Islamic Tv

Islamic Tv

Share

ISLAM IS TRUE RELIGION �

09/10/2024

Handmade Crochet for Your Home and Loved Ones - Shop Now

24/07/2022

‏.
*یونیورسٹی میں ایک پروفیسر تھے*
جو اپنی کلائی میں لیڈی گھڑی
باندھتے تھے، جسے دیکھ سب طلباء کی ہنسی چھوٹ جایا کرتی تھی،
ایک عرصے بعد وائس چانسلر کے ذریعے جب ہم پر انکشاف ہوا
کہ
پروفیسر صاحب جو زنانہ گھڑی پہنتے ہیں وہ ان کی فوت شدہ بیوی کی ہے۔۔۔
اس واقعے سے سیکھا
کہ‏"کچھ دل بِنا بولے محبوب کی رحلت کے بعد بھی اَلم اور درد محسوس کرتے ہیں۔"

ایک دفعہ ہسپتال میں
کسی مریض کی عیادت کے لیے جانا ہوا، کوریڈور میں چلتے ہوئے ایک جواں سال لڑکی کی
وِگ (بال) گر گئی
وہاں موجود تمام لوگ اس پر ہنسنے لگے،
آگے بڑھ کر جب ایک دوسری عورت نے اس کی مدد کی

‏تو وہ روتے ہوئے کہنے لگی
اِس میں میرا کوئی قصور نہیں
"کینسر"
نے میرے بال لے لیے
اس لیے مجھے یہ آرٹیفشل وِگ لگانا پڑتی ہے۔۔۔

اسی طرح قبرستان میں
دس سالہ بچے کو ایک قبر پر کھڑا کچھ کہتے ہوئے سنا جو کہہ رہا تھا
"ماما اٹھو میرے ساتھ سکول چلو
استاد مجھے تمام لڑکوں کے
‏سامنے مارتا اور کہتا ہے کہ تمہاری ماں کتنی سست اور کاہل ہے جو تمہاری پڑھائی کا خیال نہیں رکھتی۔۔۔

کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر ہمیں قطعا مذاق یا کسی قسم کا ری ایکشن نہیں دینا چاہیے
ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اندر ہزار دُکھ چھپائے ہوئے ہو جس کا ہمیں علم نہ ہو۔۔۔
‏بولنے
سوچنے
اور ری ایکشن
دینے سے پہلے اگلے بندے کی فیلنگز کا خیال رکھیے۔۔۔
بلاشبہ بعض باتیں انسان کو قتل کر دیتیں ہیں۔۔۔

بدگمانی بہت سے معاملات خراب کرتی ہے

عربی میں ایک مقوله ہے

"الكلمة كالسيف ذات حدين"
زبان سے نکلنے والے الفاظ دو دھاری تلوار کی طرح ہوتے ہیں۔

23/06/2022

*سیرت النبیﷺ*
*( قسط نمبر 353 )*

*( آخری قسط )*

==============================

*بحران بھی آئیں تو اس امت کے لئے خیر ہی لاتے ہیں۔*

سوشل میڈیا پر ملحدین جگہ جگہ حضور ﷺ کی گستاخی کرتے نظر آتے ہیں، بعض اوقات کچھ خبیث ایسی غلط باتیں کرتے اور آپ ﷺ کے نام کے ساتھ گالیوں کے ایسے اشعار پوسٹ کرتے اور آئی ڈی بناتے ہیں کہ دیکھ کر خون کھولنے لگتا ہے۔۔ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اپنی ان حرکتوں سے اس نبی ﷺ کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے بلکہ خود کو ہی گندہ کرتے ہیں، اس کی رفعت شان دن بدن بڑھتی ہی ہے۔ چند سال پہلے جب مغربی میڈیا نے حضور ﷺ کے خاکے چھاپے اور فتنہ نام کی فلمیں بنائیں بقول ایک مشہور مصنف :

*“اس مسئلہ کے اٹھ کھڑا ہونے کی دیر تھی، بیشتر غیر مسلم ملکوں میں سیرتِ محمد ﷺ پر کتب دھڑا دھڑ فروخت ہوئیں اور وہاں کے اسلامی مراکز میں محمد ﷺ کی شخصیت کا تعارف پانے کیلئے منعقد نشستوں میں شریک لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔ خود اہلِ اسلام کو سیرت رسول اللہ ﷺ کے علمی و عملی پہلوؤں کی جانب توجہ کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ کر محسوس ہوئی!*

عین یہ موقع تھا جب سیرت رسول اللہ ﷺ پر اپنے اس دور کے مناسب حال تصنیفات کی شدید کمی محسوس کی گئی اور اس پر کام کرنے والوں کو عمل کی ایک نئی مہمیز ملی! عین یہ موقعہ تھا جب ’نبوت‘ اور ’آسمانی صحیفے‘ اور ’ادیان‘ ایسے عنوان دُنیا کے پڑھے لکھوں کے مابین پھر سے موضوعِ بحث بننے لگے، جس سے بعید نہیں خود بہت سے مسلمانوں نے اپنے نبی ﷺ سے تعارف کا ایک از سر نو موقعہ پایا ہو۔ اس جدل کا، جو اب بہت دلچسپ ہوتی جارہی ہے، ہم بھی کچھ تذکرہ کریں گے۔

