Learn Islam

Learn Islam Learn Quran Online With Us
(1)

23/08/2026

رسول اللہﷺ کی بچپن کی زندگی کیسی تھی؟ صحیح احادیث کی روشنی میں جانیے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا“انار کو اس کے چھلکے (پردے) کے سمیت کھایا کرو کیونکہ یہ معدے کی صفائی اور اصلاح (دباغ) کرتا ہے اور ...
22/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

“انار کو اس کے چھلکے (پردے) کے سمیت کھایا کرو کیونکہ یہ معدے کی صفائی اور اصلاح (دباغ) کرتا ہے اور روایات میں آتا ہے کہ ہر انار میں جنت کے پانی کا ایک قطرہ یا دانہ ہوتا ہے۔”

حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر: 22629

اس روایت میں انار کے فوائد اور اس کی ایک خاص فضیلت بیان کی گئی ہے، تاہم انار کے چھلکے سمیت کھانے اور ہر انار میں جنت کے پانی کے ایک قطرے یا دانے والی بات کی صحت کے بارے میں اہلِ علم نے کلام کیا ہے، اس لیے اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے وقت احتیاط ضروری ہے، البتہ انار ایک پاکیزہ اور مفید پھل ہے اور قرآنِ مجید میں بھی انار کا ذکر اللہ تعالیٰ کی نعمت کے طور پر آیا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص انار کھاتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس نعمت پر شکر ادا کرنا چاہیے اور صحت بخش غذاؤں کو اعتدال کے ساتھ اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے، یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر، شکر اور اعتدال کی بڑی اہمیت ہے اور دینی فضائل بیان کرتے وقت مستند روایات کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“بے شک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے، جب تک اس کی جان حلق تک نہ پہنچ جائے۔”حوا...
21/08/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“بے شک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے، جب تک اس کی جان حلق تک نہ پہنچ جائے۔”

حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر: 6160

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور توبہ کی اہمیت بیان فرمائی ہے، یعنی انسان سے زندگی میں کتنے ہی گناہ اور غلطیاں کیوں نہ ہوجائیں اگر وہ موت کی آخری حالت آنے سے پہلے سچے دل سے اپنے گناہوں پر نادم ہو، انہیں چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر اس کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی توبہ کو آخری وقت تک مؤخر کرنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کسی شخص سے زندگی میں بہت سی غلطیاں ہوگئی ہوں اور اسے اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوجائے تو اسے فوراً اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرکے اپنی زندگی درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ اس کی موت کا وقت کب آجائے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے اور بندے کو چاہیے کہ وہ موت آنے سے پہلے اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور اس کی مغفرت اور رحمت کا طلبگار بنے۔

ایک سفر کے دوران حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے جذبات کا خیال رکھت...
21/08/2026

ایک سفر کے دوران حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے اس ہار کی تلاش کے لیے لشکر کو ایک ایسے مقام پر ٹھہرنے کا حکم دیا جہاں پانی موجود نہیں تھا۔

جب نماز کا وقت قریب آیا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پانی نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہوگئے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے عظیم آسانی نازل فرمائی اور تیمم کا حکم عطا ہوا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر تیمم کی آیت نازل فرمائی، اور مسلمانوں کے لیے یہ عظیم سہولت پیدا ہوگئی کہ پانی نہ ملنے کی صورت میں پاک زمین سے تیمم کرکے نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾

"پھر اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔"
(سورۃ المائدہ: 6)

اس واقعے کے بعد حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

"اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے!"

یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سبب پیش آنے والے اس واقعے میں بھی اللہ تعالیٰ نے پوری امت کے لیے ایک عظیم آسانی پیدا فرما دی۔

یہ واقعہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک خوبصورت پہلو دکھاتا ہے کہ بظاہر ایک چھوٹی سی پریشانی بھی اللہ کے حکم سے پوری امت کے لیے قیامت تک آسانی اور رحمت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

حوالہ: صحیح البخاری، صحیح مسلم؛ سورۃ المائدہ: 6۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اصل صورت — نبی کریم ﷺ کے دو عظیم مشاہداتنبی کریم حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عالمِ غیب کی ...
21/08/2026

حضرت جبرائیل علیہ السلام کی اصل صورت — نبی کریم ﷺ کے دو عظیم مشاہدات

نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے عالمِ غیب کی عظیم نشانیوں میں سے ایک غیر معمولی مشاہدہ یہ عطا فرمایا کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل فرشتوں والی صورت میں دو مرتبہ دیکھا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، اور ان کے چھ سو پروں کا ذکر فرمایا۔ ان کی عظیم جسامت ایسی تھی کہ ان کے پروں نے افق کو ڈھانپ لیا تھا۔
(صحیح البخاری: 3232، صحیح مسلم: 174)

عام طور پر حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر انسانی صورت میں حاضر ہوتے تھے، اور صحیح روایات میں حضرت دِحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔

