Hafiz Ur Rahman

Hafiz Ur Rahman

Share

PhD Scholar

Research Interests
Cloud Computing, Cyber Security, and Databases

Photos from Hafiz Ur Rahman's post 17/11/2025

اپ اس کو علاقائی زبان میں کس نام سے پکارتے ہیں؟

19/04/2024

Binance gets full regulatory license in Dubai
بائنانس کو دبئی میں آفیشلی لائسنس مل گیا ہے اب دبئی کا پیسا بھی آئے گا بائنانس اور کرپٹو میں

Photos from Hafiz Ur Rahman's post 02/10/2022

"ایمیزون Amazon "

ایمزون کا جنگل دنیا کے 9 ممالک تک پھیلا ہوا ہے،
جس میں سرفہرست برازیل ہے۔

اس کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جبکہ پاکستان کا رقبہ 7 لاکھ 95 ہزار مربع ہے ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے
زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمزون کے درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں،

دنیا کے 40 فیصد جانور ، چرند، پرند، حشرات الارض ایمزون میں پائے جاتے ہیں

یہاں 400 سے زائد جنگلی قبائل آباد ہیں، انکی آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے۔
یہ لوگ اکیسیوں صدی میں بھی جنگلی سٹائل میں زندگی گذاررہے ہیں۔

ایمیزون جنگل کے کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ وہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی اور دن میں بھی رات کا سماں ہوتا ہے،

یہاں ایسے زیریلے حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند منٹ میں مرجائے گا،
ایمزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائ 7ہزار کلومیٹر ہے،

دریائے ایمزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں
ایمزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں،

یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں،

یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں

مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں

ایمیزون کی ہزاروں سال سے پرانی مختلف کہانیاں ہیں
ایمیزون اپنے سینے میں قدرت کے ہزاروں راز دفن کیے ہوئے ہے

اگر آپ ایمزون کے گھنے جنگلات میں ہوں اور انتہا کی طوفانی و موسلا دھار بارش شرع ہوجائے تو تقریبن 12 منٹ تک آپ تک بارش کا پانی نہیں پہنچے گا۔

08/09/2022

A plan is underway to overburden power consumers with additional charges to steer the Radio Pakistan out of crisis, sources claimed on Saturday. According to a private news channel, a plan is under consideration to steer the Radio Pakistan out of crisis and for it power consumers would be overburdened with additional charges. Sources said a recommendation had been made to charge Rs15 from consumers on their electricity bills, which would burden them with Rs5 billion annually.

Sources said the state TV fees could be increased from Rs35 to Rs50 on electricity bills and Rs15 would be given to the Pakistan Radio from it. They claimed that the Radio Pakistan had forwarded the recommendation to the Ministry of Information and Broadcasting to resolve problems related to pensioners.

