ نائیٹروجن اور ہائیڈروجن کو بہت زیادہ درجہ حرارت اور بہت زیادہ پریشر پر آپس میں ملانے سے امونیا تیار کیا جاسکتا ہے.اس پراسس کے لیے اس نے ایک کیٹالسٹ بھی استعمال کیا جو کہ لوہا تھا تاہم اس کے علاوہ اور بھی کیٹالسٹ استعمال کیے جاسکتے ہیں.کیٹالسٹ سے مراد ایسی شے ہے جو ردعمل میں حصہ نہیں لیتی بلکہ اس ردعمل کی رفتار کو تیز کرتی ہے.امونیا کی تیاری اس لیے اتنی اہم ہے کیونکہ یہ فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے بہت ضروری ہے لیکن یہ کھادوں میں مرکب حالت جیسا کہ امونیم سلفیٹ اور امونیم نائیٹریٹ کی حالت میں استعمال ہوتا ہے .امریکہ میں اس کا شمار ان پہلے پانچ کیمیکلز میں ہوتا ہے جو سب سے زیادہ مقدار میں پیدا کیے جاتے ہیں۔
عام طور پر ویجیٹل آٸل جیسے سورج مکھی کا تیل روم ٹمریچر پر ماٸع حالت میں پاۓ جاتے۔ان unsaturated فیٹس(ایسی چکناٸ والی چیزیں جو روم ٹمریچر پر ماٸع حالت میں پاٸ جاتی ہیں) کو سیچوریٹڈ فیٹس(ایسی چکناٸ والی چیزیں جو روم ٹمریچر پر ٹھوس حالت میں پاٸ جاتی ہیں) جیسے بناسپتی گھی میں تبدیل کرنے کے لیے نکل کیٹالسٹ کی موجودگی میں ان میں ہاٸیڈروجن گیس شامل کی جاتی ہے۔اس پراسس کو ہاٸیڈروجینیشن کہتے ہیں۔
زمین سے نکلنے والا پٹرولیم کو سلفر کی بنیاد پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے;کھٹا تیل اور میٹھا تیل۔جس تیل میں سلفر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اسے کھٹا تیل اور جس تیل یعنی پٹرولیم میں سلفر کی مقدار کم ہوتی ہے اسے میٹھا تیل کہا جاتا ہے۔متحد عرب امارات کے علاقوں سے نکلنے والا تیل کھٹا تیل ہے۔تیل کی صفاٸ(refining) کے دوران اس میں سے سلفر کو نکالنا بہت ضروری ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ تیل گاڑیوں میں استعمال ہوگا تو اسکے جلنے کے نتیجہ میں سلفر ڈاٸ آکساٸیڈ گیس خارج ہوگی جو کہ تیزابی بارش کا باعث بنتی ہے۔سلفر کو تیل میں سے نکالنے کے لیے ہاٸیڈروجن گیس استعمال کی جاتی ہے۔ہاٸیڈروجن چونکہ سلفر سے بہت رغبت رکھتی ہے اور یوں تیل میں موجود سلفر کو الگ کرنے کے لیے سلفر سے کیمیاٸ تعامل کر کے سلفر ڈاٸ آکساٸیڈ گیس بناتی ہے۔
بہت سے خلائی راکٹ مائع ہائیڈروجن کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ہائیڈروجن آکسیجن کے ساتھ کمسشن چیمبر میں مکس ہوتی ہیں تو اسکے نتیجہ انتہائی گرم بھاپ بناتی ہے، جو نوزل سے باہر نکلتی ہے۔ اس سے زور(تھرسٹ) پیدا ہوتا ہے، جو راکٹ کو اوپر کی طرف دھکیلتا ہے۔
ہاٸیڈروجن غبارے کافی ہلکے ہوتے ہوتے اور ہوا میں اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہاٸیڈروجن گیس کا سب سے پہلا استعمال ہاٸڈروجن غباروں میں کیا گیا۔ہاٸیڈروجن غبارے کی دریافت ایک فرانسیسی ساٸنسدان جیک چارلس نے 1783 میں کی تھی۔اس غبارے پر انہوں نے اپنے ایک ساتھی نول رابرٹس کے ساتھ پہلی پرواز کے دوران ہاٸیڈروجن غبارے پر 43 کلومیٹر کا کامیاب سفر کیا۔اگرچہ اب ہاٸیڈروجن غباروں کا استعمال بہت محدود ہوگیا ہے کیونکہ ہاٸیڈروجن غباروں میں استعمال ہونے والی ہاٸیڈروجن گیس ایک آتش گیر(flammable)گیس ہے یعنی آسانی سے آگ پکڑ سکتی ہے۔تاہم موسمی غباروں میں اب بھی ہاٸیڈروجن گیس استعمال کی جاتی ہے۔