دوسری مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ۝ عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ﴾

"اور بے شک انہوں نے اسے ایک مرتبہ اور بھی دیکھا، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔"
(سورۃ النجم: 13–14)

یہ واقعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت کی ایک حیرت انگیز نشانی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی بصیرت اور قوتِ مشاہدہ عطا فرمائی کہ آپ ﷺ نے عالمِ غیب کی اس عظیم مخلوق کو اس کی حقیقی ہیئت میں دیکھا۔

اہم وضاحت: بعض مشہور بیانات میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پروں سے موتی، یاقوت یا مختلف رنگوں کی اشیاء گرنے جیسی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں، لیکن ایسی جزئیات کو صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ثابت شدہ روایت کا حصہ قرار دینا درست نہیں۔ اس لیے مستند واقعہ بیان کرتے ہوئے چھ سو پروں اور افق کو ڈھانپ لینے والی ثابت شدہ تفصیل تک محدود رہنا زیادہ محتاط ہے۔

ماخذ: صحیح البخاری، صحیح مسلم، سورۃ النجم: 13–14۔

اسلامی تاریخ کے بابرکت نکاحوں میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبوب صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء...
20/08/2026

اسلامی تاریخ کے بابرکت نکاحوں میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کی محبوب صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کا نکاح خصوصی مقام رکھتا ہے۔ اس نکاح کی نمایاں خصوصیت اس کی سادگی تھی۔

روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے نکاح کے لیے ان کے پاس موجود مال کے بارے میں دریافت فرمایا تو ان کے پاس ایک زرہ کے سوا زیادہ سامان نہ تھا۔ آپؓ نے وہ زرہ فروخت کی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سے نکاح کے ضروری معاملات مکمل کیے گئے۔

نکاح کے بعد اس عظیم گھرانے کی زندگی بھی نہایت سادہ انداز میں شروع ہوئی۔ روایات میں گھر کے بعض ضروری سامان، خوشبو اور دیگر اشیاء کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح ولیمے کے بارے میں بھی سادہ کھانے کا ذکر آتا ہے۔ یہ نکاح ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ازدواجی زندگی کی اصل خوبصورتی دولت، نمود و نمائش اور مہنگی تقریبات میں نہیں بلکہ ایمان، محبت، تقویٰ، سادگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔

حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا یہ مبارک گھرانہ بعد میں اسلامی تاریخ کے عظیم ترین گھرانوں میں شمار ہوا، اور ان سے حسنؓ اور حسینؓ جیسے جلیل القدر نواسۓ رسول ﷺ پیدا ہوئے۔

اہم تاریخی وضاحت: زرہ کی قیمت 480 درہم، حضرت عثمانؓ کا اسے خرید کر واپس تحفہ دینا، گھر کے سامان کی مکمل فہرست اور ولیمے کے کھانے کی بعض تفصیلات مختلف تاریخی و روایتی مصادر میں مختلف اسانید اور الفاظ کے ساتھ منقول ہیں۔ اس لیے ان تمام جزئیات کو یکساں درجے کی قطعی صحیح حدیث قرار دینا درست نہیں۔ اصل نکاح اور اس کی سادگی کے بارے میں روایات موجود ہیں، جبکہ تفصیلی جزئیات بیان کرتے وقت ماخذ اور روایت کی صحت کا لحاظ ضروری ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں جنت کی نعمتوں اور اہلِ جنت کے حسن و جمال کا نہایت خوبصورت ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مختلف روایات می...
20/08/2026

احادیثِ مبارکہ میں جنت کی نعمتوں اور اہلِ جنت کے حسن و جمال کا نہایت خوبصورت ذکر ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مختلف روایات میں بیان فرمایا کہ جب اہلِ ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کامل حسن و جمال کے ساتھ ہوں گے، ان کے جسموں پر زائد بال نہیں ہوں گے اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی۔

احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اہلِ جنت حضرت آدم علیہ السلام کی صورت و جسامت پر ہوں گے اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ ہوگا۔ اسی طرح ان کی عمر کے بارے میں روایات میں تینتیس سال کا ذکر ملتا ہے۔ جنت میں داخل ہونے کے بعد نہ بڑھاپا ہوگا، نہ بیماری، نہ کمزوری اور نہ موت۔

دنیا میں انسان کی جوانی وقت کے ساتھ ڈھل جاتی ہے، حسن میں کمی آتی ہے اور جسم کمزور ہوجاتا ہے، لیکن جنت کی زندگی میں ایسا کوئی زوال نہیں ہوگا۔ اہلِ جنت ہمیشہ صحت، جوانی، حسن اور خوشی کی حالت میں رہیں گے۔ ان کے لیے ایسی نعمتیں ہوں گی جن کا مکمل تصور بھی دنیا میں رہتے ہوئے ممکن نہیں۔

