جب سلطنت سے دل کی حیرانی چلی گئی
پھر کیا ملال, تخت گیا, یا قلعہ گیا
Ek Firqa Udaas Logon Ka - اک فرقہ اداس لوگوں کا
Soch Raha Hun Bana Hi Daalo'n,Ek Firqa Udaas Logo'n Ka....سوچ رہا ہوں بنا ہی ڈالو? سوچ رہا ہوں بنا ہی ڈالوں
اک فرقہ اُداس لوگوں کا
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیؔر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
Faiz Ahmed Faiz - فیض احمد فیض
چراغِ بزم ابھی جانِ انجمن نہ بُجھا
کہ یہ بُجھا تو تِرے خد و خال سے بھی گئے
وہ میرے بعد ترس جائے گا محبت کو
اُسے یہ کہنا اگر ہو سکے تو مر جائے
کہا شبّیر نے، عبّاس تم مجھ کو سہارا دو
کہ تنہا لاشِ اکبر مجھ سے دفنائی نہیں جاتی
سید نصیر الدین نصیر
یہ دانت، یہ شیرازہِ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندہِ تابِ لب و دندانِ پیمبر
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
محسن نقوی
نشود نصیبِ دُشمن کہ شود ہلاکِ تیغت
سرِ دوستاں سلامت کہ تُو خنجر آزمائی
فخرالدین عراقی
اُس پہ اُترے تھے محبت کے صحیفے لیکن
اِک کافر کہاں تورات کا مطلب سمجھے
تجھ کو بھی چھوڑ کے جائے ترا اپنا کوئی
تُو بھی اِک روز مکافات کا مطلب سمجھے
اس سے کیا فرق پڑا جسم نے رکھا کیسا
ساتھ دینا ہی نہیں تھا تو یہ جھگڑا کیسا
دل تو بیٹے کی جدائی میں بھی صحرا ہے مگر
ہجر پوتے کا نہ پوچھو ہے بگولہ کیسا
تم کسی گائوں کے ہوتے تو تمہیں آتا یاد
تمہیں کیا علم کہ پھٹتا ہے کلیجہ کیسا
یہ جو منظر نظر آتے ہیں زمیں کے تو نہیں
یہ مری خاک سرا میں ہے دریچہ کیسا
اب وہ شطرنج نہ حقے نہ چھلکتی گلیاں
دیکھتے دیکھتے اجڑا ہے محلہ کیسا
مار ڈالے ہے سفیدی بھی خمِ کاکل کی
آخرش رنگ ترے عشق نے باندھا کیسا
آ تو جاتے ہیں نکلتا نہیں باہر کوئی
تیری پرکار نے یہ دائرہ کھینچا کیسا
دور تک اڑ کے گئے ہیں مرے ٹکڑے کیسے
تاک کر میں نے لگایا ہے نشانہ کیسا
محمد اظہار الحق
پہلے جگر کے خوں سے زباں کا وضو کرو
پھر اُس کے بعد عشق پہ تم گفتگو کرو
محبوب کو منانے کی لذت ہے بے مثال
اِک بار روٹھ جائے وہ یہ آرزو کرو
ملتے ہیں عشق میں یہ خزانے نصیب سے
زخموں پہ ذکرِ یار سے ہنس کے رفُو کرو
ہو گی نمازِ عشق ادا کیسے بن صنم
اظہارِ عشق ہے یہ اِسے رُوبرُو کرو
صحرا بھی ہے جنوں بھی بھٹکتے نہیں ہو کیوں
عاشق ہیں اگر آپ تو پھر جستجو کرو
نہ دیکھیے اِدھر اُدھر یہ عشق ہے میاں
بے خوف ہو کے زندگی بھر کُو بہ کُو کرو
دردِ جدائی سُنتِ مجنوں ہے عشق میں
تم بھی نیاز اِس کو ادا ہُو بہ ہُو کرو
دل کی چیخوں میں سُنائی نہیں دیتا کچھ بھی
شبِ خاموش ہے شاید اِسی کہرام کا نام
احمد ندیم قاسمی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Dubai