غباروں کے علاوہ ہاٸیڈروجن گیس کو ہواٸ جہازوں میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔مثال کے طور پر جرمن ایٸر شپ کی کمپنی Deutsche Zeppelin Reederei (DZR) GmbH نے ایسے اٸیر شپس بناۓ تھے جس میں ہاٸیڈروجن گیس کو بطور فیول استعمال کیا جاتا تھا۔جرمن کی اس ہواٸ کمپنی کے ایک جہاز جسکا نام LZ 129 Hindenburg تھا۔یہ جہاز جرمنی سے امریکہ کی جانب روزانہ ہوتا ہے۔اس جہاز میں 97 لوگ سوار تھے اور یہ جہاز مختلف ممالک کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔کہا جاتا ہے کہ یہ ہواٸ جہاز بوٸنگ 747 سے تین گنا بڑا جہاز تھا اور اسکی لمباٸ 245 میٹر تھی اور اسکی سپیڈ 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے تھی۔یہ جہاز نیوجرسی پر لینڈ کرنے ہی والا تھا کہ اس میں موجود ہاٸیڈرجن گیس کو آگ لگنے سے جہاز مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔6 مٸ 1937 کو درپیش آنے والے اس حادثے میں 35 افراد ہلاک ہوٸے۔زمینی عملے کا بھی ایک رکن اس حادثے میں ہلاک ہوا۔یوں کل ملا کر 97 میں سے 36 لوگ ہلاک ہوۓ۔تاریخ میں اسے حادثے کو Hindnburg Disaster کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سورج سمیت تمام ستاروں کے ماس کا پچانوے فیصد حصہ ہاٸیڈروجن پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ ان چمکتے دمکتے ستاروں میں پیدا ہونے والی روشنی اور حرارت کیسے پیدا ہوتی ہے؟حالانکہ وہاں پر آکسیجن بھی موجود نہیں ہے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کسی چیز کو جلنے کے لیے آکسیجن گیس کی ضررورت ہوتی ہے مثلاً اگر آپ کسی چیز جیسے پٹرول یا لکڑی وغیرہ کو ہوا(آکسیجن) کی غیر موجودگی میں جلاتے ہیں تو وہ نہیں جلے گی یعنی اسکو آگ نہیں لگے گی۔دراصل ستاروں میں پیدا ہونے والی روشنی نیوکلیر فیوژن کا نتیجہ ہے۔نیوکلیر فیوژن سے مراد ایسا عمل ہے جس میں دو چھوٹے ایٹمز(ایلیمنٹس) آپس میں مل کر ایک بڑا ایٹم(ایلیمنٹ) بناتے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو اس دوران بہت زیادہ مقدار میں تواناٸ خارج ہوتی ہے۔مثال کے طور پر ہاٸیڈروجن کا اٹامک نمبر ایک ہے جسکا مطلب ہے کہ ہاٸیڈروجن ایلیمنٹ کے ایٹمز کے نیوکلیس میں ایک پروٹان پایا جاتا ہے۔اسی طرح ہیلیم کا اٹامک نمبر دو ہے جسکا مطلب ہے کہ ہیلیم ایلیمنٹ کے ایٹمز میں دو پروٹانز پاۓ جاتے ہیں۔جب ہاٸیڈروجن ایٹمز کو بہت زیادہ درجہ حرارت اور پریشر پر ہاٸیڈروجن ایٹمز کو آپس میں ملایا جاتا ہے تو اسکے نتیجہ میں ایک ایسا ایٹم وجود میں آتا ہے جس کے نیوکلیس میں دو پروٹانز پاٸے جاتے ہیں جو کہ ظاہر ہے کہ وہ ایٹم ہیلیم کا ہوگا۔