08/09/2022

دنیا کا گندہ ترین دریا ۔
بنارس میں گنگا کنارے مانیکارنیکا شمشان گھاٹ۔
ہر ہندو کی خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس ک لاش کو اس گھاٹ پر چتا دی جائے۔ بہت سے جاں بلب مریض اپنی موت سے پہلے یہاں ڈیرہ ڈال لیتے ہیں تاکہ مرنے کے فورا" بعد ان کی چتا کو اس متبرک مقام پر آگ نصیب ہو سکے۔
اس مقصد کے لئے گھاٹ کنارے باقاعدہ کمرے بھی دستیاب ہیں جہاں مریض اور اس کے ساتھ آئے رشتے دار قیام کرتے ہیں۔ بنارس کے مختلف گھاٹوں پر روزانہ تقریبا" سو چتائوں کو آگ لگائ جاتی ہے جہاں ہر وقت جلے گوشت کی چراند پھیلی رہتی ہے۔ لکڑی مہنگی ہونے کی وجہ سے بعض اوقات چتا کو جلانے والے متوفی کے لواحقین کے جانے کے بعد لکڑی بچانے کے لئے ادھ جلی لاش کو ہی کھینچ تان کر گنگا برد کردیتے ہیں جہاں اکثر ادھ جلی لاشیں پانی میں تیرتی نظر آتی ہیں ۔
بعض اوقات کنارے سے لگ جانے والی لاشوں کو کتے بھنبھؤڑتے ہیں۔ ان لاشوں کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ھے اور اسی پانی میں یاتری خود کو غوطے دے کر اشنان کرتے ہیں اور اپنے پاپ دھوتے ہیں۔ اس مقام پر گنگا دنیا کا غلیظ ترین دریا بن جاتا ھے ۔
بنارس کے یہ چتا گھاٹ زمین پر جہنم کا منظر پیش کرتے ہیں۔ جہاں کہیں ارتھیاں پڑی ہوتی ہیں تو کہیں چتا میں مردے کی لاش آگ سے اکڑ رہی ہوتی ھے ۔
لکڑی اور چتا کو آگ لگانے والوں سے مول تول کرتے لوگ۔ کہیں لاش جل کانے کے بعد بانسوں کی مدد سے کھوپڑی پر ضربیں لگا کر اس کے ٹکڑے کہے جا رہے ہوتے ہیں۔
رات میں یہ منظر مزید بھیانک ہو جاتا ھے جب جگہ جگہ جلتی چتائیں اور دھوتی میں ملبوس آسیب نما افراد چتائوں کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ ہر طرف راکھ کوئلے آگ کیچڑ اور بدبو کا راج ہوتا ھے

مزید معلوماتی تحاریر کے لیئے فالو کریں۔

19/12/2021
07/12/2021

ﺍﯾﮏ ﺳﯿﮑﻨﮉﺭﯼ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﮨﯿﮉ ﻣﺎﺳﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ کہ میں نے اسکول کے باھر لکھوا دیا کہ " اسکول کی عمارت پر لکھائی کرنا منع ھے" ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻝ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮯ ﺩﺭﺩﯼ ﺳﮯ ﺳﭙﺮﮮ ﭘﯿﻨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺮﺍﻓﺎﺕ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﻧﻘﺶ ﻭ ﻧﮕﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ھے۔
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﭘﮩﻼ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﻮﺳﻨﺎﮎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎکر ﮐﭽﮫ ﺳﭩﺎﻑ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼﺋﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﻭ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺎ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﮔﭽﮫ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮں گا ، ﮐﻞ ﺁﭖ ﺳﮑﻮﻝ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﯿﮟ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﺼﮧ ﮐﮩﮧ ﮈﺍﻻ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺩھیمے ﺳﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽ۔ لڑﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﻭﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮕﺴﺎﺯ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ، ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﮯ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ، ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﺩﮬﯿﻤﯽ ﺳﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔
" ﺑﯿﭩﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﺎ ﮐﺮﻭ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﻧﯿﭽﺎ ﮨﻮ" ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻭﺍﺿﺢ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ھﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﭘﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﯾﺴﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺗﻮ ﻣﺎﺭ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﭽﮯ، ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﺑﮩﺖ ﺷﻔﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﺍﻧﺴﺎﻥ ھے ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺳﺮﺯﻧﺶ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ، ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁﺭﮨﺎ ھے؟
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺳﺮ ، ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﺎ ﺁ ﺭﮨﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﺎ ﮐﮩﺘﺎ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﭖ ﮐﯿﺎ۔
ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮧ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﺎ ﭼﺎھیئے ﻧﺎ ﮐﮧ ﮈﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﯾﺎ ﮔﺎﻟﻢ ﮔﻠﻮﭺ ﺳﮯ ۔
اسلیئے میں اپنی تحریروں میں بار بار اس بات پر زور دیتا ھوں کہ اپنی اولاد کو اچھا دوست بنا کر رکھو ورنہ بُرے لوگ ان سے دوستی کر کے انہیں بُرا بنا دینگے۔۔۔

