05/06/2026
د بلال د کلپ ڈیر مددلل جواب راوان دے انشاءاللہ۔👇۔۔۔۔
مفتی ارزومند سعد لہ طرفہ۔🦅🦅💯💯۔
متخصص جامعہ فاروقیہ کراچی
03414329316 واٹساپ رابطہ نمبر
05/06/2026
د بلال د کلپ ڈیر مددلل جواب راوان دے انشاءاللہ۔👇۔۔۔۔
مفتی ارزومند سعد لہ طرفہ۔🦅🦅💯💯۔
04/06/2026
نر مولا پختون مولا🦅💯۔
💯🦅ندیم مولا ندیم مولا
د مفتی صاحب دپارہ ٹول ملگری یو خائستہ کمینٹ اوکی💯🥰۔۔
#دعا
04/06/2026
چی مخام شی ٹول آسمان ور پسی گوارم🥀
ستا پہ نوم می یو خایستہ ستورے جانان دے🌼
01/06/2026
ٹولو مسلمانانوں تہ دہ غٹ اختر خوشحالی مبارک شہ۔🌷۔
الحمدللہ!
آپ سب احباب کی دعاؤں، محبتوں اور تعاون سے اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح اور باطل کو شکستِ فاش سے دوچار فرما دیا۔
پورے مناظرے میں مماتی مناظر آخر تک نہ تو اپنا عقیدہ لکھنے کی جرأت کرسکا اور نہ ہی کھل کر اپنے موقف کا دفاع کرسکا۔ کبھی ایک اسٹیشن بدلنے کی کوشش، کبھی دوسرا موضوع چھیڑنے کی کوشش، اور کبھی بحث کو اِدھر اُدھر لے جانے کی ناکام سعی کرتا رہا، لیکن الحمدللہ دیوبندی مناظرین نے نہ صرف اپنا عقیدہ پوری وضاحت کے ساتھ پڑھ کر سنایا بلکہ قرآن و سنت اور اکابر کے مضبوط دلائل کے ساتھ ایسی مدلل گفتگو فرمائی کہ باطل کے پاس فرار کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔
اس پورے مناظرے میں مماتی مناظر بلال کی حماقتیں، جہالت، بدحواسی اور پاگل پن بھی آپ سورج کی طرح واضح دیکھ لیں گے، کہ کس طرح دلیل کے میدان میں بار بار شکست کھانے کے بعد وہ موضوعات بدلنے، ادھر اُدھر کی باتیں کرنے اور غیر سنجیدہ انداز اختیار کرنے پر مجبور ہوتا رہا۔
یہ مناظرہ واقعی دیکھنے کے قابل ہے۔
آپ جب پورا مناظرہ دیکھیں گے تو مماتی مناظرین کی بے بسی، اضطراب اور لاجوابی پر خود حیران رہ جائیں گے کہ آخر حق کے مقابلے میں ان بے چاروں کی حالت کس قدر قابلِ افسوس ہوگئی تھی۔
ان شاء اللہ تعالیٰ!
پورا مناظرہ جلد ہی الرعد ٹی وی اور ہمارے فیس بک پیج “مفتی محمد ندیم آفیشل” پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ مکمل مناظرہ ضرور ملاحظہ فرمائیں، حق کو پہچانیں، اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کرکے صدقۂ جاریہ میں حصہ دار بنیں۔
اللہ تعالیٰ حق کو ہمیشہ سربلند فرمائے اور اہلِ حق کو استقامت عطا فرمائے
آمین
بجاہ النبی الامی الکریم
اخوکم
العبدالفقیر
محمدندیم المحمودی
خاکپائے علماء دیوبند
خلیفہ مجازحضرت شیخ شھیدرح
مناظرہ شروع شوا
26/05/2026
ابھی تھوڑی دیر بعد مماتیوں کے ساتھ عقیدۂ حیاتُ النبی ﷺ کے عنوان پر مناظرہ شروع ہوگا، اِن شاء اللہ۔
آپ سب سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ حق اور اہلِ حق کی نصرت فرمائے، اور اہلِ باطل کو ہدایت عطا فرمائے۔ نیز یہ بھی دعا فرمائیں کہ مخالف فریق موضوع سے ہٹنے اور فرار اختیار کرنے کے بجائے اصل موضوع پر سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کرنے پر آمادہ ہو۔
خصوصی طور پر اس بات کی دعا کریں کہ کئی سالوں کے بعد مناظروں میں جو تلخ کلامی، بدزبانی، شور شرابہ اور لڑائی جھگڑے ختم ہوئے ہیں، وہ دوبارہ نہ لوٹیں۔ الحمدللہ اب ایک بہتر اور پُرامن فضا قائم ہوچکی ہے۔
کل عید کا مبارک دن ہے، قربانی کی تیاریوں میں ہر شخص مصروف ہے، اور ہمارے بھی بے شمار ضروری کام تھے۔ لیکن چونکہ معاملہ امت کے اجماعی عقیدہ عقیدۂ حیاتُ النبی ﷺ کے تحفظ کا تھا، اس لیے مخالف فریق کے طرزِ عمل نے ہمیں مجبور کردیا کہ ہم اپنے ذاتی مصروفیات، عید کی تیاریوں اور دیگر کاموں کو مؤخر کرکے گزشتہ دو تین دن سے مسلسل مناظرہ کی تیاری میں مشغول رہیں۔
آج ہم اسی مقصد کے تحت مناظرہ کے لیے حاضر ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سب کا بھی حق بنتا ہے کہ ہمارے لیے خصوصی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، حکمت، صبر، بہترین اخلاق اور حق بات کو واضح انداز میں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اگرچہ آج مخالف فریق سے اعلیٰ اخلاق کی زیادہ امید نہیں، تاہم دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بھی بدزبانی اور بداخلاقی پر مجبور نہ کریں، اور دوبارہ وہ پرانا ماحول تازہ نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ حق کو غالب فرمائے، اہلِ حق کی حفاظت فرمائے، اور ہم سب کو دینِ حق پر ثابت قدم رکھے۔ آمین
