Miracles of darood and astagfaar

Miracles of darood and astagfaar درود اور استغفار کے ایمان افروز سچے مشاہدات اور واقعات کے لیے پیج کو فالو کریں darood shareef

06/10/2026

قران سب بتاتا ہے

‏اس کے گھر میں کچھ چیز یں عجیب تھیں۔ سب سے بڑی پریشان کر دینے والی بات یہ تھی کہ قرآن کا ایک نسخہ اس نے باورچی خانے میں رکھا ہوا تھا جس پر تیل کے نشانات اور گیلے ہاتھوں سے پکڑنے کے نشانات نمایاں تھے، دوسرا نسخہ باہر باغیچہ کے برامدے کے ایک کونے میں لگی تختی پر رکھا تھا۔ اس کے اوراق بھی بہت بوسیدہ سے تھے، ایک نسخہ اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر دیکھا، اور ایک لاؤنج میں۔
میں نے سوچا یہ تو خاصی پڑھی لکھی ہے، یقینا کئی بار قرآن کی طرف پیٹھ بھی ہو جاتی ہو گی، بڑی بے ادبی کی بات ہے… اسے تو لگتا ہے کہ اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں

میرے دل میں غبار سا اٹھا اور شاید چہرےکا رنگ بھی بدل گیا تھا

اس نے بھانپ لیا تھا تبھی بولی۔دراصل بچے چھوٹے ہیں اور بڑا خاندان ہے۔ بے تحاشا مصروفیات میں ایک جگہ بیٹھ کر قرآن سے استفادہ کا موقع نہیں ملتا۔اس لیے جگہ جگہ قرآن رکھ دیے ہیں جہاں ذرا فرصت ملتی ہے ۔اٹھاکرپڑھ لیتی ہوں ۔دراصل باجی مسئلے بھی تو دن میں ہزاروں طرح کے پیش آتے ہیں اور ہر مسئلے کا حل مجھے تو اسی میں ملتا ہے۔

میں کچھ سمجھ نہیں پائی۔۔. وہ پھر گویا ہوئی

باجی اللّٰہ نے قرآن کریم میں ہر مسئلے کا حل بتایا ہے۔ یہ بات میرے ابّا نے مجھے بتائی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ اس سے دوستی کر لو ہر معاملے میں اس سے پوچھا کرو ۔یہ کتاب تمھیں ہر بات کا جواب دے گی اور تمھارا ہر مسئلہ حل کرے گی۔

بس جب سے یہی سہیلی ہے میری، اسی سے پوچھتی ہوں سب کچھ ۔اور یہ کتاب ہے ہی ایسی کہ ہر مسئلہ کا حل بتا دیتی ہے۔کئی مسئلے تو چند آیات پڑھتے ہی سُلجھ جاتے ہیں۔ جہاں سے مجھے اپنے جوابات مل جاتےہیں ان آیات کو میں نشان زد بھی کر لیتی ہوں ۔

جب پھر سےکوئی مسئلہ پیش آۓ تو ان ساری آیات کو جلدی سے کھنگال لیتی ہوں۔کبھی کبھار کسی مسئلہ کا حل ملنے میں یادہ وقت بھی لگ جاتا ہے، اور کبھی تو کتاب کھولتے ہی حل سامنے نظر آجاتا ہے... تو ایسے وقت اپنے رب کی محبت میں میرے آنسو بہنے لگتے ہیں...بس اسی لیے ان نسخوں کی یہ حالت ہو گئی ہے

اب کل ہی کی بات دیکھیے... میری نند آئی ہوئی تھیں۔ میں انھیں کھانا کھلا کر فارغ ہوکر باورچی خانے کی طرف جا رہی تھی کہ ان کی کچھ تلخ باتیں میرے کانوں میں پڑیں ، افسوس اور رنج سے میری حالت بہت خراب ہوئی کہ اتنی مشقت، اور پھر یہ جزا

دل دکھا ہوا تھا… تو یہی باورچی خانے والا قرآن کھولا، ایک آیت میرے سامنے تھی۔ "برائی کو اس نیکی سے رفع کرو جو بہترین ہو“