23/11/2021

احساس راشن رجسٹریشن کے لیے 8171 سروس کھول دی گئی
رجسٹریشن کے عمل کو آسان بناتے ہوئے، احساس نے احساس راشن رعایت کے تحت خاندانوں کے اندراج کے لیے 8171 سروس کھول دی ہے۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا، "24 چھوٹے شہروں کے حالیہ فیلڈ دوروں کی کی بنیاد پر، ہم نے 8171 ایس ایم ایس سروس کو ان مستحق خاندانوں کے اندراج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کھولا ہے جن کی انٹرنیٹ تک محدود یا کوئی رسائی نہیں ہے۔"
ان دنوں جاری احساس راشن رجسٹریشن مہم کے تحت سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس اور این بی پی کی ٹیموں کے ساتھ راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال، میانوالی، نوشہرہ، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 24 چھوٹے شہروں اور قصبوں میں جا کر مقامی کریانہ دکاندار، تاجر انجمنیں، ضلعی انتظامیہ، مقامی میڈیا اور عوام کو احساس راشن پروگرام پر آگاہی فراہم کیاور ان کی رائے بھی حاصل کریں۔
ماہانہ 50,000روپے سے کم کمانے والے خاندان احساس کے راشن پروگرام کے تحت خود کو رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ درخواست دہندگان کے خاندان کا صرف ایک فرد جس کا سیل نمبر اس کے ذاتی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) پر جاری کیا گیا ہے وہ 8171 SMS سروس یا ویب پورٹل کے ذریعے اپنے خاندان کا اندراج کر سکتا ہے۔ 8171 کے ذریعے رجسٹریشن کے لیے، خاندان کا مذکورہ فرد اپنا CNIC نمبر 8171 پر ایس ایم ایس کر سکتا ہے۔ جبکہ کریانہ کے دکاندار صرف ویب پورٹل: https://ehsaasrashan.pass.gov.pk/ کے ذریعے ہی رجسٹریشن کر سکیں گے۔
وفاقی کابینہ نے اس م کی بھی منظوری دی ہے کہ غیر ملکی مسافروں کے مستحق خاندانوں اور 31,500 روپے سے کم تنخواہ والے سرکاری ملازمین بھی احساس راشن رعایت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

Photos from Hafiz Ur Rahman's post 18/11/2021

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے؟
--+++---+++---+++---+++---+++---+++--
آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا بل منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی، جس کے بعد آئندہ الیکشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہو گا، الیکشن کے نظام میں بڑی تبدیلی رونما ہو گی۔

اوورسیز سمیت ہر پاکستانی جاننا چاہتے ہیں آخر ای وی ایم ہے کیا ؟ اور یہ کیسے کام کرے گی؟۔
31 مئی 2021ء کو وفاقی حکومت نے نجی یونیورسٹی کی تیار کردہ ووٹنگ مشین سیاستدانوں اور میڈیا کے معائنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں نمائش کے لیے رکھی تھی۔
اس مشین کے 4 حصے ہیں جو نسبتاً سائز میں بڑے ہیں لیکن نجی یونیورسٹی کے حکام کے مطابق اس کو مزید جازب نظر بنایا جا سکتا ہے اور اس کا سائز چھوٹا کیا جا سکتا ہے۔ اس مشین کے متعدد حصے ہیں۔

پہلا حصہ ایک بڑے ٹیلی فون سیٹ کی طرح ہے جس پر کِی پیڈ، چھوٹی سکرین، شناختی کارڈ ڈالنے کی جگہ اور انگوٹھا سکین کرنے کا سینسر لگا ہوا ہے۔ اس حصے میں چپ کے ذریعے کسی بھی حلقے کے 50 ہزار ووٹرز کا ڈیٹا چند سیکنڈز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ پولنگ سے پہلے متعلقہ پریزائیڈنگ آفیسر ٹیکنیکل ٹیم کی طرف سے فراہم کیے گئے خفیہ کوڈ اور پاسورڈ کے ذریعے مشین کو آپریشنل کرے گا۔ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والا ووٹر شناختی کارڈ پولنگ عملے کو دے گا جو کارڈ کو مشین میں ڈالے گا۔
شناختی کارڈ کی تصدیق ہونے کی صورت میں سکرین پر ٹک کا نشان سامنے آ جائے گا۔ جس کے بعد سینسر کے ذریعے بائیو میٹرک ویری فیکیشن ہوگی۔ اس حصہ کو ووٹر’شناختی یونٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