یہ روایات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لیے آخرت میں ایسی دائمی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو دنیا کی ہر نعمت سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ لہٰذا ہمیں جنت کی طلب کے ساتھ ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال کی زندگی اختیار کرنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے جنت الفردوس میں داخل فرمائے، وہاں کی ابدی نعمتیں عطا فرمائے اور ہمیشہ کی جوانی و خوشی نصیب فرمائے۔ آمین۔

حوالہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی اور مسند احمد میں اہلِ جنت کے اوصاف سے متعلق روایات۔

⚠️ ڈسکلیمر: اہلِ جنت کے اوصاف سے متعلق متعدد روایات موجود ہیں اور بعض تفصیلات مختلف روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہوئی ہیں۔ اس لیے تمام تفصیلات کو ایک ہی حدیث کا مکمل متن قرار دینے کے بجائے معتبر روایات کے مجموعے کی روشنی میں بیان کرنا زیادہ محتاط ہے۔

جب حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ، جو اپنی قوم کے معزز سردار اور عرب کے ماہر شاعر تھے، مکہ مکرمہ آئے تو قریش کے سرد...
20/08/2026

جب حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ، جو اپنی قوم کے معزز سردار اور عرب کے ماہر شاعر تھے، مکہ مکرمہ آئے تو قریش کے سرداروں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بہت سختی سے خبردار کیا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ آپ ﷺ کی بات نہ سنیں، کیونکہ آپ ﷺ کی بات دلوں پر اثر ڈالتی ہے۔ حضرت طفیلؓ نے اپنے کانوں میں روئی رکھ لی تاکہ اتفاقاً قرآنِ کریم کی تلاوت بھی نہ سن سکیں۔

لیکن جب وہ خانۂ کعبہ کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے دل میں غور کیا کہ میں ایک سمجھ دار اور صاحبِ ذوق شاعر ہوں، اچھے اور برے کلام میں فرق کرسکتا ہوں، پھر میں خوف کی وجہ سے حق بات سننے سے کیوں رکوں؟ چنانچہ انہوں نے کانوں سے روئی نکال دی اور رسول اللہ ﷺ کی تلاوتِ قرآن سننے لگے۔

قرآنِ کریم کے کلام نے ان کے دل پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ کی دعوت سنی اور اسلام قبول کرلیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت طفیلؓ اپنی قوم بنو دوس کی طرف واپس گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دینے لگے۔ وقت کے ساتھ ان کی دعوت سے ان کی قوم کے بہت سے لوگ مسلمان ہوئے، جن میں بعد میں عظیم صحابی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہوئے۔

یہ واقعہ ہمیں ایک خوبصورت سبق دیتا ہے کہ کسی بات کو صرف دوسروں کے خوف یا تعصب کی وجہ سے رد نہیں کرنا چاہیے۔ حق کو خود سننا، سمجھنا اور غور کرنا چاہیے، کیونکہ کبھی چند آیاتِ قرآن انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہیں۔

ماخذ: سیرت ابن ہشام، البدایہ والنہایہ اور دیگر کتبِ سیرت۔

⚠️ ڈسکلیمر: حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ کتبِ سیرت و تاریخ میں منقول ہے۔ البتہ بعض تفصیلات مختلف روایات میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں، اس لیے غیرمحقق اضافی تفصیلات کو قطعی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

غزوۂ اُحد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بہادریغزوۂ اُحد کے انتہائی نازک مرحلے میں جب مسلمانوں کو سخت آزمائش ک...
20/08/2026

غزوۂ اُحد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بہادری

غزوۂ اُحد کے انتہائی نازک مرحلے میں جب مسلمانوں کو سخت آزمائش کا سامنا تھا، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ثابت قدمی سے موجود رہے اور آپ ﷺ کے دفاع میں مسلسل تیر اندازی کرتے رہے۔

رسول اللہ ﷺ حضرت سعدؓ کے لیے تیر جمع فرماتے، انہیں اپنے دستِ مبارک سے دیتے اور محبت و حوصلہ افزائی کے ساتھ فرماتے:

"اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔"

یہ الفاظ حضرت سعدؓ کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک عظیم فضیلت اور منفرد اعزاز تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت سعدؓ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے لیے اپنے والدین دونوں کو بطورِ فدیہ پیش کرتے ہوئے نہیں سنا۔

غزوۂ اُحد کا یہ ایمان افروز واقعہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شجاعت، وفاداری اور رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں ان کی ثابت قدمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ان عظیم صحابہؓ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 2905، 4056؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2411

ڈسکلیمر: یہ واقعہ صحیح احادیث میں منقول ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر بیان کرتے وقت واقعے کی تفصیلات میں غیرمستند اضافے سے گریز کیا جائے اور فضائلِ صحابہؓ کو معتبر احادیث کی روشنی میں ہی بیان کیا جائے۔

19/08/2026

جو مہنگائی کر رہے ہیں ان پر تنقید نہیں جو مہنگائی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ان پر تنقید
یہ کیسی منطق ہے؟🙄

Address

Flat 302 , Building 1933, Muweilah
Sharjah

Telephone

+923085712412

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learn Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category