*کچھ شقی دلوں پر اللہ کی حجت قائم ہوتی نظر آئی۔*

کیا کافر کیا مسلم، دُنیا کا کوئی شخص ایسا نہ رہا ہو گا جس نے ذرائع ابلاغ کے اندر لڑی جانے والی اس جنگ میں محمد ﷺ کا نام نامی ہر روز کئی بار نہ سُنا ہو۔ کچھ تو ہوں گے جو یہ پوچھیں کہ محمد ﷺ آخر ہیں کون؟ کچھ تو ہوں گے جو آپ ﷺ کے بارے میں دریافت کرنے کیلئے آپ ﷺ کا ٹھٹھہ کرنے والے شرپسندوں کی بجائےآپﷺ پر ایمان رکھنے والے مصادر سے رجوع کریں۔

نبیﷺ کے ساتھ عقیدت و وابستگی کی ایک تجدید نو اس موقعہ پر ہر صاحب ایمان کے حصہ میں آئی، دشمن نے اس امت کی رگوں میں زندگی کی وہ رمق دیکھی جس کا وہ اپنی مریل قوموں میں تصور تک نہ کرسکے۔

امت کے ایک بڑے طبقے نے ”اللہ و رسول ﷺ کیلئے دوستی اور اللہ و رسول ﷺ کیلئے دشمنی“ کے عملی اسباق لئے۔ خود شناسی اور خودداری کی ایک نئی جہت برآمد ہوئی۔ خود کفیلی کی جانب اس امت کا طویل المیعاد سفر، جو ملٹی نیشنلز کے چاکلیٹوں اور سافٹ ڈرنکس کیلئے پائے جانے والے ’نخرے‘ اور ’منہ کے مزے‘ کے باعث ذہنوں کی دُنیا تک میں معطل پڑا تھا، ایک نئی کروٹ لے کر شروع ہوا۔۔ اور اللہ کرے کہ اب یہ سفر آگے سے آگے بڑھے، جب تک کہ یہ امت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو جاتی!

*۔۔۔۔ بحران بھی آئیں تو اس امت کیلئے خیر ہی لاتے ہیں !*

رسول اللہ ﷺ کے حق میں بولنا آدمی کے لئے ایک غیرمعمولی شرف ہے۔ خود آپ ﷺ کی زندگی کے اندر آپ کی شان سے فروتر بات کرنے والے کو جواب آپ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی امتی کی طرف سے ملتا تھا اور نہایت خوب مناسب جواب ملتا تھا۔ پھر آج تو یہ حق ہے ہی امت پر کہ وہ اپنے نبی ﷺ کے اس مقام اور ناموس کا تحفظ کرے کہ کوئی بدزبان اس کو پہنچنے کی جسارت نہ کرے۔

*’امتی‘ آخر ہیں کس لئے؟؟؟*

یہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں جو ابو سفیان کو جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک امتی ہے جو اپنے نبی ﷺ کے حق میں بولنے کے لئے اٹھا ہے اور اس کا صلہ صرف اور صرف اللہ کے ہاں پانے کا امیدوار ہے:

وَعِندَ اللّٰہِ فِی ذَاکَ الجَزَاء ھَجَوتَ مُحَمَّداً فَاجَبتُ عَنہُ

*”تم نے محمد ﷺ کی تنقیص کی۔سُنو اس کا جواب میں دیتا ہوں۔ اس پر میرا صلہ کسی کے دینے کا ہے تو وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے“*

شاعر صلے اور داد کی طلب سے بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔یہ شاعر بھی ’صلے‘ سے بے فکر نہیں۔ مگر ممدوح کی عظمت کا تقاضا ہے کہ داد پانے کے لئے اللہ رب العالمین سے کم کہیں نگاہ نہ ٹکے!

فَشَرّکُمَا لِخَیرِکُمَا الفِدَاء اتَھجُوہُ وَلَستَ لَہ بِکُفءٍ

*”تم محمد ﷺ کے منہ آتے ہو۔ کیا تم ان کے برابر کوئی چیز ہو سہی؟ تم اور وہ، جو کمتر ہے وہی بہتر پر وارا جائے گا“*

*چاند پر تھوکنے والے کو ہمیشہ آئینہ دیکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ اپنی یہ تصویر دیکھنا اس کا حق ہے:*

اتھجوہ ولست لہ بکفءٍ!!!

*تم میں اور ان میں کوئی نسبت بھی تو ہو۔۔۔۔!*

اُس شخص کے بارے میں جو ڈیڑھ ہزار سال سے ایک آدھی دنیا کو اللہ وحدہ لاشریک کے آگے پوری بصیرت کے ساتھ سجدہ ریز کرانے کا ذریعہ بنا آیا ہے اور تہذیب انسانی پر جس کے نشاناتِ انگشت سب سے نمایاں ہیں اور مشرق تا مغرب ہر محقق کو اُس کی عظمت کے نئے سے نئے پہلو تلاش کرنے کی بابت تجسس دلاتے ہیں اس برگزیدہ ہستی کی بابت تم جو ہرزہ سرائی کرنے جارہے ہو تمہاری ان کے سامنے کوئی اوقات بھی تو ہو!

ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر جہاں خاندانی قدریں تباہ ہوچکی ہیں اور آدھی قوم اپنے والد سے شرفِ تعارف کا ذریعہ نہیں پاتی اور جہاں شجرۂ نسب ’ہسپتال‘ سے آگے نہیں بڑھتے اور جہاں خون کے رشتے ’ڈی این اے‘ میں تلاش کرنا پڑتے ہیں اور جہاں اکثر پائے جانے والے انسان ’غلطی‘ یا ’چوک‘ کا نتیجہ باور ہوتے ہیں اور یا پھر کسی ’حادثے‘ کا اور جہاں سے دُنیا کو انارکی و برہنگی کے علاوہ عالمی جنگوں اور تباہ کن بارودوں کے تحفے مل چکے ہیں۔۔۔۔ ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر تم اللہ کے نبیوں کو تہذیب اور امن کا طعنہ دینے چلے ہو!؟

بخدا، آج ہمیں ان شاعروں اور ادیبوں کی ضرورت ہے جو صرف ’نعت‘ کہنا نہیں بلکہ وقت کے زندیقوں کو اپنے نبی ﷺ کی جانب سے ’جواب‘ بھی دینا جانتے ہوں اور جو اپنے ادب کے اس رجز و معرکہ پر صلہ محض اللہ سے پانے کے متمنی ہوں۔
اے اللہ ! ہمارے شاعروں اور ادیبوں کو ”ایمان“ کا لحن دے!”
یہ گرد نہیں بیٹھے گی۔

کسی بھی قسم کی کمی کوتاہی اور غلطیوں کو معاف فرمائے۔۔

22/06/2022
01/05/2022

*فطرہ کسے دیں اور فقیر کون ہے؟*

*سوال :*
فطرہ کسے دیا جاۓ؟ شرعی طور پر فقیر کسے کہتے ہیں؟ کیا فقیر کا شیعہ اور عادل ہونا ضروری ہے یا عام فقیروں کو بھی فطرہ دے سکتے ہیں۔
جواب:
[رہبر معظم آیت اللہ ای]
فقیر ایک شرعی اصطلاح ہے۔ ضروری ہے کہ فطرہ فقیر کو دیا جاۓ، فقیر سے مراد وہ شخص ہے جس کی درآمد اس کے اخراجات سے کم ہے۔ پس اگر کوئی ایساشخص ہے جس کا گزر بسر صحیح ہو رہا ہے یا فقیر نہیں ہے بلکہ بھکاری ہے اس کو فطرہ نہیں دے سکتے۔رہبر معظم کے مطابق احتیاط مستحب کی بنا پر فطرہ فقط شیعہ فقیر کو دیا جاۓ۔فقیر کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ عادل ہو۔ عادل سے مراد وہ شخص ہے جو ظاہری طور پر واجبات کی ادائیگی اور حرام سے اجتناب کرتا ہے۔لیکن احتیاط واجب کی بنا پر کسی ایسے فقیر کو فطرہ دینا درست نہیں ہے جو شراب پیتا ہویا کھلم کھلا کسی معصیت کا شکار ہوتا ہو۔

[آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی]:
فقیر وہ شخص جس کے پاس اپنے اوراپنے اہل وعیال کے لئے سال بھرکے اخراجات نہ ہوں فقیرہے ۔لیکن جس شخص کے پاس کوئی ہنریاجائداد یا سرمایہ ہوجس سے وہ اپنے سال بھرکے اخراجات پورے کرسکتاہووہ فقیرنہیں ہے۔احتیاط واجب کی بناپر جس فقیر کو فطرہ دیا جاۓ وہ شیعہ ہو۔لیکن اگر آپ کے شہر میں شیعہ فقیر موجود نہ ہو تو اسے دیگر مسلمان فقیروں کو بھی دے سکتے ہیں۔ لیکن کسی بھی صورت میں ناصبی کو فطرہ نہیں دے سکتے۔فقیر کا عادل ہونا ضروری نہیں ہے لیکن احتیاط واجب کی بنا پر ایسے فقیر کو فطرہ نہ دیں جو شراب خوار، بے نمازی یا کھلم کھلا کسی معصیت کا شکار ہوتا ہو۔

29/04/2022

Seerat un Nabi Ka Ek Baap rojana share Kiya jaega

Khwahishman Hazrat rozana page per visit Karen Shukriya❣️

26/04/2022

دنیا کا سب سے بڑا اور عظیم الشان لیڈرصرف

😘 حضرت محمدؐ ھے 😘❤

24/04/2022

Masha Allah Best Naat Mubarak ever 😍😍

.






Want your school to be the top-listed School/college in Sharjah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Sharjah