دوسرے مرحلے میں ووٹر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تیسرے حصے پر چلا جائے گا جبکہ دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس ہو گا جس پر سرخ اور سبز رنگ کی بتیاں لگی ہوں گی اور جونہی پریزائیڈنگ آفیسر بٹن دبا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے گا تو سبز رنگ کی لائٹ جل جائے گی جس سے پولنگ ایجنٹس کو پتہ چل سکے گا کہ اب ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اس حصے کو ’کنٹرول یونٹ ‘ کہا جاتا ہے۔

تیسرا حصہ بیلٹ یونٹ کہلاتا ہے جس میں متعلقہ حلقے کے امیدواروں کے انتخابی نشان حروف تہجی کی ترتیب سے درج ہوں گے۔ پریزائیڈنگ آفیسر کی جانب سے کنٹرول یونٹ سے ووٹ ڈالنے کی اجازت ملنے کے بعد ووٹر خفیہ جگہ پر رکھے بیلٹ یونٹ پر اپنی پسند کے انتخابی نشان کو دبائے گا۔ جس کے بعد اس کے ساتھ رکھے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے چوتھے اور آخری حصے یعنی ’بیلٹ باکس‘ میں ووٹر کی پسند کے امیدوار کی پرچی پرنٹ ہوکر گِر جائے گی۔ پرچی بیلیٹ باکس میں گرنے سے پہلے تین یا پانچ سیکنڈز کے لیے رُکے گی تاکہ ووٹر دیکھ سکے کہ اس نے جس امیدوار کو ووٹ ڈالا ہے پرچی بھی اسی کے نام کی پرنٹ ہوئی ہے یا نہیں۔

جونہی پولنگ کا وقت ختم ہوگا پریزائیڈنگ آفیسر کمانڈ کے ذریعے چند منٹوں میں متعلقہ پولنگ بوتھ کا فارم 45 کا پرنٹ نکال سکے گا۔ اس سارے عمل میں تصدیقی عمل میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ بعض اوقات نشان انگوٹھا کی تصدیق میں مسائل کا سامنا آتا ہے۔ تصدیقی عمل کے بعد دس سے پندرہ سیکنڈز کا کام ہے تاہم الیکشن کمیشن نے عالمی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانے والوں کو ہدایت کی تھی کہ ایک منٹ میں دو ووٹ اور زیادہ سے زیادہ تین ووٹ ہی کاسٹ کیے جانے چاہئیں۔

ماہرین نے دعویٰ کیا کہ موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخاب کے لیے 30 لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی جب 30 لاکھ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے چاروں یونٹ 30,30 لاکھ کی تعداد میں تیار کرنا ہوں گے۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کو مدعو کیا تھا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ کی مشینوں کی خریداری کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے۔

اپوزیشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی جانب سے ممکنہ تحفظات کے حوالے سے ایک ماہر نے آن لائن ویب سائٹ کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جن جن ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کام ہوا ہے ہم نے ان کے تجربات، وہاں پیدا ہونے والے مسائل، سامنے آنے والے اعتراضات اور جڑے دیگر تمام معاملات پر ریسرچ کی ہے۔ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ بہت زیادہ وقت لگانے کے بعد ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا یہ ماڈل تیار کیا گیا ہے۔ جانتے ہیں امیدوار یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے پولنگ بوتھ پر دو سو ووٹ تھے جبکہ گنتی میں 150 آئے ہیں تو ہم بیلٹ پیپر میں موجود پرنٹڈ پرچی اور مشین میں موجود گنتی کو دیکھ سکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ یہ مشین انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک نہیں ہوگی اس لیے اس کے ہیک ہونے یا بیٹھنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ پر لڑائی جھگڑا ہو جائے اور کوئی اس میں سیاہی ڈال دے یا توڑ دے وہ الگ صورت حال ہو گی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Sharjah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Industrial Street
Sharjah