Spoken English

Spoken English

Share

Spoken English

06/03/2014

حضور اکرم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا مکان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی مسجد سے ملا ھوا تھا اور گھر کا پرنالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا.. بعض دفعہ پرنالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ھوتی.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا.. اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے..

حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا.. انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا.. سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ھے اس لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ھوں اور مقدمے کی پیروی کریں.. حضر ت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ھوگئے..

حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باھر کھڑے ھو کر انتظار کرنا پڑا.. مقدمہ پیش ھوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ کہنا چاھا لیکن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ھے کہ وہ پہلے دعوی' پیش کرے..

مقدمے کی کاروائی شروع ھوئی.. حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ " جناب عالی! میرے مکان کا پرنالہ شروع سے ھی مسجد نبوی کی طرف تھا.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگی میں پرنالہ اکھڑوا دیا.. مجھے انصاف فراھم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ھوا ھے.. "

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " بے شک تمہارے ساتھ انصاف ھوگا.. امیر المومنین! آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟ "

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں.. نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیال ھے یہ ناجائز نہیں ھے.. "

ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ھوئے کہ وہ کچھ کہنا چاھتے ھیں..؟

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا.. " قاضی صاحب ! اصل بات یہ ھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کر دئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں.. میں نے ایسے ھی کیا.. پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے کندھوں پر کھڑا ھو کر یہاں پرنالہ لگاؤں..

میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے احترام کی وجہ سے انکار کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے بہت اصرار کیا.. میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ھوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے اکھڑوا دیا.. "

قاضی نے پوچھا.. " آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ھیں..؟ "

حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باھر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواھی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑے ھو کر نصب کیا تھا..

مقدمے کی گواھی کے ختم ھونے بعد خلیفہ وقت نگاھیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھے.. یہ وہ حکمران تھے جن کے رعب اور خوف سے قیصر و کسری" بھی ڈرتے تھے..

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا.. " اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو.. مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ پرنالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے یہاں لگوایا ھے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا.. جو غلطی مجھ سے ھوئی وہ لاعلمی میں ھوئی.. آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کر یہ پرنالہ وھاں لگادیں.. "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " ھاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ھے.. " اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والا حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پرنالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے..

پرنالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا.. " امیر المومنین ! میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے کیا.. جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا.. اب میں آپ سے بےادبی کی معافی مانگتا ھوں.. "

اس کے ساتھ ھی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ مکان گِرا کر مسجد میں شامل کرلیں تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ھوئی وہ بھی کم ھوجائے..

بحوالہ " سیرت الانصار "

اللہ سے دعا ھے کہ ھماری عدالتوں کو بھی حق کا فیصلہ دینے کی توفیق دے اور ایسے حکمران بھی دے جو خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھیں.. آمین..

28/12/2013

ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے......اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا .......امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے......آپ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا، جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو.......
بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ....وقت کا بادشاہ ،چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو ...اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا ......آپ رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں نہیں ...کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے................آپ رضی اللہ عنہ روتے جاتے تھے اور فرماتے ....اے عمر تو کافر تھا .....ظالم تھا.....بکریاں چراتا تھا.......خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور تجھے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا....کیا تو اپنے رب کے احسانوں کو بھول گیا ..........آج ایک آدمی تجھ سے کہتا ہے کہ مجھے میرا حق دلاو تو تو اسے درا مارتا ہے............اے عمر کیا تو سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں.....کل قیامت کے دن تجھے اللہ کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا...........حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی بات کو دھراتے رہے اور بڑی دیر روتے رہے..

09/12/2013

دنیا کا ذہین ترین انسان آئن سٹائن بچپن میں دماغ طور پر ایک کمزور انسان تھا، اُس کا سر موٹا اور زبان بولنے کی صلاحیت سے محروم تھی، بڑی مشکل سے کچھ الفاظ اٹک اٹک کر بولتا تھا جو بعض اوقات اُس کی ماں کو بھی سمجھ نہیں آتے تھے، کہا جاتا ہے کہ آئن سٹائن ’’آٹزم‘‘ کی بیماری میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ میں گم رہتا تھا اوراپنے معمولات میں کسی کی دخل اندازی پسند نہیں کرتا تھا،9 سال کی عمر تک وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم رہا، تب اچانک ایک دن کھانے کی میز پر جب اُس کے سامنے سوپ رکھا گیا تو اُس نے سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا’’سوپ بہت گرم ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی اُس کے والدین اچھل پڑے، خوشی سے بے حال ماں نے آئن سٹائن سے پوچھا کہ ایسے الفاظ تم نے کبھی پہلے کیوں نہیں بولے؟؟؟آئن سٹائن کا جواب تھا ’’اِس سے پہلے ہر چیز نارمل تھی اس لیے میں نہیں بولتا تھا‘‘۔اُس نے دوسری شادی مالیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا،آئن سٹائن کے کمرے ، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتوچیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو، بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا اورآخری شرط یہ تھی کہ ہمارے درمیان کچھ ضروری تعلقات کے علاوہ اور کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔ !!!ماشاء اللہ! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔

بیوی: آئن۔۔۔ وے آئن۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔ کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔ جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔ تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔ آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا

06/12/2013

حضرت با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے جتنے بھی مراتب حاصل ہوئے سب والدہ کی اطاعت سے حاصل ہوئے ۔
ایک مرتبہ میری والدہ نے رات کو پانی مانگا لیکن اتفاق سے اس رات گھر میں پانی نہیں تھا ۔ چنانچہ میں گھڑا لے کر نہر سے پانی لایا - میری آمد و رفت کی تاخیر کی واضح سے والدہ کو نیند آ گئی ۔
اور میں رات بھر پانی لیے کھڑا رہا - حتی ٰ کہ شدید سردی کی وجہ سے وہ پانی پیالے میں منجمد ہوگیا ۔ اور جب والدہ کی بیداری کے بعد میں نے انھیں پانی پیش کیا تو انھوں نے فرمایا تم نے پانی رکھ دیا ہوتا
اتنی دیر کھڑے رہنے کی کیا ضرورت تھی - میں نے عرض کیا محض اس خوف سے کھڑا رہا کہ مبادا آپ کہیں بیدار ہو کر پانی نہ پی پائیں اور آپ کو تکلیف پہنچے - یہ سن کر انھوں نے مجھے دعائیں دیں

Photos 25/10/2013

Whoever you are or whatever you've become ... respect you Mother ... coz she is the one who cares for you and wants nothing in return.

A mother trying to keep his son's ears from cold. Russia Moscow Military Parad.

Want your school to be the top-listed School/college in Dubai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Dubai