بس کیا ہوا کہ دو روز پہلے اپنے لیے جو بندے لائی تھی، لا کر بہت پیار سے نند کو پہنا دیے. وہ خاموشی سے کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی۔پھر رو پڑی۔میں نے اسے گلے لگا لیا۔تو بولی: " بھابھی سسرال میں منفی ماحول نے مجھے بھی منفی بنا دیا ہے۔ معاف کر دیجیے گا مجھے۔آپ میری اچھی بھابھی ہیں بہنوں سے بھی بڑھ کر، اللہ آپ کو بہت خوش رکھے، آباد رکھے

یہ سب سن کرخوشی ہوئی، دل کا اطمینان اور سکون بھی ملا۔۔۔ اسی طرح آج جب آپ آئیں، میں کھانا بنا چکی تھی۔دل میں خیال آیا کیسے پورا ہو گا اتنے کھانے میں۔۔۔اسی وقت حسبِ عادت قران کھولا، سامنے لکھا تھا۔

" اگر شکر کرو گے تو میں بڑھا دوں گا۔“

میں نے پریشانی چھوڑ کر اس ذات کا شکر ادا کیا ۔ فریج میں دیکھا مٹر رکھے ہیں۔سوچا مٹر پلاؤ بنا لیتی ہوں ، اسی وقت پڑوس سے بریانی کی بھری ہوئی ڈش آگئی۔۔۔یہی نہیں، میاں بھی آفس سے آتے ہوئے حلیم ساتھ لیتے آۓ۔ یعنی اللہ نے فوراً ہی میرا مسئلہ حل کر دیا اور بندوبست کر دیا۔

اسی لیے تو بس باجی، ہر مشکل لمحے میں میرا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے۔

ابھی پچھلے دنوں کووڈ میں میاں کا کام چھوٹ گیا۔بڑی پریشان تھی،قران کھولا تو لکھا تھا:

"استغفار کرو بدلے میں تمھیں بارش بھی دوں گا، مال اور اولاد کو بڑھاؤں گا۔اور باغات اور نہریں عطا کروں گا ۔"

میں تو حیران رہ گئی ایک استغفار کے اتنے فائدے

پھر سوچ سوچ کر ہر اس شخص سے معافی مانگی۔جس سے گمان تھا کہ ہم نے کوئی زیادتی کی ہوگی۔ استغفارپڑھتے رہے ۔سید الاستغفار کا بھی ورد رہا ۔آپ یقین جا نیے جلد ہی اس کے ایسے اثرات ظاہر ہوئے کہ پریشانیاں دور ہوکرحالات بہتری اور خوش حالی کی طرف جانے لگے...

وہ انتہائی سادگی سے قرآن کو سینے سے لگاۓ لگاتار بولتی چلی جا رہی تھی، اور میں بہت شرمندہ تھی

آج تک میرا قرآن سے ایسا کوئی تعلق نہیں بن سکا تھا، قرآن سے ایسی رہنمائی مجھےمیسر نہیں تھی کیونکہ میں نے تو قرآن پر بیش قیمت غلاف چڑھوا کر اسے سب سے اوپر والے شیلف میں رکھ دیا تھا...

اب دل کا غبار ندامت میں ڈھلا تو آنسؤوں کی صورت بہنے لگ

میں نے قرآنِ مقدس کے ظاہری رکھ رکھاؤ پر جتنی توجہ دی کاش اتنی ہی توجّہ اس کی روح اور اصل پیغام پر دی ہوتی۔ تو اس کے اصل پیغام سے محروم ہونے کے بجائے آج اس کا یہ قرب اور یہ اعجاز میرے نصیب میں بھی ہوتا....

Copied......

06/10/2026
06/10/2026

313 bar darood pak 2100 bar astagfaar par kr khud ko pursakoon kijye or man ki muraad pain

