Ek Firqa Udaas Logon Ka - اک فرقہ اداس لوگوں کا

Ek Firqa Udaas Logon Ka - اک فرقہ اداس لوگوں کا

Share

Soch Raha Hun Bana Hi Daalo'n,Ek Firqa Udaas Logo'n Ka....سوچ رہا ہوں بنا ہی ڈالو? سوچ رہا ہوں بنا ہی ڈالوں
اک فرقہ اُداس لوگوں کا

08/03/2025

جب سلطنت سے دل کی حیرانی چلی گئی

پھر کیا ملال, تخت گیا, یا قلعہ گیا

22/02/2025

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیؔر

سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

28/11/2024

شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو

Faiz Ahmed Faiz - فیض احمد فیض

26/09/2024

چراغِ بزم ابھی جانِ انجمن نہ بُجھا

کہ یہ بُجھا تو تِرے خد و خال سے بھی گئے

07/09/2024

وہ میرے بعد ترس جائے گا محبت کو

اُسے یہ کہنا اگر ہو سکے تو مر جائے

17/07/2024

کہا شبّیر نے، عبّاس تم مجھ کو سہارا دو
کہ تنہا لاشِ اکبر مجھ سے دفنائی نہیں جاتی
سید نصیر الدین نصیر

06/07/2024

یہ دانت، یہ شیرازہِ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندہِ تابِ لب و دندانِ پیمبر
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے

محسن نقوی

18/06/2024

نشود نصیبِ دُشمن کہ شود ہلاکِ تیغت
سرِ دوستاں سلامت کہ تُو خنجر آزمائی
فخرالدین عراقی

19/05/2024

اُس پہ اُترے تھے محبت کے صحیفے لیکن
اِک کافر کہاں تورات کا مطلب سمجھے

تجھ کو بھی چھوڑ کے جائے ترا اپنا کوئی
تُو بھی اِک روز مکافات کا مطلب سمجھے

07/05/2024

اس سے کیا فرق پڑا جسم نے رکھا کیسا
ساتھ دینا ہی نہیں تھا تو یہ جھگڑا کیسا

دل تو بیٹے کی جدائی میں بھی صحرا ہے مگر
ہجر پوتے کا نہ پوچھو ہے بگولہ کیسا

تم کسی گائوں کے ہوتے تو تمہیں آتا یاد
تمہیں کیا علم کہ پھٹتا ہے کلیجہ کیسا

یہ جو منظر نظر آتے ہیں زمیں کے تو نہیں
یہ مری خاک سرا میں ہے دریچہ کیسا

اب وہ شطرنج نہ حقے نہ چھلکتی گلیاں
دیکھتے دیکھتے اجڑا ہے محلہ کیسا

مار ڈالے ہے سفیدی بھی خمِ کاکل کی
آخرش رنگ ترے عشق نے باندھا کیسا

آ تو جاتے ہیں نکلتا نہیں باہر کوئی
تیری پرکار نے یہ دائرہ کھینچا کیسا

دور تک اڑ کے گئے ہیں مرے ٹکڑے کیسے
تاک کر میں نے لگایا ہے نشانہ کیسا

محمد اظہار الحق

02/05/2024

پہلے جگر کے خوں سے زباں کا وضو کرو
پھر اُس کے بعد عشق پہ تم گفتگو کرو

محبوب کو منانے کی لذت ہے بے مثال
اِک بار روٹھ جائے وہ یہ آرزو کرو

ملتے ہیں عشق میں یہ خزانے نصیب سے
زخموں پہ ذکرِ یار سے ہنس کے رفُو کرو

ہو گی نمازِ عشق ادا کیسے بن صنم
اظہارِ عشق ہے یہ اِسے رُوبرُو کرو

صحرا بھی ہے جنوں بھی بھٹکتے نہیں ہو کیوں
عاشق ہیں اگر آپ تو پھر جستجو کرو

نہ دیکھیے اِدھر اُدھر یہ عشق ہے میاں
بے خوف ہو کے زندگی بھر کُو بہ کُو کرو

دردِ جدائی سُنتِ مجنوں ہے عشق میں
تم بھی نیاز اِس کو ادا ہُو بہ ہُو کرو

27/04/2024

دل کی چیخوں میں سُنائی نہیں دیتا کچھ بھی
شبِ خاموش ہے شاید اِسی کہرام کا نام
احمد ندیم قاسمی

Want your school to be the top-listed School/college in Dubai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Dubai