اس پراسس کو نیوکلیر فیوژن کہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بہت زیادہ مقدار میں انرجی خارج ہوتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج کی کور میں ہر سیکنڈ میں 600 ملین ٹن ہاٸیڈروجن(ایک کلوگرام ہاٸیڈروجن میں 26^10×6.023 ایٹمز ہوتے ہیں)نیوکلیر فیوژن میں استعمال ہورہی ہے۔اس سے اندازہ لگاٸیں کہ ایک سیکنڈ میں کتنے زیادہ ہاٸیڈروجن ایٹمز آپس میں مل کر ہیلیم کے ایٹمز بنارہے ہیں۔حیران کن بات یہ بھی ہے اس عمل میں تمام ہاٸیڈروجن ہیلیم میں تبدیل نہیں ہوتی ہے۔تقریباً 598 ملین ٹن ہاٸیڈرجن ہیلیم میں تبدیل ہوتی ہے جبکہ بقیہ دو ملین ٹن ہاٸیڈروجن تواناٸ میں تبدیل ہوتی ہے۔یہی وہ انرجی ہے جو زمین پر جو حرارت اور روشنی کی شکل میں زمین تک پہنچتی ہے اور زمین پر تمام جانداروں کی بقا کا ذریعہ ہے۔2 ملین ٹن ہاٸیڈرجن جو کہ انرجی میں تبدیل ہوتی ہے,اسکو ماس ڈیفیکٹ کہتے ہیں۔دو ملین انرجی میں کنورٹ ہونے والی ہاٸیڈروجن سے کتنی زیادہ مقدار میں انرجی پیدا ہوگی,اس کے لیے ہم آٸین سٹاٸن کی مندرجہ ذیل مساوات استعمال کرسکتے ہیں۔
E=mc2
یہاں c سے مراد روشنی کی سپیڈ ہے جو کہ 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے جبکہ m سے مراد یہاں ماس ڈیفیکٹ ہے۔قیمتیں درج کرنے سے
E=(2Mton)(300000)2
E=(2000000000kg)(300000km)2
اس مساوات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر سیکنڈ میں ہاٸیڈروجن کی فیوزن سے سورج کتنی زیادہ مقدار میں انرجی پیدا کررہا ہے۔
اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوۓ ساٸنسدانوں نے ہاٸیڈروجن بم بنایا ہے۔یہ ایٹم بم بھی سورج کی طرح نیوکلیر فیوژن کے مکانزم پر کام کرتا ہے۔اسے آپ ایک طرح سے چھوٹا سورج کہہ سکتے ہیں۔ہاٸیڈروجن بم کی طاقت کا اندزہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ایٹم بم جاپان کے دو شہروں پر گراٸے گۓ روایتی ایٹم بم سے ہزار گنا زیادہ طاقتور اور اور خطرناک ہے۔یہ انتا خطرناک ہے کہ چند لمحوں میں بڑے سے بڑے شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔یہ بات ذہن نشین ہونے چاہیے کہ جاپان کے دو شہروں یعنی ہیروشیما اور ناگاساکی پر جو دو ایٹم بم امریکہ کی جانب سے گراٸے گۓ تھے وہ نیوکلیر فشن بم تھے جس میں ایک بڑے ایٹم جیسے یورینیم کو توڑا جاتا ہے اور اسکے نتیجہ میں بہت زیادہ مقدار میں انرجی خارج ہوتی ہے۔ان دھماکوں کے نتیجہ میں ڈیڑھ لاکھ لوگ موقع پر ہلاک ہوگۓ تھے اور بعد میں کٸ ہرزار لوگ انکی تابکاری سے متاثر ہوۓ اور مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر نتیجتاً مرگۓ۔