بجاہ النبی الامی الکریم
اخوکم
العبدالفقیر
محمدندیم المحمودی
خاکپائے علماء دیوبند
خلیفہ مجازحضرت شیخ شھیدرح
16/05/2026
قوم پرستوں کی نام
ایک ضروری پیغام
پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی مسلمان بے گناہ اور مظلوم قتل کردیا جائے، ہمارا دل اس پر غمگین ہوتا ہے۔ ہم اس کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں، اس کے اہلِ خانہ کے غم میں شریک ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس مظلوم کو شہادت کا بلند مقام عطا فرمائے۔
اسلام نے مظلوم مسلمان کے خون کو عظیم حرمت عطا فرمائی ہے، اور ایک مسلمان کا دل اپنے بھائی کی تکلیف پر بے چین ہونا ایمان کی علامت ہے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اسلام صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان فرق قائم رکھنے کا نام بھی ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے جہاں مظلوم کی حمایت کا حکم دیا ہے، وہاں دینِ اسلام، پیغمبرِ اسلام ﷺ، احادیثِ رسول ﷺ، شعائرِ اسلام اور ضروریاتِ دین کی گستااااخی کرنے والوں کے بارے میں بھی واضح احکام بیان فرمائے ہیں۔
ایک شخص جس کی پوری زندگی اسلام کے خلاف بدزبانی، دین کا استہزاء، احادیثِ رسول ﷺ پر طعن، شریعتِ مطہرہ کی توہین، اور مسلمانوں کے دلوں میں دین کے متعلق شکوک و شبہات پھیلانے میں گزری ہو،
اور جس کے بارے میں پاکستان بلکہ دنیا بھر کے معتمد علماءِ کرام، مفتیانِ عظام اور دینی مدارس کا متفقہ فتویٰ کفر ررررو ارتدااااد موجود ہو، ایسے شخص کو ہم ہرگز “شہید” تسلیم نہیں کرسکتے۔
شہادت ایک عظیم دینی مقام ہے، اور یہ مقام ایمان، عقیدۂ صحیحہ، اور دینِ اسلام کی وفاداری کے ساتھ وابستہ ہے۔ جو شخص زندگی بھر اسلام کی جڑیں کاٹنے، نوجوانوں کو دین اور شرعی احکامات سے متنفر کرنے، اور مسلمانوں کے عقائد کو خراب کرنے میں مصروف رہا ہو، اس کو محض قتل ہوجانے کی وجہ سے “شہید” کہنا نہ انصاف ہے، نہ شریعت، اور نہ ہی اہلِ ایمان کے عقیدے کے مطابق ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾
“بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے۔”
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے دین میں فتنہ پھیلانے والوں سے امت کو خبردار فرمایا۔ کیونکہ ایک گمراہ شخص صرف خود تباہ نہیں ہوتا بلکہ ہزاروں لوگوں کے ایمان کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
لہٰذا جو شخص مسلمانوں میں ارتداد، بے دینی، الحاد، گستااااخی اور دین بیزاری کو عام کرنے کو اپنا مشن بنائے، اس کے فتنے کا ختم ہونا یقیناً اہلِ ایمان کے لیے باعثِ سکون ہوتا ہے۔ کیونکہ فتنہ جب ختم ہوتا ہے تو دین محفوظ ہوتا ہے، نوجوانوں کے عقائد محفوظ ہوتے ہیں، اور امت ایک بڑے شر سے بچتی ہے۔ اسی لیے علماءِ کرام نے ہمیشہ فرمایا کہ “دفعِ فتنہ” باعثِ خیر اور باعثِ راحت ہوتا ہے۔
ہم کسی کے قتل و خونریزی کے حامی نہیں، لیکن حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا بھی ایمان کا تقاضا ہے۔ جذبات میں آکر ہر شخص کو “شہید” قرار دینا درست نہیں۔ شہادت کا فیصلہ قرآن و سنت اور عقیدۂ اسلامیہ کی روشنی میں ہوگا، نہ کہ میڈیا کے شور، لبرل جذبات، یا وقتی ہمدردیوں کی بنیاد پر۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان، عقائد، اور دینی غیرت کی حفاظت کریں۔ دینِ اسلام صرف چند عبادات کا نام نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعظیم، شریعت کی عظمت، اور اہلِ حق کی پیروی کا نام ہے۔ جو لوگ اس بنیاد کو توڑنے کی کوشش کریں گے، اہلِ ایمان ان کے افکار کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو حق پر ثابت قدم رکھے، فتنوں سے محفوظ فرمائ
امین
بجاہ النبی الامی الکریم
اخوکم
العبدالفقیر
محمدندیم المحمودی
خاکپائے علماءدیوبند
وخلیفہ مجازحضرت شیخ شھیدرح
حقیقت دی ویلی مفتی صاحب۔۔💯💯
ٹول ملگری خصوصی دعا کوی چی اللہ د گران مشر مفتی محمد ندیم المحمودی صاحب قدم قدم حفاظت اوکی🤲۔۔