Quran zindagi he
06/10/2026

Quran zindagi he

05/10/2026

مدینہ میں وبائیں داخل کیوں نہیں ہوسکتی؟ نبی پاک ﷺ کی دعا کا زندہ معجزہ جو عالمی ادارہ صحت بھی مان گیا
کیا آپ جانتے ہیں کہ کرونا کی عالمی وبا کے ہولناک ترین دنوں کے فوری بعد جنوری 2021 میں، اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی ادارے "عالمی ادارہ صحت" (WHO) نے مدینہ منورہ کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد ایک ایسی تاریخی رپورٹ جاری کی جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا؟ عالمی ادارہ صحت نے آفیشل طور پر یہ تسلیم کیا کہ مدینہ منورہ دنیا کے "صحت مند ترین اور صاف ترین شہروں" (Healthy Cities) کی فہرست میں اول ترین درجے پر فائز ہے۔
ڈبلیو ایچ او (WHO) کی ٹیم نے جب مدینہ پاک کا جائزہ لیا، تو انہوں نے پایا کہ 20 لاکھ سے زائد آبادی والا یہ عظیم شہر ماحولیات، پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی کے انتظامات، ہیلتھ کیئر نیٹ ورک، سماجی شمولیت اور ہنگامی وبائی تیاریوں کے 80 سے زائد سخت ترین عالمی معیارات پر 100 فیصد پورا اترتا ہے۔ اتنی بڑی آبادی والا دنیا کا یہ وہ پہلا "میگا سٹی" بنا جسے یہ منفرد عالمی اعزاز دیا گیا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ حال ہی میں جولائی 2025 میں ڈبلیو ایچ او نے دوبارہ کڑی جانچ کے بعد ایک بار پھر مدینہ منورہ کو دنیا کے صحت مند ترین شہر ہونے کی تصدیق کا سرٹیفکیٹ جاری کیا۔

لیکن ایک سچے مومن کا دل تو چودہ سو سال سے جانتا ہے کہ یہ اعزاز صرف کسی دنیاوی مہم، جدید بلدیاتی نظام یا سائنسی پلاننگ کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ یہ کائنات کے والی، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوئی مستجاب دعاؤں کا زندہ معجزہ ہے! جب صحابہ کرام مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے، تو وہاں کی آب و ہوا اجنبی ہونے کی وجہ سے جلیل القدر صحابہ، جن میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، سخت بخار اور بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔ تب اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے پاک ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور تڑپ کر مدینہ کے لیے ایسی رقت آمیز دعا فرمائی جس نے اس شہر کی تقدیر ہمیشہ کے لیے بدل دی:

"اے اللہ! مدینہ کو ہمارے لیے ویسا ہی محبوب بنا دے جیسے مکہ محبوب ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ... اور مدینہ کی آب و ہوا کو ہمارے لیے صحت بخش اور صاف ترین بنا دے اور اس کی وبائی بیماریوں کو یہاں سے دور منتقل کر دے۔" (صحیح بخاری)

آقا ﷺ کی زبان سے یہ کلمات نکلنے کی دیر تھی کہ مدینہ پاک کی مٹی شفا بن گئی، وہاں کی ہواؤں میں تندرستی گھل گئی، اور اللہ رب العالمین نے اس پاک شہر کے تمام راستوں پر فرشتوں کا پہرہ بٹھا دیا، جن کے ہوتے ہوئے کوئی بڑی وبا یا دجال اس پاک مٹی پر داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ جہاں دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں کروڑوں عازمین آتے ہیں، وہاں وبائیں مستقل ڈیرے کیوں نہیں ڈالتیں؟ دنیا کی سائنس کہتی ہے کہ یہاں کا نظامِ صحت اور صفائی کے معیارات دنیا میں سب سے اعلیٰ ہیں، جبکہ ایمان پکار اٹھتا ہے کہ اس شہر کی مٹی کو کملی والے ﷺ کے قدموں کا لمس حاصل ہے اور اس کی فضاؤں کو رسولِ کریم ﷺ کی لازوال دعا کا حصار حاصل ہے! جنہوں نے فرمایا تھا

کہ مدینہ کے غبار میں شفا ہے۔ بے شک تمام عاشقوں کا مدینہ کی مٹی کے بارے یہی ایمان ہے۔

یا الٰہی! اس پاک، صاف اور شفا والے شہرِ دلربا کی حاضری ہر اس آنکھ اور دل کو نصیب فرما جو اس وقت تڑپ رہی ہے۔ اے اللہ! ہمیں بار بار باادب اور بامراد مدینہ منورہ کی حاضری نصیب فرما، وہاں کی پرنور ہواؤں میں سانس لینے کا شرف عطا فرما۔ آمین

Address

Fujairah

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Miracles of darood and astagfaar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Miracles of darood and astagfaar:

Shortcuts

Share