زمین پر ہاٸیڈروجن گیس آزادانہ حالت میں بہت کم مقدار میں پاٸ جاتی ہے۔لہذا, اسکو حاصل کرنے کے لیے ایسی چیزوں(کمپاٶنڈ) کی ضرورت ہوتی ہے جن میں یہ گیس پاٸ جاتی ہے۔مثال کے طور پر پانی ایک ایسا کمپاٶنڈ ہے جس میں یہ سب سے زیادہ مقدار میں پاٸ جاتی ہے۔اسکے علاوہ یہ فوسل فیولز جیسے پٹرول,قدرتی اور کوٸلہ وغیرہ میں بھی یہ کثیر مقدار میں پاٸ جاتی ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پانی ایک ایسا کمپاٶنڈ ہے جو زمین کی سطح پر سب سے زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔زمین کی سطح کا 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔سوال ہے کہ پانی خود کس چیز سے بنا ہے۔؟پانی دراصل دو گیسوں آکسیجن اور ہاٸیڈروجن کے باہمی ملاپ سے بنا ہے یعنی جب یہ دونوں گیسسیں(مخصوص حالات میں)آپس میں ملتی ہیں تو پانی بناتی ہیں۔تاہم,اس کا الٹ بھی ممکن ہے یعنی ہم پانی کو دوبارہ آکسیجن اور ہاٸیڈروجن میں بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔مگر کیسے؟پانی میں سے الیکٹرک کرنٹ گزار کر ہم پانی کو ہاٸیڈروجن اور آکسیجن میں تبدیل کرسکتے ہیں۔پانی میں سے کرنٹ گزار کر اسکو آکسجن اور ہاٸیڈروجن میں تبدیل کرنے کے پراسس کو الیکٹرولاٸسز کہتے ہیں۔بدقمسمتی سے الیکٹرولاٸسز کےذریعے ہاٸیڈرجن گیس کی تیاری ایک مہنگا طریقہ ہے۔کیونکہ پانی کو ہاٸیڈروجن اور آکسیجن میں تبدیل کرنے کے لیے بہت زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔لہذا اگر ہم بڑے پیمانے پر ہاٸیڈروجن گیس پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے طریقوں کا انتخاب کرنا پڑے گا جو الیکٹرولاٸسز کی نسبت سستے ہوں اور خوش قسمتی سے ایسے طریقے موجود ہیں۔
2020 کے ڈیٹا کے مطابق دنیا بھر میں پیدا ہونے والی ہاٸیڈروجن گیس کا 95 فیصد حصہ صرف فوسل فیولز(تیل,,کوٸلہ,گیس) جیسے ذراٸع کو استعمال کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔فوسل فیولز کی مدد سے ہاٸیڈروجن گیس کی تیاری کے بہت سے طریقے موجود ہیں مگر سب سے عام اور زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ سٹیم میتھین ریفارمنگ(SMRs) ہے۔اس طریقہ کار میں قدرتی گیس(میتھین CH4) کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر پانی(Steam) کے ساتھ گرم کیا جاتا ہے۔اس کے نتیجہ میں کاربن مونو آکساٸڈ اور ہاٸیڈروجن گیسسیں خارج ہوتی ہے۔یہ دونوں گیسسیں مکسچر کی حالت میں ہوتی ہے جسے بعد میں مختلف مراحل سے گزار کر ہاٸیڈروجن گیس تیار کی جاتی ہے۔اگرچہ الیکٹرولاٸسز کی نسبت سٹیم متھین ریفارمنگ ایک سستا طریقہ ہے لیکن یہ ایک اچھا طریقہ نہیں ہے۔کیونکہ فوسل فیولز کی مدد سے ہاٸیڈروجن کی تیاری کے دوران کاربن ڈاٸ آکساٸیڈ اور دوسری زہریلی گسیسیں خارج ہوتی ہیں جو تیزابی بارش,ماحولیاتی آلودگی اور مضر صحت کا باعث بنتی ہیں۔فوسل فیولز جیسے ذراٸع سے ہاٸیڈروجن گیس کی تیاری کا دوسرا بڑا مسٸلہ یہ ہے کہ فوسل فیولز انرجی کا ایک محدود یا ناقابل تجدید ذریعہ ہے یعنی ایک دن یہ ختم ہوجاٸیں گے۔اس لیے ہمیں ہاٸیڈروجن کی پیداوار کے لیے ایسے طریقوں کی ضرورت ہے جو بجلی کے قابل تجدید ذراٸع ہوں۔توانائی کے ان ذرائع میں شمسی توانائی، ہوا کی توانائی، جیوتھرمل توانائی، اور پن بجلی شامل ہیں۔اس کے علاوہ پانی میں کچھ ایسے پودے(الجی) بھی پاۓ جاتے ہیں جو ہاٸیڈروجن گیس پیدا کرتے ہیں۔مزید یہ کہ ان طریقوں کے ذریعے کسی بھی قسم کی آلودگی پیدا نہیں ہو گی اور یہ انرجی(بجلی) پیدا کرنے کے سستے یا فری ذراٸع ہیں۔اگر ان طریقوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو الیکٹرولاٸسز کے لیے استعمال کیا جاۓ تو یقیناً ہاٸیڈروجن کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا اور ہر ملک ہاٸیڈروجن کی تیاری میں خود کفیل ہوجاۓ گا۔
ہاٸیڈروجن فیول سیلز ایسے سیلز ہوتے ہیں جن میں ہاٸیڈروجن گیس کو بطور فیول استعمال کیا جاتا ہے۔ہاٸیڈروجن فیول سیل کی ایجاد 1837 میں سر ویلیم گروو نے کی تھی۔ہاٸیڈروجن فیول سیل میں ہاٸیڈروجن(ماٸع حالت میں) اور آکسیجن گیسوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔اس سیل کو اس طرح ڈیزاٸن کیا گیا ہے کہ جب یہ دونوں گیسسیں آپس میں ملتی ہیں یعنی مکس ہوتی ہیں تو اس کے نتیجہ میں بجلی پیدا ہوتی ہے۔آپ ہاٸیڈروجن فیول سیل کو ایک بیٹری کی طرح تصور کرسکتے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ بیٹری کو ریچارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہاٸیڈروجن فیول سیل ہاٸیڈروجن کو استعمال کر کے خود بجلی پیدا کرتا ہے۔
ہاٸیڈروجن فیول سیل پر چلنے والی گاڑیوں کو ہاٸیڈروجن الیکٹرک آٹو موباٸلز(FCVs) کہا جاتا ہے۔اگرچہ ہاٸیڈروجن فیول ایک ماحول دوست ماحول فیول ہے یعنی اسکی نتیجہ میں کسی بھی قسم کی آلودگی پیدا نہیں ہوتی ہے۔اسکے باوجود روڑ پر چلنے والی ہاٸیڈوجن الیکٹرک کاروں کی تعداد بہت کم ہے یہاں تک بیٹری پر چلنے والی گاڑیوں سے بھی کٸ گنا کم ہے۔ہاٸیڈروجن گیس کی تیاری,انفرسٹرکچر کا فقدان,ہاٸیڈروجن گیس کی سٹوریج اور ٹرانسپورٹیشن کا مسٸلہ وغیرہ اسکی بڑی وجوہات ہیں۔کیونکہ ہاٸیڈروجن گیس کو زیادہ تر کو فوسل فیولز کی مدد سے بنایا جارہا ہے۔بجاٸے اتنی نوک جھوک کے فوسل فیولز جیسے پٹرول ڈیزل وغیرہ کو براہ راست ہی گاڑیوں میں ہی کیوں نہ استعمال کیا جاۓ۔اضافی پیسہ لگانے کی کیا ضرورت ہے۔اگر ہاٸیڈروجن کو اسے طریقوں س تیار کیا جاۓ جو قابل تجدید ذرراٸع(جن کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے)تو پھر ہاٸیڈروجن کی قیمت میں بہت کمی آۓ گی۔
ہاٸیڈروجن کے تین آٸسوٹوپس پاۓ جاتے ہیں۔آٸسوٹوپس سے مراد کسی ایلیمنٹ کی ایسی حالت ہے جس میں اسکے ایٹم میں پروٹانز کی تعداد برابر جبکہ نیوٹرانز کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔مثال کے طور پر ہاٸیڈروجن کے ایک آٸسوٹوپ پروٹیم کے نیوکلیس میں ایک پروٹان پایا جاتا ہے جبکہ کوٸ نیوٹران نہیں پایا جاتا ہے۔اسی ہاٸیڈروجن کے ایک اور آٸسوٹوپ ڈیوٹریم کے نیوکلیس میں ایک پروٹان اور ایک نیوٹران پایا جاتا ہے۔جبکہ اسکے تیسرے آٸسوٹوپ یعنی ٹریٹیم میں ایک پروٹان جبکہ دو نیوٹرانز پاۓ جاتے ہیں۔
تحریر:
01/04/2023
Einstein's best Prediction
#einstein Best #prediction by Prof. #briancox #shorts #shortsvideo #shortsyoutube #shortsfeed #viral